المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
51. باب ما جاء في التغليظ على الغادر
وعدہ خلافی اور غداری کرنے والے پر سخت وعید
حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالا: ثنا مُحَمَّدُ ابْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَرْفَعُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً، فَقِيلَ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلانٍ" ، الْحَدِيثُ لابْنِ يَحْيَى، لَمْ يَذْكُرِ الزَّعْفَرَانِيُّ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اگلے پچھلے لوگوں کو جمع کریں گے تو ہر عہد شکنی کرنے والے کا ایک جھنڈا نصب کر دیا جائے گا تو کہا جائے گا یہ فلاں کی عہد شکنی ہے۔ یہ حدیث ابن یحییٰ کی ہے۔ زعفرانی نے روز قیامت کا ذکر نہیں کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6177، صحیح مسلم: 1735»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
52. باب تحريق النخل
(دشمن کے) کھجور کے درختوں کو جلانے کا بیان
حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثنا عُقْبَةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ: ثني نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ" .
سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلا دیے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3021، صحیح مسلم: 1746»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
53. باب ما جاء في أمان النساء
عورتوں کی دی ہوئی امان کا بیان
حدیث نمبر: 1055
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ أَجَارَتْ حَمْوَيْنِ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ آمَّنْتِ" ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ : وَحَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَهُ.
سیدنا ابو مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے اپنے دو سسرالیوں کو پناہ دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے آپ نے پناہ دی ہم نے بھی اسے پناہ دی اور جسے آپ نے امان دی ہم نے بھی اسے امان دی۔ ابن مقری کہتے ہیں: یہ روایت ایک اور سند سے بھی مروی ہے جس میں ہے کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3171، صحیح مسلم: 336/82»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
54. باب النهي عن المثلة
مثلہ (لاشوں کے ناک کان کاٹنے) کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1056
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثني عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنِ الْهَيَّاجِ ، أَنَّ غُلامًا، لَعَلَّهُ قَالَ لأَبِيهِ: أَبَقَ، فَجَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا لَئِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ لَيَقْطَعَنَّ مِنْهُ طَائِفًا، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَرْسَلَنِي إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، فِسَأَلْتُهُ، فَقَالَ عِمْرَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يُعْتِقَ غُلامَهُ، أَوْ يُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ" ، قَالَ: فَأَتَيْتُ سَمُرَةَ، فَقَالَ مثل قَوْلِ عِمْرَانَ.
ہیاج بن عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کا غلام بھاگ گیا، انہوں نے اس کے خلاف نذر مانی کہ اگر وہ ان کے قابو آ گیا تو وہ اس کا کوئی عضو کاٹ دیں گے، جب وہ ان کے پاس واپس آیا تو انہوں نے مجھے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں نے ان سے (اس کے متعلق) پوچھا تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہنے لگے: چاہے تو اپنے غلام کو آزاد کر دیں یا پھر قسم کا کفارہ دے دیں، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، ہیاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی وہی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ والی بات کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1056]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 4/428، سنن أبي داود: 2674، قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی، ویسے بھی معمر کی قتادہ سے روایت میں کلام ہے، مسند الامام احمد (5/20) والی روایت اس سے مستغنی کر دیتی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
55. باب النهي عن تحريق ذوات الروح
جانداروں کو جلانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1057
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلانِيُّ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، وَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلانًا وَفُلانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ: " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلانًا وَفُلانًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لا يُعَذِّبُ بِهَا إِلا اللَّهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا اور فرمایا: اگر آپ کو فلاں فلاں دو قریشی آدمی مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا، پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آپ کو فلاں فلاں کو آگ میں جلانے کا حکم دیا تھا لیکن آگ کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ ہی عذاب دے سکتا ہے، اگر وہ مل جائیں تو انہیں قتل کر دینا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1057]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3016»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
56. باب ما جاء في الجاسوس يقدر عليه فيسلم
وہ جاسوس جو پکڑا جائے اور پھر اسلام قبول کر لے
حدیث نمبر: 1058
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلالُ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنِ الْفُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ ، وَكَانَ عَيْنًا لأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَمَرَّ عَلَى حَلَقَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمُ الْفُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ" .
سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ابو سفیان کے جاسوس اور حلیف تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا، وہ انصاریوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرے تو کہنے لگے: میں مسلمان ہو گیا ہوں، ان میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! وہ تو کہتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کر دیتے ہیں، فرات بن حیان بھی انہی میں سے ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 4/336، سنن أبي داود: 2652، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (4/366) نے امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ ابو اسحاق سبیعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
57. باب ارتباط الخيل
گھوڑے پالنے اور باندھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1059
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" ، وَقَالَ ابْنُ يَحْيَى: أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت تک گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں میں خیر رکھی گئی ہے۔ ابن یحییٰ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: قیامت کے دن تک کے لیے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1059]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2849، صحیح مسلم: 1871»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
58. باب ما جاء في لبس الدرع
زرہ پہننے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1060
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُصَيْفَةَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ عَلَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ" .
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دو زرہیں تھیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 3/449، الشمائل المحمدية للترمذي: 112، السنن الكبرى للنسائي: 8583، سنن ابن ماجه: 2806، سفیان بن عیینہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1061
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا حَجَّاجٌ ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ ، قَالَ: ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبی کو یہ مناسب نہیں ہے کہ اسلحہ پہنے اور جنگ کیے بغیر اتار دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1061]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد: مسند الإمام أحمد: 3/351، سنن الدارمي: 2159، السنن الكبرى للنسائي: 7647، ابو الزبیر مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ المستدرک للحاکم (2/128-129)، السنن الکبریٰ للبیہقی (4117) اور دلائل النبوۃ للبیہقی (3/204) میں اس کا بسند حسن شاہد بھی ہے، امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر: 8/447) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (التلخیص: 1452) نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ تنبیہ: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (تغلیق التعلیق: 2/332) نے ابوالزبیر سے سماع کی تصریح ذکر کر کے اس حدیث کی سند کو صحیح کہا ہے۔ بوصیری رحمہ اللہ (اتحاف الخیرہ: 6035) نے بھی اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد
59. باب تأديب الرجل فرسه وفضيلة الرمي
گھوڑے کو سدھانے اور تیر اندازی کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1062
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ قَالَ: ثنا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ: ثني أَبُو سَلامٍ ، قَالَ: ثني خَالِدٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا رَامِيًا، فَكَانَ عُقْبَةُ الْجُهَنِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدْعُونِي، فَيَقُولُ: اخْرُجْ بِنَا يَا خَالِدُ نَرْمِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: تَعَالَ أُخْبِرْكَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقُولُ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنَبِّلَهُ" . " وَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَإِنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَلَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلا ثَلاثَةٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا" .
خالد بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں تیراندازی میں ماہر تھا، سیدنا عقبہ جہنی رضی اللہ عنہ مجھے بلا کر کہتے: خالد! آئیں ہمارے ساتھ تیراندازی کریں، ایک دن میں لیٹ ہو گیا تو انہوں نے کہا: آئیں میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں اور جو بات آپ نے مجھ سے کہی تھی آپ کو بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے: تیر بنانے والا جو حصول ثواب کی نیت سے بناتا ہے، تیر چلانے والا، تیر انداز کو تیر پکڑانے والا۔ تیراندازی اور گھڑ سواری کریں، گھڑ سواری کی بہ نسبت تیراندازی مجھے زیادہ پسند ہے۔ تین طرح کے کھیل جائز ہیں: گھوڑے کو سکھانا اور سدھارنا، بیوی سے کھیل کود چھیڑ چھاڑ کرنا، تیر کمان کے ساتھ تیراندازی کرنا۔ جس نے تیراندازی سیکھی اور پھر اسے بے حیثیت سمجھ کر ترک کر دیا تو اس نے ایک نعمت کی ناشکری کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1062]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 4/146، سنن أبي داود: 2513، سنن النسائي: 3148، اس حدیث کو امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (7475) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (2/95) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ خالد بن یزید ازرق جمہور محدثین کے نزدیک حسن الحدیث ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن