🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا:
باب: ام المؤمنین سیدہ ‏عائشہ رضی اللہ عنہماکی ‌‌فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2441 ترقیم شاملہ: -- 6289
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ لوگ اپنے ہدیے بھیجنے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (کی باری) کا دن ڈھونڈا کرتے تھے، اس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنا چاہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6289]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگ اپنے تحفے تحائف دینے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دن کا قصد کرتے تھے تاکہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6289]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2441
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2442 ترقیم شاملہ: -- 6290
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي، فَأَذِنَ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، وَأَنَا سَاكِتَةٌ، قَالَتْ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ، فَقَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَأَحِبِّي هَذِهِ، قَالَتْ: فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَتْ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي، قَالَتْ: وَبِالَّذِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ لَهَا: مَا نُرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ، فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُولِي لَهُ: إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ، وَأَتْقَى لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا، وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ، وَأَعْظَمَ صَدَقَةً، وَأَشَدَّ ابْتِذَالًا لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ، وَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ، كَانَتْ فِيهَا تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ، قَالَتْ: فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا عَلَى الْحَالَةِ الَّتِي دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا وَهُوَ بِهَا، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، قَالَتْ: ثُمَّ وَقَعَتْ بِي، فَاسْتَطَالَتْ عَلَيَّ، وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ، هَلْ يَأْذَنُ لِي فِيهَا؟ قَالَتْ: فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ، قَالَتْ: فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا حَتَّى أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَتَبَسَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ ".
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے محمد بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے اجازت مانگی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ میری چادر میں لیٹے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے، وہ چاہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ابوقحافہ کی بیٹی میں انصاف کریں (یعنی جتنی محبت ان سے رکھتے ہیں اتنی ہی اوروں سے رکھیں۔ اور یہ امر اختیاری نہ تھا اور سب باتوں میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصاف کرتے تھے) اور میں خاموش تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بیٹی! کیا تو وہ نہیں چاہتی جو میں چاہوں؟“ وہ بولیں کہ یا رسول اللہ! میں تو وہی چاہتی ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو عائشہ سے محبت رکھ۔“ یہ سنتے ہی فاطمہ اٹھیں اور ازواج مطہرات کے پاس گئیں اور ان سے جا کر اپنا کہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا بیان کیا۔ وہ کہنے لگیں کہ ہم سمجھتی ہیں کہ تم ہمارے کچھ کام نہ آئیں، اس لیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں (ابوقحافہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کے دادا ہوئے اور دادا کی طرف نسبت دے سکتے ہیں)۔ سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں تو اب عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقدمہ میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو نہ کروں گی۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور میرے برابر کے مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہی تھیں اور میں نے کوئی عورت ان سے زیادہ دیندار، اللہ سے ڈرنے والی، سچی بات کہنے والی، رشتہ جوڑنے والی اور خیرات کرنے والی نہیں دیکھی اور نہ ان سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ تعالیٰ کے کام میں اور صدقہ میں اپنے نفس پر زور ڈالتی تھی، فقط ان میں ایک تیزی تھی (یعنی غصہ تھا) اس سے بھی وہ جلدی پھر جاتیں اور مل جاتیں اور نادم ہو جاتی تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حال میں اجازت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری چادر میں تھے، جس حال میں سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں۔ پھر یہ کہہ کر مجھ پر آئیں اور زبان درازی کی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ کو دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں، یہاں تک کہ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دینے سے برا نہیں مانیں گے، تب تو میں بھی ان پر آئی اور تھوڑی ہی دیر میں ان کو لاجواب کر دیا یا ان پر غالب آ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6290]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے اجازت مانگی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ میری چادر میں لیٹے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو انہوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے، وہ چاہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ابوقحافہ کی بیٹی میں انصاف کریں“ (یعنی جتنی محبت ان سے رکھتے ہیں اتنی ہی اوروں سے رکھیں۔ اور یہ امر اختیاری نہ تھا اور سب باتوں میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصاف کرتے تھے) اور میں خاموش تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بیٹی! کیا تو وہ نہیں چاہتی جو میں چاہوں؟“ وہ بولیں: ”یا رسول اللہ! میں تو وہی چاہتی ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو عائشہ سے محبت رکھ۔“ یہ سنتے ہی فاطمہ رضی اللہ عنہا اٹھیں اور ازواج مطہرات کے پاس گئیں اور ان سے جا کر اپنا کہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا بیان کیا۔ وہ کہنے لگیں: ”ہم سمجھتی ہیں کہ تم ہمارے کچھ کام نہ آئیں، اس لیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں“ (ابوقحافہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کے دادا ہوئے اور دادا کی طرف نسبت دے سکتے ہیں)۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں تو اب عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقدمہ میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو نہ کروں گی۔“ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور میرے برابر کے مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہی تھیں اور میں نے کوئی عورت ان سے زیادہ دیندار، اللہ سے ڈرنے والی، سچی بات کہنے والی، ناطہ جوڑنے والی اور خیرات کرنے والی نہیں دیکھی اور نہ ان سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ تعالیٰ کے کام میں اور صدقہ میں اپنے نفس پر زور ڈالتی تھی، فقط ان میں ایک تیزی تھی (یعنی غصہ تھا) اس سے بھی وہ جلدی پھر جاتیں اور مل جاتیں اور نادم ہو جاتی تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حال میں اجازت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری چادر میں تھے، جس حال میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئی تھیں۔ انہوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں۔“ پھر یہ کہہ کر مجھ پر آئیں اور زبان درازی کی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ کو دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں، یہاں تک کہ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دینے سے برا نہیں مانیں گے، تب تو میں بھی ان پر آئی اور تھوڑی ہی دیر میں ان کو لاجواب کر دیا یا ان پر غالب آ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”یہ ابوبکر کی بیٹی ہے“ (باپ کی وضاحت وعلم کی وارث ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6290]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2442
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2442 ترقیم شاملہ: -- 6291
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ : حَدَّثَنِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ فِي الْمَعْنَى، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا أَنْ أَثْخَنْتُهَا غَلَبَةً.
یونس نے زہری سے اسی سند کے ساتھ، معنی میں بالکل اسی کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے یوں کہا: جب میں نے ان کے بارے میں بات کی تو انہیں مہلت تک نہ دی کہ میں نے غالب آ کر ان کو بے بس کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6291]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے زہری ہی کی سند سے، اس کے ہم معنی بیان کرتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب میں اس پر برسی تو میں نے جلد ہی اسے غلبہ سے گھائل کر دیا، یعنی ان کو چپ کرا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6291]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2442
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2443 ترقیم شاملہ: -- 6292
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَتَفَقَّدُ، يَقُولُ: " أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ، أَيْنَ أَنَا غَدًا، اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي، قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي ".
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بیماری کے دوران میں) دریافت کرتے فرماتے تھے: ”آج میں کہاں ہوں؟ کل میں کہاں ہوں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لگتا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن آ ہی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا: جب میری باری کا دن آیا تو اللہ نے آپ کو اس طرح اپنے پاس بلایا کہ آپ میرے سینے اور حلق کے درمیان (سر رکھے ہوئے) تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6292]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (میری باری کی) جستجو کرتے تھے، فرماتے: ”میں آج کہاں ہوں گا؟ میں کل کہاں ٹھہروں گا؟“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دن میں تاخیر محسوس کرتے ہوئے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب میرا دن آگیا، اللہ نے آپ کو میرے پھیپھڑوں اور حلق کے درمیان اپنے پاس بلا لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6292]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2443
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2444 ترقیم شاملہ: -- 6293
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَى صَدْرِهَا، وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ ".
مالک بن انس نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ انہوں نے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پہلے فرما رہے تھے اور آپ ان کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور انہوں نے کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی، آپ فرما رہے تھے: ”اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق (اعلیٰ) کے ساتھ ملا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6293]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفات سے پہلے جبکہ وہ ان کے سینے کا سہارا لیے ہوئے تھے، کچھ سنا اور میں نے کان دھرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ» ”اے اللہ! مجھے معاف فرما اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے ساتھیوں سے ملا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6293]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2444
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2444 ترقیم شاملہ: -- 6294
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابواسامہ، عبداللہ بن نمیر اور عبدہ بن سلیمان، سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6294]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے، ہشام ہی کے واسطہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6294]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2444
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2444 ترقیم شاملہ: -- 6295
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ: مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سورة النساء آية 69، قَالَتْ: فَظَنَنْتُهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، فرمایا: میں سنا کرتی تھی کہ کوئی نبی فوت نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔ کہا: تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فرماتے ہوئے سنا۔ اس وقت آپ کی آواز بھاری ہو گئی تھی آپ فرما رہے تھے: ”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا: یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین (کے ساتھ) اور یہی بہترین رفیق ہیں۔“ کہا: تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6295]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں سنا کرتی تھی کہ کوئی نبی فوت نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کو دنیا و آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔“ انہوں نے کہا: تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فرماتے ہوئے سنا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھاری ہو گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا﴾ [سورة النساء: 69] ”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین (کے ساتھ) اور یہی بہترین رفیق ہیں۔“ فرماتی ہیں: تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دے دیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6295]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2444
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2444 ترقیم شاملہ: -- 6296
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
وکیع اور معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے سعد (بن ابراہیم) سے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6296]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6296]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2444
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2444 ترقیم شاملہ: -- 6297
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، في رجال من أهل العلم، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ: إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يُرَى مَقْعَدُهُ فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أَفَاقَ، فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ: إِذًا لَا يَخْتَارُنَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَعَرَفْتُ الْحَدِيثَ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ: " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَوْلَهُ: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى ".
ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے اہل علم لوگوں کی موجودگی میں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تندرستی کے زمانے میں فرمایا کرتے تھے: ”کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی یہاں تک کہ اسے جنت میں اپنا مقام دکھا دیا جاتا ہے، پھر اس کو اختیار دیا جاتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت آیا اور اس وقت آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ آپ پر کچھ دیر غشی طاری رہی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے چھت کی طرف نگاہیں اٹھائیں، پھر فرمایا: ”اے اللہ! رفیق اعلیٰ!“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (دل میں) کہا: اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اور میں نے وہ حدیث پہچان لی جو آپ ہم سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ وہ آپ کے اپنے الفاظ میں بالکل صحیح تھی: ”کسی نبی کو اس وقت تک کبھی موت نہیں آئی یہاں تک کہ اسے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے اور اسے (موت کو قبول کرنے یا مؤخر کرانے کا) اختیار دیا جاتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اے اللہ! رفیق اعلیٰ!“ وہ آخری بات تھی جو آپ نے کہی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6297]
امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے اہل علم لوگوں کی موجودگی میں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تندرستی کے زمانے میں فرمایا کرتے تھے: ”کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی، یہاں تک کہ اسے جنت میں اپنا مقام دکھا دیا جاتا ہے، پھر اس کو اختیار دیا جاتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت آیا اور اس وقت آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ آپ پر کچھ دیر غشی طاری رہی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے چھت کی طرف نگاہیں اٹھائیں، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ» ”اے اللہ! رفیقِ اعلیٰ!“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (دل میں) کہا: اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اور میں نے وہ حدیث پہچان لی جو آپ ہم سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ وہ آپ کے اپنے الفاظ میں بالکل صحیح تھی: ”کسی نبی کو اس وقت تک کبھی موت نہیں آئی یہاں تک کہ اسے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے اور اسے (موت کو قبول کرنے یا مؤخر کرانے کا) اختیار دیا جاتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری بول جو آپ کی زبان پر آیا، یہ تھا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ» ”اے اللہ! اوپر کا ساتھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6297]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2444
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2445 ترقیم شاملہ: -- 6298
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، فَخَرَجَتَا مَعَهُ جَمِيعًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ مَعَهَا، فَقَالَتْ: حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: أَلَا تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ، فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ، قَالَتْ: بَلَى، فَرَكِبَتْ عَائِشَةُ عَلَى بَعِيرِ حَفْصَةَ، وَرَكِبَتْ حَفْصَةُ عَلَى بَعِيرِ عَائِشَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ سَارَ مَعَهَا حَتَّى نَزَلُوا، فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَغَارَتْ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَهَا بَيْنَ الْإِذْخِرِ، وَتَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا، أَوْ حَيَّةً، تَلْدَغُنِي رَسُولُكَ وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا ".
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے نام قرعہ نکلا، وہ دونوں آپ کے ساتھ سفر پر نکلیں، جب رات کا وقت ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کرتے اور ان کے ساتھ باتیں کرتے تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آج رات تم میرے اونٹ پر کیوں نہیں سوار ہو جاتیں اور میں تمہارے اونٹ پر سوار ہو جاتی ہوں، پھر تم بھی دیکھو اور میں بھی دیکھتی ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں! پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کے پاس آئے تو اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا (سوار) تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور ان کے ساتھ چلتے رہے حتی کہ منزل پر اتر گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہیں پایا تو انہیں سخت رشک آیا، جب سب لوگ اترے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے پاؤں اذخر (کی گھاس) میں مار مار کر کہنے لگیں: یا رب! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے وہ تیرے رسول ہیں اور میں انہیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6298]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر نکلتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کے نام قرعہ نکلا، وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلیں، جب رات کا وقت ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کرتے اور ان کے ساتھ باتیں کرتے تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”آج رات تم میرے اونٹ پر کیوں نہیں سوار ہو جاتیں اور میں تمہارے اونٹ پر سوار ہو جاتی ہوں، پھر تم بھی دیکھو اور میں بھی دیکھتی ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”کیوں نہیں!“ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے پاس آئے تو اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا (سوار) تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور ان کے ساتھ چلتے رہے حتی کہ منزل پر اتر گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہیں پایا تو انھیں سخت رشک آیا، جب سب لوگ اترے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے پاؤں «الإِذْخِرِ» (کی گھاس) میں مار مار کر کہنے لگیں: «يَا رَبِّ» ”یا رب! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے، وہ تیرے رسول ہیں اور میں انھیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی۔“ (کیونکہ اونٹوں کا تبادلہ خود ہی کیا تھا) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6298]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2445
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں