صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اطلاع دی ہے کہ رمضان المبارک کے روزے اور شوال کے چھ روزے عمر بھر کے روزوں کی مانند ہوں گے کیونکہ اللہ تعالی نے ایک نیکی کا بدلہ دس گنا رکھا ہے یا اگر اللہ چاہے تو اس سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے
حدیث نمبر: 2115
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرِ بْنِ الْمُعَارِكِ الْمِصْرِيَّانِ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صِيَامُ رَمَضَانَ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَصِيَامُ السِّتَّةِ أَيَّامٍ بِشَهْرَيْنِ، فَذَلِكَ صِيَامُ السَّنَةِ" ، يَعْنِي رَمَضَانَ وَسِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان المبارک کے روزے دس مہینوں کے روزوں کے برابر ہیں اور چھ دنوں کے روزے دو ماہ کے روزوں کے برابر ہوں گے۔ تو یہ رمضان المبارک اور اس کے بعد چھ دن کے روزے سال بھر کے روزے ہوں گے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2115]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3635، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2873، 2874، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1796، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1715، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8523، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22847»
پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ان دو روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 2116
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2116]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2116، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3643، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2359، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2681، والترمذي فى (جامعه) برقم: 745، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1739، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25387»
پیر کا روزہ رکھنا مستحب ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولادت باسعادت اس دن ہوئی، اسی دن آپ کی طرف وحی بھیجی گئی اور اسی دن آپ کی وفات ہوئی
حدیث نمبر: 2117
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ أَيْضًا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ يَعْنِي عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقْبَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، صَوْمُ يَوْمِ الاثْنَيْنِ؟ قَالَ:" يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ أَمُوتُ فِيهِ" . هَذَا حَدِيثُ قَتَادَةَ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُذْكَرْ عُمَرَ. وَقَالَ:" فِيهِ وُلِدْتُ، وَفِيهِ أُوحِيَ إِلَيَّ"
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف متوجہ ہوئے تو پوچھا کہ اے اللہ کے نبی، پیر کے دن کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن میری وفات ہوگی۔“ یہ حدیث قتادہ کی ہے۔ جناب وکیع کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ اور اس میں ہے کہ ”اس دن میں پیدا ہوا، اور اس دن میری طرف وحی گئی۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1162، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2087، 2117، 2126، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3631، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4201، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2381، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2425، والترمذي فى (جامعه) برقم: 749، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1730، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8467، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22953»
حدیث نمبر: 2118
وَحَدِيثُ وَحَدِيثُ شُعْبَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ، فَغَضِبَ، وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، قَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ يَعْنِي الاثْنَيْنِ، وُلِدْتُ فِيهِ، وَبُعِثْتُ فِيهِ" ، أَوْ قَالَ:" أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ". وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ: سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ
امام شعبہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ سخت ناراض ہوگئے اور آپ سے پیر اور جمعرات کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیر والے دن میری ولادت ہوئی اور اس دن مجھے نبوت عطا کی گئی یا فرمایا: ”اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود: 2426، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2118، والترمذي: 752، 749»
پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا اس لئے بھی مستحب ہے کیونکہ ان دو دنوں میں اعمال اللہ تعالی کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں
حدیث نمبر: 2119
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ وَرَّاقٌ الْفِرْيَابِيِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ"، وَيَقُولُ:" إِنَّ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الأَعْمَالُ"
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کے دن کا روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے: ”ان دو دنوں میں اعمال (اللہ تعالیٰ کے سامنے) پیش کیے جاتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2119]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2119، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2356، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2436، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1791، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8525، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22158»
حدیث نمبر: 2120
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ: يَوْمُ الاثْنَيْنِ، وَيَوْمُ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ، إِلا عَبْدٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيَقُولُ: اتْرُكُوا، أَوْ أَرْجِئُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ فِي مُوَطَّإِ مَالِكٍ مَوْقُوفٌ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، وَهُوَ فِي مُوَطَّإِ ابْنِ وَهْبٍ مَرْفُوعٌ صَحِيحٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے اعمال ہر ہفتے میں دوبار پیش کیے جاتے ہیں۔ پیر اور جمعرات کے دن۔ لہٰذا ہر مومن کی بخشش ہو جاتی ہے، سوائے اس بندے کے جس کی اپنے بھائی سے دشمنی یا جھگڑا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”ان دو کو رہنے دو یا انہیں مہلت دو حتّیٰ کہ (صلح کی طرف) لوٹ آئیں۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت مؤطا امام مالک میں موقوف بیان ہوئی ہے جبکہ مؤطا ابن وہب میں مرفوع صحیح بیان ہوئی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2565، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3369، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2120، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3644، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4916، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2023، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6487، 6488، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7754»
ہر مہینے ایک دن کا روزہ رکھنے کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کا ایک دن کا روزہ رکھنے والے کو پورے مہینے کا ثواب عطا فرمانا۔
حدیث نمبر: 2121
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: " صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ"
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ سے روزے کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں ایک روزہ رکھ لیا کرو اور تمہیں باقی دنوں کا اجرملے گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2121]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، 2109، 2110، 2121، 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588»
ہر مہینے تین روزے رکھنے کا حُکم استحباب کے لئے ہے وجوب کے لئے نہیں
حدیث نمبر: 2122
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلاثٍ، لا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَبَدًا، أَوْصَانِي بِصَلاةِ الضُّحَى، وَبِالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَبِصَوْمِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی تھی، انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ ان شاء اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چاشت کی نماز پڑھنے، سونے سے پہلے وتر ادا کرنے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی وصیت کی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2122]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1083، 1221، 2122، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3659، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2403، والترمذي فى (جامعه) برقم: 762، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1708، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8527، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7692»
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْعنبري ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ: صَوْمِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی، ہر مہینے میں تین روزے رکھنے، سونے سے پہلے وتر ادا کرنے اور چاشت کی دو رکعت ادا کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2123]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1178، 1981، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 721، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1222، 1223، 2123، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2536، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1676، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1432، والترمذي فى (جامعه) برقم: 455، 760، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2787، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7259»