🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2355 ترقیم شاملہ: -- 6108
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً، فَقَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْمُقَفِّي، وَالْحَاشِرُ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ ".
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کئی نام ہم سے بیان کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور احمد اور مقفی (آخر میں آنے والا) ہوں اور حاشر اور نبی التوبہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے کثیر خلقت توبہ کرے گی) اور نبی الرحمہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے انسان بہت سی نعمتوں سے نوازے جائیں گے۔)" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6108]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے چند نام بتاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں محمد ہوں، احمد ہوں، مقفیٰ ہوں، میں حاشر ہوں، نبی التوبہ ہوں، نبی رحمت ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6108]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2355
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. باب عِلْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ:
باب: اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ علم اور سب سے زیادہ خوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2356 ترقیم شاملہ: -- 6109
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ، فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ".
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوضحیٰ (مسلم) سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کی اجازت عطا فرمائی آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بعض کو یہ خبر پہنچی، انہوں نے گویا کہ اس (رخصت اور اجازت) کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: "ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جن کو خبر ملی کہ میں نے ایک کام کی اجازت دی ہے تو انہوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔ اللہ کی قسم! میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اور اس (اللہ) کی خشیت میں ان سب سے بڑھ کر ہوں۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6109]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کے کرنے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں تک یہ بات پہنچی تو گویا کہ انہوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس سے احتراز (پرہیز) کیا، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ معاملہ پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہیں میری طرف سے ایک کام کی خبر پہنچی، میں نے اس کی رخصت دی، انہوں نے اس کو ناپسند کیا اور اس سے پرہیز کیا، سو اللہ کی قسم! میں اللہ کے بارے میں ان سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6109]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2356
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2356 ترقیم شاملہ: -- 6110
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وقَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَكِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
حفص بن غیاث اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند ہمیں حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6110]
امام نے تین اساتذہ کی دو سندوں سے یہی روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6110]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2356
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2356 ترقیم شاملہ: -- 6111
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ، فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ".
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے (ابوضحیٰ) مسلم سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام میں رخصت روا رکھی۔ لوگوں میں سے کچھ نے خود کو اسے کرنے سے زیادہ پاکباز خیال کیا۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سے ظاہر ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام میں مجھے رخصت دی گئی ہے اس سے احتراز کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں تو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6111]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کی رخصت دی تو کچھ لوگوں نے اس سے پرہیز کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے، حتیٰ کہ ناراضی کا چہرے سے اظہار ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اس کام سے بے رغبتی برتتے ہیں جس کی مجھے رخصت دی گئی ہے، سو اللہ کی قسم! میں ان سے اللہ کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں اور ان سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6111]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2356
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. باب وُجُوبِ اتِّبَاعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا واجب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2357 ترقیم شاملہ: -- 6112
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ: " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِمْ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ اسْقِ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا سورة النساء آية 65.
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حرہ میں واقع پانی کی ان گزرگاہوں (برساتی نالیوں) کے بارے میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا جن سے وہ کھجوروں کو سیراب کرتے تھے۔ انصاری کہتا تھا: پانی کو کھلا چھوڑ دو وہ آگے کی طرف گزر جائے، انہوں نے ان لوگوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ (کو نرمی کی تلقین کرتے ہوئے ان) سے کہا: "تم (جلدی سے اپنے باغ کو) پلا کر پانی اپنے ہمسائے کی طرف روانہ کر دو۔" انصاری غضبناک ہو گیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس لیے کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد ہے۔ (صدمے سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے فرمایا: "زبیر! (باغ کو) پانی دو، پھر اتنی دیر پانی کو روکو کہ وہ کھجوروں کے گرد کھودے گئے گڑھے کی منڈیر سے ٹکرانے لگے۔" زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں یقیناً یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت: "نہیں! آپ کے رب کی قسم! وہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے" اسی (واقعے) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6112]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی کا، حرّہ کی نالیوں کے بارے میں، جن سے وہ نخلستان کو پانی پلاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا ہوا، انصاری نے کہا: پانی کو چھوڑ دیجیے وہ بہتا رہے، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھگڑا پیش ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے زبیر! بقدر ضرورت زمین کو سیراب کر لو اور پھر پانی پڑوسی کے لیے چھوڑ دو۔ انصاری غصہ میں آ گیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ فیصلہ اس لیے ہوا کہ یہ آپ کا پھوپھی زاد ہے! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے زبیر! زمین کو پانی پلاؤ، پھر پانی روک لو حتیٰ کہ وہ منڈیر (روک) تک پہنچ جائے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میرے خیال میں یہی آیت اس سلسلہ میں اتری ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [سورة النساء: 65] بات وہ نہیں جو یہ سمجھتے ہیں، تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک اپنے اختلافات میں آپ کو حکم تسلیم نہ کریں، پھر آپ کے فیصلہ کے بارے میں، اپنے دلوں میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کریں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6112]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2357
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. باب تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لاَ ضَرُورَةَ إِلَيْهِ أَوْ لاَ يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لاَ يَقَعُ وَنَحْوِ ذَلِكَ:
باب: بے ضرورت مسئلے پوچھنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1337 ترقیم شاملہ: -- 6113
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، قَالَا: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ، كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی، ان دونوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "میں جس کام سے تمہیں روکوں اس سے اجتناب کرو اور جس کام کا حکم دوں، اپنی استطاعت کے مطابق اس کو کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو سوالات کی کثرت اور اپنے انبیاء علیہم السلام سے اختلاف نے ہلاک کر دیا۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6113]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جس چیز سے میں نے تمہیں روکا ہے، اس سے پرہیز کرو اور جس کے کرنے کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے، اس کو مقدور بھر کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو محض زیادہ سوال کرنے اور اپنے انبیاء کی مخالفت کرنے کی پاداش میں ہلاک کیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6113]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1337
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1337 ترقیم شاملہ: -- 6114
یزید بن ہاد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بالکل اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6114]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6114]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1337
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1337 ترقیم شاملہ: -- 6115
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كُلُّهُمْ، قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ: مَا تُرِكْتُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، ثُمَّ ذَكَرُوا نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوصالح، اعرج، محمد بن زیاد اور ہمام بن منبہ، سب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے (آپ نے فرمایا): "جب تک میں تمہیں چھوڑ رکھوں (کوئی حکم نہ دوں) تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (خواہ مخواہ کے سوال مت کرو)" اور ہمام کی حدیث میں ہے: "جب تک تمہیں چھوڑ دیا جائے، کیونکہ وہ لوگ جو تم سے پہلے تھے (کثرت سوال سے) ہلاک ہو گئے۔" پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ سے زہری کی حدیث کی طرح (آگے) بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6115]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1337
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2358 ترقیم شاملہ: -- 6116
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ".
ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے، انہوں نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سے سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تو اس کے سوال کی بنا پر اسے حرام کر دیا جائے۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6116]
عامر بن سعد اپنے والد (حضرت سعد رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں کرید کی جو مسلمانوں پر حرام نہ تھی، تو اس کے سوال کی بنا پر ان پر حرام قرار دے دی گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6116]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2358
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2358 ترقیم شاملہ: -- 6117
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَحْفَظُهُ كَمَا أَحْفَظُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ، مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ".
ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے یہ اسی طرح یاد ہے جس طرح بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یاد ہے۔ زہری نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مسلمانوں میں سے مسلمانوں کے بارے میں سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے، جس نے ایسے معاملے کے متعلق سوال کیا جو حرام نہیں کیا گیا تھا تو اس کے سوال کی بنا پر اس کو لوگوں کے لیے حرام کر دیا گیا۔" [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6117]
امام سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث مجھے «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے کی طرح یاد ہے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے ایسی چیز کے بارے میں کریدا جو حرام نہ تھی، سو لوگوں پر اس کے سوال کے نتیجے میں حرام ٹھہرائی گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2358
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں