المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
3. ما جاء في الأذان
اذان کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حدیث نمبر: 164
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: نَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ رَحِمَهُ الله، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " كَانَ الأَذَانُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالإِقَامَةُ وَاحِدَةً، أَنَّهُ إِذَا قَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ ثَنَّى بِهَا، فَإِذَا سَمِعْنَاهَا تَوَضَّأَنَا وَخَرَجْنَا إِلَى الصَّلاةِ" ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: أَبُو الْمُثَنَّى اسْمُهُ مُسْلِمُ بْنُ مِهْرَانَ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اذان کے کلمات دو دو بار تھے اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار تھے، البتہ «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» دو بار کہا جاتا تھا، ہم اقامت سن کر وضو کرتے اور نماز کے لیے آتے۔ ابو محمد کہتے ہیں: ابو مثنیٰ کا نام مسلم بن مہران ہے وہ کوفہ کی مسجد کے مؤذن تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن و الحديث صحيح بشواهده: مسند الإمام أحمد: 87/2، سنن أبى داود: 510، سنن النسائي: 629، اسے امام ابن خزيمه رحمہ الله 374، اور امام ابن حبان رحمہ الله1674 نے ”صحيح“ كها هے، امام حاكم رحمہ الله 197/1، 198، نے ”صحيح الاسناد“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ الله نے ان كي موافقت كي هے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن و الحديث صحيح بشواهده
4. ما جاء في القبلة
قبلہ (رخ کرنے) کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حدیث نمبر: 165
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ: ثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَأَنَّهُ أَوَّلُ صَلاةٍ صَلَّى صَلاةُ الْعَصْرِ وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلَّى مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ مَسْجِدٍ وَهُمْ رَاكِعُونَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ، فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَيْتِ" ، وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ آئے، تو ابتدائی سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے، حالاںکہ آپ کو پسند تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی جانب ہو، بیت اللہ کی جانب (منہ کر کے) آپ نے پہلے عصر کی نماز ادا کی، لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والوں میں سے ایک آدمی (نماز پڑھ کر) نکلا، تو ایک مسجد کے پاس سے گزرا، جہاں لوگ رکوع کی حالت میں تھے، تو اس نے کہا: میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی جانب منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ چنانچہ وہ اسی حالت میں ہی مکہ کی طرف گھوم گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا لگتا تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی جانب بدل دیا جائے۔ انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 399 - 4486، صحيح مسلم: 525»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 166
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: ثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَجْعَلْ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مثل مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ وَيُصَلِّي .
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز سامنے رکھ کر نماز پڑھا کرے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 499»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، وَثَنِي مُطَرِّفٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو، تو کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے اور جہاں تک ممکن ہو اسے روکے۔ اگر وہ گزرنے پر مصر ہو، تو اسے سختی سے منع کرے، وہ تو شیطان ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 509، صحيح مسلم: 505»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 168
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ يَوْمَ عَرَفَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ فَلَمْ يَقُلْ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا" ، زَادَ مَحْمُودٌ: فَدَخَلْنَا فِي الصَّلاةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عرفہ کے دن میں اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما گدھی پر سوار ہو کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، ہم صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر کر گدھی سے اتر گئے اور گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نہ کہا محمود کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ہم نماز میں شامل ہو گئے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 493، صحيح مسلم: 504»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: ثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى الْفِرَاشِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد پڑھا کرتے تھے، میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان بستر پر لیٹی ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر پڑھنا چاہتے، تو مجھے بھی جگا دیتے، میں بھی وتر پڑھ لیتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 512، صحيح مسلم: 512»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
5. ما جاء في الثياب للصلاة
نماز کے کپڑوں کے بارے میں جو مروی ہے
حدیث نمبر: 170
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ:" أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: أُوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟!" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 358، صحيح مسلم: 275/515»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھے کہ اس کے کندھے پر کپڑے کا کچھ حصہ بھی نہ ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 171]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 359، صحيح مسلم: 516»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 172
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَرَزَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حَتَّى أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي مَسْجِدِهِ، وَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أَنْ أُخَالِفَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي، وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَكَّسْتُهَا، ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا، ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا، فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَجَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا، فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ، فَقَالَ: هَكَذَا بِيَدِهِ يَعْنِي شُدَّ وَسَطَكَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا جَابِرُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوِكَ" .
عبادہ بن ولید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد ایک دن سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مسجد میں آئے، حدیث بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میرے اوپر دھاری دار چادر تھی۔ میں اس کے کنارے الٹنے لگا (تا کہ گردن سے باندھ لوں) لیکن وہ وہاں تک نہ پہنچ سکی، اس کے پھندنے تھے، میں نے اسے الٹ کر اس کے کناروں کو مخالف سمت کر لیا، میں نے اسے (گرنے سے بچانے کے لیے) گردن سے روکے رکھا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب آ کر کھڑا ہو گیا، تو آپ نے میرے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے گھمایا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا، اتنے میں سیدنا جبار بن صخر رضی اللہ عنہ آئے اور وضو کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر ہمیں دھکیلا اور اپنے پیچھے کھڑا کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مجھے دیکھ رہے تھے، لیکن مجھے پتہ نہ چلا، پھر مجھے پتہ چلا، تو آپ ہاتھ (کے اشارے) سے کہہ رہے تھے: ایسے کرو، یعنی درمیان میں باندھ لیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر!، عرض کیا: اللہ کے رسول! حاضر ہوں، فرمایا: جب کپڑا وسیع ہو، تو دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ دائیں کندھے پر ڈال لیا کریں اور اگر تنگ ہو، تو اسے کمر پر باندھ لیا کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 172]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 3008»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
حدیث نمبر: 173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، وَأَبُو الْوَلِيدِ ، قَالا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاةَ حَائِضٍ إِلا بِخِمَارٍ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز دوپٹہ اوڑھنی) کے بغیر قبول نہیں کرتا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 150/6 - 218، سنن أبى داوٗد: 641، سنن الترمذي: 377، سنن ابن ماجه: 566، اس حديث كو امام ترمذي رحمہ الله نے ”حسن“، امام ابن خزيمه رحمہ الله 775، اور امام ابن حبان رحمہ الله 1711 نے ”صحيح“ كها هے، امام حاكم رحمہ الله 251/1 نے امام مسلم رحمہ الله كي شرط پر ”صحيح“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ الله نے ان كي موافقت كي هے، معجم لا بن الاعرابي 996، و سنده صحيح ميں قتاده ”مدلس“ كي متابعت امام ايوب سختياني رحمہ الله نے كر ركهي هے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح