🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور مدینہ میں کتنی مدت قیام فرمایا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2352 ترقیم شاملہ: -- 6098
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، فَذَكَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَكْبَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ "، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ، وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَقُتِلَ عُمَرُ، وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، يُقَالُ لَهُ: عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ . حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَذَكَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.
اسلام ابواحوص نے ابواسحاق سے روایت کی، کہا: میں عبداللہ بن عتبہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو (وہاں بیٹھے ہوئے) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے بارے میں بات کی۔ لوگوں میں سے ایک نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے تھے۔ عبداللہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور آپ تریسٹھ سال کے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور وہ بھی تریسٹھ سال کے تھے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اور وہ بھی تریسٹھ سال کے تھے۔ کہا: ان لوگوں میں سے ایک شخص نے، جنہیں عامر بن سعد کہا جاتا تھا، کہا: ہمیں جریر (بن عبداللہ بن جار بجلی رضی اللہ عنہ) نے حدیث بیان کی کہ ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کا ذکر کیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور آپ تریسٹھ برس کے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور وہ بھی تریسٹھ برس کے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6098]
ابواسحاق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں عبداللہ بن عتبہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حاضرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا ذکر چھیڑ دیا، تو بعض لوگوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں بڑے تھے، عبداللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے وقت تریسٹھ برس کے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تریسٹھ برس کی عمر میں فوت ہوئے اور عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی تریسٹھ برس کی عمر میں ہوئی، لوگوں میں سے ایک آدمی جسے عامر بن سعد کہا جاتا تھا، نے کہا: ہمیں جریر نے بتایا، ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو حاضرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا ذکر شروع کر دیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح تریسٹھ برس کی عمر میں قبض کی گئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تریسٹھ برس کی عمر میں فوت ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت تریسٹھ برس کی عمر میں ہوئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6098]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2352
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2352 ترقیم شاملہ: -- 6099
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق يُحَدِّثُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ جَرِير ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ: " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ "، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ".
شعبہ نے کہا: میں نے ابواسحاق سے سنا، وہ عامر بن سعد بجلی سے حدیث روایت کر رہے تھے، انہوں نے جریر سے روایت کی، انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ تریسٹھ برس کے تھے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ (بھی اتنی ہی عمر کے ہوئے) اور اب میں بھی تریسٹھ برس کا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6099]
جریر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے خطبہ دیتے ہوئے یہ سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ برس کی عمر میں فوت ہوئے اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی اور میں بھی تریسٹھ برس کا ہوں۔ (موت کا خواہاں ہوں) [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6099]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2352
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2353 ترقیم شاملہ: -- 6100
وحَدَّثَنِي ابْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: " سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ؟ فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسِبُ مِثْلَكَ مِنْ قَوْمِهِ يَخْفَى عَلَيْهِ ذَاكَ، قَالَ، قُلْتُ: إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ النَّاسَ، فَاخْتَلَفُوا عَلَيَّ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ، قَالَ: أَتَحْسُبُ؟ قَالَ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمْسِكْ أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا خَمْسَ عَشْرَةَ بِمَكَّةَ، يَأْمَنُ، وَيَخَافُ، وَعَشْرَ مِنْ مُهَاجَرِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ ".
یزید بن زریع نے کہا: ہمیں یونس بن عبید نے بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام عمار سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ وفات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی عمر مبارک) کے کتنے سال گزرے تھے؟ انہوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم جیسے شخص پر، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی قوم سے (متعلق) تھا، یہ بات مخفی ہوگی۔ کہا کہ میں نے عرض کی: میں نے لوگوں سے اس کے بارے میں سوال کیا تو میرے سامنے ان لوگوں نے باہم اختلاف کیا۔ تو مجھے اچھا معلوم ہوا کہ میں اس کے بارے میں آپ کا قول معلوم کروں، انہوں نے کہا: تم حساب کر سکتے ہو؟ کہا کہ میں نے عرض کی: جی ہاں، انہوں نے کہا: (پہلے) تو چالیس لو، جب آپ کو مبعوث کیا گیا، (پھر) پندرہ سال مکہ میں، کبھی امن میں اور کبھی خوف میں دس سال مدینہ کی طرف ہجرت سے (لے کر جمع کر لو)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6100]
بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام عمار کہتے ہیں، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: وفات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟ تو انہوں نے کہا: میرا گمان نہیں تھا کہ تیرے جیسے آپ کی قوم کے فرد سے یہ بات مخفی رہ سکتی ہے، میں نے کہا: میں نے لوگوں سے پوچھا، انہوں نے مجھے مختلف جوابات دیے تو میں نے اس بارے میں آپ کا قول جاننا پسند کیا، انہوں نے کہا: حساب جانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: حساب جانتے ہو؟ میں نے کہا، انہوں نے کہا: یاد رکھو، چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، پندرہ سال امن اور خوف کی حالت میں مکہ میں رہے اور دس سال ہجرت کے بعد مدینہ میں رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6100]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2353
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2353 ترقیم شاملہ: -- 6101
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ.
شعبہ نے یونس سے اسی سند کے ساتھ یزید بن زریع کی حدیث کے مانند ہمیں حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6101]
یہی روایت امام صاحب کے ایک اور استاد بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6101]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2353
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2353 ترقیم شاملہ: -- 6102
وحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ".
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں خالد حذاء نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام عمار نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پینسٹھ برس کے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6102]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پینسٹھ (65) برس کی عمر میں ہوئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6102]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2353
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2353 ترقیم شاملہ: -- 6103
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابن علیہ نے خالد سے اسی سند کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6103]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6103]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2353
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2353 ترقیم شاملہ: -- 6104
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، يَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ، وَلَا يَرَى شَيْئًا، وَثَمَانَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا ".
حماد بن سلمہ نے عمار بن ابی عمار سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ برس تک آواز سنتے تھے اور روشنی دیکھتے تھے سات برس تک، لیکن کوئی صورت نہیں دیکھتے تھے پھر آٹھ برس تک وحی آیا کرتی تھی اور دس برس تک مدینہ میں رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6104]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ سال قیام پذیر رہے، سات سال تک آواز سنتے رہے اور روشنی دیکھتے رہے، کوئی شکل نہ دیکھتے تھے، آٹھ سال وحی آتی رہی اور دس سال مدینہ میں رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6104]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2353
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. باب فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2354 ترقیم شاملہ: -- 6105
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَقِبِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے روایت کی، انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے سنا، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی (مٹانے والا) ہوں، میرے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کفر مٹا دے گا، میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں، لوگوں کو میرے پیچھے حشر کے میدان میں لایا جائے گا اور میں عاقب (آخر میں آنے والا) ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6105]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں «مُحَمَّدٌ» محمد ہوں، میں «أَحْمَدُ» احمد ہوں، میں «الْمَاحِي» ماحی ہوں، میرے ذریعے کفر محو کیا جائے گا، میں «الْحَاشِرُ» حاشر ہوں، لوگ میرے پیچھے پیچھے جمع کیے جائیں گے، میں «الْعَاقِبُ» عاقب ہوں، جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6105]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2354
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2354 ترقیم شاملہ: -- 6106
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَيَّ، وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ، وَقَدْ سَمَّاهُ اللَّهُ رَءُوفًا رَحِيمًا ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے کئی نام ہیں، میں محمد، احمد اور ماحی یعنی میری وجہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا۔ اور میں حاشر ہوں، لوگ میرے پاس قیامت کے دن شفاعت کے لیے اکٹھے ہوں گے۔ اور میں عاقب ہوں، یعنی میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے۔" اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رؤف اور رحیم رکھا (بہت نرم اور بہت مہربان) ( صلی اللہ علیہ وسلم [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6106]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے چند نام ہیں: میں «مُحَمَّدٌ» محمد ہوں، میں «أَحْمَدُ» احمد ہوں، میں «الْمَاحِي» ماحی ہوں، اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کو محو کرے گا، اور میں «الْحَاشِرُ» حاشر ہوں، میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا، اور میں «الْعَاقِبُ» عاقب ہوں، جس کے بعد کوئی (نبی) نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رؤوف اور رحیم بھی رکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6106]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2354
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2354 ترقیم شاملہ: -- 6107
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ، وَمَعْمَرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: وَمَا الْعَاقِبُ؟ قَالَ: الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ، وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، وَعُقَيْلٍ الْكَفَرَةَ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ الْكُفْرَ.
عقیل، معمر اور شعیب، سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، شعیب اور معمر کی حدیث میں (حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے) یہ الفاظ (منقول) ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ معمر کی حدیث میں ہے، کہا: میں نے زہری سے کہا: عاقب (سے مراد) کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو، معمر اور عقیل کی حدیث میں ہے: کافروں کو (مٹا دے گا) اور شعیب کی حدیث میں ہے: کفر کو (مٹا دے گا۔) [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6107]
امام صاحب یہی روایت مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں، عُقیل کی حدیث میں سفیان کہتے ہیں: میں نے زہری رحمہ اللہ سے پوچھا، «الْعَاقِبُ» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور معمر و عقیل کی حدیث میں «الْكُفْرُ» کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6107]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2354
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں