🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فَضْلِ نَسَبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَسْلِيمِ الْحَجَرِ عَلَيْهِ قَبْلَ النُّبُوَّةِ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کی بزرگی اور پتھر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2276 ترقیم شاملہ: -- 5938
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ جَمِيعًا، عَنْ الْوَلِيدِ ، قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ".
ابوعمار شداد سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5938]
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کو منتخب کیا اور قریش سے بنو ہاشم کو چنا اور بنو ہاشم سے مجھے برگزیدہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5938]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2276
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2277 ترقیم شاملہ: -- 5939
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ، إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ ".
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں مکہ میں اس پتھر کو اچھی طرح پہچانتا ہوں جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا، بلاشبہ میں اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5939]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مکہ کے اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کہتا تھا، میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5939]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2277
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب تَفْضِيلِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمِيعِ الْخَلاَئِقِ:
باب: تمام مخلوقات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ زیادہ ہونا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2278 ترقیم شاملہ: -- 5940
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ ".
عبداللہ بن فروخ نے کہا: مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں قیامت کے دن (تمام) اولاد آدم کا سردار ہوں گا، پہلا شخص ہوں گا جس کی قبر کھلے گی، سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول ہوگی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5940]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، سب سے پہلے میری قبر شق ہو گی، سب سے پہلے میں ہی سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جائے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5940]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2278
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5941
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَعَا بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الثَّمَانِينَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا تو ایک کھلا ہوا پیالہ لایا گیا، لوگ اس سے وضو کرنے لگے، میں نے ساٹھ سے اسی تک کی تعداد کا اندازہ لگایا، میں (اپنی آنکھوں سے) اس پانی کی طرف دیکھنے لگا، وہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5941]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا تو آپ کے پاس ایک کھلا پیالا لایا گیا تو لوگ وضو کرنے لگے، میں نے اندازہ لگایا، وہ ساٹھ اور اسی کے درمیان تھے، اور میں پانی کو دیکھنے لگا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5941]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5942
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ عصر کا وقت آچکا تھا، لوگوں نے وضو کا پانی تلاش کیا اور انہیں نہ ملا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا کچھ پانی لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور لوگوں کو اس پانی میں سے وضو کا حکم دیا۔ کہا: تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا اور لوگوں نے اپنے آخری آدمی تک (اس سے) وضو کر لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5942]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جبکہ عصر کی نماز کا وقت قریب آ چکا تھا، لوگوں نے پانی تلاش کیا اور وہ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھوڑا سا پانی لایا گیا، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو اس سے وضو کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا، پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا ہے، لوگ وضو کرنے لگے حتیٰ کہ آخری فرد تک نے وضو کر لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5942]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5943
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِالزَّوْرَاءِ، قَالَ: وَالزَّوْرَاءُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ، وَالْمَسْجِدِ فِيمَا ثَمَّهْ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَوَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ، فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ جَمِيعُ أَصْحَابِهِ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ؟ قَالَ: كَانُوا زُهَاءَ الثَّلَاثِ مِائَةِ ".
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب (مقام) زوراء میں تھے (اور زوراء مدینہ میں مسجد اور بازار کے نزدیک ایک مقام ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اپنی ہتھیلی اس میں رکھ دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے لگا اور تمام اصحاب رضی اللہ عنہم نے وضو کر لیا۔ قتادہ نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوحمزہ! اس وقت آپ کتنے آدمی ہوں گے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تین سو کے قریب تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5943]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی مقامِ زوراء پر تھے (اور زوراء مدینہ کے بازار میں مسجد کے قریب ایک جگہ ہے) آپ نے پانی کا پیالہ طلب کیا اور اس میں آپ نے اپنی ہتھیلی رکھ دی تو پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹنے لگا سو آپ کے تمام ساتھیوں نے وضو کر لیا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد کہتے ہیں، میں نے پوچھا: اے ابوحمزہ! ان کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: وہ تین سو کے قریب تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5943]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2279 ترقیم شاملہ: -- 5944
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ بِالزَّوْرَاءِ، فَأُتِيَ بِإِنَاءِ مَاءٍ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ، أَوْ قَدْرَ مَا يُوَارِي أَصَابِعَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ.
سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوراء میں تھے، آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا، وہ آپ کی انگلیوں کے اوپر تک بھی نہیں آتا تھا (جس میں آپ کی انگلیاں بھی نہیں ڈوبتی تھیں) یا اس قدر تھا کہ (شاید) آپ کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتا۔ پھر ہشام کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5944]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «الزَّوْرَاءُ» زوراء جگہ پر تھے تو پانی کا ایک برتن لایا گیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں نہیں ڈوبتی تھیں یا وہ آپ کی انگلیوں کو چھپانے کے بقدر تھا، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5944]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2279
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2280 ترقیم شاملہ: -- 5945
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ، كَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا، فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الْأُدْمَ، وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ، فَتَعْمِدُ إِلَى الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدْمَ بَيْتِهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ، فَأَتَتْا لنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَصَرْتِيهَا؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام مالک رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپی میں بطور تحفہ کے گھی بھیجا کرتی تھیں، پھر اس کے بیٹے آتے اور اس سے سالن مانگتے اور گھر میں کچھ نہ ہوتا تو ام مالک رضی اللہ عنہا اس کپی کے پاس جاتی، تو اس میں گھی ہوتا۔ اسی طرح ہمیشہ اس کے گھر کا سالن قائم رہتا۔ ایک بار ام مالک نے (حرص کر کے) اس کپی کو نچوڑ لیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا کہ کیا تم نے اس کو نچوڑ لیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو اس کو یوں ہی رہنے دیتی (اور ضرورت کے وقت لیتی) تو وہ ہمیشہ قائم رہتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5945]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ام مالک رضی اللہ عنہا اپنے ایک کپہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی کا تحفہ دیتی تھیں، ان کے بیٹے ان کے پاس آکر سالن مانگتے اور ان کے پاس کوئی چیز نہ ہوتی تو وہ اس کپہ کا رخ کرتیں جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دیتی تھیں تو وہ اس میں گھی پاتیں، وہ کپہ ہمیشہ ان کے گھر کا سالن مہیا کرتا رہا حتیٰ کہ انہوں نے اس کو نچوڑ لیا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو نے اسے نچوڑ لیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اسے چھوڑ دیتی تو ہمیشہ سالن ملتا رہتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5945]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2280
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2281 ترقیم شاملہ: -- 5946
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ، وَلَقَامَ لَكُمْ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا حاصل کرنے کے لیے آیا، آپ نے اسے آدھا وسق (تقریباً 120 کلو) جو دیے تو وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان دونوں کے مہمان مسلسل اس میں سے کھاتے رہے، یہاں تک کہ (ایک دن) اس نے ان کو ماپ لیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور ماجرا بتایا) تو آپ نے فرمایا:اگر تم اس کو نہ ماپتے تو مسلسل اس میں سے کھاتے رہتے اور یہ (سلسلہ) تمہارے لیے قائم رہتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5946]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا طلب کرنے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آدھا وسق جو دیے تو اس سے وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان کا مہمان کھاتے رہے، حتیٰ کہ اس نے اس کو ماپ لیا، (تو وہ ختم ہو گیا) سو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کو نہ ماپتے تو اس سے کھاتے رہتے اور تمہارے لیے باقی رہتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5946]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2281
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 706 ترقیم شاملہ: -- 5947
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا، حَتَّى آتِيَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاء، قَالَ: فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟، قَالَا: نَعَمْ، فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهُمَا: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، قَالَ: ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ، قَالَ: وَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ، أَوَ قَالَ غَزِيرٍ شَكَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا، قَالَ: حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ: يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ، أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا ".
ہمیں ابوعلی حنفی نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں مالک بن انس نے ابوزبیر مکی سے حدیث بیان کی کہ ابوطفیل عامر بن واثلہ نے انہیں خبر دی، انہیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بتایا، کہا: کہ ہم غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سال نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں دو نمازوں کو جمع کرتے تھے۔ پس ظہر اور عصر دونوں ملا کر پڑھیں اور مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دیر کی۔ پھر نکلے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھیں پھر اندر چلے گئے۔ پھر اس کے بعد نکلے تو مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں اس کے بعد فرمایا کہ کل تم لوگ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور دن نکلنے سے پہلے نہیں پہنچ سکو گے اور جو کوئی تم میں سے اس چشمے کے پاس جائے، تو اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آؤں۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اس چشمے پر پہنچے اور ہم سے پہلے وہاں دو آدمی پہنچ گئے تھے۔ چشمہ کے پانی کا یہ حال تھا کہ جوتی کے تسمہ کے برابر ہو گا، وہ بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ تم نے اس کے پانی میں ہاتھ لگایا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہا (اس لیے کہ انہوں نے حکم کے خلاف کیا تھا) اور اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنایا۔ پھر لوگوں نے چلوؤں سے تھوڑا تھوڑا پانی ایک برتن میں جمع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھویا، پھر وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا تو وہ چشمہ جوش مار کر بہنے لگا اور لوگوں نے (اپنے جانوروں اور آدمیوں کو) پانی پلانا شروع کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! اگر تیری زندگی رہی تو تو دیکھے گا کہ یہاں جو جگہ ہے وہ گھنے باغات سے لہلہا اٹھے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5947]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو نمازوں کو جمع کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر اکٹھی پڑھیں اور مغرب و عشاء کو جمع کیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز کو مؤخر کیا، پھر نکلے اور ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا، پھر اپنے خیمے میں داخل ہو گئے، پھر اس کے بعد نکلے اور مغرب و عشاء کو جمع کیا، پھر فرمایا: تم کل «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» اگر اللہ نے چاہا تبوک کے چشمے پر پہنچ جاؤ گے اور تم اس پر دن چڑھے ہی پہنچو گے، تو تم میں سے جو اس پر پہنچے، میرے پہنچنے سے پہلے اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔ ہم اس پر پہنچے تو ہم سے پہلے دو آدمی پہنچ گئے تھے اور چشمے میں تسمے کی مانند تھوڑا تھوڑا پانی بہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا: کیا تم نے اس کے پانی کو ہاتھ لگایا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ڈانٹا، سخت سست کہا اور اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا، انہیں کہا، پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے چشمے سے تھوڑا تھوڑا پانی نکالا، یہاں تک کہ وہ کسی چیز میں جمع ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا، پھر پانی اس چشمے میں لوٹا دیا تو چشمہ سے پانی جوش یا کثرت سے نکلنے لگا، حتیٰ کہ لوگوں نے (پی لیا اور) پلایا اور پھر فرمایا: اے معاذ (رضی اللہ عنہ)! قریب ہے، اگر تجھے لمبی عمر ملی تو تم یہاں کے علاقے کو باغوں سے بھرا ہوا دیکھو گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5947]
ترقیم فوادعبدالباقی: 706
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں