🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2493 ترقیم شاملہ: -- 6399
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ، جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، عروہ بن زبیر نے انہیں حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (ایسا کرتے ہوئے) اچھے نہیں لگتے کہ وہ آئے میرے حجرے کے ساتھ بیٹھ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرنے لگے وہ مجھے (یہ) احادیث سنا رہے تھے۔ میں نفل پڑھ رہی تھی تو وہ میرے نوافل ختم کرنے سے پہلے اٹھ گئے۔ اگر میں (نوافل ختم کرنے کے بعد) انہیں موجود پاتی تو میں ان کو جواب میں یہ کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی طرح تسلسل سے ایک کے بعد دوسری بات ارشاد نہیں فرماتے تھے۔ ابن شہاب نے بیان کیا: حضرت سعید بن مسیب نے روایت کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت احادیث بیان کرتے ہیں اور پیشی اللہ کے سامنے ہونی ہے، نیز وہ کہتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ مہاجرین اور انصار ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح احادیث بیان نہیں کرتے؟ میں تم کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میرے انصاری بھائیوں کو ان کی زمینوں کا کام مشغول رکھتا تھا اور میرے مہاجر بھائیوں کو بازار کی خرید و فروخت مصروف رکھتی تھی اور میں پیٹ بھرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لگا رہتا تھا، جب دوسرے لوگ غائب ہوتے تو میں حاضر رہتا تھا اور جن باتوں کو وہ بھول جاتے تھے میں ان کو یاد رکھتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص اپنا کپڑا بچھائے گا تاکہ میری یہ بات (حدیث) سنے پھر اس (کپڑے) کو اپنے سینے سے لگا لے تو اس نے جو کچھ سنا ہو گا اس میں سے کوئی چیز نہیں بھولے گا۔“ میں نے ایک چادر جو میرے کندھوں پر تھی پھیلا دی یہاں تک کہ آپ اپنی بات سے فارغ ہوئے تو میں نے اس چادر کو اپنے سینے کے ساتھ اکٹھا کر لیا تو اس دن کے بعد کبھی کوئی ایسی چیز نہیں بھولا جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی۔ اگر دو آیتیں نہ ہوتیں، جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہیں تو میں کبھی کوئی چیز بیان نہ کرتا (وہ آیتیں یہ ہیں) ”وہ لوگ جو ہماری اتاری ہوئی کھلی باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں۔۔۔“ دونوں آیتوں کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6399]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (ایسا کرتے ہوئے) اچھے نہیں لگتے کہ وہ آئے، میرے حجرے کے ساتھ بیٹھ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرنے لگے، وہ مجھے (یہ) احادیث سنا رہے تھے۔ میں نفل پڑھ رہی تھی تو وہ میرے نوافل ختم کرنے سے پہلے اٹھ گئے۔ اگر میں (نوافل ختم کرنے کے بعد) انہیں موجود پاتی تو میں ان کو جواب میں یہ کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی طرح تسلسل سے ایک کے بعد دوسری بات ارشاد نہیں فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6399]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2493
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2492 ترقیم شاملہ: -- 6400
(حديث مرفوع) قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: يَقُولُونَ: " إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدْ أَكْثَرَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ، وَيَقُولُونَ: مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ لَا يَتَحَدَّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، إِنَّ إِخْوَانِي مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَرَضِيهِمْ، وَإِنَّ إِخْوَانِي مِنْ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، وَكُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا، وَلَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: أَيُّكُمْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ فَيَأْخُذُ مِنْ حَدِيثِي هَذَا، ثُمَّ يَجْمَعُهُ إِلَى صَدْرِهِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْسَ شَيْئًا سَمِعَهُ، فَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَدِيثِهِ، ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي، فَمَا نَسِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ، وَلَوْلَا آيَتَانِ أَنْزَلَهُمَا اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مَا حَدَّثْتُ شَيْئًا أَبَدًا: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى سورة البقرة آية 159، إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ ". وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّكُمْ تَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
شعیب نے زہری سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ یہ کہتے ہو کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت احادیث بیان کرتا ہے۔ آگے ان کی حدیث کی طرح (بیان کیا)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6400]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، تم کہتے ہو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت احادیث بیان کرتا ہے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6400]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2492
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. باب مِنْ فَضَائِلِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ وَأَهْلِ بَدْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ:
باب: حاطب بن ابی بلتعہ اور اہل بدر کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2494 ترقیم شاملہ: -- 6401
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، وَهُوَ كَاتِبُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ، وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ: ائْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً، مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا، فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا، فَإِذَا نَحْنُ بِالْمَرْأَةِ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَقُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَاطِبُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ، قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ حَلِيفًا لَهُمْ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا أَكَانَ مِمَّنْ كَانَ مَعَكَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ، أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي، وَلَمْ أَفْعَلْهُ كُفْرًا، وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي، وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ سورة الممتحنة آية 1، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ، وَزُهَيْرٍ ذِكْرُ الْآيَةِ، وَجَعَلَهَا إِسْحَاقُ، فِي رِوَايَتِهِ مِنْ تِلَاوَةِ سُفْيَانَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ عمرو کے ہیں۔ اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی، دوسروں نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حسن بن محمد سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے، خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کہ ہمیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو روضہ خاخ مقام پر بھیجا اور فرمایا: ”جاؤ اور وہاں تمہیں ایک عورت اونٹ پر سوار ملے گی، اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے کر آؤ۔“ ہم گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے، اچانک وہ عورت ہمیں ملی تو ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ وہ بولی کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے کہا کہ خط نکال یا اپنے کپڑے اتار۔ پس اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا۔ ہم وہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے، اس میں لکھا تھا حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے بعض مشرکین کے نام (اور اس میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں کا ذکر تھا (ایک روایت میں ہے کہ حاطب نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاری اور فوج کی آمادگی اور مکہ کی روانگی سے کافروں کو مطلع کیا تھا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حاطب! تو نے یہ کیا کیا؟“ وہ بولے کہ یا رسول اللہ! آپ جلدی نہ فرمائیے۔ میں قریش سے ملا ہوا ایک شخص تھا یعنی ان کا حلیف تھا اور قریش میں سے نہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجرین جو ہیں ان کے رشتہ دار قریش میں بہت ہیں جن کی وجہ سے ان کے گھربار کا بچاؤ ہوتا ہے تو میں نے یہ چاہا کہ میرا ناتا تو قریش سے نہیں ہے، میں بھی ان کا کوئی کام ایسا کر دوں جس سے میرے اہل و عیال والوں کا بچاؤ کریں گے اور میں نے یہ کام اس وجہ سے نہیں کیا کہ میں کافر ہو گیا ہوں یا مرتد ہو گیا ہوں اور نہ مسلمان ہونے کے بعد کفر سے خوش ہو کر کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حاطب نے سچ کہا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ چھوڑئیے میں اس منافق کی گردن ماروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بدر کی لڑائی میں شریک تھا اور تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے بدر والوں کو جھانکا اور فرمایا کہ تم جو اعمال چاہو کرو (بشرطیکہ کفر تک نہ پہنچیں) میں نے تمہیں بخش دیا۔“ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ ”اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ“۔ (سورۃ: الممتحنہ: 1) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6401]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو روضہ خاخ مقام پر بھیجا اور فرمایا: ”جاؤ اور وہاں تمہیں ایک عورت اونٹ پر سوار ملے گی، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ اس سے لے کر آؤ۔“ ہم گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے، اچانک وہ عورت ہمیں ملی تو ہم نے اس سے کہا: ”خط نکال۔“ وہ بولی: ”میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔“ ہم نے کہا: ”خط نکال یا اپنے کپڑے اتار۔“ پس اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا۔ ہم وہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے، اس میں لکھا تھا: حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے بعض مشرکین کے نام (اور اس میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں کا ذکر تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حاطب! تو نے یہ کیا کیا؟“ وہ بولے: ”یا رسول اللہ! آپ جلدی نہ فرمائیے، میں قریش سے ملا ہوا ایک شخص تھا یعنی ان کا حلیف تھا اور قریش میں سے نہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجرین جو ہیں ان کے رشتہ دار قریش میں بہت ہیں جن کی وجہ سے ان کے گھر بار کا بچاؤ ہوتا ہے، تو میں نے یہ چاہا کہ میرا ناتا تو قریش سے نہیں ہے، میں بھی ان کا کوئی کام ایسا کر دوں جس سے وہ میرے اہل و عیال کا بچاؤ کریں، اور میں نے یہ کام اس وجہ سے نہیں کیا کہ میں کافر ہو گیا ہوں یا مرتد ہو گیا ہوں اور نہ مسلمان ہونے کے بعد کفر سے خوش ہو کر کیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حاطب نے سچ کہا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ چھوڑیے، میں اس منافق کی گردن ماروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ”وہ بدر میں شریک ہو چکا ہے، تمہیں کیا معلوم، شاید کہ اللہ اہل بدر کے حالات سے آگاہ ہے اور فرمایا ہے: جو چاہو کرو، میں تمہیں معاف کر چکا ہوں۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ﴾ [سورة الممتحنة: 1] ۔ ابوبکر اور زہیر کی حدیث میں آیت کا ذکر نہیں ہے اور اسحاق نے اپنی روایت میں اس کو سفیان کی تلاوت قرار دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6401]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2494
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2494 ترقیم شاملہ: -- 6402
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، كُلُّهُمْ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَكُلُّنَا فَارِسٌ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَعَهَا كِتَابٌ مِنْ حَاطِبٍ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ.
ابوعبدالرحمان سلمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، حضرت ابومرثد غنوی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا، ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے، آپ نے فرمایا: ”تم خاخ کے باغ کی طرف روانہ ہو جاؤ، وہاں ایک مشرک عورت ہو گی، اس کے پاس مشرکین کے نام حاطب کا ایک خط ہو گا۔“ آگے عبیداللہ بن ابی رافع کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6402]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، ابو مرثد غنوی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور ہم سب گھڑ سوار تھے اور فرمایا: ”روانہ ہو جاؤ، حتیٰ کہ روضہ خاخ نامی جگہ پر پہنچ جاؤ کیونکہ وہاں ایک مشرکہ عورت ہے، جس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا مشرکین کی طرف خط ہے“، آگے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6402]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2494
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2495 ترقیم شاملہ: -- 6403
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَبْتَ، لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا، وَالْحُدَيْبِيَةَ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کی (کسی بات کی) شکایت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور دوزخ میں جائے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جھوٹ کہتے ہو۔ وہ دوزخ میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6403]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا غلام شکایت کرتے ہوئے آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حاطب ضرور آگ میں داخل ہو گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جھوٹ کہتے ہو، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6403]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2495
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. باب مِنْ فَضَائِلِ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَهْلِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ:
باب: شجرۃ رضوان کے تلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والوں کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2496 ترقیم شاملہ: -- 6404
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عِنْدَ حَفْصَةَ: " لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا، قَالَتْ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَانْتَهَرَهَا، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا سورة مريم آية 72 ".
ابوزبیر نے خبر دی، کہا: انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھے ام مبشر رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان شاء اللہ اصحاب شجرہ (درخت والوں) میں سے کوئی ایک بھی جس نے اس کے نیچے بیعت کی تھی جہنم میں داخل نہ ہو گا۔“ وہ (حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا) کہنے لگیں: اللہ کے رسول! کیوں نہیں! (داخل تو ہوں گے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھڑک دیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آیت پڑھی: ”تم میں سے کوئی نہیں مگر اس پر وارد ہونے والا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے بعد) اللہ تعالیٰ نے یہ (بھی) فرمایا ہے: پھر ہم تقویٰ اختیار کرنے والوں کو (جہنم میں گرنے سے) بچا لیں گے اور ظالموں کو اسی میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے دیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6404]
حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں یہ فرماتے ہوئے سنا: ” «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» اصحابِ شجرہ (درخت والوں) میں سے کوئی ایک بھی جس نے اس کے نیچے بیعت کی تھی جہنم میں داخل نہ ہو گا۔“ وہ (حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا) کہنے لگیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں نہیں! (داخل تو ہوں گے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھڑک دیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آیت پڑھی: ﴿وَإِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا﴾ [سورة مريم: 71] ”تم میں سے کوئی نہیں مگر اس پر وارد ہونے والا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے بعد) اللہ تعالیٰ نے یہ (بھی) فرمایا ہے: ﴿ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا﴾ [سورة مريم: 72] ”پھر ہم تقویٰ اختیار کرنے والوں کو (جہنم میں گرنے سے) بچا لیں گے اور ظالموں کو اسی میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے دیں گے۔“” [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6404]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2496
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. باب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي مُوسَى وَأَبِي عَامِرٍ الأَشْعَرِيَّيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: ابوموسیٰ اور ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2497 ترقیم شاملہ: -- 6405
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: أَلَا تُنْجِزُ لِي يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْشِرْ، فَقَالَ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ: أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ أَبْشِرْ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي مُوسَى، وَبِلَالٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَى فَاقْبَلَا أَنْتُمَا، فَقَالَا: قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا، وَأَبْشِرَا، فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلَا مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَتْهُمَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ، أَفْضِلَا لِأُمِّكُمَا مِمَّا فِي إِنَائِكُمَا فَأَفْضَلَا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً ".
ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان جعرانہ میں پڑاؤ کیا ہوا تھا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدو شخص آیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہیں کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ۔“ (میں نے وعدہ کیا ہے تو پورا کروں گا۔) اس بدو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ مجھ سے بہت دفعہ ”خوش ہو جاؤ۔“ کہہ چکے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے جیسی کیفیت میں ابوموسیٰ اور بلال رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اس شخص نے میری بشارت کو مسترد کر دیا ہے، اب تم دونوں میری بشارت کو قبول کر لو۔“ ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے قبول کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، آپ نے اس پیالے میں اپنے ہاتھ اور اپنا چہرہ دھویا اور اس میں اپنے دہن مبارک کا پانی ڈالا، پھر فرمایا: ”تم دونوں اسے پی لو اور اس کو اپنے اپنے چہرے اور سینے پر مل لو اور خوش ہو جاؤ۔“ ان دونوں نے پیالہ لے لیا اور جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا اسی طرح کیا، تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے ان کو آواز دے کر کہا: جو تمہارے برتن میں ہے اس میں سے کچھ اپنی ماں کے لیے بھی بچا لو، تو انہوں نے اس میں سے کچھ ان کے لیے بھی بچا لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6405]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان جعرانہ میں پڑاؤ کیا ہوا تھا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدو شخص آیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہیں کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ۔“ (میں نے وعدہ کیا ہے تو پورا کروں گا۔) اس بدو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ مجھ سے بہت دفعہ خوش ہو جاؤ کہہ چکے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے جیسی کیفیت میں ابوموسیٰ اور بلال رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اس شخص نے میری بشارت کو مسترد کر دیا ہے، اب تم دونوں میری بشارت کو قبول کر لو۔“ ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے قبول کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، آپ نے اس پیالے میں اپنے ہاتھ اور اپنا چہرہ دھویا اور اس میں اپنے دہن مبارک کا پانی ڈالا، پھر فرمایا: ”تم دونوں اسے پی لو اور اس کو اپنے اپنے چہرے اور سینے پر مل لو اور خوش ہو جاؤ۔“ ان دونوں نے پیالہ لے لیا اور جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا اسی طرح کیا، تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے ان کو آواز دے کر کہا: جو تمہارے برتن میں ہے اس میں سے کچھ اپنی ماں کے لیے بھی بچا لو، تو انہوں نے اس میں سے کچھ ان کے لیے بھی بچا لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6405]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2497
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2498 ترقیم شاملہ: -- 6406
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ، فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ، فَقُتِلَ دُرَيْدٌ، وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ، قَالَ: فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي جُشَمٍ بِسَهْمٍ، فَأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ يَا عَمِّ: مَنْ رَمَاكَ؟ فَأَشَارَ أَبُو عَامِرٍ، إِلَى أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: إِنَّ ذَاكَ قَاتِلِي تَرَاهُ ذَلِكَ الَّذِي رَمَانِي، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَقَصَدْتُ لَهُ فَاعْتَمَدْتُهُ فَلَحِقْتُهُ، فَلَمَّا رَآنِي وَلَّى عَنِّي ذَاهِبًا فَاتَّبَعْتُهُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ أَلَا تَسْتَحْيِي، أَلَسْتَ عَرَبِيًّا أَلَا تَثْبُتُ فَكَفَّ، فَالْتَقَيْتُ أَنَا وَهُوَ فَاخْتَلَفْنَا أَنَا وَهُوَ ضَرْبَتَيْنِ، فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَبِي عَامِرٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَتَلَ صَاحِبَكَ، قَالَ: فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ فَنَزَعْتُهُ، فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي: انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ، يَقُولُ لَكَ أَبُو عَامِرٍ: اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وَاسْتَعْمَلَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَى النَّاسِ، وَمَكَثَ يَسِيرًا، ثُمَّ إِنَّهُ مَاتَ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي بَيْتٍ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ، وَقَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَنْبَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ، وَقُلْتُ لَهُ: قَالَ: قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ، حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ أَوْ مِنَ النَّاسِ، فَقُلْتُ: وَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاسْتَغْفِرْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ، وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا كَرِيمًا، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: إِحَدَاهُمَا لِأَبِي عَامِرٍ، وَالْأُخْرَى لِأَبِي مُوسَى.
برید نے ابوبردہ سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کی لڑائی سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کو لشکر دے کر اوطاس پر بھیجا، تو ان کا مقابلہ درید بن الصمہ سے ہوا۔ پس درید بن الصمہ قتل کر دیا گیا اور اس کے ساتھ والوں کو اللہ تعالیٰ نے شکست سے ہمکنار کر دیا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا تھا۔ پھر بنی جشم کے ایک شخص کا ایک تیر سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کو گھٹنے میں لگا اور وہ ان کے گھٹنے میں جم گیا۔ میں ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ اے چچا! تمہیں یہ تیر کس نے مارا؟ انہوں نے کہا کہ اس شخص نے مجھے قتل کیا اور اسی شخص نے مجھے تیر مارا ہے۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اس شخص کا پیچھا کیا اور اس سے جا ملا۔ اس نے جب مجھے دیکھا تو پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ میں اس کے پیچھے ہوا اور میں نے کہنا شروع کیا کہ اے بے حیا! کیا تو عرب نہیں ہے؟ ٹھہرتا نہیں ہے؟ پس وہ رک گیا۔ پھر میرا اس کا مقابلہ ہوا، اس نے بھی وار کیا اور میں نے بھی وار کیا، آخر میں نے اس کو تلوار سے مار ڈالا۔ پھر لوٹ کر ابوعامر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ اللہ نے تمہارے قاتل کو قتل کروا دیا۔ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب یہ تیر نکال لے، میں نے اس کو نکالا تو تیر کی جگہ سے پانی نکلا (خون نہ نکلا، شاید وہ تیر زہر آلود تھا)۔ ابوعامر نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر میری طرف سے سلام کہہ اور یہ کہنا کہ ابوعامر کی بخشش کی دعا کیجیے۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے مجھے لوگوں کا سردار کر دیا اور وہ تھوڑی دیر زندہ رہے، پھر فوت ہو گئے۔ جب میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کوٹھڑی میں بان کے ایک پلنگ پر تھے جس پر فرش تھا اور بان کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ اور پہلوؤں پر بن گیا تھا۔ میں نے کہا کہ ابوعامر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی تھی کہ میرے لیے دعا کیجیے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: ”اے اللہ! عبید ابوعامر کو بخش دے“ (عبید بن سلیم ان کا نام تھا) یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ پھر فرمایا: ”اے اللہ! ابوعامر کو قیامت کے دن بہت سے لوگوں کا سردار کرنا۔“ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور میرے لیے بھی بخشش کی دعا فرمائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! عبداللہ بن قیس کے گناہ بھی بخش دے اور قیامت کے دن اس کو عزت کے مکان میں لے جا۔“ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک دعا ابوعامر کے لیے کی اور ایک دعا ابوموسیٰ کے لیے کی۔ رضی اللہ عنہما۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6406]
حضرت ابوبردہ رحمہ اللہ اپنے باپ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کی لڑائی سے فارغ ہوئے تو حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ کو لشکر دے کر اوطاس پر بھیجا تو ان کا مقابلہ درید بن الصمہ سے ہوا۔ پس درید بن الصمہ قتل کر دیا گیا اور اس کے ساتھ والوں کو اللہ تعالیٰ نے شکست سے ہمکنار کر دیا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا تھا۔ پھر بنی جشم کے ایک شخص کا ایک تیر حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ کو گھٹنے میں لگا اور وہ ان کے گھٹنے میں جم گیا۔ میں ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ اے چچا! تمہیں یہ تیر کس نے مارا؟ انہوں نے کہا کہ اس شخص نے مجھے قتل کیا اور اسی شخص نے مجھے تیر مارا ہے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اس شخص کا پیچھا کیا اور اس سے جا ملا۔ اس نے جب مجھے دیکھا تو پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ میں اس کے پیچھے ہوا اور میں نے کہنا شروع کیا کہ اے بے حیا! کیا تو عرب نہیں ہے؟ ٹھہرتا نہیں ہے؟ پس وہ رک گیا۔ پھر میرا اس کا مقابلہ ہوا، اس نے بھی وار کیا اور میں نے بھی وار کیا، آخر میں نے اس کو تلوار سے مار ڈالا۔ پھر لوٹ کر حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ اللہ نے تمہارے قاتل کو قتل کروا دیا۔ حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب یہ تیر نکال لے، میں نے اس کو نکالا تو تیر کی جگہ سے پانی نکلا (خون نہ نکلا شاید وہ تیر زہر آلود تھا)۔ حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر میری طرف سے سلام کہہ اور یہ کہنا کہ ابوعامر کی بخشش کی دعا کیجیے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے مجھے لوگوں کا سردار کر دیا اور وہ تھوڑی دیر زندہ رہے، پھر فوت ہو گئے۔ جب میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کوٹھڑی میں بان کے ایک پلنگ پر تھے جس پر فرش تھا اور بان کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ اور پہلوؤں پر بن گیا تھا۔ میں نے کہا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی تھی کہ میرے لیے دعا کیجیے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ» ”اے اللہ! عبید ابوعامر کو بخش دے“”(عبید بن سلیم ان کا نام تھا) یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ پھر فرمایا: ” «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ» ”اے اللہ! ابوعامر کو قیامت کے دن بہت سے لوگوں کا سردار کرنا“”۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اور میرے لیے بھی بخشش کی دعا فرمائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ، وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا كَرِيمًا» ”اے اللہ! عبداللہ بن قیس کے گناہ بھی بخش دے اور قیامت کے دن اس کو عزت کے مکان میں لے جا“”۔ ابوبردہ رحمہ اللہ نے کہا کہ ایک دعا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے لیے کی اور ایک دعا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے لیے کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6406]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2498
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. باب مِنْ فَضَائِلِ الأَشْعَرِيِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ:
باب: اشعری لوگوں کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2499 ترقیم شاملہ: -- 6407
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الْأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ، وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ، أَوَ قَالَ الْعَدُوَّ، قَالَ لَهُمْ: إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ ".
ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اشعری رفقا جب رات کے وقت گھروں میں داخل ہوتے ہیں تو میں ان کے قرآن مجید پڑھنے کی آواز کو پہچان لیتا ہوں اور رات کو ان کے قرآن پڑھنے کی آواز سے ان کے گھروں کو بھی پہچان لیتا ہوں، چاہے دن میں ان کے اپنے گھروں میں آنے کے وقت میں نے ان کے گھروں کو نہ دیکھا ہو۔ ان میں سے ایک حکیم (حکمت و دانائی والا شخص) ہے، جب وہ گھڑسواروں۔۔۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشمنوں۔۔۔ سے ملاقات کرتا ہے تو ان سے کہتا ہے: میرے ساتھی تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ تم ان کا انتظار کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6407]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اشعری رفقاء جب رات کے وقت گھروں میں داخل ہوتے ہیں تو میں ان کے قرآن مجید پڑھنے کی آواز کو پہچان لیتا ہوں اور رات کو ان کے قرآن پڑھنے کی آواز سے ان کے گھروں کو بھی پہچان لیتا ہوں، چاہے دن میں ان کے اپنے گھروں میں آنے کے وقت میں نے ان کے گھروں کو نہ دیکھا ہو۔ انہیں میں سے حکیم نامی فرد ہے، جب وہ سواریوں یا دشمن سے ملتا ہے تو انہیں کہتا ہے: میرے ساتھی تمہیں مشورہ دیتے ہیں کہ ان کا انتظار کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6407]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2499
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2500 ترقیم شاملہ: -- 6408
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ، جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ".
ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اشعری لوگ جب جہاد میں رسد کی کمی کا شکار ہو جائیں یا مدینہ میں ان کے اہل و عیال کا کھانا کم پڑ جائے تو ان کے پاس جو کچھ بچا ہو اسے ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں، پھر ایک ہی برتن سے اس کو آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“ (وہ میرے قریب ہیں اور میں ان سے قربت رکھتا ہوں۔) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6408]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اشعری لوگ جب جنگ کے موقع پر محتاج ہو جاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے اہل و عیال کا کھانا کم پڑ جاتا ہے تو سب کے پاس جو کچھ ہوتا ہے، اس کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں، پھر ایک برتن سے باہمی برابر بانٹ لیتے ہیں، سو وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6408]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2500
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں