صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2418 ترقیم شاملہ: -- 6249
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " أَبَوَاكَ وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ".
ابن نمیر اور عبدہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث بیان کی، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: اللہ کی قسم! تمہارے دو والد (والد زبیر اور نانا ابوبکر رضی اللہ عنہ) ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے (احد میں) زخم کھا لینے کے بعد (بھی) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر لبیک کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6249]
ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تیرے باپ نانا، اللہ کی قسم! ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [سورة آل عمران: 172] ”زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو مانا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6249]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2418
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2418 ترقیم شاملہ: -- 6250
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ تَعْنِي أَبَا بَكْرٍ، وَالزُّبَيْرَ.
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ مراد لے رہی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6250]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں یہ اضافہ ہے کہ «أَبَوَاكَ» سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد ابوبکر اور زبیر رضی اللہ عنہما تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6250]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2418
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2418 ترقیم شاملہ: -- 6251
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " كَانَ أَبَوَاكَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ".
بہی نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: ”تمہارے دونوں والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر لبیک کہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6251]
حضرت عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: تیرا باپ، نانا، ان لوگوں میں داخل تھے جنہوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے حکم کو قبول کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6251]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2418
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب فَضَائِلِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ:
باب: سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2419 ترقیم شاملہ: -- 6252
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے امت! ہمارے امین ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6252]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت میں ایک امین ہے اور ہمارا امین، اے امت! ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6252]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2419
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2419 ترقیم شاملہ: -- 6253
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمْنَا السُّنَّةَ وَالْإِسْلَامَ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ، فَقَالَ: هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یمن کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے کہا: ہمارے ساتھ ایک شخص بھیجیے جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”یہ اس امت کے امین ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6253]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل یمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ہمارے ساتھ کوئی آدمی بھیجیے جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”یہ اس امت کا امین ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6253]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2419
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2420 ترقیم شاملہ: -- 6254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا، فَقَالَ: لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ، قَالَ: فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ، قَالَ: فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ".
شعبہ نے کہا: میں نے ابواسحاق کو صلہ بن زفر سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اہل نجران آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک امین شخص بھیجیے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہارے پاس ایسا شخص بھیجوں گا جو اس طرح امین ہے جیسے امین ہونے کا حق ہے۔“ لوگوں نے اس بات پر اپنی نگاہیں اٹھائیں (کہ اس کا مصداق کون ہے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو روانہ فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6254]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اہل نجران آئے اور کہنے لگے: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس ایک امین شخص بھیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے پاس ایسا شخص بھیجوں گا جو ایسا امین ہے جس طرح امین ہونے کا حق ہے۔“ لوگوں نے اس بات پر اپنی نگاہیں اٹھائیں (کہ اس کا مصداق کون ہے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6254]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2420
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2420 ترقیم شاملہ: -- 6255
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سفیان نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6255]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی حدیث نقل کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6255]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2420
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
8. باب فَضَائِلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2421 ترقیم شاملہ: -- 6256
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِحَسَنٍ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ، فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ ".
احمد بن حنبل نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عبیداللہ بن ابی یزید نے نافع بن جبیر سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو (بھی) اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے، اس سے (بھی) محبت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6256]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو اس سے اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2421 ترقیم شاملہ: -- 6257
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنَ النَّهَارِ، لَا يُكَلِّمُنِي وَلَا أُكَلِّمُهُ، حَتَّى جَاءَ سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ، ثُمَّ انْصَرَفَ حَتَّى أَتَى خِبَاءَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ: أَثَمَّ لُكَعُ، أَثَمَّ لُكَعُ يَعْنِي حَسَنًا، فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا تَحْبِسُهُ أُمُّهُ، لِأَنْ تُغَسِّلَهُ وَتُلْبِسَهُ سِخَابًا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَسْعَى، حَتَّى اعْتَنَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ ".
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے عبیداللہ بن ابی یزید سے، انہوں نے نافع بن جبیر بن معطم سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دن کے ایک وقت میں نکلا، کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بات کرتے تھے اور نہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتا تھا (یعنی خاموش چلے جاتے تھے) یہاں تک کہ بنی قینقاع کے بازار میں پہنچے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے گھر پر آئے اور پوچھا کہ بچہ ہے؟ بچہ ہے؟ یعنی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا پوچھ رہے تھے۔ ہم سمجھے کہ ان کی ماں نے ان کو روک رکھا ہے نہلانے دھلانے اور خوشبو کا ہار پہنانے کے لیے، لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہ دوڑتے ہوئے آئے اور دونوں ایک دوسرے سے گلے ملے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور اس شخص سے محبت کر جو اس سے محبت کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6257]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دن کو ایک وقت میں نکلا، کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بات کرتے تھے اور نہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتا تھا (یعنی خاموش چلے جاتے تھے) یہاں تک کہ بنی قینقاع کے بازار میں پہنچے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر آئے اور پوچھا: ”بچہ ہے؟ بچہ ہے؟“ یعنی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا پوچھ رہے تھے۔ ہم سمجھے کہ ان کی ماں نے ان کو روک رکھا ہے نہلانے دھلانے اور خوشبو کا ہار پہنانے کے لیے، لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہ دوڑتے ہوئے آئے اور دونوں ایک دوسرے سے گلے ملے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور اس شخص سے محبت کر جو اس سے محبت کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6257]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2422 ترقیم شاملہ: -- 6258
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ ".
عبیداللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر دیکھا، اور آپ فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6258]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر بیٹھے دیکھا اور آپ فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6258]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2422
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة