صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب إِثْبَاتِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ وَصِفَتِهِ وَمَحِلِّهِ مِنْ جَسَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: مہر نبوت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2346 ترقیم شاملہ: -- 6088
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ . ح وحَدَّثَنِي وَاللَّفْظُ لَهُ، حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا، وَلَحْمًا، أَوَ قَالَ: ثَرِيدًا، قَالَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَسْتَغْفَرَ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ سورة محمد آية 19، قَالَ: ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ، كَتِفِهِ الْيُسْرَى جُمْعًا عَلَيْهِ خِيلَانٌ كَأَمْثَالِ الثَّآلِيلِ ".
عاصم احول نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اور میں نے آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت یا کہا: ثرید کھایا تھا، (عاصم نے) کہا: میں نے ان (عبداللہ رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے دعائے مغفرت کی تھی، انہوں نے کہا: ہاں، اور تمہارے لیے بھی، پھر یہ آیت پڑھی، ”اور اپنے گناہ کے لیے استغفار کیجیے اور ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کے لیے بھی۔“ کہا: پھر میں گھوم کر آپ کے پیچھے ہوا تو میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، آپ کے بائیں شانے کی نرم ہڈی کے قریب بند مٹھی کی طرح، اس پر خال (تل) تھے جس طرح جلد پر آغاز شباب کے کالے نشان ہوتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6088]
امام اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ گوشت روٹی کھائی یا کہا «الثَّرِيدَ» ”ثرید“ کھایا، تو میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے مغفرت کی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں اور تیرے لیے بھی، پھر یہ آیت سنائی: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ [سورة محمد: 19] ”اپنے لیے مغفرت کی دعا کیجئے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6088]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2346
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
31. باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَبْعَثِهِ وَسِنِّهِ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2347 ترقیم شاملہ: -- 6089
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ، وَلَا بِالْقَصِيرِ، وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ، وَلَا بِالْآدَمِ، وَلَا بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ، وَلَا بِالسَّبِطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت دراز قد تھے نہ پستہ قامت، نہ بالکل سفید تھے نہ بالکل گندمی، نہ سخت گھنگرالے بال تھے نہ بالکل سیدھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں بعثت سے نوازا، آپ دس سال مکہ مکرمہ میں رہے، اور دس سال مدینہ میں، اللہ تعالیٰ نے ساٹھ سال (سے کچھ زائد) عمر میں آپ کو وفات دی جبکہ آپ کے سر اور ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6089]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت دراز قد تھے اور نہ پست قد، اور نہ چونے جیسے سفید اور نہ بالکل گندمی، اور نہ سخت گھنگھریالے بال تھے اور نہ بالکل کھلے، سیدھے، چالیس پورے ہونے پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، مکہ میں دس سال ٹھہرے اور مدینہ میں دس سال رہے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساٹھ سال کی عمر میں اپنے پاس بلا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6089]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2347
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2347 ترقیم شاملہ: -- 6090
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِمَا، كَانَ أَزْهَرَ.
اسماعیل بن جعفر اور سلیمان بن بلال دونوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور ان دونوں نے اپنی حدیث میں مزید بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ کھلتا ہوا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6090]
امام صاحب یہی روایت اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ «أَزْهَرُ» ”سرخی مائل سفید“ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6090]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2347
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
32. باب كَمْ سِنُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُبِضَ:
باب: وفات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کتنی تھی؟
ترقیم عبدالباقی: 2348 ترقیم شاملہ: -- 6091
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زَائِدَةَ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ "، وَأَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَعُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ".
زبیر بن عدی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ (63) سال کے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ (فوت ہوئے) اور وہ تریسٹھ سال کے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کی شہادت ہوئی) اور وہ تریسٹھ سال کے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6091]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح تریسٹھ برس کی عمر میں قبض کی گئی، ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تریسٹھ برس کی عمر میں فوت ہوئے اور عمر رضی اللہ عنہ کی وفات بھی تریسٹھ سال کی عمر میں ہوئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6091]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2348
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2349 ترقیم شاملہ: -- 6092
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً "، وقَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ،
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ تریسٹھ سال کے تھے۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے بھی اسی طرح بتایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6092]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تریسٹھ سال کی عمر میں ہوئی، ابن شہاب کہتے ہیں کہ سعید بن المسیب نے بھی مجھے یہی بتایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6092]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2349
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2349 ترقیم شاملہ: -- 6093
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَ حَدِيثِ عُقَيْلٍ.
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے دونوں سندوں سے عقیل کی حدیث کے مانند (بیان کیا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6093]
امام صاحب رحمہ اللہ دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6093]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2349
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
33. باب كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور مدینہ میں کتنی مدت قیام فرمایا ہے؟
ترقیم عبدالباقی: 2350 ترقیم شاملہ: -- 6094
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: قُلْتُ لِعُرْوَةَ : " كَمْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: " عَشْرًا "، قَالَ، قُلْتُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ ".
ابومعمر اسماعیل بن ابراہیم ہذلی نے کہا: ہمیں سفیان نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عروہ سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بعثت کے بعد) مکہ میں کتنا عرصہ رہے؟ انہوں نے کہا: دس (سال)۔ انہوں (عمرو) نے کہا: میں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تیرہ (سال) کہتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6094]
عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے عروہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کتنا عرصہ رہے؟ انہوں نے کہا: دس سال، میں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما تو تیرہ سال کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6094]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2350
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2350 ترقیم شاملہ: -- 6095
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ، قُلْتُ لِعُرْوَةَ : " كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشْرًا، قُلْتُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: بِضْعَ عَشْرَةَ "، قَالَ: فَغَفَّرَهُ، وَقَالَ: إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ ".
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے عمرو سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عروہ سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بعثت کے بعد) مکہ میں کتنے سال رہے؟ انہوں نے کہا: دس (سال)۔ کہا: میں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تو دس (سال) سے کچھ زائد بتاتے ہیں۔ انہوں (عمرو بن دینار) نے کہا: تو انہوں (عروہ رحمہ اللہ) نے کہا: اللہ ان کی مغفرت کرے! اور کہا: انہوں نے یہ عمر شاعر کے قول سے اخذ کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6095]
عمرو کہتے ہیں، میں نے عروہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کتنا عرصہ قیام کیا؟ انہوں نے کہا: دس سال، میں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما تو دس سال سے زائد بتاتے ہیں، عروہ نے کہا: اللہ ان کی مغفرت فرمائے، انہوں نے یہ بات شاعر کے قول سے اخذ کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6095]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2350
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2351 ترقیم شاملہ: -- 6096
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ".
عمرو بن دینار نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال رہے، آپ کی وفات ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ سال کے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6096]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ برس رہے اور وفات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6096]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2351
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2351 ترقیم شاملہ: -- 6097
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً ".
ابوجمرہ ضبعی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی بھیجی جاتی تھی اور مدینہ میں دس سال رہے، آپ کی وفات ہوئی اور آپ تریسٹھ سال کے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6097]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں قیام تیرہ سال رہا، آپ کی طرف وحی آتی رہی، اور مدینہ میں دس سال رہے اور آپ کی وفات تریسٹھ سال کی عمر میں ہوئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6097]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2351
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة