🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا:
باب: ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2435 ترقیم شاملہ: -- 6279
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، إِلَى قِصَّةِ الشَّاةِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الزِّيَادَةَ بَعْدَهَا.
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ بکری (ذبح کرنے) کے قصے تک ابواسامہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ اس کے بعد کے زائد الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6279]
امام صاحب یہ روایت دو اساتذہ سے صرف بکری کے واقعہ تک بیان کرتے ہیں، بعد والا اضافہ بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6279]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2435
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2435 ترقیم شاملہ: -- 6280
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا غِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ لِكَثْرَةِ ذِكْرِهِ إِيَّاهَا وَمَا رَأَيْتُهَا قَطُّ ".
زہری نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، آپ کی کسی بیوی پر ایسا رشک نہیں ہوا جیسا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ ان کو بہت کثرت سے یاد کرتے تھے، حالانکہ میں نے انہیں کبھی دیکھا تک نہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6280]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کی کسی بیوی پر غیرت نہیں کھائی، جتنی غیرت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر دکھائی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بہت یاد کرتے تھے، حالانکہ میں نے انہیں دیکھا بھی نہیں تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6280]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2435
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2436 ترقیم شاملہ: -- 6281
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمْ يَتَزَوَّجْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَدِيجَةَ حَتَّى مَاتَتْ ".
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک اور شادی نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6281]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک کسی دوسری عورت سے شادی نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6281]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2436
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2437 ترقیم شاملہ: -- 6282
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفَ اسْتِئْذَانَ خَدِيجَةَ، فَارْتَاحَ لِذَلِكَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، فَغِرْتُ، فَقُلْتُ: وَمَا تَذْكُرُ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ، فَأَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا ".
علی بن مسہر نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت مانگنا یاد آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا: ”اے اللہ! ہالہ بنت خویلد۔“ مجھے رشک آیا تو میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا قریش کی بوڑھیوں میں سے سرخ مسوڑھوں والی ایک بڑھیا کو یاد کرتے ہیں (یعنی انتہا کی بڑھیا جس کے ایک دانت بھی نہ رہا ہو نری سرخی ہی سرخی ہو، دانت کی سفیدی بالکل نہ ہو) جو مدت گزری فوت ہو چکی اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بہتر عورت دی (جوان باکرہ جیسے میں ہوں)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6282]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت مانگنا یاد آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا: ” «اللَّهُمَّ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ» “ ”یا اللہ! ہالہ بنت خویلد۔“ مجھے رشک آیا تو میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا قریش کی بوڑھیوں میں سے سرخ مسوڑھوں والی ایک بڑھیا کو یاد کرتے ہیں (یعنی انتہا کی بڑھیا جس کے ایک دانت بھی نہ رہا ہو نری سرخی ہی سرخی ہو، دانت کی سفیدی بالکل نہ ہو) جو مدت گزری فوت ہو چکی اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بہتر عورت دی (جوان باکرہ جیسے میں ہوں)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6282]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2437
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا:
باب: ام المؤمنین سیدہ ‏عائشہ رضی اللہ عنہماکی ‌‌فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2438 ترقیم شاملہ: -- 6283
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ جَمِيعًا، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، جَاءَنِي بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، فَيَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَكْشِفُ عَنْ وَجْهِكِ، فَإِذَا أَنْتِ هِيَ فَأَقُولُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ".
حماد نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے تین راتوں تک خواب میں دکھائی دیتی رہی ہو، ایک فرشتہ ریشم کے ایک ٹکڑے پر تمہیں (تمہاری تصویر کو) لے کر میرے پاس آیا۔ وہ کہتا: یہ تمہاری بیوی ہے، میں تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹاتا تو وہ تم ہوتیں، میں کہتا: یہ (پیشکش) اگر اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کرے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6283]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے تین راتیں خواب میں دکھائی گئیں، تمھیں ایک فرشتہ ریشمی کپڑے میں لے کر آیا، وہ کہتا تھا: یہ تیری بیوی ہے، تو میں تیرے چہرے سے پردہ اٹھاتا، چنانچہ تو وہی ہے، سو میں کہتا: اگر یہ فیصلہ اللہ کی طرف سے ہے تو اسے نافذ فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6283]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2438 ترقیم شاملہ: -- 6284
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابن ادریس اور ابواسامہ نے ہشام سے، اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6284]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6284]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2439 ترقیم شاملہ: -- 6285
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى، قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَمِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ؟، قَالَ: أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى، قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ ".
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں جان لیتا ہوں جب تو مجھ سے خوش ہوتی ہے اور جب ناخوش ہوتی ہے۔“ میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو خوش ہوتی ہے تو کہتی ہے کہ نہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم، اور جب ناراض ہوتی ہے تو کہتی ہے کہ نہیں قسم ہے ابراہیم (علیہ السلام) کے رب کی۔“ میں نے عرض کیا کہ بیشک اللہ کی قسم یا رسول اللہ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے سوا اور کسی بات کو ترک نہیں کرتی (محبت، اطاعت، توجہ ہر لمحہ آپ ہی کی طرف رہتی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6285]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جان لیتا ہوں جب تو مجھ سے خوش ہوتی ہے اور جب ناخوش ہوتی ہے۔“ میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، «وَرَبِّ مُحَمَّدٍ» ”رب محمد کی قسم!“ اور جب تم ناراض ہوتی ہو، تو کہتی ہو: نہیں، «وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ» ”رب ابراہیم کی قسم!““ میں نے کہا: ٹھیک ہے، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6285]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2439
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2439 ترقیم شاملہ: -- 6286
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
عبدہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ”نہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم!“ تک روایت کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6286]
امام صاحب یہی روایت ایک دوسرے استاد سے «عَنْ إِبْرَاهِيمَ» تک بیان کرتے ہیں اور بعد والا حصہ بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6286]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2439
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2440 ترقیم شاملہ: -- 6287
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَكَانَتْ تَأْتِينِي صَوَاحِبِي، فَكُنَّ يَنْقَمِعْنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيّ ".
عبدالعزیز بن محمد نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلتی تھیں، کہا: اور میری سہیلیاں میرے پاس آتی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (آمد کی) وجہ سے (گھر کے کسی کونے میں) چھپ جاتی تھیں، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو (بلا کر) میری طرف بھیج دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6287]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گڑیوں سے کھیلتی تھیں اور میری سہیلیاں آتی تھیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی ہیبت و حیا) سے چھپ جاتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میرے پاس بھیج دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6287]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2440
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2440 ترقیم شاملہ: -- 6288
حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فِي بَيْتِهِ وَهُنَّ اللُّعَبُ.
ابواسامہ، جریر اور محمد بن بشر سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور جریر کی حدیث میں کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی اور وہ (ہمارے) کھلونے ہوتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6288]
امام صاحب تین اساتذہ کی تین سندوں سے، ہشام ہی کی سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، جریر کی حدیث ہے: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بچیوں سے یعنی گڑیوں سے کھیلتی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6288]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2440
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں