🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. باب عتق من أسلم من عبيد المشركين
مشرکین کے ان غلاموں کی آزادی جو اسلام لے آئیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1093
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدَانِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ الصُّلْحِ، فَأَسْلَمُوا، فَبَعَثَ إِلَيْهِ مَوَالِيهِمْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ: وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ مَا خَرَجُوا إِلَيْكَ رَغْبَةً فِي دِينِكَ، وَلَكِنَّهُمْ إِنَّمَا خَرَجُوا هَرَبًا مِنَ الرَّقِّ، فَقَالَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَدَّهُمْ إِلَيْهِمْ، فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ: " مَا أَرَاكُمْ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ تَنْتَهُونَ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ عَلَى هَذَا الدِّينِ، فَأَبَى أَنْ يَرُدَّهُمْ، وَقَالَ: هُمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ" .
سیدنا علی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے دن صلح ہونے سے پہلے مکہ والوں کے کچھ غلام رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس بھاگ آئے اور مسلمان ہو گئے۔ ان کے مالکوں نے مکہ سے آپ کو یہ پیغام بھیجا: الله کی قسم! محمد! یہ آپ کے پاس آپ کے دین سے لگاؤ کی بنیاد پر نہیں آئے بلکہ یہ تو صرف غلامی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کہنے لگے: الله کے رسول! وہ سچ کہہ رہے ہیں، چنانچہ انہیں واپس بھیج دیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم غصے میں آگئے اور فرمایا: قریش کی جماعت! میرا خیال ہے آپ اس وقت تک باز نہیں آئیں گے جب تک الله تعالیٰ آپ پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر دے جو اس دین پر آپ کی گردنیں اڑا دے۔ آپ نے انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: انہیں الله تعالیٰ نے آزاد کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1093]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 2700، السنن الكبرى للبيهقي: 9/229، امام حاکم رحمہ اللہ (2/125) نے اسے امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ محمد بن اسحاق (جو جمہور کے نزدیک حسن الحدیث ہیں) مدلس ہیں۔ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (3716) نے شریک عن منصور کی سند سے بیان کیا ہے، نیز اسے حسن صحیح غریب قرار دیا ہے، شریک بن عبداللہ القاضی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. باب ما يجب على الأئمة من العدل
حکمرانوں پر عدل و انصاف کے وجوب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1094
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ: ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ عَلَيْهِمْ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، أَلا وَإِنَّ الرَّجُلَ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، أَلا وَإِنَّ الْمَرْأَةَ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، أَلا وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ" .
سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: آپ سب نگہبان (ذمہ دار) ہیں اور آپ سب اپنی رعیت کے متعلق جوابدہ ہیں، پس لوگوں کا امیر ان کا ذمہ دار ہے اور ان کے متعلق (الله کے ہاں) جوابدہ ہے، خبردار! مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور وہ ان کے بارے میں جوابدہ ہے، خبردار! بیوی اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس کے متعلق جوابدہ ہے، خبردار! غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس مال کے بارے میں جوابدہ ہے، سن لیں! آپ سب نگہبان (ذمہ دار) ہیں اور سب سے اپنی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1094]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2554، صحیح مسلم: 1829»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. باب ما يجب في تعقيب الجيوش
لشکروں کی واپسی یا کمک بھیجنے کے واجبات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1095
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ الأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ جَيْشًا مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا:" يَا عُمَرُ، إِنَّكَ غَفَلْتَ عَنَّا وَأَغْفَلْتَنَا وَتَرَكْتَ فِينَا الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِعْقَابِ الْجُيُوشِ بَعْضَ الْغَزِيَّةِ بَعْضًا" ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
سیدنا عبد الله بن کعب انصاری رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے انصاری صحابہ کا ایک گروہ سیدنا عمر رضی الله عنہ سے کہنے لگا: عمر! آپ ہم سے غافل ہو گئے اور ہمیں بھی غافل کر دیا، حالانکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہمارے متعلق فوجوں کے تبادلے کا جو حکم دیا تھا، آپ نے اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1095]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 2960، السنن الكبرى للبيهقي: 9/29، عبداللہ بن کعب انصاری تابعی ہیں جنہوں نے کبار صحابہ کرام سے سماع کر رکھا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. باب ما جاء في البيعة
بیعت کے متعلق جو کچھ مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1096
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ أَحَدَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ:" فِيمَا اسْتَطَعْتَ" .
سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہم سے سمع و طاعت (سن لینے اور مان لینے) پر بیعت لیا کرتے تھے، پھر فرماتے: جتنا آپ کے بس میں ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1096]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 7202، صحیح مسلم: 1867»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. باب ذكر ما يوجف عليه والخمس والصفايا
وہ مال جس پر چڑھائی کی گئی، خمس اور امام کے منتخب حصے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1097
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ، وَكَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلا رِكَابٍ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
سیدنا عمر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم بنو نضیر کے مالوں میں سے سال بھر اپنے گھر والوں پر خرچ کیا کرتے تھے، یہ ان مالوں میں سے تھا جو الله تعالیٰ نے اپنے رسول صلی الله علیہ وسلم کو بطور فے عطا کیا تھا، مسلمانوں نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ، پھر جو باقی بچ جاتا آپ اسے الله کی راہ میں گھوڑوں اور اسلحہ کی تیاری میں خرچ کر دیتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1097]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2904، صحیح مسلم: 1757»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1098
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ، وَأَبُو الْيَمَانِ ، وَبِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالُوا: ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: ثنا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ، وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيبرَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ" ، يَعْنِي مَالَ اللَّهِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا الْمَأْكَلَ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدہ عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی الله عنها نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وہ میراث طلب کرنے کے لیے کسی کو سیدنا ابو بکر رضی الله عنہ کے پاس بھیجا جو الله تعالیٰ نے اپنے رسول کو بطور فے دی تھی۔ اس وقت فاطمہ رضی الله عنها رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اس صدقہ کا مطالبہ کر رہی تھیں جو کہ مدینہ، فدک اور خیبر کے خمس سے باقی ماندہ سے متعلق تھا۔ سیدہ عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی الله عنہ نے فرمایا: رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ہماری میراث نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، آل محمد اس الله کے مال میں سے کھانے کے بقدر لے سکتے ہیں۔ انہیں اس سے زائد لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ الله کی قسم! میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صدقات میں کچھ بھی تبدیلی نہیں کروں گا اور انہیں اسی حالت میں رہنے دوں گا جس حالت میں وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دور میں تھے اور اس کے ساتھ میں ویسے ہی معاملہ کروں گا جیسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1098]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3711، صحیح مسلم: 1759»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1099
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمِرْبَدِ بِالْبَصْرَةِ، فَجَاءَ أَعْرَابِيُّ وَمَعَهُ أَدِيمٌ أَوْ قِطْعَةُ جِرَابٍ، فَقَالَ: هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو الْعَلاءِ: فَأَخَذْتُهُ فَقَرَأْتُهُ عَلَى الْقَوْمِ فَإِذَا فِيهِ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أَقَيْشٍ، إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ، وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصَّفِيَّ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ، وَأَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: قُلْنَا لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَيْئًا؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَصَوْمُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ" ، قَالَ: قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَتَرُونِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ الْكِتَابَ، فَانْصَاعَ مُدْبِرًا الْحَدِيثُ لِلأَحْمَسِيِّ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ.
یزید بن عبد الله بن الشخیر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بصرہ کے (ایک محلے) مربد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آیا جس کے پاس چمڑا یا چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا۔ وہ کہنے لگا: یہ تحریر مجھے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے لکھ کر دی ہے۔ ابو العلاء کہتے ہیں: میں نے اسے پکڑا اور لوگوں کے سامنے پڑھنے لگا، اس میں لکھا تھا: بسم الله الرحمن الرحيم، یہ تحریر محمد رسول الله کی طرف سے بنو زہیر بن أقیش کے نام ہے، اگر آپ نے نماز قائم کی، زکوٰة ادا کی، غنیمت میں سے خمس ادا کیا، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا حصہ اور صفی کا حصہ ادا کیا تو آپ الله اور اس کے رسول کی امان میں آجائیں گے۔ ابو العلاء کہتے ہیں: ہم نے اس سے پوچھا: کیا آپ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کچھ فرماتے سنا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ماہ رمضان اور ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے سے دل کا کینہ ختم ہوتا ہے۔ کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا: آپ نے خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو وہ کہنے لگا: کیا خیال ہے کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر جھوٹ بول رہا ہوں؟ کہتے ہیں: پھر اس نے تحریر لی اور پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ یہ حدیث احمسی کی ہے لیکن الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1099]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 5/263، سنن أبي داود: 2999، سنن النسائي: 2415، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6557) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. باب إجلاء اليهود
یہودیوں کو جلاوطن کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1100
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ يَهُودَ النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنْ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ، وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ" .
سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ نضیر اور قریظہ کے یہودیوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے لڑائی کی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا، مگر قریظہ کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا حتیٰ کہ بعد میں قریظہ نے بھی آپ سے جنگ کی تو آپ نے ان کے آدمی مار دیے، عورتیں، بچے اور مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیے، بجز چند (افراد) کے جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مل گئے تھے، آپ نے انہیں امان دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، عبد الله بن سلام کی قوم بنو قینقاع کو بھی اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو بھی، تا آنکہ مدینہ کے ہر یہودی کو جلا وطن کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1100]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2338، صحیح مسلم: 1551»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. باب ذكر خيبر
خیبر کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1101
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ تَمْرٍ أَوْ زَرْعٍ" .
سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اہل خیبر سے کھجوروں اور اناج کی آدھی پیداوار لینے کا معاہدہ کیا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1101]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2328، صحیح مسلم: 1551»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1102
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: أَنِي أُسَامَةُ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ فِيهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى نِصْفِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنَ التَّمْرِ وَالزَّرْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا" وَكَانُوا فِيهَا كَذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَطَائِفَةٍ مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ التَّمْرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ، فَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمُسَ .
سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ انہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں کہ وہ پیداوار یعنی کھجوروں اور اناج کے نصف کے حصول پر کام کریں گے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے۔ چنانچہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم، سیدنا ابو بکر رضی الله عنہ اور سیدنا عمر رضی الله عنہ کی خلافت کے کچھ عرصہ تک وہ اس شرط پر وہاں کام کرتے رہے۔ خیبر کی نصف پیداوار سے جو کھجور حاصل ہوتی تھی وہ کئی حصوں میں تقسیم کی جاتی تھی، رسول الله صلی الله علیہ وسلم خمس حاصل کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1102]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1767»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں