🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ
باب
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3714 ترقیم الرسالہ : -- 3770
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، نَا النَّصْرُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ بَرِيرَةَ قَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ، وَكَانَتْ عِنْدَ عَبْدٍ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا: (اس کی عدت) تین (حیض) ہو گی، وہ ایک غلام کی بیوی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3770]
ترقیم العلمیہ: 3714
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5280، 5281، 5282، 5283، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4270، 4273،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5419، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5937، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2231، 2232، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1156،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2075، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2140، 3770، 3771، 3772، 3773، 3774، 3777، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1869،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17877، 17878، 29724، 37441»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3715 ترقیم الرسالہ : -- 3771
نَا نَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3771]
ترقیم العلمیہ: 3715
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5280، 5281، 5282، 5283، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4270، 4273،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5419، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5937، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2231، 2232، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1156،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2075، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2140، 3770، 3771، 3772، 3773، 3774، 3777، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1869،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17877، 17878، 29724، 37441»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3716 ترقیم الرسالہ : -- 3772
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ لِبَنِي الْمُغِيرَةِ يَوْمَ أُعْتِقَتْ، وَاللَّهِ لَكَأَنِّي بِهِ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَنَوَاحِيهَا، وَإِنَّ دُمُوعَهُ لَتَتَحَدَّرُ عَلَى لِحْيَتِهِ يَتْبَعُهَا يَتَرَضَّاهَا لِتَخْتَارَهُ فَلَمْ تَفْعَلْ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر، بنو مغیرہ کا سیاہ فام غلام تھا، جس دن بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا گیا، اللہ کی قسم، مجھے آج بھی وہ منظر اچھی طرح یاد ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے راستوں اور گلیوں سے جا رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کے لیے اس کے پیچھے جا رہا تھا، تاکہ بریرہ اسے اختیار کر لے، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3772]
ترقیم العلمیہ: 3716
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5280، 5281، 5282، 5283، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4270، 4273،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5419، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5937، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2231، 2232، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1156،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2075، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2140، 3770، 3771، 3772، 3773، 3774، 3777، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1869،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17877، 17878، 29724، 37441»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3717 ترقیم الرسالہ : -- 3773
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا هُشَيْمٌ ، أنا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ، قَالَ: رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي أَزِقَّةِ الْمَدِينَةِ وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، قَالَ: فَكَلَّمَ الْعَبَّاسَ لِيَتَكَلَّمَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ: إِنَّهُ زَوْجُكِ، قَالَتْ: أَتَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ، قَالَ: فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَ: وَكَانَ عَبْدًا لِبَنِي الْمُغِيرَةِ، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا گیا، تو میں نے اس کے شوہر کو دیکھا، وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے جا رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، اس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”آپ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کریں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”یہ تمہارا شوہر ہے (تمہیں اس کے ساتھ رہنا چاہیے)۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، راوی بیان کرتے ہیں: (اس کا شوہر) بنو مغیرہ کا غلام تھا، اس کا نام مغیث تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3773]
ترقیم العلمیہ: 3717
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5280، 5281، 5282، 5283، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4270، 4273،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5419، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5937، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2231، 2232، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1156،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2075، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2140، 3770، 3771، 3772، 3773، 3774، 3777، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1869،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17877، 17878، 29724، 37441»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3718 ترقیم الرسالہ : -- 3774
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، نَا عَمْرُو بْنُ حُمْرَانَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ إِذْ خُيِّرَتْ كَانَ مَمْلُوكًا لِبَنِي الْمُغِيرَةِ، لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ يَتْبَعُهَا يَتَرَضَّاهَا، وَإِنَّ دُمُوعَهُ تَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، وَهِيَ تَقُولُ لا حَاجَةَ لِي فِيكَ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا گیا، تو اس کا شوہر بنو مغیرہ کا غلام تھا، مجھے یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے راستوں میں بریرہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کے لیے اس کے پیچھے جا رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، لیکن بریرہ رضی اللہ عنہا یہی کہہ رہی تھی: ”مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3774]
ترقیم العلمیہ: 3718
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5280، 5281، 5282، 5283، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4270، 4273،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5419، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5937، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2231، 2232، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1156،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2075، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2140، 3770، 3771، 3772، 3773، 3774، 3777، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1869،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17877، 17878، 29724، 37441»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3719 ترقیم الرسالہ : -- 3775
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاهِدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عَمْرٍو الشَّهْرُزُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ هِشَامٍ . ح وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيُّ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِبَرِيرَةَ:" إِنْ وَطِئَكِ فَلا خِيَارَ لَكِ" ، وَقَالَ ابْنُ مُجَاهِدٍ:" إِنْ قَرِبَكِ فَلا خِيَارَ لَكِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اگر اس نے تمہارے (آزاد ہونے کے بعد) تمہارے ساتھ صحبت کر لی، تو تمہیں اختیار نہیں ہو گا۔“ ابن مجاہد کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اگر اس نے تمہارے ساتھ قربت کر لی، تو تمہیں اختیار نہیں ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3775]
ترقیم العلمیہ: 3719
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 456، 1493، 2155، 2168، 2536، 2561، 2563، 2564، 2565، 2578، 2717، 2726، 2729، 2735، 5097، 5279، 5284، 6717، 6751، 6754، 6758، 6760، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1075، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2449، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4269، 4271،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2233، 2234، 2235، 2236، 2916، 3929، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2074، 2076، 2077، 2521، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2871، 2872، 3753، 3754، 3755، 3756، 3757، 3758، 3759، 3760، 3761، 3762، 3763، 3764، 3765، 3766، 3775، 3776، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24687،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 243،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16791، 17871، 17873، 17879، 17880، 23056، 37440، 37442»
«قال محمد بن عبدال

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3720 ترقیم الرسالہ : -- 3776
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّةَ بَرِيرَةَ حِينَ فَارَقَهَا زَوْجُهَا عِدَّةَ الْمُطَلَّقَةِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عدت طلاق یافتہ عورت کی عدت (جتنی، یعنی تین حیض) مقرر کی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3776]
ترقیم العلمیہ: 3720
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 456، 1493، 2155، 2168، 2536، 2561، 2563، 2564، 2565، 2578، 2717، 2726، 2729، 2735، 5097، 5279، 5284، 6717، 6751، 6754، 6758، 6760، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1075، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2449، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4269، 4271،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2233، 2234، 2235، 2236، 2916، 3929، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2074، 2076، 2077، 2521، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2871، 2872، 3753، 3754، 3755، 3756، 3757، 3758، 3759، 3760، 3761، 3762، 3763، 3764، 3765، 3766، 3775، 3776، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24687،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 243،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16791، 17871، 17873، 17879، 17880، 23056، 37440، 37442»
«قال محمد بن عبدال

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3721 ترقیم الرسالہ : -- 3777
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نَا هَمَّامٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ " اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ فَأَعْتَقَتْهَا وَاشْتَرَطُوا الْوَلاءَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ عَلَيْهَا عِدَّةَ الْحُرَّةِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: جَوَّدَ حَبَّانُ فِي قَوْلِهِ: عِدَّةُ الْحُرَّةِ، لأَنَّ عَفَّانَ بْنَ مُسْلِمٍ، وَعَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ رَوَيَاهُ، فَقَالا: وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ، وَلَمْ يَذْكُرَا: عِدَّةَ الْحُرَّةِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر اسے آزاد کر دیا اور اس کی ولاء کی شرط رکھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا: ”ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی اور بریرہ رضی اللہ عنہا (کی عدت) آزاد عورت کی عدت (جتنی) مقرر کی۔ بعض راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عدت گزارنے کی ہدایت کی، ان راویوں نے ”آزاد عورت کی عدت“ کے الفاظ نقل نہیں کیے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3777]
ترقیم العلمیہ: 3721
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5280، 5281، 5282، 5283، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4270، 4273،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5419، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5937، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2231، 2232، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1156،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2075، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2140، 3770، 3771، 3772، 3773، 3774، 3777، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1869،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17877، 17878، 29724، 37441»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3722 ترقیم الرسالہ : -- 3778
نَا نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدَةَ فِي هَذِهِ الآيَةِ:" وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا سورة النساء آية 35، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَأَمَرَهُمْ فَبَعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا وَقَالَ لِلْحَكَمَيْنِ: هَلْ تَدْرِيَانِ مَا عَلَيْكُمَا؟ إِنَّ عَلَيْكُمَا إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا، أَنْ تُفَرِّقَا، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: رَضِيتُ بِكِتَابِ اللَّهِ بِمَا عَلَيَّ فِيهِ وَلِيَّ، وَقَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا الْفُرْقَةُ فَلا، فَقَالَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَذَبْتَ وَاللَّهِ، حَتَّى تُقِرَّ بِمِثْلِ الَّذِي أَقَرَّتْ بِهِ" .
عبیدہ بیان کرتے ہیں: اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اور اگر تمہیں آپس میں ناچاکی کا اندیشہ ہو، تو ایک ثالث مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک ثالث عورت کے گھر والوں میں سے بھیجو۔“ (عبیدہ بیان کرتے ہیں) ایک شخص اور ایک عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ کچھ لوگ تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ مرد کے گھر والوں میں سے ایک ثالث اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک ثالث مقرر کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دونوں ثالثوں سے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو تم پر کیا بات لازم ہے؟ تم پر لازم ہے کہ اگر تم سمجھو کہ ان دونوں میں علیحدگی ہو جانی چاہیے، تو تم ان میں علیحدگی کروا دو۔ تو وہ عورت بولی: مجھ پر جو ادائیگی لازم ہے اور مجھے جو حق ملنا ہے، میں اس کے حوالے سے اللہ کی کتاب کے فیصلے سے راضی ہوں (یعنی اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہوں)۔ وہ مرد بولا: میں علیحدگی کو تسلیم نہیں کروں گا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے غلط کہا ہے۔ اللہ کی قسم! تمہیں بھی وہی اعتراف کرنا ہو گا جو اس عورت نے کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3778]
ترقیم العلمیہ: 3722
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4661، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 628، 629، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14900، 14901، 14902، 14903، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3778، 3779، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11883»
«قال ابن حجر: إسناده صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 413)»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3723 ترقیم الرسالہ : -- 3779
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَامْرَأَتُهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَلَمَّا بَعَثَ الْحَكَمَيْنِ، قَالَ:" رُوَيْدَكُمَا حَتَّى أُعْلِمَكُمَا مَاذَا عَلَيْكُمَا، هَلْ تَدْرِيَانِ مَا عَلَيْكُمَا؟ إِنَّكُمَا إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تَجْمَعَا جَمَعْتُمَا، وَإِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا فَرَّقْتُمَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْمَرْأَةِ، وَقَالَ: أَرَضِيتِ بِمَا حَكَمَا؟، قَالَتْ: نَعَمْ قَدْ رَضِيتُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَلَيَّ وَلِيَّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّجُلِ، فَقَالَ: قَدْ رَضِيتَ بِمَا حَكَمَا، قَالَ: لا وَلَكِنِّي أَرْضَى أَنْ يَجْمَعَا، وَلا أَرْضَى أَنْ يُفَرِّقَا، فَقَالَ لَهُ: كَذَبْتَ وَاللَّهِ لا تَبْرَحُ حَتَّى تَرْضَى بِمِثْلِ الَّذِي رَضِيَتْ بِهِ" .
عبیدہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اور ایک عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دو لوگوں کو ثالث مقرر کیا، تو فرمایا: ”ابھی ٹھہرو، میں تمہیں یہ بتا دوں کہ تم پر کیا لازم ہے، کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ تم پر کیا بات لازم ہے؟ تم پر یہ لازم ہے کہ اگر تم دونوں یہ مناسب سمجھو کہ یہ دونوں میاں بیوی اکٹھے رہیں، تو تم ان کے اکٹھے رہنے کا فیصلہ دو، اگر تم یہ مناسب سمجھو کہ ان دونوں میں علیحدگی کروا دی جائے، تو تم ان میں علیحدگی کروا دینا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”یہ دونوں جو فیصلہ کریں گے، تم اس پر راضی ہو گی؟“ اس عورت نے جواب دیا: ”جی ہاں، مجھ پر جو عائد ہوتا ہے اور مجھے جو ملے گا، میں اس کے بارے میں اللہ کی کتاب کے فیصلے پر راضی ہوں۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مرد کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”یہ دونوں ثالث جو فیصلہ کریں گے، تم اس پر راضی ہو گے؟“ اس نے جواب دیا: ”نہیں، اگر یہ دونوں اکٹھے رکھنے کا فیصلہ کریں گے، تو میں راضی ہوں، اور اگر یہ علیحدگی کا فیصلہ کریں گے، تو میں راضی نہیں ہوں گا۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تم نے غلط کہا، اللہ کی قسم! تمہیں بھی اسی طرح راضی ہونا پڑے گا، جس طرح یہ عورت اس پر راضی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3779]
ترقیم العلمیہ: 3723
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4661، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 628، 629، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14900، 14901، 14902، 14903، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3778، 3779، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11883»
«قال ابن حجر: إسناده صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 413)»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں