صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب الأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِغْلاَقِ الأَبْوَابِ وَذِكْرِ اسْمِ اللَّهِ عَلَيْهَا وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ:
باب: سوتے وقت برتنوں کو ڈھانکنے، مشکیزوں کے منہ باندھنے، دروازوں کو بند کرنے،، چراغ بجھانے، بچوں اور جانوروں کو مغرب کے بعد باہر نہ نکلالنے کے استحباب کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2015 ترقیم شاملہ: -- 5257
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ ".
سالم نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ”جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں (جلتی ہوئی) آگ نہ چھوڑا کرو (اسے پوری طرح بجھا دیا کرو۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5257]
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سوتے ہو تو اپنے گھروں میں آگ کو جلتی نہ چھوڑو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5257]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2015
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2016 ترقیم شاملہ: -- 5258
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: احْتَرَقَ بَيْتٌ عَلَى أَهْلِهِ بِالْمَدِينَة مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ، قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ النَّارَ إِنَّمَا هِيَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ ".
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: مدینہ میں ایک گھر اپنے رہنے والوں کے اوپر جل کر گرا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ جو ہے یہ تمہاری دشمن ہے۔ جب تم سونے لگو تو اس کو خود سے (ہٹانے کے لیے) بجھا دیا کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5258]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مدینہ میں ایک گھر اپنے اہل سمیت جل گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حال سے آگاہ کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ تو تمہاری دشمن ہے تو جب تم سونے لگو، اس کو بجھا دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5258]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2016
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
13. باب آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا:
باب: کھانے، پینے اور سونے کے آداب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2017 ترقیم شاملہ: -- 5259
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَضَعَ يَدَهُ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ، فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا، فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا، فَجَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے ابوحذیفہ سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تو اپنے ہاتھ نہ بڑھاتے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نہ کرتے اور ہاتھ نہ بڑھاتے۔ ایک دفعہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے پر موجود تھے اور ایک لڑکی دوڑتی ہوئی آئی جیسے کوئی اس کو ہانک رہا ہو اور اس نے اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھر ایک دیہاتی دوڑتا ہوا آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ پھر فرمایا: ”شیطان اس کھانے پر قدرت پا لیتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے اور وہ ایک لڑکی کو اس کھانے پر قدرت حاصل کرنے کو لایا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر اس دیہاتی کو اسی غرض سے لایا تو میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (شیطان) کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5259]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی کھانے میں شریک ہوتے تو جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آغاز فرماتے ہوئے اپنا ہاتھ نہ بڑھاتے، اور ایک دفعہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کے لیے حاضر تھے تو ایک بچی آئی، گویا اسے دھکیلا جا رہا ہے، ہم اپنے ہاتھ نہ بڑھاتے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بڑھاتے، تو وہ اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ایک بدوی آیا، گویا کہ اس کا پیچھا کیا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: ”شیطان اس کھانے کو حلال سمجھ لیتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے، اور وہ اس بچی کو لایا تاکہ اس کے ذریعے کھانا حلال بنائے تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر اس اعرابی کو لایا تاکہ اس کے ذریعے حلال بنا لے، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کا ہاتھ بھی اس بچی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5259]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2017 ترقیم شاملہ: -- 5260
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ الْأَرْحَبِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا دُعِينَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ: كَأَنَّمَا يُطْرَدُ وَفِي الْجَارِيَةِ كَأَنَّمَا تُطْرَدُ وَقَدَّمَ مَجِيءَ الْأَعْرَابِيِّ فِي حَدِيثِهِ قَبْلَ مَجِيءِ الْجَارِيَةِ، وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ وَأَكَلَ.
عیسیٰ بن یونس نے کہا: ہمیں اعمش نے خیثمہ بن عبدالرحمن سے خبر دی، انہوں نے ابوحذیفہ ارحبی سے، انہوں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی دعوت دی جاتی، پھر ابومعاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور کہا: جیسے اس (بدو) کو پیچھے سے زور سے دھکیلا جا رہا ہو۔ اور لڑکی کے بارے میں کہا: جیسے اسے پیچھے سے زور دے دھکیلا جا رہا ہو، انہوں نے اپنی حدیث میں بدو کے آنے کا ذکر پہلے کیا اور لڑکی کے آنے کا بعد میں اور حدیث کے آخر میں اضافہ کیا: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھی اور تناول فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5260]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی دعوت ملتی، (آگے اوپر کی ابومعاویہ کی روایت کے ہم معنی روایت ہے) اور اس «كَانَ تُدْفَعُ» کی جگہ بچی کے لیے «تُطْرَدُ» ہے اور اعرابی کے لیے «يُطْرَدُ» ہے اور اس نے اعرابی کی آمد کا تذکرہ پہلے کیا ہے، اور حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا ہے: پھر ”اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کر دیا،“ «تُدْفَعُ» اور «تُطْرَدُ» (دونوں کا معنی بھگانا ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5260]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2017 ترقیم شاملہ: -- 5261
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَدَّمَ مَجِيءَ الْجَارِيَةِ قَبْلَ مَجِيءِ الْأَعْرَابِيِّ.
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور لڑکی کا آنا، اعرابی کے آنے سے پہلے بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5261]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں بچی کی آمد کو اعرابی کی آمد سے پہلے بیان کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5261]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2018 ترقیم شاملہ: -- 5262
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ، فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ ".
ابوعاصم نے ابن جریج سے روایت کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب آدمی اپنے گھر میں جاتا ہے، اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ جل جلالہ کا نام لیتا ہے، تو شیطان (اپنے رفیقوں اور تابعداروں سے) کہتا ہے کہ نہ تمہارے یہاں رہنے کا ٹھکانہ ہے، نہ کھانا ہے اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہیں رہنے کا ٹھکانہ تو مل گیا اور جب کھاتے وقت بھی اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہارے رہنے کا ٹھکانہ بھی ہوا اور کھانا بھی ملا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5262]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھاتے وقت اللہ کو یاد کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے: تمہارے لیے رات گزارنے کی جگہ نہیں ہے اور نہ شام کا کھانا، اور جب وہ داخل ہوتے وقت اللہ کو یاد نہیں کرتا تو شیطان (ساتھیوں کو) کہتا ہے: تمہیں رات گزارنے کی جگہ مل گئی، اور جب کھاتے وقت اللہ کو یاد نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: قیام گاہ اور کھانا دونوں تمہیں مل گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5262]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2018
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2018 ترقیم شاملہ: -- 5263
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ: وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ طَعَامِهِ وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ دُخُولِهِ.
روح بن عبادہ نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ابوعاصم کی حدیث کے مانند، البتہ انہوں نے یہ کہا: ”اور اگر اس نے اپنے کھانے کے وقت اللہ کا نام نہ لیا اور اگر اس نے داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5263]
یہی روایت مصنف ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں: ”اگر وہ اپنے کھانے کے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا اور وہ گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کو یاد نہیں کرتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5263]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2018
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2019 ترقیم شاملہ: -- 5264
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5264]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5264]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2019
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2020 ترقیم شاملہ: -- 5265
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ ".
سفیان نے زہری سے، انہوں نے ابوبکر بن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر سے، انہوں نے اپنے دادا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب تم میں سے کوئی شخص پیے تو اپنے دائیں ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5265]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیے تو دائیں ہاتھ سے پیے، کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور اپنے بائیں سے پیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5265]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2020
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2020 ترقیم شاملہ: -- 5266
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ كلاهما، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ جَمِيعًا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ سُفْيَانَ.
عبیداللہ نے زہری سے سفیان کی سند کے ساتھ (حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5266]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے زہری رحمہ اللہ ہی کی سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5266]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2020
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة