🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2428 ترقیم شاملہ: -- 6269
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي مُوَرِّقٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِنَا، قَالَ: فَتُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ، أَوْ بِالْحُسَيْنِ، قَالَ: فَحَمَلَ أَحَدَنَا بَيْنَ يَدَيْه وَالْآخَرَ خَلْفَهُ، حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ".
عبدالرحیم بن سلیمان نے عاصم سے روایت کی، کہا: مجھے مورق عجلی نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہمیں (آپ کی محبت میں) آگے لے جا کر آپ سے ملایا جاتا، کہا: مجھے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہم کو آپ کے پاس آگے لے جایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ایک کو اپنے آگے اور ایک کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، یہاں تک کہ ہم (اسی طرح) مدینہ میں داخل ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6269]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تھے تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملایا جاتا تھا، ایک دفعہ مجھے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو ملایا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ایک کو اپنے آگے بٹھا لیا اور دوسرے کو اپنے پیچھے حتیٰ کہ ہم مدینہ میں داخل ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6269]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2428
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2429 ترقیم شاملہ: -- 6270
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: " أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ ".
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حسن بن سعد نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا، پھر مجھے رازداری سے ایک بات بتائی جو میں لوگوں میں سے کسی بھی شخص کو نہیں سناؤں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6270]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا اور مجھے ایک راز کی بات بتائی، جو میں کسی انسان کو نہیں بتاؤں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6270]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2429
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا:
باب: ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2430 ترقیم شاملہ: -- 6271
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، ووكيع ، وأبو معاوية . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَاللَّفْظُ حَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا بِالْكُوفَةِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ "، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَأَشَارَ وَكِيعٌ إِلَى السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ابواسامہ، ابن نمیر، وکیع اور ابومعاویہ سے حدیث بیان کی۔ اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں عبدہ بن سلیمان نے خبر دی۔ ان سب نے ہشام بن عروہ سے روایت کی۔ الفاظ حدیث ابواسامہ کے ہیں۔ ہشام نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، میں نے کوفہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”(اپنے دور کی) تمام عورتوں میں سے بہترین مریم بنت عمران علیہ السلام ہیں اور (اس دور کی) تمام عورتوں میں سے بہترین حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں۔“ ابوکریب نے کہا: وکیع نے آسمان و زمین کی طرف اشارہ کر کے بتایا (کہ ان دونوں کے درمیان بہترین خواتین یہ ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6271]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں بتایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اپنے دور کی بہترین عورت مریم بنت عمران تھیں اور اپنے دور کی بہترین عورت خدیجہ بنت خویلد ہیں۔“ ابو کریب کہتے ہیں: وکیع نے آسمان اور زمین کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6271]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2430
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2431 ترقیم شاملہ: -- 6272
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا وَاللَّفْظُ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ غَيْرُ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ، وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ".
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے ہیں اور (لیکن) عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر اسی طرح ہے جس طرح ثرید کی باقی کھانوں پر۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6272]
امام صاحب مختلف اساتذہ سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں میں سے بہت سے لوگ باکمال ہوئے ہیں، لیکن عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا کوئی کمال کو نہیں پہنچی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو عورتوں پر اس طرح فضیلت حاصل ہے جیسے ثرید کو باقی کھانوں پر۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6272]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2431
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2432 ترقیم شاملہ: -- 6273
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ، أَوْ طَعَامٌ، أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ، وَلَمْ يَقُلْ فِي الْحَدِيثِ: وَمِنِّي.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں ابن فضیل نے عمارہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! یہ خدیجہ ہیں، آپ کے پاس آئی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن ہے یا کھانا ہے یا مشروب ہے، چنانچہ جب یہ آپ کے پاس آ جائیں تو انہیں ان کے رب عزوجل کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور انہیں جنت میں ایک گھر کی خوشخبری دیں جو (موتیوں کی) لمبی چھڑیوں کا بنا ہوا ہے، نہ اس میں کوئی شور ہے اور نہ تھکاوٹ کا گزر ہے۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں کہا: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔“ انہوں نے ”میں نے سنا“ (کا لفظ) نہیں کہا اور نہ ہی حدیث میں ”اور میری طرف سے“ (کا لفظ) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6273]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کی طرف آرہی ہیں، ان کے پاس برتن ہے جس میں سالن یا کھانا یا مشروب ہے، تو جب وہ آپ کے پاس پہنچ جائیں تو انہیں ان کے رب عزوجل اور میری طرف سے سلام کہہ دیجیے اور انہیں جنت میں ایسے گھر کی بشارت دیجیے جو خول دار موتیوں کا بنا ہوا ہے، جس میں نہ شور و شغب ہے اور نہ تھکان و مشقت۔“ ابوبکر کی روایت میں «مِنِّي» ”میری طرف سے“ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6273]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2432
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2433 ترقیم شاملہ: -- 6274
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى : " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ؟، قَالَ: نَعَمْ، بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ ".
عبداللہ بن نمیر اور محمد بن بشر عبدی نے اسماعیل سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں ایک گھر کی بشارت دی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ایسے گھر کی بشارت دی تھی جو (موتیوں کی) شاخوں سے بنا ہے، اس میں نہ شور و شغب ہوگا اور نہ تکان ہوگی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6274]
اسماعیل رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے عبداللہ بن ابی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں گھر کی بشارت دی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، ”آپ نے انہیں جنت میں خولدار موتیوں سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دی تھی، جس میں نہ شور و شغب ہو گا اور نہ مشقت و تھکان۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6274]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2433
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2433 ترقیم شاملہ: -- 6275
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَجَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ابومعاویہ، وکیع، معتمر بن سلیمان، جریر اور سفیان سب نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6275]
امام صاحب اپنے بہت سے اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6275]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2433
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2434 ترقیم شاملہ: -- 6276
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ ".
عبدہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد کو جنت میں ایک گھر کی بشارت دی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6276]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کو ”جنت میں گھر کی بشارت“ سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6276]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2434
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2435 ترقیم شاملہ: -- 6277
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ، مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ، لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُبَشِّرَهَا، بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِيهَا إِلَى خَلَائِلِهَا ".
ابواسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: مجھے کبھی کسی خاتون پر ایسا رشک نہیں آیا جیسا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آیا تھا، حالانکہ مجھ سے نکاح سے تین سال قبل وہ فوت ہو چکی تھیں، کیونکہ میں اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ذکر سنتی تھی، آپ کے رب عزوجل نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ ان کو جنت میں (موتیوں کی) شاخوں سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دیں۔ اور بے شک آپ بکری ذبح کرتے، پھر اس (کے پارچوں) کو ان کی سہیلیوں کی طرف بھیج دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6277]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے کبھی کسی خاتون پر ایسا رشک نہیں آتا تھا جیسا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھا، حالانکہ مجھ سے نکاح کرنے سے تین سال قبل وہ فوت ہو چکی تھیں، کیونکہ میں اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ذکر سنتی تھی، آپ کے رب عزوجل نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ ان کو جنت میں (موتیوں کی) شاخوں سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دیں۔ اور بے شک آپ بکری ذبح کرتے، پھر اس (کے پارچوں) کو ان کی سہیلیوں کی طرف بھیج دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6277]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2435
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2435 ترقیم شاملہ: -- 6278
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى خَدِيجَةَ، وَإِنِّي لَمْ أُدْرِكْهَا، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَبَحَ الشَّاةَ، فَيَقُولُ: أَرْسِلُوا بِهَا إِلَى أَصْدِقَاءِ خَدِيجَةَ، قَالَتْ: فَأَغْضَبْتُهُ يَوْمًا، فَقُلْتُ: خَدِيجَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي قَدْ رُزِقْتُ حُبَّهَا ".
حفص بن غیاث نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے مجھے کسی پر رشک نہیں آیا تھا، سوائے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے، حالانکہ میں نے ان کا زمانہ نہیں دیکھا تھا۔ کہا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تو فرماتے: ”اس کو خدیجہ کی سہیلیوں کی طرف بھیجو۔“ کہا: میں نے ایک دن آپ کو غصہ دلا دیا۔ میں نے کہا: خدیجہ؟ (آپ انہی کا نام لیتے رہتے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ان کی محبت عطا کی گئی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6278]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے مجھے کسی پر رشک نہیں آتا تھا سوائے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے، حالانکہ میں نے ان کا زمانہ نہیں دیکھا تھا۔ کہا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تو فرماتے: ”اس کو خدیجہ کی سہیلیوں کی طرف بھیجو۔“ کہا: میں نے ایک دن آپ کو غصہ دلا دیا۔ میں نے کہا: خدیجہ؟ (آپ انہی کا نام لیتے رہتے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ان کی محبت عطا کی گئی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6278]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2435
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں