🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. باب ما جاء في رد السرايا على أهل العسكر
لشکر کے دستوں کی اصل لشکر کی طرف واپسی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثني هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّيهِمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ، لا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ" .
سیدنا عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے خون (دیت میں) برابر ہیں، ان میں سے معمولی آدمی بھی امان دے سکتا ہے، اسی طرح دور کا رہائشی قریبی رہائشی کی موجودگی میں پناہ دے سکتا ہے، مخالفین کے مقابلے میں مسلمان ایک دوسرے کی مدد کریں، جن کی سواریاں زور آور ہوں وہ ان کے ساتھ رہیں جن کی سواریاں ضعیف ہیں اور جو فوجی دستہ بڑے لشکر سے الگ ہو کر کسی مہم پر جائے تو وہ اپنے اس بڑے لشکر کو بھی مال غنیمت میں شریک کرے، کسی مؤمن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی ذمی کو اس کی مدت معاہدہ کے دوران قتل کیا جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 2/180-191، 192، 215، مسند الطيالسي: 2372، سنن أبي داؤد: 2751، سنن ابن ماجه: 2685، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2280) نے صحیح کہا ہے، ہشیم بن بشیر کی متابعت موجود ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. باب تنفيل السرية تخرج من العسكر من الخمس
لشکر سے نکلنے والے دستے کو خمس میں سے زائد انعام دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1074
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أنا شُعَيْبٌ ، قَالَ: أنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ بَعْثًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَبَعَثَ مِنْ ذَلِكَ الْبَعْثِ سَرِيَّةً، وَفِيهَا ابْنُ عُمَرَ، فَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ سِهَامَ الْبَعْثِ بَلَغَتِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، فَنُفِّلَ أَصْحَابُ السَّرِيَّةِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ عُمَرَ سِوَى ذَلِكَ بَعِيرًا بَعِيرًا، فَكَانَ لأَصْحَابِ السَّرِيَّةِ ثَلاثَةَ عَشَرَ ثَلاثَةَ عَشَرَ، وَلأَصْحَابِ الْبَعْثِ اثْنَيْ عَشَرَ اثْنَيْ عَشَرَ" .
سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا، پھر اسی لشکر سے ایک دستہ (الگ مہم پر) روانہ کیا جس میں سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے، وہ بیان کرتے ہیں: لشکر کے ہر فرد کو بارہ بارہ اونٹ ملے اور اس دستے کو جس میں سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے ایک ایک اونٹ اضافی دیا گیا، دستے والوں کے تیرہ تیرہ اونٹ ہو گئے اور (باقی) لشکر والوں کے بارہ بارہ۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3134، 4338، صحیح مسلم: 1749»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. ووجه آخر في التفضيل
(تقسیمِ غنیمت میں) ترجیح کا ایک اور پہلو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1075
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: ثني إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ: ثني أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ فِرْسَانِهَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ" ثُمَّ أَعْطَانِي سَهْمَيْنِ: سَهْمُ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ جَمِيعًا .
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ابو قتادہ آج کے بہترین شہسوار ہیں اور سلمہ ہمارے آج کے بہترین پیادہ ہیں۔ پھر آپ نے مجھے شہسوار اور پیادہ دونوں (والے) حصے دیے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1807»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. باب نقل القاتل سلب المقتول
مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1076
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَجُلا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلا رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبَلِ عَاتِقِهِ، وَأَقْبَلَ عَلَيَّ وَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَلَهُ سَلَبُهُ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ، قَالَ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَارْضِهِ مِنْ حَقِّهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لاهَا اللَّهِ، إِذًا لا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ أَعْطِهِ إِيَّاهُ، فَأَعْطَانِي ، قَالَ: فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلامِ، قَالَ: وَالْمَخْرِفُ: النَّخْلُ.
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ حنین کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم برسر پیکار ہوئے تو مسلمانوں میں افراتفری پھیل گئی، کہتے ہیں: میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ اس نے ایک مسلمان کو قابو میں لیا ہوا ہے، میں گھوم کر اس کے پیچھے آیا اور اس کی گردن کے پٹھے پر تلوار کا وار کیا، وہ پلٹ کر میری طرف آیا اور مجھے اتنے زور سے بھینچا کہ مجھے موت کی تلخی یاد آ گئی، پھر اسے موت آ گئی تو اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہیں کہا: آج لوگوں کو شکست کیوں ہو گئی ہے؟ انہوں نے کہا: الله تعالیٰ کو یہی منظور تھا۔ کہتے ہیں: پھر سب لوگ واپس آگئے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو آپ نے فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس کے پاس ثبوت بھی ہو تو اس مقتول کا مال و متاع اسی (قاتل) کو ملے گا۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کھڑا ہو گیا پھر یہ سوچ کر بیٹھ گیا کہ میری گواہی کون دے گا؟ آپ نے (دوبارہ) فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس کے پاس ثبوت بھی ہو تو اس مقتول کا مال و متاع اسی (قاتل) کو ملے گا۔ (ابو قتادہ) کہتے ہیں: میں کھڑا ہو گیا اور پھر یہ سوچ کر بیٹھ گیا کہ میری گواہی کون دے گا؟ آپ نے تیسری بار پھر یہی فرمایا تو میں کھڑا ہو گیا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ابو قتادہ! کیا بات ہے؟ کہتے ہیں: میں نے آپ کو پورا واقعہ سنا دیا۔ ایک آدمی کہنے لگا: الله کے رسول! یہ سچ کہتا ہے اور اس مقتول کا مال و متاع میرے پاس ہے، آپ ان کو راضی کر دیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہنے لگے: الله کی قسم! ایسا نہیں ہوگا، آپ ایسا نہیں کریں گے کہ الله کا شیر الله اور اس کے رسول کی حمایت میں جہاد کرے اور مال و متاع تجھے دے دیں۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا ہے، وہ سامان انہیں (ابو قتادہ کو) دے دیں۔ تو اس نے وہ مال مجھے دے دیا، میں نے ایک زرہ فروخت کر کے (محلہ) بنو سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ وہ پہلا مال ہے جو میں نے اسلام میں حاصل کیا۔ مخرف کھجوروں کے باغ کو کہتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1076]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3142، صحیح مسلم: 1571»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1077
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: ثني عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُخَمِّسِ السَّلَبَ" .
سیدنا عوف بن مالک اشجعی اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سلب (مقتول کا سامان) سے خمس نہیں نکالا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1753»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. باب نفل السرايا بعد الخمس بعدما أصابوا
مال حاصل ہونے کے بعد خمس نکال کر دستوں کو انعام دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1078
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَفَلَ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ" .
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خمس نکالنے کے بعد ایک چوتھائی عطیہ دیا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1078]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 4/159، 160، سنن أبي داود: 2749»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1079
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ قَالَ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: ثنا مَكْحُولٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَفَلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدَأَةِ، وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ" .
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتدائے جہاد میں خمس نکالنے کے بعد ایک چوتھائی عطیہ دیا کرتے تھے اور جہاد سے لوٹنے کے بعد ایک تہائی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1079]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: انظر الحديث السابق»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. باب ما جاء في التغليظ على الغال، وفي أين يوضع الخمس
غنیمت میں خیانت کرنے والے پر سخت وعید اور خمس کا مصرف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1080
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ثني عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُدُّوا رِدَائِي، رُدُّوا رِدَائِي، فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ عِنْدِي عَدَدُ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، وَمَا أَلْفَيْتُمُونِي بَخِيلا وَلا جَبَانًا وَلا كَذُوبًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى جَنْبِ بَعِيرٍ فَأَخَذَ مِنْ سَنَامِهِ وَبَرَةً، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ فَيْئِكُمْ مثل هَذِهِ إِلا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى صَاحِبِهِ عَارًا وَنَارًا وَشَنَارًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِكُبَّةٍ مِنْ خُيُوطِ شَعَرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَخَذْتُ هَذِهِ لأُخِيطَ بِهَا بُرْدَةَ بَعِيرٍ لِي دَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا مَا كَانَ لِي فَهُوَ لَكَ، قَالَ أَمَّا إِذَا بَلَغْتُ هَذَا فَلا حَاجَةَ لِي فِيهِ" .
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: میری چادر واپس کر دیں، میری چادر واپس کر دیں، الله کی قسم! اگر میرے پاس تہامہ کے درختوں کے بقدر اونٹ ہوتے تو میں آپ کے درمیان تقسیم کر دیتا اور آپ مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاتے۔ پھر ایک اونٹ کے پاس کھڑے ہوئے اور اس کی کوہان سے ایک بال لے کر فرمانے لگے: لوگو! آپ کی غنیمتوں سے خمس کے علاوہ اتنا بھی میرے لیے جائز نہیں اور خمس بھی آپ کی طرف ہی لوٹا دیا جاتا ہے، چنانچہ سوئی اور دھاگے تک ادا کر دیں، کیونکہ خیانت قیامت کے روز خائن کے لیے عار، جہنم اور رسوائی کا ذریعہ ہوگی۔ ایک انصاری بالوں کی رسی کا گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا: الله کے رسول! میں نے یہ رسی اپنے اونٹ کی چادر سینے کے لیے لی تھی، تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: میرے حصے کی رسی آپ کو دے دی۔ (باقیوں کا میں ذمہ دار نہیں) وہ کہنے لگا: اگر معاملہ اس قدر سخت ہے تو پھر مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/184، سنن أبي داود: 2694، سنن النسائي: 3718، 2694»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو خَالِدٍ هُوَ الأَحْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ مَوْلًى لَهُمْ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا يَحْيَى ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا عَمْرَةَ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّيَ بِخَيْبَرَ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِهِمْ، قَالَ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ، وَاللَّهِ مَا تُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ" .
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان آدمی خیبر کے دن وفات پا گیا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو اس کے متعلق بتایا گیا کہ آپ اس کا جنازہ پڑھیں تو آپ نے فرمایا: خود ہی اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لیں۔ لوگوں کے چہرے متغیر ہو گئے، جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کی حالت دیکھی تو فرمایا: آپ کے اس ساتھی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے۔ صحابی کہتے ہیں: ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو یہودیوں کا ایک موتی ہمیں ملا۔ الله کی قسم! اس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہیں تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3853) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (2/127) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، ابو خالد احمر مدلس کی متابعت موجود ہے، ابو عمرہ انصاری حسن الحدیث ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. باب ما جاء في تحريق متاع الغال وعقوبته
غبن کرنے والے کے سامان کو جلانے اور اس کی سزا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1082
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ضَرَبُوا الْغَالَّ بِالسَّوْطِ، وَحَرَّقُوا مَتَاعَهُ، وَمَنَعُوهُ سَهْمَهُ" .
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے خائن کو کوڑوں سے مارا، اس کا سامان جلا دیا اور اس کا حصہ روک لیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1082]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيفٌ: سنن أبي داود: 2715، السنن الكبرى للبيهقي: 9/102، زہیر بن محمد (حسن الحدیث) سے اہل شام منکر روایات بیان کرتے ہیں، ولید بن مسلم شامی ہیں۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيفٌ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں