🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ
باب: فطرے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2092 ترقیم الرسالہ : -- 2117
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ ، ثنا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ زَكَرِيَّا الصُّرَيْمِيُّ ، ثنا ابْنُ أَرْقَمَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَلْيَتَصَدَّقْ بِنِصْفِ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٍ مِنْ دَقِيقٍ، أَوْ صَاعٍ مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعٍ مِنْ سُلْتٍ" . لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَهَذِهِ الأَلْفَاظِ غَيْرُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ہمیں ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس یہ موجود ہو، وہ گندم کا نصف صاع یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا آٹے کا ایک صاع یا منقیٰ کا ایک صاع یا گندم کا ایک صاع (صدقہ فطر کے طور پر) ادا کرے۔ یہ الفاظ سلمان بن ارقم نامی راوی نے نقل کیے ہیں اور یہ شخص متروک الحدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2117]
ترقیم العلمیہ: 2092
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1503، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2117،»
«قال الدارقطني: لم يروه بهذا الإسناد وهذه الألفاظ غير سليمان بن أرقم وهو متروك الحديث، سنن الدارقطني: (3 / 83) برقم: (2117)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2093 ترقیم الرسالہ : -- 2118
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، فَقَالَ:" أَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ، وَصَغِيرٍ وَكَبِيرٍ" .
سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہم لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: گندم کا ایک صاع دو آدمیوں کی طرف سے ادا کرو (یہاں اس روایت کے لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع ہر آزاد اور غلام، چھوٹے اور بڑے کی طرف سے ادا کرو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2118]
ترقیم العلمیہ: 2093
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2410، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 108، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5250، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1619،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2103، 2104، 2105، 2106، 2107، 2108، 2109، 2111، 2118، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24153»
«قال الدارقطني: هذا حديث اختلف في إسناده ومتنه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 406)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2094 ترقیم الرسالہ : -- 2119
حَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ سَلامٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ، ذَكَرٍ وَأُنْثَى، يَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ، حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ" . سَلامٌ الطَّوِيلُ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مونث، یہودی اور عیسائی (غلام)، آزاد اور غلام کی طرف سے ادا کیا جائے گا، جو گندم کا نصف صاع ہو گا یا کھجور کا ایک صاع ہو گا یا جو کا ایک صاع ہو گا۔ اس روایت کا راوی سلام طویل متروک الحدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2119]
ترقیم العلمیہ: 2094
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1581، 2510، 2517، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1815،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1622، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7806، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2087، 2119، 2130، 2131، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2046»
«قال الدارقطني: سلام الطويل متروك الحديث ولم يسنده غيره، سنن الدارقطني: (3 / 84) برقم: (2119)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2095 ترقیم الرسالہ : -- 2120
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَطَبِيُّ، ثنا أَبُو قَبِيصَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يُخْرِجُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ، صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ، ذَكَرٍ وَأُنْثَى، كَافِرٍ وَمُسْلِمٍ، حَتَّى إِنْ كَانَ لَيُخْرِجُ عَنْ مُكَاتَبِيهِ مِنْ غِلْمَانِهِ" . عُثْمَانُ هُوَ الْوَقَّاصِيُّ. مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: وہ ہر چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مونث، آزاد اور غلام، کافر اور مسلمان کی طرف سے صدقہ ادا کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اپنے دو مکاتب غلاموں کی طرف سے بھی صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے۔ اس روایت کا ایک راوی عثمان، یہ وقاصی ہے اور یہ متروک ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2120]
ترقیم العلمیہ: 2095
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1503، 1504، 1507، 1509، 1511، 1512، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 984، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 579، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2392، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1494، 1495، 1499، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1610، 1611، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 675، 676، 677، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1702، 1703، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1825، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2120،2069، 2070، 2071، 2072، 2073، 2074، 2075، 2076، 2078، 2079، 2088، 2089، 2093، 2094، 2095، 2120، 2132، 2133، 2134، 2135، 2410»
«قال الدارقطني: عثمان هذا هو الوقاصي وهو متروك، نصب الراية لأحاديث الهدا

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2096 ترقیم الرسالہ : -- 2121
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ:" يُطْعِمُ الرَّجُلُ عَنْ عَبْدِهِ وَإِنْ كَانَ مَجُوسِيًّا" .
عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں: آدمی اپنے غلام کی طرف سے بھی صدقہ فطر ادا کرے گا، خواہ وہ غلام مجوسی ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2121]
ترقیم العلمیہ: 2096
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2121، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 5811»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2097 ترقیم الرسالہ : -- 2122
حَدَّثَنَا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ:" لَوْ أَنَّكَ أَعْطَيْتَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ هَلِيلِجٍ لأَجْزَأَ" .
امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں: اگر تم صدقہ فطر میں اہلیلج (یہ ہندوستان کا مخصوص درخت ہے) ادا کرو، تو یہ بھی جائز ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2122]
ترقیم العلمیہ: 2097
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2122،»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2098 ترقیم الرسالہ : -- 2123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ الْخَيَّاطُ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: أَعْطِنِي مُدَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِهِ، فَجَاءَ بِهِ الْغُلامُ، فَأَعْطَانِيهِ فَأَرَيْتُهُ مَالِكًا، فَقُلْتُ: هَذَا هُوَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، هُوَ مُدُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، ثُمَّ قَالَ:" لَمْ أُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا الَّذِي يَتَحَرَّى بِهِ مُدُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قُلْتُ: بِهَذَا تُعْطَى زَكَاةُ الْعُشُورِ وَالصَّدَقَاتُ وَالْكَفَّارَاتُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، نَحْنُ نُعْطِي بِهِ"، قُلْتُ: فَأَرَادَ رَجُلٌ أَنْ يُعْطِيَ زَكَاةَ رَمَضَانَ وَكَفَّارَةَ الْيَمِينِ بِمُدٍّ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ هَذَا، قَالَ:" لا، وَلَكِنْ لِيُعْطِ بِهَذَا الْمُدِّ، ثُمَّ لِيَزِدْ بَعْدُ مَا شَاءَ" .
بشر بن عمر بیان کرتے ہیں: میں نے امام مالک سے درخواست کی کہ آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد (مخصوص پیمانہ) عطا کریں، امام مالک نے وہ منگوایا، ایک غلام وہ لے کر آیا اور وہ اس نے انہیں دے دیا، میں نے امام مالک کو وہ دکھایا اور پوچھا: یہ وہی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد ہے، پھر انہوں نے فرمایا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مخصوص پیمانہ نہیں ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود استعمال کرتے تھے، بلکہ یہ اس کی پیمائش کے مطابق پیمانہ ہے (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: کیا آپ لوگ اپنی زکوٰۃ، صدقات، کفارات وغیرہ اسی کے ذریعے ادا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! ہم اسی کے حساب سے ادائیگی کرتے ہیں، میں نے کہا: ایک شخص صدقہ فطر دینا چاہتا ہے یا قسم کا کفارہ مد کے حساب سے دینا چاہتا ہے (جو اس سے بڑا ہوتا ہے، تو کیا وہ ادا ہو جائے گا)؟ انہوں نے کہا: نہیں! اسے چاہیے کہ وہ اس مد کے حساب سے ادائیگی کرے، پھر اس کے بعد جتنا مزید چاہے وہ دے دے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2123]
ترقیم العلمیہ: 2098
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7816، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2123، 2124»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2099 ترقیم الرسالہ : -- 2124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرِ بْنِ الأَشْقَرِ أَبُو بَكْرٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الطَّائِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، كَمْ وَزْنُ صَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ بِالْعِرَاقِيِّ، أَنَا حَزَرْتُهُ"، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، خَالَفْتَ شَيْخَ الْقَوْمِ، قَالَ:" مَنْ هُوَ؟"، قُلْتُ: أَبُو حَنِيفَةَ، يَقُولُ: ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ:" قَاتَلَهُ اللَّهُ، مَا أَجْرَأَهُ عَلَى اللَّهِ"، ثُمَّ قَالَ لِبَعْضِ جُلَسَائِهِ:" يَا فُلانُ، هَاتِ صَاعَ جَدِّكَ، وَيَا فُلانُ، هَاتِ صَاعَ عَمِّكَ، وَيَا فُلانُ، هَاتِ صَاعَ جَدَّتِكَ"، قَالَ إِسْحَاقُ: فَاجْتَمَعَتْ آصُعُ، فَقَالَ مَالِكٌ:" مَا تَحْفَظُونَ فِي هَذِهِ؟"، فَقَالَ: هَذَا حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُؤَدِّي بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الآخَرُ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَخِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُؤَدِّي بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الآخَرُ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا أَدَّتْ بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مَالِكٌ:" أَنَا حَزَرْتُ هَذِهِ فَوَجَدْتُهَا خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا"، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أُحَدِّثُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ هَذَا عَنْهُ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ نِصْفُ صَاعٍ، وَالصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ، فَقَالَ: هَذِهِ أَعْجَبُ مِنَ الأُولَى يُخْطِئُ فِي الْحَزْرِ، وَيُنْقِصُ فِي الْعَطِيَّةِ،" لا بَلْ صَاعٌ تَامٌّ عَنْ كُلِّ إِنْسَانٍ، هَذَا أَدْرَكْنَا عُلَمَاءَنَا بِبَلَدِنَا هَذَا" .
اسحاق بن سلمان بیان کرتے ہیں: میں نے امام مالک سے پوچھا: اے ابوعبداللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخصوص صاع کا وزن کتنا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: عراقی رطل کے حساب سے پانچ رطل اور ایک رطل کا ایک تہائی حصہ، میں نے اسے ناپا ہے، میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! آپ نے اپنے زمانے کے بزرگ کے خلاف فتویٰ دیا ہے، انہوں نے دریافت کیا: وہ کون ہیں؟ میں نے کہا: امام ابوحنیفہ! کیونکہ وہ تو یہ کہتے ہیں یہ آٹھ رطل کا ہوتا ہے، تو امام مالک غصے میں آگئے اور بولے: اللہ تعالیٰ انہیں خراب کرے! انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیسی جرات کا مظاہرہ کیا ہے، پھر انہوں نے وہاں بیٹھے ہوئے افراد میں سے ایک صاحب سے کہا: اے فلاں! تم اپنے جد امجد کا صاع لے کر آؤ، اے فلاں! تم اپنے چچا کا صاع لے کر آؤ، اے فلاں! تم اپنی دادی کا صاع لے کر آؤ۔ اسحاق نامی راوی بیان کرتے ہیں: وہاں مختلف صاع اکٹھے ہوگئے، امام مالک نے فرمایا: تم لوگ اسے کس حساب سے محفوظ رکھتے ہو (یعنی اس کی نسبت کیا ہے)؟ تو ان صاحب نے بتایا: میرے والد نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے اس صاع کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادائیگی کی تھی۔ دوسرے صاحب نے بتایا: میرے والد نے اپنے بھائی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے اس صاع کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادائیگی کی تھی۔ تیسرے نے کہا: میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے اپنی والدہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے اس صاع کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادائیگی کی تھی۔ امام مالک بیان کرتے ہیں: جب میں نے اس کو ماپا، تو یہ پانچ رطل اور ایک رطل کا ایک تہائی حصہ تھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! میں آپ کو ان کے (یعنی امام ابوحنیفہ کے) حوالے سے اس سے بھی زیادہ حیران کن بات بتاتا ہوں، وہ یہ کہتے ہیں: صدقہ فطر میں نصف صاع ادائیگی کی جائے گی اور ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے، تو امام مالک نے بتایا: یہ پہلے سے بھی زیادہ حیران کن بات ہے، انہوں نے اسے مانپے میں غلطی کی ہے اور ادائیگی میں کمی کر دی ہے، نہیں! ہر انسان کی طرف سے مکمل صاع ادا کیا جائے گا، ہم نے اپنے شہر (مدینہ منورہ) کے علماء کو یہی کہتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2124]
ترقیم العلمیہ: 2099
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7816، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2123، 2124»
«‏‏‏‏قال الشوكاني: هذه القصة مشهورة أخرجها البيهقي بإسناد جيد، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 6)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2100 ترقیم الرسالہ : -- 2125
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ، عَبْدٍ أَوْ حُرٍّ، مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: صدقہ فطر کی ادائیگی ہر مسلمان چھوٹے بڑے، آزاد غلام پر لازم ہو گی، جو گندم کے دو مد ہوں گے یا کھجور یا جو کا ایک صاع ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2125]
ترقیم العلمیہ: 2100
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3140، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2125، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 5772، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10444، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7664»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2101 ترقیم الرسالہ : -- 2126
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ وَشَعِيرٍ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ گندم کے دو مد ہوں گے یا کھجور یا جو کا ایک صاع ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة الفطر/حدیث: 2126]
ترقیم العلمیہ: 2101
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2126، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 5769، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10443، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 9533»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں