مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
5. في فضل الدعاء
دعا کی فضیلت کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 29781 ترقیم الشثری: -- 31129
٣١١٢٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم التيمي قال: كان يقال: إذا بدا الرجل بالثناء قبل الدعاء فقد (استوجب) (١) ، وإذا بدا بالدعاء قبل الثناء كان على رجاء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ط، هـ]: (وجب).
حضرت ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ یوں کہا جاتا تھا: جب آدمی دعا سے قبل اللہ کی ثنا بیان کرتا ہے تو یقینا اس کی دعا قبول ہوجاتی ہے، اور جب اللہ کی ثنا سے قبل دعا سے ابتدا کرتا ہے تو اس کی دعا کو قبولیت کی امید ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31129]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31129، ترقيم محمد عوامة 29781)
ترقیم عوامۃ: 29782 ترقیم الشثری: -- 31130
٣١١٣٠ - حدثنا جرير عن منصور عن هلال بن يساف قال: بلغني ان المسلم إذا دعا فلم يستجب له كتبت له حسنة.
حضرت ھلال بن یساف فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے جب کوئی مسلمان دعا کرے اور وہ دعا قبول نہ ہو تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31130، ترقيم محمد عوامة 29782)
ترقیم عوامۃ: 29783 ترقیم الشثری: -- 31131
٣١١٣١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عمارة عن ابي عمار عن حذيفة قال: لياتين على الناس زمان لا ينجو فيه إلا من دعا بدعاء كدعاء (الغرق) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، ط، هـ]: (الغريق).
(٢) صحيح؛ رواه نعيم في الفتن (٥٠٤)، ورواه مرفوعًا الحاكم ١/ ٥٠٧.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ضرور بالضرور لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس میں وہی لوگ نجات پائیں گے جو ڈوبنے والے کی دعا کی طرح دعا کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31131]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31131، ترقيم محمد عوامة 29783)
ترقیم عوامۃ: 29784 ترقیم الشثری: -- 31132
٣١١٣٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن همام عن حذيفة مثله إلا انه قال: الذي يدعو (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية (١/ ٢٧٤)، والبيهقي في الشعب (١١١٥)، ونعيم في الفتن (٥٠٣)، وانظر: ما قبله.
اس سند کے ساتھ بھی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا ما قبل جیسا ارشاد منقول ہے مگر اس میں دعا کی جگہ الَّذِی یَدْعُوکے الفاظ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31132]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31132، ترقيم محمد عوامة 29784)
ترقیم عوامۃ: 29785 ترقیم الشثری: -- 31133
٣١١٣٣ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت ويونس ابن عبيد، عن الحسن ان ابا الدرداء كان يقول: (جدوا) (١) (بالدعاء) (٢) فإنه من يكثر قرع الباب يوشك ان يفتح له (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (فخذوا).
(٢) في [ك]: (في الدعاء).
(٣) منقطع؛ الحسن لم يسمع من أبي الدرداء.
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء فرمایا کرتے تھے: تم لوگ دعا میں خوب کوشش کیا کرو اس لیے کہ جو شخص کثرت سے دروازہ کھٹکھٹاتا ہے قریب ہے کہ اس کے لیے دروازہ کھول دیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31133]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31133، ترقيم محمد عوامة 29785)
6. الرجل يخاف السلطان ما يدعو؟
جو شخص بادشاہ سے ڈرتا ہو وہ کیا دعا کرے؟
ترقیم عوامۃ: 29786 ترقیم الشثری: -- 31134
٣١١٣٤ - حدثنا ابو معاوية ووكيع عن الاعمش عن ثمامة بن عقبة (المحلمي) (١) عن الحارث بن سويد قال: قال عبد الله: إذا كان على احدكم إمام يحاف تغطوسه وظلمه فليقل: اللهم رب السماوات (السبع) (٢) ، ورب العرش العظيم كن لي (جارا) (٣) من فلان واحزابه واشياعه ان (يفرطوا) (٤) علي وان يطغوا، عز جارك وجل ثناؤك، ولا إله غيرك (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (السحلي).
(٢) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٣) سقط من: [جـ، ك].
(٤) في [ك]: (يفطروا).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري في الأدب (٧٠٧)، وابن فضيل في الدعاء (٤٢)، والخطابي في الغريب ٢/ ٢٤٦، وأخرجه مرفوعًا الطبراني (٩٧٩٥) وفي الدعاء (١٠٥٦)، والبيهقي في الدعوات الكبير (٤٢١).
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی ایک پر کوئی امام مسلط ہو اور آدمی اس کے غصہ اور ظلم سے ڈرتا ہو پس چاہیے کہ وہ اس طرح کہے: اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب اور عرش عظیم کے رب تو میرا مدد گار بن جا فلاں سے اور اس کے لشکروں سے اور اس کے حامیوں سے کہ وہ لوگ مجھ پر زیادتی کریں، یا وہ سرکشی کریں، تیرا پڑوسی عزت والا ہے، اور بڑی ہے تیری تعریف، اور نہیں ہے کوئی معبود تیرے علاوہ، مگر ابو معاویہ نے اس میں یہ اضافہ فرمایا ہے: اعمش کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابراہیم کے سامنے ذکر کی، تو انہوں نے بھی حضرت عبد اللہ سے یہی حدیث بیان کی مگر ابراہیم نے اس جملہ کا اضافہ فرمایا: ”جن اور انسان کے شر سے“۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31134]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31134، ترقيم محمد عوامة 29786)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31135
٣١١٣٥ - إلا ان ابا معاوية زاد فيه، قال الاعمش: فذكرته لإبراهيم فحدث عن عبد الله بمثله وزاد فيه: من شر الجن والانس (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ إبراهيم لم يسمع من ابن مسعود، وانظر: ما قبله.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31135، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 29787 ترقیم الشثری: -- 31136
٣١١٣٦ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا يونس بن ابي إسحاق عن المنهال ابن عمرو قال: حدثني سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: إذا اتيت سلطانا مهيبا تخاف ان (يسطو) (١) عليك فقل: الله اكبر، الله اعز من خلقه جميعا، الله اعز مما اخاف واحذر، اعوذ بالذي لا إله إلا هو الممسك السماوات السبع ان يقعن على الارض إلا بإذنه، من شر (عبدك) (٢) فلان وجنوده واتباعه واشياعه من الجن والإنس، اللهم كن لي جارا من شرهم، جل ثناؤك، وعز جارك، وتبارك اسمك، ولا إله غيرك -ثلاث مرات (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (تسطوا).
(٢) في [أ، ب، ط]: (عبادك).
(٣) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم ١/ ٣٢٢، والطبراني في الدعاء (١٠٦٠)، وفي المعجم (١٠٥٩٩)، والبيهقي في الدعوات الكبير (٤٢٢)، والبخاري في الأدب (٧٠٨)، والخرائطي في المنتقى من مكارم الأخلاق (٥٨٣).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب تو کسی خوفناک بادشاہ کے پاس حاضر ہو اور تو ڈرتا ہو کہ وہ تجھ پر سختی کرے گا، پس تو تین مرتبہ یوں کہہ: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ اپنی تمام مخلوق میں زیادہ عزت والا ہے، میں اس اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو کہ ساتوں آسمانوں کو روکنے والا ہے کہ وہ بغیر اس کی اجازت کے زمین پر گِر پڑیں، تیرے فلاں بندے کے شر سے، اور اس کے لشکروں اور پیروکاروں اور اس کے حامیوں کے شر سے، جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، اے اللہ! تو ان کے شر سے میرا مددگار بن جا، تیری اونچی ثناء ہے، اور تیرا پڑوسی معزز ہے، اور تیرا نام برکت والا ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31136]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31136، ترقيم محمد عوامة 29787)
ترقیم عوامۃ: 29788 ترقیم الشثری: -- 31137
٣١١٣٧ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن عامر قال: كنت جالسا مع زياد بن ابي سفيان فاتي برجل يحمل، ما (نشك) (١) في قتله، قال: فرايته حرك شفتيه بشيء ما ندري ما هو، (قال) (٢) : فخلى سبيله فاقبل إليه بعض القوم فقال: لقد جيء بك وما نشك في قتلك، فرايتك حركت (شفتيك) (٣) بشيء ما ندري ما هو، فخلى سبيلك قال: قلت: اللهم رب إبراهيم، ورب إسحاق، ورب يعقوب، ورب جبريل وميكائيل وإسرافيل، ومنزل التوراة والإنجيل والزبور والقرآن العظيم، ادرا عني شر زياد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أشك).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في [ط]: (شفتك).
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ میں زیاد بن ابی سفیان کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی کو گھسیٹتے ہوئے لایا گیا، ہمیں اس کے قتل ہونے میں کوئی شک نہیں تھا، عامر فرماتے ہیں: میں نے اس کو دیکھا اس کے ہونٹ ہلکی سی حرکت کر رہے ہیں میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، عامر کہتے ہیں پس زیاد نے اس کو آزاد کردیا، پس لوگوں میں ایک آدمی اس کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: تحقیق تجھے لایا گیا تھا اور ہمیں تیرے قتل ہونے میں کوئی شک نہیں تھا پس میں نے تجھے دیکھا کہ کسی چیز کی وجہ سے تیرے ہونٹ حرکت کر رہے تھے ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے؟ آدمی نے کہا پھر زیاد نے تجھے آزاد کردیا! وہ شخص کہنے لگا! میں نے یہ دعا پڑھی تھی: اے اللہ! ابراہیم کے پالنے والے اور اسحاق کے پالنے والے اور یعقوب کے پالنے والے، اور جبرائیل اور میکائیل اور اسرافیل کے رب، اور تورات، انجیل، زبور اور قرآن عظما کے نازل کرنے والے، مجھ سے زیاد کے شر کو دور فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31137]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31137، ترقيم محمد عوامة 29788)
ترقیم عوامۃ: 29789 ترقیم الشثری: -- 31138
٣١١٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن ابي بكر بن حفص عن الحسن بن الحسن ان عبد الله بن جعفر زوج ابنته فخلا بها، فقال: إذا نزل بك الموت او امر من امور الدنيا (فظيع) (١) فاستقبليه بان تقولي: لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب العرش العظيم، الحمد لله رب العالمين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (فضع).
(٢) حسن؛ الحسن بن الحسن صدوق.
حضرت حسن بن حسن فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن جعفر نے اپنی بیٹی کی شادی کی تو اس کو تنہائی میں لے جا کر یہ نصیحت فرمائی: جب بھی تجھے موت آئے یا دنیا کے کاموں سے کوئی بُرا کام پیش آجائے، پس تو ان الفاظ کے ساتھ اس کا استقبال کر، کوئی معبود نیں ے ہے سوائے اس اللہ کے جو کہ حکمت والا اور سخی ہے، اللہ جو کہ عرش عظیم کا رب ہے، ہر عیب سے پاک ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ حضرت حسن بن حسن فرماتے ہیں: پس حجاج کو میری طرف بھیجا گیا، تو میں نے ان کلمات کو ادا کیا: پھر جب میں اس کے سامنے کھڑا ہوا وہ کہنے لگا: تحقیق مجھے تیری طرف بھیجا گیا تھا اور میں چاہ رہا تھا کہ میں تیری گردن اڑا دوں، اور اب تو اور تیرے اہل خانہ میں سے کوئی بھی ہو وہ میرے لیے بہت معزز ہوگیا ہے تو مجھ سے اپنی ضرورت کے مطابق مانگ لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31138]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31138، ترقيم محمد عوامة 29789)