🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. صفة صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 184
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: أَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ: ثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ ، عَنِ الْمُجْمِرِ ، قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقَالَ: آمِينَ، وَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ، وَيَقُولُ كُلَّمَا سَجَدَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ" وَيَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
نعیم مجمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، تو انہوں نے «بسم الله الرحمن الرحيم» پڑھ کر سورہ فاتحہ پڑھی، جب «ولا الضالين» پر پہنچے، تو آمین کہا، لوگوں نے بھی آمین کہا۔ جب سجدے میں جاتے یا بیٹھ کر اٹھتے، تو «الله اكبر» کہتے، سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری نماز تم سب کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زیادہ مشابہ ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 184]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: اس حديث كو امام ابن خزيمه رحمہ الله 499 اور امام ابن حبان رحمہ اللہ 1798 نے ”صحيح“ كها هے. امام دارقطني رحمہ اللہ فرماتے هيں: هَذَا صَحِيحٌ وَرُوَاتُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ . [سنن الدارقطني: 305/1، ح: 1155] ، امام حاكم رحمہ اللہ 233/1 نے اس حديث كو امام بخاري رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ كي شرط پر ”صحيح“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ الله نے ان كي موافقت كي هے، امام بيهقي رحمہ اللہ فرماتے هيں: هَذَا إِسْنَادُ صَحِيحٌ . [معرفة السنن والآثار: 773، 776] ، امام خطيب بغدادي رحمہ اللہ فرماتے هيں: صَحِيحٌ، لَّا يَتَوَجَّهُ عَلَيْهِ تَعْلِيلٌ فِي اِتِّصَالِ سَنَدِهِ وَثِقَةِ رِجَالِهِ . [خلاصة الأحكام فى مهمات السنن وقواعد الإسلام للنووي: 371/1] »

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 185
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، رِوَايَةً، وَقَالَ لِي مَرَّةً، إِنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں ہوتی، جس نے سورت فاتحہ نہ پڑھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 185]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 756، صحيح مسلم: 394»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 186
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ، قَالَ: اخْرُجْ، فَنَادِ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا صَلاةَ إِلا بِفَاتِحَةِ الْقُرْآنِ" ، فَمَا زَادَ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: جَعْفَرٌ هَذَا رَوَى عَنْهُ الثَّوْرِيُّ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا: مدینہ والوں میں اعلان کر دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سورت فاتحہ اور کچھ زائد پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ ابو محمد کہتے ہیں کہ یہ جعفر ثوری اور عیسیٰ بن یونس کا شاگرد ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 186]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 428/2، سنن أبى داود: 819-820، اس حديث كو امام ابن حبان رحمہ اللہ 1791 اور امام حاكم رحمہ اللہ 239/1 نے ”صحيح“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ اللہ نے ان كي موافقت كي هے، جعفر بن ميمون بصري راوي جمهور كے نزديك ”ضعيف“ هے.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 187
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَكَانَ يُسْمِعُنَا أَحْيَانًا الآيَةَ، وَكَانَ يُطِيلُ فِي الأُولَى مَا لا يُطِيلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَالَ: وَكَذَلِكَ فِي صَلاةِ الْعَصْرِ، قَالَ: وَكَذَلِكَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ" ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَرَوَاهُ مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، الأَوْزَاعِيِّ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ هَكَذَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: وَصَلاةِ الْفَجْرِ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحُمَيْدِيِّ عَنْهُ.
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں سورت فاتحہ اور مزید کوئی سورت پڑھا کرتے تھے، کبھی کبھار کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیا کرتے تھے۔ پہلی رکعت جس قدر لمبی کرتے، دوسری اس قدر لمبی نہیں کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں (صرف) سورت فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔ ابوقتادہ کہتے ہیں: نماز عصر اور فجر میں بھی آپ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ ابومحمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے مگر اس میں نماز فجر کا ذکر نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 187]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 776، صحيح مسلم: 451»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 188
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: فِي كُلِّ صَلاةٍ قِرَاءَةً، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لا صَلاةَ إِلا بِقِرَاءَةٍ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآت ہے، جہاں آپ نے ہمیں سنایا، ہم نے بھی آپ کو سنا دیا اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخفی رکھا، ہم نے بھی مخفی رکھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: قرآت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 188]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 772، صحيح مسلم: 396»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِينِي عَنِ الْقُرْآنِ، فَقَالَ:" قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ" ، قَالَ سُفْيَانُ: زَادَ يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ الرَّجُلُ: هَذَا لِرَبِّي، فَمَا لِي؟ قَالَ:" قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي"، قَالَ الرَّجُلُ: أَرْبَعٌ لِرَبِّي وَأَرْبَعٌ لِي.
سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسی چیز سکھا دیں، جو قرآن کی جگہ مجھے کفایت کر جائے، فرمایا: «سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ» کہیے۔ سفیان کہتے ہیں: ابو خالد واسطی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اس آدمی نے کہا: یہ کلمات تو میرے رب کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت اور عافیت دے۔) پڑھیے۔ اس شخص نے کہا: چار کلمات میرے رب کے لیے ہیں اور چار ہی میرے لیے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 4/353، 356، سنن أبي داود: 832، سنن النسائي: 925، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (544)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (1808، 1809، 1810) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (2411) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ ابراہیم سکسکی راوی ”حسن الحدیث“ ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری (امام) آمین کہے، تو آپ بھی آمین کہیں، کیوں کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں۔ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی، اس کے پہلے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 780، صحیح مسلم: 410»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: ثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ " يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ" وَيَقُولُ: إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ (نماز میں) جب بھی جھکتے یا اُٹھتے تو «الله اكبر» کہتے اور فرماتے: میری نماز آپ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہ ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 191]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 785، صحیح مسلم: 392»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 192
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنِّي لأُعَلِّمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لِمَ، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبِعًا وَلا أَقْدَمَنَا أَوْ قَالَ: أَطْوَلَ لَهُ مِنَّا صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَأَعْرِضْ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مِفْصَلِهِ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ يَعْتَدِلُ، وَلا يُصَوِّبُ وَلا يُقْنِعُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلا، قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: أَظُنُّهُ قَالَ: حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الأَرْضِ مُجَافِيًا يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ثُمَّ يَسْجُدُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيُثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، وَكَانَ يَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ ثُمَّ يَعُودُ فَيَسْجُدُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيُثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا مُعْتَدِلا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مثل ذَلِكَ حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا فَعَلَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ ثُمَّ صَنَعَ فِي بَقِيَّةِ صَلاتِهِ مثل ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الْقَعْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَجَلَسَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ" ، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ۔
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سمیت دس صحابہ کی موجودگی میں کہا: رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو میں آپ سب سے زیادہ جانتا ہوں، انہوں نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ کی قسم! نہ تو آپ ہم سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنے والے تھے اور نہ ہی ہم سے زیادہ صحبت رکھنے والے تھے، سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے! انہوں نے کہا: اچھا پھر پیش کریں۔ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تو کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے اور تکبیر کہتے حتی کہ ہر ہڈی اعتدال کے ساتھ اپنی اپنی جگہ آ جاتی، پھر قرآت کرتے، پھر تکبیر کہتے اور کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے، حتی کہ ہر ہڈی اپنے جوڑ پر واپس آ جاتی، پھر رکوع کرتے اور ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ کر بالکل سیدھے ہو جاتے، نہ سر کو زیادہ جھکاتے، نہ اونچا کرتے، پھر سر اٹھاتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے، پھر ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہو جاتے، ابو عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یوں کہا تھا: حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آ جاتی، پھر «الله اكبر» کہتے اور زمین کی طرف جھکتے، دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے دور رکھ کر سجدہ کرتے، پھر سر اٹھاتے اور بایاں پاؤں موڑ کر اس کے اوپر بیٹھتے۔ جب سجدہ کرتے تو دونوں پاؤں کی انگلیاں کھلی رکھتے، پھر دوبارہ سجدہ کرتے، پھر «الله اكبر» کہتے اور اپنا سر اٹھاتے اور بایاں پاؤں موڑ کر اس پر اتنی دیر سیدھے بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی، پھر دوسری رکعت میں ایسے ہی کرتے، پھر جب دو رکعتوں سے اٹھتے، تو دونوں ہاتھ اسی طرح کندھوں کے برابر اٹھاتے، جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت اٹھاتے تھے، پھر باقی نماز اسی طرح ادا کرتے، حتی کہ جب آخری قعدہ، جس میں سلام پھیرا جاتا ہے، میں ہوتے، تو بائیں پاؤں کو (سرین کے نیچے سے دائیں طرف) نکال کر بائیں کو لہے پر بیٹھتے۔ ان سب نے کہا: آپ نے سچ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی نماز پڑھتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 5/424، سنن أبي داود: 730، سنن الترمذي: 304، سنن ابن ماجه: 862، 1062، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (587)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (1865)، حافظ خطابی رحمہ اللہ (معالم السنن: 1/194)، حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصة الاحکام: 1/353) اور حافظ ابن قیم رحمہ اللہ (تہذیب السنن: 2/416) نے صحیح کہا ہے، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (نخب الافکار: 4/150) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ امام محمد بن یحییٰ ذیلی ابو عبداللہ نیساپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جس نے یہ حدیث سن لی اور پھر وہ رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین نہ کرے، تو اس کی نماز ناقص ہے۔“ (صحیح ابن خزیمہ: 1/298، وسندہ صحیح)»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 193
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: وثَنَا بِهِ أَبُو عَاصِمٍ مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ: إِنِّي لأُعَلِّمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ يَحْيَى: وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سمیت دس صحابہ کی موجودگی میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو میں آپ سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ ابن یحیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: آگے انہوں نے ساری حدیث بیان کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: انظر الحديث السابق»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں