🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. باب ما جاء في تعجيل قسم الغنائم بقرب العدو
دشمن کے قریب ہی غنائم کی تقسیم میں جلدی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1083
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْسِمُ الْغَنَائِمَ بِالْجِعْرَانَةِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: اعْدِلْ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ، فَقَالَ: وَيْحَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدَلْ؟ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: دَعْهُ، فَإِنَّ هَذَا مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ، أَوْ فِي أَصْحَابٍ لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جعرانہ میں مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: انصاف کیجیے، آپ نے انصاف نہیں کیا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر افسوس ہے، اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر اور کون کرے گا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: مجھے اجازت دیجیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دیں، یہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہوگا جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہیں جائے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے گزر جاتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1063»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. باب سهم الفارس والراجل
(غنیمت میں) سوار اور پیادہ کے حصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1084
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَلِفَرَسِهِ ثَلاثَةَ أَسْهُمٍ: سَهْمًا لَهُ، وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ" .
سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص اور اس کے گھوڑے کے تین حصے مقرر کیے، ایک حصہ اس کا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2863، صحیح مسلم: 1762»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. باب الرضخ للمرأة والمملوك يحضرون القتال
جنگ میں حاضر ہونے والی عورت اور غلام کو (غنیمت سے) کچھ عطیہ دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1085
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ، فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا سَهْمٌ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ" .
یزید بن ہرمز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا تو سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں لکھا: آپ نے مجھ سے یہ پوچھنے کے لیے خط لکھا ہے کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں لے جایا کرتے تھے؟ تو (جواب یہ ہے کہ) آپ صلی الله علیہ وسلم انہیں جنگ میں لے جایا کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج کیا کرتی تھیں اور انہیں غنیمت میں سے تحفہ بھی دیا جاتا تھا، البتہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کا حصہ مقرر نہیں کیا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1085]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1812»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، قَالَ: ثنا عَفَّانُ، قَالَ: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: ثني قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، قَالَ: فَشَهِدَتِ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ، وَحِينَ كَتَبَ إِلَيْهِ، قَالَ" وَسَأَلْتَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ: هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ" .
یزید بن ہرمز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا اور ان سے مختلف مسائل دریافت کیے، یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما نے جب ان کا خط پڑھا اور انہیں اس کا جواب لکھا تو اس وقت میں ان کے پاس موجود تھا، آپ نے فرمایا: تو نے مجھ سے عورت اور غلام کے متعلق پوچھا ہے کہ اگر وہ جنگ میں شامل ہوں تو کیا (غنیمت میں) ان کا حصہ مقرر ہے؟ ان دونوں کا کوئی حصہ مقرر نہیں تھا، بس قوم کی غنیمتوں میں سے انہیں کچھ تحفہ دے دیا جاتا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «انظر الحديث السابق»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: انظر الحديث السابق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1087
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْهِمْ لِي؟ قَالَ: فَأَعْطَانِي سَيْفًا، قَالَ: " تَقَلَّدْ هَذَا، وَأَعْطَانِي مِنْ خُرْنِيِّ الْمَتَاعِ" .
ابو اللحم کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ جنگ خیبر میں شریک ہوا، تو اس وقت میں غلام تھا، میں نے عرض کیا: الله کے رسول! مجھے بھی حصہ دیجیے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے ایک تلوار دی اور فرمایا: اسے گلے میں ڈال لیں۔ نیز آپ نے گھریلو استعمال کی چند چیزیں بھی مجھے دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 5/223، سنن أبي داود: 2730، سنن ابن ماجه: 2855، سنن الترمذي: 1557، الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم: 2671، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (6898) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4831) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (2/131) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ حفص بن غیاث نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، اس کی متابعت بھی موجود ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. باب الدليل على أن الغنيمة لمن شهد الوقيعة
اس بات کی دلیل کہ غنیمت صرف اسی کی ہے جو لڑائی میں حاضر ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1088
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ، فَقَدِمَ أَبَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا، وَأَنَّ خُزُمَ خَيْلِهِمْ لَلِيفٌ، فَقَالَ أَبَانُ: اقْسِمْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقُلْتُ: لا تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبَانُ: أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَأْنٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْلِسْ يَا أَبَانُ، وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رُوِيَ أَنَّهُ أَعْطَى مِنْ خَيْبَرَ جَعْفَرَ وَأَصْحَابَهُ" .
سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سیدنا ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر مقرر کر کے مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا، ابان اور اس کے ساتھی فتح خیبر کے بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے گھوڑوں کے تنگ کھجور کی چھال کے تھے، سیدنا ابان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: الله کے رسول! ہمارا حصہ بھی تقسیم کر دیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کہتے ہیں: میں نے کہا: الله کے رسول! ان کا حصہ نہ نکالیں، سیدنا ابان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے وبر! (بلی سے چھوٹا ایک جانور ہے) تم یہ بات کہتے ہو، حالانکہ تم ابھی ضان (پہاڑ) کی چوٹی سے اتر کر ہمارے پاس آئے ہو، تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ابان بیٹھ جائیے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کے لیے کوئی حصہ نہیں نکالا۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو خیبر (کی غنیمت) سے حصہ دیا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1088]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن سعيد بن منصور: 2793، سنن أبي داود: 2723، المعجم الأوسط للطبراني: 3242، السنن الكبرى للبيهقي: 6/334، اسماعیل بن عیاش نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، نیز ان کی متابعت بھی موجود ہے، امام بخاری رحمہ اللہ (4238) نے اسے صیغہ تمریض کے ساتھ معلق ذکر کیا ہے، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (نخب الافکار: 12/333) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1089
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقِيرَاطِيُّ ، قَالَ: أنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَوَافَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا، أَوْ قَالَ: فَأَعْطَانَا مِنْهَا، وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ، إِلا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ، قَسَمَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو ہماری ملاقات رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ہوئی، آپ نے ہمارا حصہ بھی نکالا۔ یا یوں بیان کیا کہ آپ نے اس میں سے ہمیں بھی دیا، جو لوگ فتح خیبر میں شریک نہیں تھے آپ نے ان میں سے کسی کو بھی حصہ نہیں دیا تھا، صرف شرکائے غزوہ اور ہماری کشتی کے ساتھیوں یعنی جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو (جو جنگ میں شریک نہیں تھے) حصہ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4230، صحیح مسلم: 2502»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. باب ما جاء في أخذ الفداء من الأسارى
قیدیوں سے فدیہ لینے کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1090
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ثني يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ، بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ، وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلادَةٍ لَهَا كَانَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى بِهَا، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً، وَقَالَ:" إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا، وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا فَافْعَلُوا" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَطْلَقُوهُ وَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا .
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے فدیے بھیجے تو سیدہ زینب بنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بھی (اپنے شوہر) ابو العاص کو چھڑانے کے لیے اپنا وہ ہار بھیجا جو سیدہ خدیجہ رضی الله عنها نے انہیں ابو العاص سے شادی کے وقت دیا تھا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب وہ ہار دیکھا تو آپ پر اس کی وجہ سے شدید رقت طاری ہوگئی اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس (زینب) کی خاطر اس کے قیدی کو رہا کر دیں اور اس کا مال واپس لوٹا دیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی: الله کے رسول! ٹھیک ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے (ابو العاص کو) چھوڑ دیا اور سیدہ زینب رضی الله عنها کا مال بھی واپس کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: السيرة النبوية لابن هشام: 2/307، 308، مسند الإمام أحمد: 6/276، سنن أبي داود: 2192، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (3/236، 4/44، 45) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بإسناد حسن لا جرم (البدر المنير: 9/117)۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. باب إطلاق الأسارى بغير فداء
قیدیوں کو بغیر فدیہ کے رہا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1091
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ أَبُو جُبَيْرٍ حَيًّا يُكَلِّمُنِي فِي هَؤُلاءِ الأَنْتَانِ يَعْنِي أُسَارَى بَدْرٍ لأَطْلَقْتُهُمْ لَهُ" ، قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا جبیر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ابو جبیر مطعم بن عدی (آج) زنده ہوتا اور مجھ سے ان پلیدوں یعنی بدر کے قیدیوں کے متعلق سفارش کرتا تو میں اس کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا۔ سفیان کی ایک روایت میں مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے الفاظ ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1091]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3139، 4024»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. باب قسم أرض العنوة
بزورِ شمشیر فتح کی گئی زمین کی تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1092
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" لَوْلا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ قَرْيَةً إِلا قَسَمْتُهَا، كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ" .
سیدنا عمر رضی الله عنہ نے فرمایا: اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو میں جتنے بھی شہر فتح کرتا فاتحین میں اسی طرح تقسیم کر دیتا جیسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خیبر کی زمین تقسیم فرمائی تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1092]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3125»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں