صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ:
باب: سوار پیدل کو سلام کرے اور تھوڑے آدمی بہت آدمیوں کو سلام کریں۔
ترقیم عبدالباقی: 2160 ترقیم شاملہ: -- 5646
حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ ".
عبدالرحمن بن زید کے آزاد کردہ غلام ثابت نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیادہ کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5646]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار، پیدل کو اور چلنے والا بیٹھے کو اور کم زیادہ کو سلام کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5646]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2160
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلاَمِ:
باب: راہ میں بیٹھنے کا حق یہ ہے کہ سلام کا جواب دے۔
ترقیم عبدالباقی: 2161 ترقیم شاملہ: -- 5647
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: " مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ، اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ؟ " فَقُلْنَا: إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ، قَالَ: " إِمَّا لَا فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم مکانوں کے سامنے کی کھلی جگہوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا راستوں کی خالی جگہوں پر مجلسوں سے کیا سروکار؟ راستوں کی مجالس سے اجتناب کرو۔“ ہم نے کہا: ہم ایسی باتوں کے لیے بیٹھے ہیں جن میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں، ہم ایک دوسرے سے گفتگو اور بات چیت کے لیے بیٹھے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اگر نہیں (رہ سکتے) تو ان (جگہوں) کے حق ادا کرو (جو یہ ہیں): آنکھ نیچی رکھنا، سلام کا جواب دینا اور اچھی گفتگو کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5647]
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہم گھروں کے سامنے کے صحن میں بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس آ کر ٹھہر گئے اور فرمایا: ”تم، راستوں پر مجالس کیوں قائم کرتے ہو؟ راستوں کی مجالس سے پرہیز کرو۔“ سو ہم نے عرض کیا، ہم کسی برے ارادے سے نہیں بیٹھتے، ہم باہمی مذاکرہ اور گفتگو کے لیے بیٹھے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم راستوں پر بیٹھنے سے بچ نہیں سکتے تو ان کا حق ادا کرو، نظر نیچی رکھو، سلام کا جواب دو اور اچھی گفتگو کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5647]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2161
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2161 ترقیم شاملہ: -- 5648
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ "، قَالُوا: وَمَا حَقُّهُ؟، قَالَ: " غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ".
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے (راستے کی) مجلسوں کے بغیر جن میں (بیٹھ کر) ہم باتیں کرتے ہیں، کوئی چارہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجالس کے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا حق ادا کرو۔“ لوگوں نے کہا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نگاہ نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیزوں کو (راستے سے) ہٹانا، سلام کا جواب دینا، اچھائی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5648]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔“ صحابہ کرام نے گزارش کی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے ایسی مجالس کا ہونا ضروری ہے، جن میں ہم باہمی بات چیت کر سکیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں بیٹھنے پر اصرار ہے تو پھر راستہ کا حق ادا کرو“ انہوں نے پوچھا، اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر نیچی رکھنا، تکلیف دینے سے باز رہنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5648]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2161
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2161 ترقیم شاملہ: -- 5649
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالعزیز بن محمد مدنی اور ہشام بن سعد دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5649]
یہی روایت امام صاحب کو دو اور اساتذہ نے اپنی اپنی سند سے سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5649]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2161
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
3. باب مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ رَدُّ السَّلاَمِ:
باب: مسلمان کا حق یہ بھی ہے سلام کا جواب دینا۔
ترقیم عبدالباقی: 2162 ترقیم شاملہ: -- 5650
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ ". ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ رَدُّ السَّلَامِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ "، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: كَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔“ نیز عبدالرزاق نے کہا: ہمیں معمر نے (ابن شہاب) زہری سے خبر دی، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے لیے اس کے بھائی پر پانچ چیزیں واجب ہیں: سلام کا جواب دینا، چھینک مارنے والے کے لیے رحمت کی دعا کرنا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جانا۔“ عبدالرزاق نے کہا: معمر اس حدیث (کی سند) میں ارسال کرتے تھے (تابعی اور صحابی کا نام ذکر نہیں کرتے تھے) اور کبھی اسے (سعید) بن مسیب اور آگے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے (متصل مرفوع) روایت کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5650]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5650]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2162 ترقیم شاملہ: -- 5651
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ ".
اسماعیل بن جعفر نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے پیچھے (جنازے میں) جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5651]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں“ پوچھا گیا، وہ کون سے ہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اسے ملو تو سلام کہو اور جب وہ تمہیں دعوت دے تو اسے قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت کا طالب ہو تو اسے نصیحت کرو اور جب وہ چھینک کر الحمدللہ کہے تو اس کو یرحمک اللہ کہو اور جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازہ میں شریک ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5651]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلاَمِ وَكَيْفَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ:
باب: یہود اور نصاریٰ کو خود سلام نہ کرے اگر وہ کریں تو کیسے جواب دے، اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2163 ترقیم شاملہ: -- 5652
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ ".
عبیداللہ بن ابی بکر نے اپنے دادا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل کتاب تم کو سلام کریں تو تم ان کے جواب میں «وعليكم» اور تم پر، کہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5652]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2163
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2163 ترقیم شاملہ: -- 5653
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟، قَالَ: قُولُوا: وَعَلَيْكُمْ ".
شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ «وعليكم» اور تم پر، کہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5653]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اہل کتاب ہمیں سلام کہتے ہیں تو ہم انہیں کیسے جواب دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو، وعلیکم [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5653]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2163
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2164 ترقیم شاملہ: -- 5654
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي بْنِ يَحْيَي، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَر ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ ".
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص «اَلسَامُ عَلَيكُم» تم پر موت نازل ہو، کہتا ہے۔“ (اس پر) تم «عَلَيكُم» تجھ پر ہو کہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5654]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود جب تمہیں سلام کہتے ہیں تو ان میں سے ایک کہتا ہے، تم پر موت آئے تو تم کہو، علیک۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5654]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2164
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2164 ترقیم شاملہ: -- 5655
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقُولُوا وَعَلَيْكَ.
سفیان نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی مگر اس میں ہے: ”تو تم کہو: «وعليكم» تم پر ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5655]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے، اس فرق سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ”فقل عليك [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5655]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2164
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة