صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب فَضَائِلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2422 ترقیم شاملہ: -- 6259
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ ".
(محمد بن جعفر) غندر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا رکھا تھا اور فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6259]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے کندھے پر بٹھائے ہوئے، فرما رہے ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6259]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2422
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2423 ترقیم شاملہ: -- 6260
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيُّ الْيَمَامِيُّ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِيَاسٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " لَقَدْ قُدْتُ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، بَغْلَتَهُ الشَّهْبَاءَ، حَتَّى أَدْخَلْتُهُمْ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَذَا قُدَّامَهُ، وَهَذَا خَلْفَهُ ".
ہمیں ایاس نے اپنے والد سے حدیث سنائی، کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو آپ کے سفید خچر پر بٹھا کر اس کی باگ پکڑ کر چلا، یہاں تک کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں لے گیا۔ یہ (ایک بچہ) آپ کے آگے بیٹھ گیا اور وہ (دوسرا بچہ) آپ کے پیچھے بیٹھ گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6260]
حضرت ایاس رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر بٹھا کر آگے سے پکڑ کر چلا ہوں، یہاں تک کہ میں نے ان سب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے میں داخل کیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تھے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6260]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2423
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
9. باب فَضَائِلِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: اہل بیت کے فضائل۔
ترقیم عبدالباقی: 2424 ترقیم شاملہ: -- 6261
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً، وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ".
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں۔ اتنے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا۔ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا۔ پھر سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی شامل کر کے فرمایا: «إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا» ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرے اور تم کو پاک کرے اے گھر والو۔“ (الاحزاب: 33)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6261]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں، اتنے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا، پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی شامل کر کے فرمایا: ” ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33] “ ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرے اور تم کو پاک کرے اے گھر والو۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6261]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2424
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
10. باب فَضَائِلِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: سیدنا زید بن حارثہ اور سیدنا اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2425 ترقیم شاملہ: -- 6262
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " مَا كُنَّا نَدْعُ وَزَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَتَّى نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 "، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الدُّوَيْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ،
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن عبداللہ (بن عمر) سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ کہا کرتے تھے: ہم زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی نام سے نہیں پکارتے تھے، یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی: «ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ» ”ان (متنبیٰ) کو ان کے اپنے باپوں کی نسبت سے پکارو، اللہ کے نزدیک یہی زیادہ انصاف کی بات ہے۔“ (اس کتاب کے ایک راوی) شیخ ابواحمد محمد بن عیسیٰ (نیشاپوری) نے کہا: ہمیں ابوعباس سراج اور محمد بن عبداللہ بن یوسف دویری نے بیان کیا، کہا: ہمیں بھی (امام مسلم رحمہ اللہ کے استاد) قتیبہ بن سعید نے یہ حدیث بیان کی (یعنی اس کتاب کے راوی نے یہ حدیث امام مسلم کے علاوہ قتیبہ سے ان کے دو اور شاگردوں کے حوالے سے بھی سنی۔) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6262]
حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے، ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے نام سے پکارا کرتے تھے، حتیٰ کہ قرآن مجید کی یہ آیت اتری: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ”ان کو ان کے باپوں کے نام سے پکارو، اللہ کے ہاں یہی قرین انصاف ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6262]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2425
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2425 ترقیم شاملہ: -- 6263
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ.
وہیب نے کہا: موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے سالم نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6263]
امام صاحب رحمہ اللہ کے ایک اور اُستاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6263]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2425
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2426 ترقیم شاملہ: -- 6264
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمْرَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمْرَتِهِ، فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ، مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمْرَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ ".
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر فرمایا۔ کچھ لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تم نے اگر اس (اسامہ رضی اللہ عنہ) کی امارت پر اعتراض کیا ہے تو اس سے پہلے اس کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! وہ بھی امارت کا اہل تھا اور بلاشبہ میرے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور اس کے بعد بلاشبہ یہ (بھی) میرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6264]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر فرمایا۔ کچھ لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اگر تم نے اس (اسامہ رضی اللہ عنہ) کی امارت پر اعتراض کیا ہے تو اس سے پہلے اس کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! وہ بھی امارت کا اہل تھا اور بلاشبہ وہ میرے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور اس کے بعد بلاشبہ یہ میرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6264]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2426
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2426 ترقیم شاملہ: -- 6265
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لَهَا، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهَا لَخَلِيقٌ، يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَيَّ مِنْ بَعْدِهِ، فَأُوصِيكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُمْ ".
سالم نے اپنے والد (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور (اس وقت) آپ منبر پر تھے: ”اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے ہو (آپ کی مراد حضرت اسامہ بن زید سے تھی) تو اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر (بھی) اعتراض کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم! وہ امارت کا اہل تھا اور مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اس کے بعد یہ بھی مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ میں تمہیں اس کے ساتھ ہر طرح کی اچھائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارے نیک ترین لوگوں میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6265]
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے باپ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا: ”اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے ہو (آپ کی مراد حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے تھی) تو اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر (بھی) اعتراض کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد یہ بھی مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ میں تمہیں اس کے ساتھ ہر طرح کی اچھائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارے نیک ترین لوگوں میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6265]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2426
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
11. باب فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2427 ترقیم شاملہ: -- 6266
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ لِابْنِ الزُّبَيْرِ : " أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا، وَأَنْتَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ ".
اسماعیل بن علیہ نے حبیب بن شہید سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: تمہیں یاد ہے جب ہم، میں، تم اور ابن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، (کہا:) تو آپ نے ہمیں سوار کر لیا تھا اور (جگہ نہ ہونے کی بنا پر) تمہیں چھوڑ دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6266]
عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا: تمہیں یاد ہے جب میں نے، تم نے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا؟ انہوں نے کہا: ہاں، (ابن جعفر کہتے ہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سوار کر لیا اور تمہیں چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6266]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2427
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2427 ترقیم شاملہ: -- 6267
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَإِسْنَادِهِ.
ابواسامہ نے حبیب بن شہید سے ابن علیہ کی حدیث کے مانند اور اسی کی سند سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6267]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6267]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2427
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2428 ترقیم شاملہ: -- 6268
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهِ، قَالَ: وَإِنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ، فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ، قَالَ: فَأُدْخِلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ ".
ابومعاویہ نے عاصم احول سے، انہوں نے مورق عجلی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے آتے تو آپ کے گھر کے بچوں کو (باہر لے جا کر) آپ سے ملایا جاتا، ایک بار آپ سفر سے آئے، مجھے سب سے پہلے آپ کے پاس پہنچا دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا دیا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ایک صاحبزادے کو لایا گیا تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے بٹھا لیا۔ کہا: تو ہم تینوں کو ایک سواری پر مدینہ کے اندر لایا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6268]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے آتے تو آپ کے گھر کے بچوں کو (باہر لے جا کر) آپ سے ملایا جاتا، ایک بار آپ سفر سے آئے، مجھے سب سے پہلے آپ کے پاس پہنچا دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ایک صاحبزادے کو لایا گیا تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ انہوں نے کہا: تو ہم تینوں کو ایک سواری پر مدینہ کے اندر لایا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6268]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2428
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة