🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ مَا ذَكَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ:
باب: احکام شرعیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کا وجوب اور احکام دنیویہ میں عمل کا اختیار۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2363 ترقیم شاملہ: -- 6128
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ، فَقَالَ: لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ، قَالَ: فَخَرَجَ شِيصًا، فَمَرَّ بِهِمْ، فَقَالَ: مَا لِنَخْلِكُمْ، قَالُوا: قُلْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ ".
حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ اور حماد ہی نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں گابھہ لگا رہے تھے، آپ نے فرمایا: اگر تم یہ نہ کرو تو (بھی) ٹھیک رہے گا۔ کہا: اس کے بعد گٹھلیوں کے بغیر روی کھجوریں پیدا ہوئیں، پھر کچھ دنوں کے بعد آپ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: تمھاری کھجوریں کیسی رہیں؟ انہوں نے کہا: آپ نے اس طرح فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ جاننے والے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6128]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جو کھجوروں میں پیوند لگا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ عمل نہ کرو تو اچھا ہوگا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، اس (عمل کے ترک) سے ردی کھجوریں پیدا ہوئیں، سو آپ ان کے پاس سے گزرے اور پوچھا: تمہاری کھجوروں کو کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا، آپ نے یہ یہ فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے دنیوی معاملات سے خوب آگاہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6128]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. باب فَضْلِ النَّظَرِ إِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَنِّيهِ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2364 ترقیم شاملہ: -- 6129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ، وَلَا يَرَانِي، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي، أَحَبُّ إِلَيْهِ مَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ "، قَالَ أَبُ وَإِسْحَاقَ: الْمَعْنَى فِيهِ عِنْدِي لَأَنْ يَرَانِي مَعَهُمْ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، وَهُوَ عِنْدِي مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ.
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، انہوں نے کئی حدیثیں بیان کیں، ان میں یہ (بھی) تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم لوگوں میں سے کسی پر وہ دن ضرور آئے گا کہ وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گا۔ اور میری زیارت کرنا اس کے لیے اپنے اس سارے اہل اور مال سے زیادہ محبوب ہو گا جو ان کے پاس ہو گا۔ (امام مسلم کے شاگرد) ابواسحاق (ابراہیم بن محمد) نے کہا: میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ وہ شخص مجھے اپنے سب لوگوں کے ساتھ دیکھے، میں اس کے نزدیک اس کے اہل و مال سے زیادہ محبوب ہوں گا۔ اس میں تقدیم و تاخیر ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6129]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہمام بن منبہ کو سنائی ہوئی حدیثوں میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم پر ایک وقت ضرور آئے گا کہ تم میں سے کوئی مجھے نہیں دیکھ سکے گا، پھر اس کے لیے میرا دیدار کرنا، اپنے اہل اور ان کے ساتھ ان کے مال سے بھی زیادہ محبوب ہوگا۔ ابواسحاق کہتے ہیں: میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ مجھے ان کے ساتھ دیکھنا، اسے اپنے اہل اور مال سے زیادہ محبوب ہوگا، میرے نزدیک یہاں الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے، یعنی «مَعَهُمْ آخِرُ» (معہم کا لفظ آخر میں ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6129]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2364
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. باب فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ:
باب: سیدنا عیسی علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2365 ترقیم شاملہ: -- 6130
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ ".
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے انہیں بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: تمام لوگوں کی نسبت میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے زیادہ قریب ہوں۔ تمام انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی (ایک باپ اور مختلف ماؤں کے بیٹے) ہیں نیز میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6130]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں سب لوگوں سے ابن مریم علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں، تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6130]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2365
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2365 ترقیم شاملہ: -- 6131
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى، الْأَنْبِيَاءُ أَبْنَاءُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ ".
اعرج نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام لوگوں کی نسبت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں۔ تمام انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں اور میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان اور کوئی نبی نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6131]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عیسیٰ علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء علیہم السلام وہ ایک باپ کے بیٹے ہیں، میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6131]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2365
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2365 ترقیم شاملہ: -- 6132
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ، قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ ".
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں۔ انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دنیا اور آخرت میں سب لوگوں کی نسبت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے زیادہ قریب ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے، اور درمیان اور کوئی نبی نہیں ہے۔ (نبوت سے نبوت جڑی ہوئی ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6132]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہمام بن منبہ کو سنائی ہوئی احادیث میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دنیا اور آخرت میں عیسیٰ بن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ لوگوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور ہمارے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6132]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2365
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2366 ترقیم شاملہ: -- 6133
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ، إِلَّا نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ، إِلَّا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ "، ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ سورة آل عمران آية 36.
معمر نے زہری سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا جو بھی بچہ پیدا ہو تا ہے شیطان اس کو کچوکا لگاتا ہے۔ ماسوائے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور ان کی والدہ کے۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو (حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ نے کہا): «إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6133]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے، شیطان اس کو کچوکا لگاتا ہے، مگر ابن مریم اور ان کی ماں (اس سے محفوظ رہے)۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو یہ پڑھ لو: ﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [سورة آل عمران: 36] اور میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6133]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2366 ترقیم شاملہ: -- 6134
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ جَمِيعًا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ: مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ.
معمر اور شعیب نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ خبر دی، دونوں نے کہا: (بچہ) جب پیدا ہو تا ہے تو (شیطان) اسے کچوکا لگاتا ہے اور وہ خود کو شیطان کے کچوکا لگانے سے چیخ کر روتا ہے۔ اور شعیب کی حدیث میں (خود کو، کے بغیر صرف) شیطان کے کچوکا سے کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6134]
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ کی سند سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے: پیدائش کے وقت وہ چھوٹا ہے تو وہ شیطان کے چھونے کے سبب بلند آواز سے روتا ہے۔ اور شعیب کی روایت میں «مَسَّهُ الشَّيْطَانُ» شیطان نے اسے چھوا کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6134]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2366 ترقیم شاملہ: -- 6135
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ سُلَيْمًا مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، إِلَّا مَرْيَمَ، وَابْنَهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابویونس سلیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم کے ہر بیٹے کو جب اس کی ماں اسے جنم دیتی ہے شیطان کچوکا لگاتا ہے، ماسوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6135]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم کے ہر بیٹے کو جب اس کی ماں جنتی ہے، شیطان چھوتا ہے، مگر مریم اور اس کا بیٹا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6135]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2367 ترقیم شاملہ: -- 6136
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ".
سہیل (بن ابی صالح) کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولادت کے وقت بچے کا رونا شیطان کے کچوکے سے ہو تا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6136]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نومولود بچہ اس وقت روتا ہے، جب شیطان اس کو کچوکا لگاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6136]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2367
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2368 ترقیم شاملہ: -- 6137
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ لَهُ عِيسَى: سَرَقْتَ، قَالَ: كَلَّا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ عِيسَى: آمَنْتُ بِاللَّهِ، وَكَذَّبْتُ نَفْسِي ".
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، ان میں سے ایک یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا: تم نے چوری کی؟ اس نے کہا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنے آپ کو جھٹلایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6137]
ہمام بن منبہ کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ احادیث میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے دیکھا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! تو عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں نے اللہ پر یقین کیا اور اپنے آپ کو خطاکار قرار دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6137]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2368
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں