🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. ما جاء في الثياب للصلاة
نماز کے کپڑوں کے بارے میں جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 174
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ" .
سعید بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 386، صحيح مسلم: 555»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. ما جاء في المسجد
مسجد کے متعلق جو کچھ مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 175
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ حَيْثُ نزل بِهِ جَعَلَ يُلْقِي عَلَى وَجْهِهِ خَمِيصَةً، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا مِنْ وَجْهِهِ، وَيَقُولُ: " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" ، تَقُولُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: يُحَذِّرُ مثل الَّذِي فَعَلُوا.
سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے، تو اپنی چادر کو بار بار چہرے پر ڈالتے۔ کچھ افاقہ ہوتا، تو چہرے سے چادر ہٹا دیتے اور فرماتے: یہود و نصاری پر اللہ کی پھٹکار ہو کہ انہوں نے اپنے انبیا۶ کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو ایسے کاموں سے ڈرا رہے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 175]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 435، صحيح مسلم: 531»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 176
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ" .
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 176]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 381، صحيح مسلم: 513»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. صفة صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 177
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى قَالُوا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَلا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ جب نماز شروع کرتے، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے، اسی طرح جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے (تو رفع الیدین کرتے) اور دونوں سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 177]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 735 - 736 - 738، صحيح مسلم: 290»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 178
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: ثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى إِذَا كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ فَرَكَعَ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَسْجُدُ فَلا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ وَرَفَعَهُمَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَتَكْبِيرَةٍ كَبَّرَهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلاتُهُ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تو دونوں ہاتھ اٹھاتے، جب ہاتھ کندھوں کے برابر ہو جاتے، تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب رکوع جانے لگتے، تو ان کو اٹھاتے، یہاں تک کہ جب کندھوں کے برابر ہو جاتے، تو اسی حالت میں اللہ اکبر کہتے، رکوع کرنے کے بعد جب پشت اٹھانے لگتے، تو ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے، پھر سجدہ کرتے، تو سجدوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ نہیں اٹھایا کرتے تھے، ہر رکعت اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر میں ہاتھ اُٹھاتے تھے حتی کہ آپ کی نماز پوری ہو جاتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 178]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 735، 736، 738، صحيح مسلم: 290»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 179
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، وَأَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، فَإِذَا رَكَعَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، فَإِذَا سَجَدَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، وَإِذَا فَرَغَ مَنْ صَلاتِهِ فَسَلَّمَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لا إِلَهَ أَلا أَنْتَ" ، قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فِيهِمَا جَمِيعًا لا إِلَهَ لِي إِلا أَنْتَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے، تو «الله اكبر» کہتے: پھر یہ دعا پڑھتے: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ المُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَّا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» میں نے یکسو ہو کر اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف پھیر لیا ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا فرماں بردار ہوں، اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اور اپنے گناہوں کا اعتراف کیا، تو میرے سارے گناہ بخش دے، کیوں کہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا، مجھے سب سے اچھے اخلاق کی ہدایت دے، کیوں کہ سب سے اچھے اخلاق کی ہدایت تیرے سوا کوئی نہیں دے سکتا، برے اخلاق مجھ سے ہٹا دے، کیوں کہ مجھ سے برے اخلاق تیرے علاوہ کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھوں میں ہیں، برائی کی نسبت تیری طرف نہیں، میں تیرے ساتھ ہوں اور تیری طرف ہوں، تو برکت والا اور بلند ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ جب رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِي وَعِظَامِي وَعَصَبِي» اے اللہ! میں تیرے ہی لیے جھکا، تجھی پر ایمان لایا، تیرا ہی فرمانبردار بنا، میرے کان، آنکھیں، مغز، ہڈیاں اور پٹھے تیرے ہی سامنے عاجز ہیں۔ جب رکوع سے سر اٹھاتے، تو یہ دعا پڑھتے: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» اللہ نے سن لیا، جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے پروردگار! تیرے لیے اتنی تعریف ہے، جس سے آسمان و زمین اور ان کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جو تو چاہے۔ جب سجدہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، تجھی پر ایمان لایا، تیرا ہی فرمانبردار بنا، میرے چہرے نے اس ہستی کے لیے سجدہ کیا، جس نے اسے پیدا کیا، اس کی خوبصورت شکل بنائی، اس کے کانوں اور آنکھوں کے شگاف بنائے، برکت والا ہے اللہ، جو تمام بنانے والوں سے اچھا ہے۔ جب نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرتے، تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُوَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! بخش دے جو میں نے پہلے کیا اور جو بعد میں کیا، جو چھپ کر کیا اور جو علانیہ کیا، جو زیادتی کی، جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، پہلے اور پیچھے کرنے والا تو ہی ہے، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ابو صالح نے سب مقامات پر یوں بیان کیا ہے: «لَّا إِلهَ لِي إِلَّا أَنْتَ» تیرے علاوہ میرا کوئی معبود نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 179]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 771»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 180
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الصَّلاةَ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلاثًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ" ، قَالَ عَمْرٌو: نَفْخُهُ الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَقَالَ مِسْعَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ رَجُلِ مِنْ عَنَزَةَ وَاخْتُلِفَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، فَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: عَمَّارِ بْنِ عَاصِمٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ عُمَارَةَ: وَقَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ حُصَيْنٍ، عَمْرٍو عَبَّادِ بْنِ عَاصِمٍ.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تو تین مرتبہ پڑھتے: «اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا» اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں۔ اور «وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَان الرَّحِيمِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْيْهِ وَهَمْزِهِ» میں صبح و شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، شیطان مردود سے اس کی پھونک سے اس کی تھوک سے اور اس کے چوکے سے . عمرو کہتے ہیں: نفخ سے مراد تکبر ھمز سے مراد موت اور نفث سے مراد شعر ہیں۔ حصین سے بیان کرنے والوں نے عاصم عنزی کے نام میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے عمرو بن مرہ کہا، بعض نے عمار بن عاصم، بعض نے عمارہ اور ابن ادریس نے کہا: عمر وعن عباد بن عاصم کہا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 180]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند على بن الجعد: 105، مسند الإمام أحمد: 80/4 - 81، سنن أبى داؤد: 764، سنن ابن ماجه: 708، اس حديث كو امام ابن حبان رحمہ اللہ 1779-1780 نے ”صحيح“ كها هے، امام حاكم رحمہ اللہ 235/1 نے ”صحيح الاسناد“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ الله نے ان كي موافقت كي هے، حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ: [البدر المنير: 534/3] نے صحيح اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ [نتائج الافكار: 1/ 412] نے ”حسن“ كها هے. عاصم عنزي راوي ”حسن الحديث“ هے.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 181
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، وَعُقْبَةَ ، وَأَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَجْهَرُوا بِـ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، تو انہوں نے «بسم الله الرحمن الرحيم» اونچی آواز سے نہ پڑھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 181]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 743، صحيح مسلم: 399»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 182
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما، «الحمد لله رب العالمين» سے قرآت شروع کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 182]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 743، صحيح مسلم: 399»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 183
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَلَمْ أَسْمَعْهُمْ يَجْهَرُونَ بِـ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1" ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِقَتَادَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، تو میں نے انہیں «بسم الله الرحمن الرحيم» اونچی آواز سے پڑھتے سنا۔ امام شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا: آپ نے خود (سید نا انس رضی اللہ عنہ سے) سنا ہے؟ فرمایا: جی ہاں! [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 183]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 743، صحيح مسلم: 399»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں