🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب الأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِغْلاَقِ الأَبْوَابِ وَذِكْرِ اسْمِ اللَّهِ عَلَيْهَا وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ:
باب: سوتے وقت برتنوں کو ڈھانکنے، مشکیزوں کے منہ باندھنے، دروازوں کو بند کرنے،، چراغ بجھانے، بچوں اور جانوروں کو مغرب کے بعد باہر نہ نکلالنے کے استحباب کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2012 ترقیم شاملہ: -- 5247
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَأَكْفِئُوا الْإِنَاءَ أَوْ خَمِّرُوا الْإِنَاءَ، وَلَمْ يَذْكُرْ تَعْرِيضَ الْعُودِ عَلَى الْإِنَاءِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی، مگر انہوں نے (یوں) کہا: ”برتن الٹ کر رکھ دو یا انہیں ڈھانک دو۔“ اور برتن پر چوڑائی کے رخ لکڑی رکھنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5247]
امام صاحب یہی روایت امام مالک کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے: «وَأَكْفِئُوا الْإِنَاءَ أَوْ خَمِّرُوا الْإِنَاءَ» ”اور برتنوں کو اوندھا کر دو یا برتنوں کو ڈھانپ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5247]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2012
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2012 ترقیم شاملہ: -- 5248
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْلِقُوا الْبَابَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَخَمِّرُوا الْآنِيَةَ، وَقَالَ: تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ ثِيَابَهُمْ.
زہیر نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ بند کردو“، پھر لیث کی حدیث کے مانند بیان کیا، البتہ انہوں نے کہا: ”اور برتنوں کو ڈھانک دو“ اور کہا: ”وہ (چوہیا) گھروالوں پر ان کے کیڑے جلا دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5248]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ بند کرو۔“ لیث کی پہلی حدیث کی طرح روایت بیان کی، صرف اتنا فرق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خَمِّرُوا الْآنِيَةَ» ”برتنوں کو ڈھانپ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5248]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2012
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2012 ترقیم شاملہ: -- 5249
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَقَالَ: وَالْفُوَيْسِقَةُ تُضْرِمُ الْبَيْتَ عَلَى أَهْلِهِ.
سفیان نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حدیث کے مانند روایت کی اور فرمایا: ”چوہیا گھروالوں کے اوپر گھر کو جلا دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5249]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْفُوَيْسِقَةُ تُضْرِمُ الْبَيْتَ عَلَى أَهْلِهِ» ”یہ چھوٹی سی فاسقہ (چوہیا) گھر والوں پر گھر جلا دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5249]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2012
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2012 ترقیم شاملہ: -- 5250
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ أَوْ أَمْسَيْتُمْ، فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَخَلُّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ ".
اسحاق بن منصور نے کہا: ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عطاء نے بتایا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات ہو جائے یا فرمایا کہ تم شام کرو تو اپنے بچوں کو (گھروں میں) روک لو کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں۔ پھر جب کچھ رات گزر جائے تو بچوں کو چھوڑ دو اور اللہ کا نام لے کر دروازے بند کر دو کیونکہ شیطان بند دروازے نہیں کھولتا۔ اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا بندھن باندھ دو اور اپنے برتنوں کو ڈھانک لو اللہ کا نام لے کر۔ (اگر برتن ڈھانکنے کے لیے اور کچھ نہ ملے سوا اس کہ) ان برتنوں کے اوپر کوئی چیز چوڑائی میں رکھو (تو وہی رکھ دو) اور اپنے چراغوں کو بجھا دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5250]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات کی تاریکی کا آغاز ہو یعنی سورج ڈوبنے لگے یا شام ہو جائے تو اپنے بچوں کو اپنے پاس روک لو، باہر نہ نکلنے دو، کیونکہ اس وقت شیطان پھیلتے ہیں، پھر جب رات کا کچھ وقت گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو، دروازے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھ کر بند کر لو، کیونکہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا اور «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھ کر اپنے مشکیزہ کا منہ باندھ لو اور «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھ کر اپنے برتن ڈھانپ لو، خواہ ان پر کوئی چیز ہی رکھ دو اور اپنے چراغوں کو بجھا دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5250]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2012
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2012 ترقیم شاملہ: -- 5251
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: نَحْوًا مِمَّا أَخْبَرَ عَطَاءٌ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَقُولُ اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ،
اسحاق بن منصور نے کہا: ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اس طرح کہہ رہے تھے جس طرح عطاء نے بتایا، البتہ انہوں نے یہ نہیں کہا: ”اللہ عزوجل کا نام لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5251]
امام صاحب ایک اور استاد سے «بِسْمِ اللّٰهِ» کے ذکر کے بغیر مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5251]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2012
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2012 ترقیم شاملہ: -- 5252
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍكرواية روح.
ابوعاصم نے کہا: ہمیں ابن جریج نے یہی حدیث عطاء اور عمرو بن دینار سے روح کی روایت کے مانند بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5252]
امام رحمہ اللہ دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5252]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2012
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2013 ترقیم شاملہ: -- 5253
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ، فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْبَعِثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ ".
ابوخیثمہ (زہیر) نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج غروب ہونے لگے تو اپنے پھیل جانے والے جانوروں اور بچوں کو باہر نہ بھیجو یہاں تک کہ عشاء کی آمد کا جھٹپٹا رخصت ہو جائے، کیونکہ سورج غروب ہونے کے بعد عشاء کی آمد کا جھٹپٹا ختم ہونے تک شیاطین کو چھوڑا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5253]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2013
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2013 ترقیم شاملہ: -- 5254
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ.
سفیان نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زہیر کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5254]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے زہیر کی طرح روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5254]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2013
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2014 ترقیم شاملہ: -- 5255
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ، فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غِطَاءٌ أَوْ سِقَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وِكَاءٌ، إِلَّا نَزَلَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ ".
ہاشم بن قاسم نے کہا: ہمیں لیث بن سعد نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد لیثی نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے جعفر بن عبداللہ بن حکم سے، انہوں نے قعقاع بن حکیم سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”برتن ڈھانک دو، مشکیزے کا منہ باندھ دو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے۔ پھر جو بھی ان ڈھکے برتن اور منہ کھلے مشکیزے کے پاس سے گزرتی ہے، تو اس وبا میں سے (کچھ حصہ) اس میں اتر جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5255]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”برتن ڈھانپ دو، مشکیزے کا منہ باندھ دو، کیونکہ سال میں ایک رات ہے، اس میں عام بیماری اترتی ہے، وہ جس ایسے برتن سے گزرتی ہے، جس پر ڈھکنا نہیں ہوتا یا ایسے مشکیزے سے جس کا منہ بندھا نہیں ہوتا تو اس وبا سے کچھ حصہ ان میں اترتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5255]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2014
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2014 ترقیم شاملہ: -- 5256
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَإِنَّ فِي السَّنَةِ يَوْمًا يَنْزِلُ فِيهِ وَبَاءٌ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ، قَالَ اللَّيْثُ: فَالْأَعَاجِمُ عِنْدَنَا يَتَّقُونَ ذَلِكَ فِي كَانُونَ الْأَوَّلِ.
علی جہضمی نے کہا: ہمیں لیث بن سعد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انہوں نے اس (حدیث) میں یہ کہا: ”سال میں ایک ایسا دن ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے۔“ (علی نے) حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا: لیث نے کہا: ہمارے ہاں کے عجمی لوگ کانون اول (یعنی دسمبر) میں اس وبا سے بچتے ہیں (بچنے کے حیلے کرتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5256]
امام صاحب ایک اور استاد سے لیث بن سعد رحمہ اللہ ہی کی سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، مگر اتنا فرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سال میں ایک دن ہے جس میں وبا اترتی ہے“ اور حدیث کے آخر میں یہ اضافہ ہے، لیث رحمہ اللہ نے کہا: ”عجمی لوگ اس کا اندیشہ کانونِ اول (دسمبر) میں رکھتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2014
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں