🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
عاشورا کے دن کی عظمت کی لئے ماؤں کا اپنے بچّوں کا عاشورا کے دن دودھ نہ پلانا مستحب ہے۔ بشرطیکہ روایت صحیح ہو، کیونکہ میرا دل خالد بن ذکوان کے بارے میں مطمئن نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2090
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْمُطَرِّفِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ , وَهَذَا مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْحَدِيثِ , وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَتْنَا عَلِيلَةُ بِنْتُ الْكُمَيْتِ الْعَتَكِيَّةُ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أُمِّي أُمَيْنَةَ . بِمِثْلِهِ. وَزَادَ: فَكَانَ اللَّهُ يَكْفِيهِمْ. وَقَالَ: وَكَانَتْ أُمُّهَا خَادِمَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُقَالُ لَهَا: رُزَيْنَةُ
حضرت عُلیلہ بنت کمیت عتکیہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ امینہ کو سنا، اوپر والی حدیث کی مثل روایت بیان کی اور اُس میں یہ اضافہ ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ان شیر خوار بچّوں کو کافی ہو جاتا تھا۔ جناب مسلمہ بیان کرتے ہیں کہ اُن کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں جنہیں رزینہ کہا جاتا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2090]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الهيثمي (مجمع 3 / 186): "رواه أبو يعلى، والطبراني في " الكبير " و "الأوسط "»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عاشوراء کے روزے کے حُکم کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2091
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ الأَنْصَارِيِّ , قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " أَصُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا؟" فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَعَمْ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لا. قَالَ:" فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ هَذَا" , وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُؤْذِنُوا أَهْلَ الْعُرُوضِ أَنْ يُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ ذَلِكَ
سیدنا محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ عاشوراء کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ” کیا تم نے آج کا روزہ رکھا ہے؟ کچھ نے کہا کہ جی ہاں رکھا ہے۔ اور کچھ افراد نے کہا کہ جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم آج کا باقی دن روزہ مکمّل کرو۔ اور آپ نے اُنہیں حُکم دیا کہ ”وہ مدینہ منوّرہ کے مضافات میں واقع بستیوں کو بھی اطلاع کر دیں کہ وہ باقی دن (روزہ رکھ کر) پورا کریں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2091، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19760»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عاشوراء کے دن کے بعض حصّے کا روزہ رکھنے کے حُکم کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلم قبیلے کے ایک شخص سے کہا: ”اپنی قوم میں یا لوگوں میں عاشوراء کے دن اعلان کردو کہ جس شخص نے کھانا کھالیا ہے وہ بقیہ دن روزہ رکھے اور جس نے کھانا نہیں کھایا وہ روزہ رکھ لے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2092]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1924، 2007، 7265، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1135، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2092، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3619، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6310، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2320، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2642، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1802، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8131، 8496، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16771»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2093
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ الأَكْوَعِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ: " أَذِّنْ فِي قَوْمِكَ أَوْ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ أَنَّ مَنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ , وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ" . خَبَرُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , وَمُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْخُزَاعِيِّ , عَنْ عَمِّهِ، وَأَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ , وَبَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى , وَقَدْ خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ
سیدنا ابوسعید خدری، محمد بن صیغی انصاری، عبداللہ بن منہال خزاعی رضی اللہ عنہم کی اپنے چچا سے روایت، اسما ء بن حارثہ اور سیدنا عبداللہ جہنی رضی اللہ عنہم کی روایات اسی مسئلہ کے متعلق ہیں۔ میں نے اسے کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2093]
تخریج الحدیث: «(الصحيحة برقم: 2624)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عاشوراء کا روزہ رکھنے اور نہ رکھنے میں اختیار کا بیان، اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ عاشوراء کے دن کے روزے کا حُکم استحباب، راہنمائی اور فضیلت کے لئے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2094
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ , أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سَالِمٌ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْيَوْمُ عَاشُورَاءُ , فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ , وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ" . خَبَرُ عَائِشَةَ، وَمُعَاوِيَةَ مِنْ هَذَا الْبَابِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج عاشوراء کا دن ہے تو جو شخص چاہے وہ اس دن کا روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے وہ روزہ نہ رکھے۔“ سیدہ عائشہ اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی روایات اسی مسئلہ کے متعلق ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2094]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1892، 2000، 4501، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1126، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2082، 2094، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3622، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2443، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1803، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1737، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8501، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4569»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عاشوراء کے دن یہودیوں کے روزے کی مخالفت کے لئے عاشوراء سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزے رکھنے کے حُکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2095
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ , وَخَالِفُوا الْيَهُودَ , صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا , أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاشوراء کے دن کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو، اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھو۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2095]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2095، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8494، 8495، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2188، والحميدي فى (مسنده) برقم: 491، والبزار فى (مسنده) برقم: 5238، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3303، 3304»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ماہ محرم کی نوتاریخ کو روزہ رکھنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2096
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الأَعْرَجِ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ عَاشُورَاءَ , فَقَالَ:" اعْدُدْ , فَإِذَا أَصْبَحْتَ يَوْمَ التَّاسِعِ مِنْ مُحَرَّمٍ فَأَصْبِحْ صَائِمًا". قَالَ: قُلْتُ: أَكَذَاكَ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ؟ قَالَ:" كَذَاكَ كَانَ يَصُومُ"
جناب حکم بن اعرج بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا جبکہ وہ مسجد حرام میں اپنی چادر سے ٹیک لگا کر تشریف فرما تھے، تو میں نے اُن سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا، تو اُنہوں نے فرمایا کہ گنتی کرتے رہو پھر جب تم محرم کی نو تاریخ کو صبح کرو تو روزہ رکھ لو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی، کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ اسی طرح آپ روزہ رکھا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2096]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1133، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2096، 2097، 2098، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3633، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2872، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2446، والترمذي فى (جامعه) برقم: 754، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8492، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2167»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2097
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ بِمِثْلِهِ , وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ
جناب جعفر بن محمد کی سند سے مذکورہ بالا کی مثل مروی ہے، اس میں یہ الفاظ زمزم کے قریب اپنی چادر کو تکیہ بنائے بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2097]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1133، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2096، 2097، 2098، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3633، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2872، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2446، والترمذي فى (جامعه) برقم: 754، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8492، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2167»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں