🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. (من) كان يقول: يا مقلب القلوب؟
اس شخص کا بیان جو یوں دعا کرتا ہو: اے دلوں کو پھیرنے والے!
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29808 ترقیم الشثری: -- 31159
٣١١٥٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن النبي ﷺ انه كان يدعو بهذا الدعاء:"يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ ابن أبي ليلى تابعي، وأخرجه عبد بن حميد (٣٥٩) من حديث ابن أبي ليلى عن بلال مرفوعًا.
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31159]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31159، ترقيم محمد عوامة 29808)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29809 ترقیم الشثری: -- 31160
٣١١٦٠ - حدثنا يزيد اخبرنا همام بن يحيى عن علي بن زيد عن ام محمد عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يقول:"يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك"، قلت: يا رسول الله، إنك تدعو بهذا الدعاء، قال:"يا عائشة، اوما علمت ان القلوب -او قال: قلب (ابن) (١) آدم بين اصبعي الله- إذا شاء ان يقلبه إلى هدى قلبه، وإذا شاء ان يقلبه إلى (ضلالة) (٢) قلبه" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بني).
(٢) في [جـ]: (ضلال).
(٣) مجهول؛ لجهالة أم محمد، أخرجه أحمد (٢٦١٣٣)، وابن أبي عاصم في السنة (٢٢٤)، وأبو يعلى (٤٦٦٩)، والطبراني في الدعاء (١٢٥٩)، والآجري في الشريعة ص ٣١٧، وإسحاق (١٣٦٩)، والنسائي في الكبرى (٧٧٣٧).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرماتے تھے: اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ یہ دعا فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا! کیا تو نہیں جانتی کہ لوگوں کے دل، یا یوں فرمایا: آدم کے بیٹے کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے، اللہ جب چاہتے ہیں اس کے دل کو ہدایت کی طرف پھیر دیتے ہیں، اور جب چاہتے ہیں اس کے دل کو گمراہی کی طرف پھیر دیتے ہیں؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31160]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31160، ترقيم محمد عوامة 29809)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. ما يدعو به الرجل إذا خرج من منزله؟
جب آدمی اپنے گھر سے نکلے تو کیا دعا کرے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29810 ترقیم الشثری: -- 31161
٣١١٦١ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن منصور عن الشعبي قال: (قالت) (٢) : ام سلمة: كان النبي ﷺ إذا خرج قال:"اللهم إني اعوذ بك (من) (٣) (ان) (٤) ازل او (ا) (٥) ضل او اظلم (او اظلم) (٦) ، او اجهل او يجهل علي" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (عبدة).
(٢) في [ط، ك]: (قلت).
(٣) سقط من: [جـ، ك].
(٤) في [ك]: (بان).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) سقط من: [أ، ب، ط].
(٧) منقطع، الشعبي لم يسمع من أم سلمة، أخرجه أحمد (٢٦٦١٦)، وأبو داود (٥٥٩٤)، والترمذي (٣٤٢٧)، والنسائي ٨/ ٢٦٨، والحاكم ١/ ٥١٩، وابن ماجه (٣٨٨٤)، والحميدي (٣٠٣)، وابن السني (١٧٦)، وعبد بن حميد (١٥٣٦)، والطيالسي (١٦٠٧)، والقضاعي (١٤٦٩)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١٢٥، والطبراني ٢٣/ (٧٢٧)، والبيهقي ٥/ ٢٥١، والخطيب ١١/ ١٤١.

حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے نکلتے تھے تو یوں دعا فرماتے: اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں لغزش کروں یا میں گمرا ہ ہوں، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے، یا میں کسی کو ناواقف رکھوں یا کوئی مجھے ناواقف بنائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31161]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31161، ترقيم محمد عوامة 29810)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29811 ترقیم الشثری: -- 31162
٣١١٦٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن الشعبي عن ام سلمة عن النبي ﷺ بنحو منه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الشعبي لم يسمع من أم سلمة، وانظر: ما قبله.
حضرت ام سلمہ سے اس سند کے ساتھ بی، ماقبل حدیث جیسا مضمون مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31162]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31162، ترقيم محمد عوامة 29811)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29812 ترقیم الشثری: -- 31163
٣١١٦٣ - حدثنا وكيع عن فضيل بن مرزوق عن عطية عن ابي سعيد قال: من قال إذا خرج إلى الصلاة: اللهم إني اسالك بحق السائلين عليك، وبحق ممشاي هذا، لم (اخرجه) (١) اشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة، (خرجته) (٢) ابتغاء مرضاتك ⦗١٢٤⦘ واتقاء سخطك، اسالك ان تنقذني من النار وان تغفر لي ذنوبي، إنه لا يغفر الذنوب إلا انت، (إلا) (٣) اقبل الله عليه بوجهه حتى ينصرف ووكل به سبعون الف ملك يستغفرون له (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (أخرج).
(٢) في [أ، جـ، ط، ك]: (خرجتهم)، وفي [هـ]: (خرجت).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) ضعيف؛ عطية بن سعد العوفي ضعيف، أخرجه مرفوعًا أحمد (١١١٥٦)، وابن ماجه (٧٧٨)، وابن السني (٨٤)، والطبراني في الدعاء (٤٢١)، وابن الجعد (٢٠٣٢)، وابن خزيمة في التوحيد (١٤)، والبيهقي في الدعوات (٦٥).

حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے جائے اور یہ دعا پڑھے: اے اللہ! میں آپ سے اس حق کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو مانگنے والوں کا آپ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کے ساتھ، میں نہیں نکلا غرور کرتے ہوئے اور نہ ہی اکڑ کر چلتے ہوئے، اور نہ ہی ریاکاری کے لیے، اور نہ ہی شہرت حاصل کرنے کے لیے، میں تو آپ کی رضا کی چاہت میں نکلا ہوں، اور آپ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے، اور میں آپ سے سوال کرتاہوں کہ آپ مجھے جہنم سے بچا لیں اور آپ میرے گناہوں کی بخشش فرما دیجیے، یقینا آپ کے سوا کوئی بھی گناہوں کی بخشش کرنے والا نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے چہرے کے ساتھ اس بندے کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے، اور اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کی ذمہ داری لگا دیتے ہیں وہ اس شخص کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31163]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31163، ترقيم محمد عوامة 29812)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29813 ترقیم الشثری: -- 31164
٣١١٦٤ - حدثنا ابن نمير عن الاعمش عن مجاهد عن ابن (ضمرة) (١) عن كعب قال: إذا خرج الرجل من منزله (استقبلته الشياطين) (٢) فإذا قال: بسم الله، قالت الملائكة، هديت، وإذا قال: توكلت على الله، قالت: كفيت، وإذا قال: لا حول ولا قوة إلا بالله، قالت: حفظت، فتقول الشياطين بعضها لبعض: ما سبيلكم على من كفي وهدي و (حفظ) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (صمرة).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (استقبله الشيطان).
(٣) في [ط]: (وحفظهم).

حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے تو بہت سارے شیاطین اس کا استقبال کرتے ہیں، پس جب وہ کہتا ہے: میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلا، فرشتے کہتے ہیں: تجھے ہدایت دی گئی، اور جب وہ آدمی کہتا ہے: میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، فرشتے کہتے ہیں: تیری کفایت کی گئی ہے، اور جب وہ آدمی کہتا ہے: گناہوں سے بچنے اور عبادت کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے، فرشتے کہتے ہیں: تیری حفاظت کی گئی ہے۔ پس پھر شیاطین ایک دوسرے سے کہتے ہیں: تم لوگ کیسے اس شخص پر سرکشی کرسکتے ہو جس کی کفایت کی گئی ہو، اور جس کو ہدایت دی گئی ہو، اور جس کی حفاظت کی گئی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31164]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31164، ترقيم محمد عوامة 29813)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29814 ترقیم الشثری: -- 31165
٣١١٦٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن مجاهد عن عبد الله بن ضمرة عن كعب الاحبار قال: إذا خرج من بيته فقال: بسم الله، توكلت على الله، (و) (١) (لا حول و) (٢) لا قوة إلا بالله، بلغت الشياطين بعضهم بعضا قالوا: هذا عبد قد هدي وحفظ وكفي فلا سبيل لكم عليه فيتصدعون عنه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].

حضرت کعب احبار فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا ہے اور یہ کلمات کہتا ہے: میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلا، اور میں نے اللہ پر ہی بھروسہ کیا، اور گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو شیاطین ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور کہتے ہیں: اس شخص کو ہدایت دی گئی ہے۔ اور اس کی حفاظت کی گئی ہے، اور اس کی کفایت کی گئی ہے، پس تمہیں اس پر کوئی تسلط حاصل نہیں ہے، پھر وہ اس بندے سے دور ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور اس سے باز رہتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31165]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31165، ترقيم محمد عوامة 29814)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. دعاء النبي ﷺ: "طهرني بالثلج"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا: اے اللہ! مجھے برف سے پاک فرما دے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29815 ترقیم الشثری: -- 31166
٣١١٦٦ - حدثنا ابن نمير عن هشام بن عروة (عن ابيه) (١) عن عائشة ان رسول الله ﷺ كان يدعو:"اللهم اغسل (خطاياي) (٢) بماء الثلج والبرد، ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الابيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [ط]: (خطاياء).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣٦٨)، ومسلم (٥٨٩).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرماتے تھے: اے اللہ! میری غلطیوں کو برف سے اور اولے سے دھو دیجئے اور میرے دل کو غلطیوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے آپ سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف فرما دیتے ہیں، اور میرے اور میری غلطیوں کے درمیان اتنا لمبا فاصلہ کر دے جتنا مشرق و مغرب کے درمیان ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31166]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31166، ترقيم محمد عوامة 29815)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29816 ترقیم الشثری: -- 31167
٣١١٦٧ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا يحيى بن ابي (بكير) (٢) حدثنا شعبة عن مجزاة بن زاهر الاسلمي قال: سمعت عبد الله بن ابي اوفى يحدث عن النبي ﷺ انه كان (يدعو) (٣) :"اللهم طهرني بالبرد والثلج والماء البارد، اللهم طهرني من الذنوب ونقني منها كما (ينقى) (٤) الثوب الابيض من الدنس" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ].
(٢) في [أ، ب، ط]: (بكر).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (يقول).
(٤) في [أ، ب، ط]: (تنقى).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (٤٧٦)، وأحمد (١٩١١٨).

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ! آپ مجھے بارانی برف اور اولے، اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ سے پاک کردیں، اے اللہ! آپ مجھے گناہوں سے پاک فرما دیں، اور مجھے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف کردیں جیسا کہ سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31167]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31167، ترقيم محمد عوامة 29816)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29817 ترقیم الشثری: -- 31168
٣١١٦٨ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا جرير عن منصور عن حبيب قال: حدثت ان النبي ﷺ اللهم طهرني بالثلج والبرد والماء البارد، ونقني من الخطايا كما ينقى الثوب الابيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ].
(٢) مرسل؛ حبيب تابعي، ويروي عن التابعين.

حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ مجھے بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا مانگتے ہوئے فرماتے تھے: اے اللہ! مجھے بارانی برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ سے پاک فرما دیں، اور مجھے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف فرما دیں جیسا کہ سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کردیں جتنا مشرق و مغرب کے درمیان ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31168]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31168، ترقيم محمد عوامة 29817)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں