المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
91. باب إخراج اليهود من جزيرة العرب
جزیرہ عرب سے یہودیوں کو نکالنے کا بیان
حدیث نمبر: 1103
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لا أَدَعَ إِلا مُسْلِمًا" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو ضرور نکالوں گا حتیٰ کہ وہاں صرف مسلمان ہی رہیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1103]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 2/164، سنن أبي داود: 1634، سنن الترمذي: 58، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا ہے (التلخیص الحبیر: 3/108)۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
92. باب الجزية
جزیہ کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 1104
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا، أَوْ تَبِيعَةً، وَمَنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا، أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ" .
سیدنا معاذ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو حکم دیا کہ تیس گائیوں میں سے ایک تبیع (گائے کا ایک سالہ نر یا مادہ بچہ) لینا اور ہر بالغ شہری سے ایک دینار یا اس کے مساوی معافری (یمن کا کپڑا) لینا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1104]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 1578، سنن النسائي: 2454، سنن الترمذي: 623، سنن ابن ماجه: 1803، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2268) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4882) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/398) نے امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ ایک صحیح حدیث ہے“ (التمہید: 2/130)۔ اعمش مدلس ہیں لیکن متابعت کی وجہ سے روایت درست ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1105
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ بَجَالَةَ ، يَقُولُ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ:" اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مُحْرِمٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَبَيْنَ حَرِيمِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَصَنَعَ طَعَامًا وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ فَأَكَلُوا بِغَيْرِ زَمْزَمَةٍ، وَأُلْقَوْا وَقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ" .
بجالہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں جزء بن معاویہ کا سیکرٹری تھا۔ سیدنا عمر رضی الله عنہ کی وفات سے ایک سال پہلے ہمارے پاس ان کا خط آیا (جس میں لکھا تھا): ہر جادوگر کو قتل کر دیں، ہر اس محرم عورت سے شادی کرنے والے مجوسی اور اس کی بیوی کو الگ الگ کر دیں جن (محرمات) کا ذکر کتاب الله میں ہے۔ انہوں نے کھانا پکایا اور اپنی ران پر تلوار رکھ لی، چنانچہ انہوں (مجوسیوں) نے گنگنائے بغیر کھانا کھایا، انہوں نے ایک یا دو خچروں کے بوجھ کے برابر چاندی ڈھیر کر دی۔ سیدنا عمر رضی الله عنہ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے حتیٰ کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی الله عنہ نے گواہی دی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1105]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3156»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 1106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلَ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عُمَيْرٍ الأَنْصَارِيِّ بِالشَّامِ، وَكَانَ عَامِلا لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ قَوْمًا مِنَ الأَنْبَاطِ مُشَمِّسِينَ، فَقَالَ: مَا بَالُ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: حَبَسْتُهُمْ فِي الْجِزْيَةِ، فَقَالَ هِشَامٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الَّذِي يُعَذِّبُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا يُعَذِّبُهُ اللَّهُ فِي الآخِرَةِ" ، فَخَلَّى عَنْهُمْ عُمَيْرٌ وَتَرَكَهُمْ.
عروہ کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم رضی الله عنہ، عمیر انصاری کے پاس گئے جو کہ سیدنا عمر رضی الله عنہ کی طرف سے شام کے گورنر تھے۔ ان کے پاس کچھ نباٹ لوگوں کو دھوپ میں کھڑا پا کر ان سے پوچھا: ان کا کیا قصور ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ان کو جزیہ (نہ دینے) کے جرم میں روکا ہوا ہے۔ تو ہشام کہنے لگے: میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو دنیا میں لوگوں کو (بلا وجہ) تکلیف دیتا ہے آخرت کے دن الله تعالیٰ اسے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ چنانچہ عمیر نے ان کو آزاد کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1106]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 2213»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 1107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ وَابْنُ الطَّبَّاعِ ، قَالا: ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَصْلُحُ مِلَّتَانِ" ، وَقَالَ ابْنُ الطَّبَّاعِ: قِبْلَتَانِ فِي قَرْيَةٍ وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ.
سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بستی میں دو دین یا دو قبلے کے لوگوں کا (اکٹھا) رہنا درست نہیں، نیز کسی مسلمان پر جزیہ نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1107]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 1/223، 285، سنن أبي داود: 3053، سنن الترمذي: 633-634، قابوس بن طہمان جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
93. باب الدليل على وضع الخراج على أرض العنوة
مفتوحہ زمینوں پر خراج مقرر کرنے کی دلیل
حدیث نمبر: 1108
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ ، قَالَ: ثنا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنَعَتِ الْعِرَاقُ قَفِيزَهَا وَدِرْهَمَهَا، وَمَنَعَتِ الشَّامُ مُدْيَهَا وَدِينَارَهَا، وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ"، قَالَهَا ثَلاثًا ، شَهِدَ عَلَى ذَلِكَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: عراق اپنے قفیز (پیمانے) اور درہم روک لے گا، شام اپنے مد اور دینار روک لے گا، مصر اپنے اردب (پیمانے) اور دینار روک لے گا (وہ محکوم ہو جائیں گے یا اسلام قبول کر لیں گے جس وجہ سے جزیہ موقوف ہو جائے گا) اور آپ وہیں لوٹ آئیں گے جہاں سے شروع ہوئے تھے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ کلمات تین مرتبہ دوہرائے کہ ابو ہریرہ کا گوشت اور خون اس بات پر گواہ ہیں (یعنی یہ حدیث بالکل سچ ہے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1108]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 2896»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
94. باب ما جاء في هدايا المشركين
مشرکین کے تحفوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ حَتَّى قَدِمَ تَبُوكَ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَلِكُ أَيْلَةَ، فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَسَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا وَكَتَبَ لَهُمْ بِبَحْرِهِمْ" .
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ (جنگ کے لیے) نکلے حتیٰ کہ آپ تبوک پہنچ گئے۔ پھر ایلہ کا بادشاہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ کو ایک سفید خچر تحفہ دیا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اسے ایک چادر پہننے کے لیے دی اور لکھوا دیا کہ وہ اپنی قوم کے حاکم کی حیثیت سے باقی رہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1109]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1481، صحیح مسلم: 1392»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 1110
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ: أنا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً، أَوْ قَالَ هَدِيَّةً، فَقَالَ لَهُ: أَسْلَمْتَ؟ قَالَ: لا، قَالَ: إِنِّي " نَهَيْتُ عَنْ زَبَدِ الْمُشْرِكِينَ" .
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ایک اونٹنی تحفہ کی۔ آپ نے ان سے پوچھا: آپ مسلمان ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! فرمایا: (قبل از اسلام) مجھے مشرکین کے ہدیے (تحائف) قبول کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1110]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الطيالسي: 1083، سنن أبي داود: 3057، سنن الترمذي: 1577، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے، قتادہ مدلس ہیں لیکن شواہد کی وجہ سے روایت درست ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
0. باب الوجوه التي يخرج فيها مال الفيء
مالِ فئی (بغیر جنگ کے حاصل مال) کے مصارف کا بیان
حدیث نمبر: 1111
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ، فَسَأَلَ: هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، دِينَارَانِ، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ، قَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ" .
سیدنا جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس کے ذمہ قرض ہوتا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اس کا جنازہ نہیں پڑھایا کرتے تھے۔ ایک میت لائی گئی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس کے ذمہ قرض ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! دو دینار ہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لیں۔ ابو قتادہ رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! وہ دینار میرے ذمہ ہوئے۔ تو آپ نے اس کا جنازہ پڑھا دیا۔ جب الله تعالیٰ نے اپنے رسول صلی الله علیہ وسلم پر خوشحالی کی تو آپ نے فرمایا: میں مسلمانوں کا ان کی ذات سے بھی زیادہ مستحق ہوں، جو (مسلمان) قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1111]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح: مصنف عبدالرزاق: 1162، مسند الإمام أحمد: 3/296، سنن أبي داود: 3343، سنن النسائی: 1964، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3064) نے صحیح کہا ہے۔ امام زہری مدلس ہیں لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح
حدیث نمبر: 1112
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: ثنا صَفْوَانُ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ شَيْءٌ قَسَمَهُ مِنْ يَوْمِهِ، فَأَعْطَى الآهِلَ حَظَّيْنِ، وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا وَاحِدًا" ، قَالَ: فَدُعِيتُ وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ، وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دُعِيَ بَعْدُ عَمَّارٌ فَأَعْطَاهُ حَظًّا وَاحِدًا.
سیدنا عوف بن مالک رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی چیز (مال) آتی تو آپ اسی دن ہی اسے تقسیم کر دیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے۔ عوف کہتے ہیں: مجھے عمار بن یاسر رضی الله عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میری بیوی بھی تھی، چنانچہ مجھے بلایا گیا تو آپ نے مجھے دو حصے دیے، پھر بعد میں عمار رضی الله عنہ کو بلایا گیا تو آپ نے انہیں ایک حصہ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1112]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 6/25-29، سنن أبي داود: 2953»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح