Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا:
باب: اجنبی عورت سے تنہائی کرنا اور اس کے پاس جانا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2172 ترقیم شاملہ: -- 5676
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قال: وَسَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يقول: " الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ ".
ابن وہب نے کہا: میں نے لیث بن سعد سے سنا، کہہ رہے تھے: «حمو» (دیور/جیٹھ) خاوند کا بھائی ہے یا خاوند کے رشتہ داروں میں اس جیسا رشتہ رکھنے والا، مثلاً: اس کا چچا زاد وغیرہ۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5676]
امام لیث بن سعد کہتے ہیں، حمو سے مراد خاوند کا بھائی اور اس سے ملتے جلتے خاوند کے رشتہ دار ہیں، مثلاً اس کا چچا زاد وغیرہ۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5676]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2172
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2173 ترقیم شاملہ: -- 5677
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ، فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ ".
عبدالرحمن بن جبیر نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اس وقت ان کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو انہیں ناگوار گزرا۔ انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، ساتھ ہی کہا: میں نے خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے (بھی) انہیں (حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو) اس سے بری قرار دیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5677]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ کے پاس آئے، پھر ابوبکر صدیق بھی آ گئے اور اسماء ان دنوں ان کی بیوی تھیں، ابوبکر نے ان کو دیکھ کر کراہت محسوس کی اور اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور کہا، میں نے خیر ہی دیکھی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اس کو اس (برائی) سے بری رکھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: آج کے دن کے بعد کوئی آدمی ایسی عورت کے پاس نہ جائے، جس کا خاوند گھر میں موجود نہ ہو، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک دو آدمی ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5677]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2173
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُئِيَ خَالِيًا بِامْرَأَةٍ وَكَانَتْ زَوْجَةً أَوْ مَحْرَمًا لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذِهِ فُلاَنَةُ. لِيَدْفَعَ ظَنَّ السَّوْءِ بِهِ:
باب: جو شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہو اور دوسرے شخص کو دیکھے تو اس سے کہہ دے کہ میری بی بی یا محرم ہے تاکہ اس کو بدگمانی نہ ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2174 ترقیم شاملہ: -- 5678
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ، فَجَاءَ، فَقَالَ: " يَا فُلَانُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلَانَةُ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ".
ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے باہر) اپنی ایک اہلیہ کے ساتھ تھے، آپ کے پاس سے ایک شخص گزرا تو آپ نے اسے بلایا، جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا: اے فلاں! یہ میری فلاں بیوی ہے۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کسی کے بارے میں گمان کرتا بھی تو آپ کے بارے میں تو نہیں کر سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5678]
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ آپ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، آپ نے اس کو آواز دی تو وہ آ گیا، پھر آپ نے فرمایا: اے فلاں، یہ میری فلاں (صفیہ) بیوی ہے۔ اس نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! کسی کے بارے میں تو میں گمان کر سکتا تھا، آپ کے بارے میں تو میں گمان نہیں کر سکتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان، انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5678]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2174
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2175 ترقیم شاملہ: -- 5679
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وتقاربا في اللفظ، قالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ لِأَنْقَلِبَ، فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ "، فَقَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا أَوَ قَالَ شَيْئًا ".
معمر نے زہری سے، انہوں نے علی بن حسین سے، انہوں نے حضرت صفیہ بنت حیی (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) سے روایت کی، کہا: ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو آئی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں، پھر میں لوٹ جانے کو کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے پہنچا دینے کو میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور میرا گھر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے مکان میں تھا۔ راہ میں انصار کے دو آدمی ملے جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ جلدی جلدی چلنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہے۔ وہ دونوں بولے: سبحان اللہ یا رسول اللہ! (یعنی ہم بھلا آپ پر کوئی بدگمانی کر سکتے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح پھرتا ہے اور میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں برا خیال نہ ڈالے (اور اس کی وجہ سے تم تباہ ہو)۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5679]
حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لیے آئی اور آپ سے گفتگو کرتی رہی، پھر میں واپس جانے کے لیے اٹھی تو آپ بھی میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ مجھے رخصت کریں اور اس (صفیہ) کا گھر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کے احاطہ میں تھا تو دو انصاری گزرے، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، تیز تیز چلنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے معمول کی چال چلو، یہ صفیہ بنت حیی ہے۔ انہوں نے کہا، سبحان اللہ، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہیں وہ تمہارے دلوں میں بدگمانی نہ ڈال دے۔ یا فرمایا: کوئی وسوسہ نہ پیدا کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5679]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2175
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2175 ترقیم شاملہ: -- 5680
وحدثينيه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، وَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ " وَلَمْ يَقُلْ يَجْرِي.
شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے علی بن حسین نے بتایا کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کے دوران مسجد میں آپ سے ملنے آئیں، انہوں نے گھڑی بھر آپ سے بات کی، پھر واپسی کے لیے کھڑی ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو واپس چھوڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد (شعیب نے) معمر کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کے اندر وہاں پہنچتا ہے جہاں خون پہنچتا ہے۔ انہوں نے دوڑتا ہوا نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5680]
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبکہ آپ مسجد میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے، ملنے کے لیے آئی، یہ رمضان کے آخری دھاکے کا واقعہ ہے، آپ کے ساتھ کچھ وقت بات چیت کی، پھر واپسی کے لیے کھڑی ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو رخصت کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے، ہاں اتنا فرق ہے کہ آپ نے شیطان کے لیے، يجرى مجرى [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5680]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2175
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب مَنْ أَتَى مَجْلِسًا فَوَجَدَ فُرْجَةً فَجَلَسَ فِيهَا وَإِلاَّ وَرَاءَهُمْ:
باب: جو کوئی مجلس میں آئے اور صف میں جگہ پائے تو بیٹھ جائے، نہیں تو پیچھے بیٹھے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2176 ترقیم شاملہ: -- 5681
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ، قَالَ: فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا، وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ، أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ ".
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابومرہ نے انہیں حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اتنے میں تین آدمی آئے، دو تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ایک چلا گیا۔ وہ دو جو آئے ان میں سے ایک نے مجلس میں جگہ خالی پائی تو وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھا اور تیسرا تو پیٹھ پھیر کر چل دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا میں تم سے تین آدمیوں کا حال نہ کہوں؟ ایک نے تو اللہ کے پاس ٹھکانا لیا تو اللہ نے اس کو جگہ دی اور دوسرے نے (لوگوں میں گھسنے کی) شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5681]
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ مسجد میں تشریف فر تھے، اچانک تین آدمی آئے، دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ گئے اور ایک چلا گیا، دونوں جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رک گئے، رہا ان میں سے ایک تو اس نے حلقہ کے اندر گنجائش دیکھی تو اس میں بیٹھ گیا، رہا دوسرا تو وہ لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا اور لیکن تیسرا تو وہ پشت پھیر کر چلا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گفتگو سے) فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ان تین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ان میں سے ایک نے تو اللہ کی طرف جگہ پکڑی تو اللہ نے اسے جگہ دے دی اور ان میں سے دوسرے نے جانے سے شرم محسوس کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا فرمایا، لیکن تیسرا تو اس نے اعراض کیا تو اللہ نے اس سے اعراض کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5681]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2176
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2176 ترقیم شاملہ: -- 5682
وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَهُ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ فِي الْمَعْنَى.
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انہیں اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5682]
امام صاحب کو ایک اور استاد نے اس کے ہم معنی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5682]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2176
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ:
باب: کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھنے کی حرمت کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2177 ترقیم شاملہ: -- 5683
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ ".
لیث نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر وہاں (خود) بیٹھ جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5683]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر، اس کی جگہ میں نہ بیٹھے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5683]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2177
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2177 ترقیم شاملہ: -- 5684
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا ".
عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر وہاں بیٹھ جائے، بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5684]
امام صاحب اپنے پانچ اساتذہ کی پانچ سندوں سے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی دوسرے آدمی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھے، لیکن دوسروں کے لیے کشادگی اور وسعت پیدا کرو، یعنی مجلس وسیع کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5684]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2177
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2177 ترقیم شاملہ: -- 5685
وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي الْحَدِيثِ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قُلْتُ: فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا.
ابوربیع اور الکامل نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں ایوب نے حدیث سنائی۔ یحییٰ بن حبیب نے کہا: ہمیں روح نے حدیث سنائی، محمد رافع نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی، ان دونوں (روح اور عبدالرزاق) نے ابن جریج سے روایت کی، محمد بن رافع نے کہا: ہمیں ابن ابی فدیک نے حدیث بیان کی، کہا: ضحاک بن عثمان نے خبر دی، ان سب (ایوب، ابن جریج اور ضحاک بن عثمان) نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث کی حدیث کے مانند روایت کی، انہوں نے اس حدیث میں: بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو کے الفاظ بیان نہیں کیے اور (ابن رافع نے) ابن جریج کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: میں نے ان (ابن جریج) سے پوچھا: جمعہ کے دن؟ انہوں نے کہا: جمعہ میں اس اور اس کے علاوہ بھی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5685]
امام اپنے پانچ اساتذہ کی چار سندوں سے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پہلی روایت کی طرح بیان کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان لیکن کھل جاؤ، وسعت پیدا کرو۔ بیان نہیں کرتے، ابن جریج کی روایت میں یہ اضافہ ہے، میں نے پوچھا، جمعہ کے دن، استاد نے کہا، جمعہ کا دن ہو یا کوئی اور دن۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5685]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2177
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں