🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ
باب
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3809 ترقیم الرسالہ : -- 3870
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ بَعْدَ تَطْلِيقَتَيْنِ وَخُلْعٍ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے دوسرے سے میاں بیوی کو اکٹھا کر دیا تھا، جن کے درمیان پہلے دو طلاقیں اور خلع ہو چکا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3870]
ترقیم العلمیہ: 3809
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1453، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3870»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3810 ترقیم الرسالہ : -- 3871
نَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَشْكُو زَوْجَهَا، فَقَالَ: رُدِّي عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ، قَالَتْ: نَعَمْ وَزِيَادَةً، قَالَ: أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلا" ، خَالَفَهُ الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَسْنَدَهُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ. وَالْمُرْسَلُ أَصَحُّ.
عطاء بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے اپنے شوہر کی شکایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کا باغ اسے واپس کر دو (جو اس نے تمہیں مہر میں دیا تھا، اور خلع حاصل کر لو)۔“ وہ عورت بولی: ”ٹھیک ہے، میں اس کے ساتھ مزید بھی دوں گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مزید (ادائیگی) کی ضرورت نہیں ہے۔“ ولید نے ابن جریح کے حوالے سے مختلف سند نقل کی ہے، انہوں نے اسے عطاء کے حوالے سے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے، تاہم اس کا مرسل ہونا درست ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3871]
ترقیم العلمیہ: 3810
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1428، 1435، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14961، 14962، 14963، 14964، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3630، 3871، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11840، 11842، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18829، 18836، وأبو داود فى "المراسيل"، 235، 237، 238»
«قال الدارقطني: أسنده الوليد عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس والمرسل أصح، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 244)»

الحكم على الحديث:
مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3811 ترقیم الرسالہ : -- 3872
نَا نَا ابْنُ صَاعِدٍ، نَا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جُمْهَانَ مَوْلَى الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أُمِّ بَكْرَةَ الأَسْلَمِيَّةِ ،" أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا فِي زَمَانِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَالَ عُثْمَانُ هِيَ تَطْلِيقَةٌ، إِلا أَنْ يَكُونَا سَمَّيَا شَيْئًا فَهُوَ عَلَى مَا سَمَّيَاهُ" .
جمہان بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں سیدہ ام بکرہ اسلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سے خلع حاصل کر لیا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ایک طلاق شمار ہو گی، البتہ اگر ان دونوں نے کچھ اور طے کر لیا ہو، تو وہ ان کے طے کیے ہوئے مطابق (شمار ہو گا)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3872]
ترقیم العلمیہ: 3811
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1446، 1447، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14976، 14981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3872، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11760، 11811، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18743، 18744، 18745، 18763»
«قال أحمد بن حنبل: ضعفه بجمهان، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 415)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3812 ترقیم الرسالہ : -- 3873
ثنا ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نَا هَمَّامٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ" فِي الْمُخْتَلِعَةِ: يَخْتَلِعُ بِمَا دُونَ عِقَاصِ رَأْسِهَا" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”خلع حاصل کرنے والی عورت اپنے پرندے سے کم قیمت والی چیز کے عوض میں بھی خلع حاصل کر سکتی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3873]
ترقیم العلمیہ: 3812
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1432، 1438، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14968، 14969، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3873، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11851، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18741، 18843، 18844»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. مُدَّةُ الْحَمْلِ
باب: حمل کی مدت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3813 ترقیم الرسالہ : -- 3874
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، نَا دَاوُدُ الْعَطَّارُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ جَمِيلَةَ بِنْتِ سَعْدٍ ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" مَا تَزِيدُ الْمَرْأَةِ فِي الْحَمْلِ عَلَى سَنَتَيْنِ قَدْرَ مَا يَتَحَوَّلُ ظِلُّ عُودِ الْمِغْزَلِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”کسی عورت کا حمل دو سال سے زیادہ پیٹ میں نہیں رہ سکتا، خواہ وہ کاتنے کی لکڑی کے سائے جتنا تبدیل ہو جائے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3874]
ترقیم العلمیہ: 3813
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2077، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15651، 15652، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3874، 3875»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3814 ترقیم الرسالہ : -- 3875
نَا نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نَا حَبَّانُ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ جَمِيلَةَ بِنْتِ سَعْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لا يَكُونُ الْحَمْلُ أَكْثَرَ مِنْ سَنَتَيْنِ قَدْرَ مَا يَتَحَوَّلُ ظِلُّ الْمِغْزَلِ" ، وَجُمَيْلَةُ بِنْتُ سَعْدٍ، أُخْتُ عُبَيْدِ بْنِ سَعْدٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”کسی عورت کا حمل دو سال سے زیادہ پیٹ میں نہیں رہ سکتا، خواہ وہ کاتنے کی لکڑی جتنا تبدیل ہو جائے۔“ جمیلہ بنت سعد نامی خاتون، عبید بن سعد کی بہن ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3875]
ترقیم العلمیہ: 3814
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2077، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15651، 15652، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3874، 3875»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3815 ترقیم الرسالہ : -- 3876
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ، نَا ابْنُ نُمَيْرٍ، نَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَشْيَاخٌ مِنَّا، قَالُوا: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ،" إِنِّي غِبْتُ عَنِ امْرَأَتِي سَنَتَيْنِ فَجِئْتُ وَهِيَ حُبْلَى، فَشَاوَرَ عُمَرُ النَّاسَ فِي رَجْمِهَا، قَالَ: فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ كَانَ لَكَ عَلَيْهَا سَبِيلٌ فَلَيْسَ لَكَ عَلَى مَا فِي بَطْنِهَا سَبِيلٌ، فَاتْرُكْهَا حَتَّى تَضَعَ، فَتَرَكَهَا فَوَلَدَتْ غُلامًا قَدْ خَرَجَتْ ثَنَيَاهُ فَعَرَفَ الرَّجُلُ الشَّبَهَ فِيهِ، فَقَالَ: ابْنِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ عُمَرُ عَجَزَتِ النِّسَاءُ أَنْ يَلِدْنَ مثل مُعَاذٍ لَوْلا مُعَاذٌ هَلَكَ عُمَرُ" .
ابوسفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہمارے کچھ بزرگوں نے یہ بات بیان کی ہے: ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”اے امیر المؤمنین! دو سال کے بعد اپنی بیوی کے پاس آیا، تو وہ حاملہ تھی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو سنگسار کرنے کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے امیر المؤمنین! آپ اس عورت کو تو سزا دے سکتے ہیں، لیکن اس کے پیٹ میں موجود بچے کو سزا نہیں دے سکتے، اس لیے آپ اسے اس وقت تک چھوڑے رکھیں، جب تک وہ بچے کو جنم نہ دے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا، اس نے ایک لڑکے کو جنم دیا، جس کے سامنے کے دانت باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں اس شخص کو بچے کی اپنے ساتھ مشابہت کا پتہ چلا، وہ بولا: ”رب کعبہ کی قسم! یہ میرا بیٹا ہے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورتیں اس بات سے عاجز آ گئی ہیں کہ وہ معاذ جیسے بچے کو جنم دیں، اگر معاذ نہ ہوتا، تو عمر ہلاکت کا شکار ہو جاتا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3876]
ترقیم العلمیہ: 3815
تخریج الحدیث: «موضوع، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2076، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15657، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3876، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13454، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 29408»
«‏‏‏‏قال ابن حزم: باطل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 225)»

الحكم على الحديث:
موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3816 ترقیم الرسالہ : -- 3877
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: إِنِّي حُدِّثْتُ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" لا تَزِيدُ الْمَرْأَةُ فِي حَمْلِهَا عَلَى سَنَتَيْنِ قَدْرَ ظِلِّ الْمِغْزَلِ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَنْ يَقُولُ هَذَا؟ هَذِهِ جَارَتُنَا امْرَأَةُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ امْرَأَةُ صِدْقٍ وَزَوْجُهَا رَجُلُ صِدْقٍ، حَمَلَتْ ثَلاثَةَ أَبْطُنٍ فِي اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، تَحْمِلُ كُلَّ بَطْنٍ أَرْبَعَ سِنِينَ" .
ولید بن مسلم بیان کرتے ہیں: میں نے امام مالک سے کہا: مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات بتائی گئی ہے کہ وہ یہ فرماتی ہیں: ”عورت کو زیادہ سے زیادہ دو سال تک حمل رہ سکتا ہے، جتنا چرخے کا سایہ ہوتا ہے۔“ تو امام مالک نے فرمایا: ”سبحان اللہ! کوئی شخص یہ بات کیسے کہہ سکتا ہے؟ یہ ہماری لڑکی، جو محمد بن عجلان کی بیوی ہے، یہ ایک نیک عورت ہے، اس کا شوہر بھی ایک نیک آدمی ہے، اس نے بارہ سال میں تین بچوں کو جنم دیا ہے، جن میں سے ہر ایک بچہ چار سال تک ماں کے پیٹ میں رہا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3877]
ترقیم العلمیہ: 3816
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15652، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3877»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3817 ترقیم الرسالہ : -- 3878
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، نَا ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ، نَا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ. ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ شَدَّادِ بْنِ دَاوُدَ الْمَخْرَمِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، نَا أَبِي، نَا الْمُبَارَكُ بْنُ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" مَشْهُورٌ عِنْدَنَا كَانَتِ امْرَأَةُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ تَحْمِلُ وَتَضَعُ فِي أَرْبَعِ سِنِينَ، وَكَانَتْ تُسَمَّى حَامِلَةَ الْفِيلِ" .
مبارک بن مجاہد بیان کرتے ہیں: ہمارے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ محمد بن عجلان کی اہلیہ چار سال حاملہ رہنے کے بعد بچوں کو جنم دیتی تھیں، اس عورت کا نام ”حاملۃ الفیل“ رکھا گیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3878]
ترقیم العلمیہ: 3817
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15653، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3878»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3818 ترقیم الرسالہ : -- 3879
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نَا أَبُو شُعَيْبٍ صَالِحُ بْنُ عِمْرَانَ الدَّعَّاءُ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ غَسَّانَ، نَا هَاشِمُ بْنُ يَحْيَى الْفَرَّاءُ الْمُجَاشِعِيُّ، قَالَ: بَيْنَمَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ يَوْمًا جَالِسًا، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا يَحْيَى،" ادْعُ لامْرَأَةٍ حُبْلَى مُنْذُ أَرْبَعِ سِنِينَ، قَدْ أَصْبَحَتْ فِي كَرْبٍ شَدِيدٍ فَغَضِبَ مَالِكٌ وَأَطْبَقَ الصُّحُفَ، فَقَالَ: مَا يَرَى الْقَوْمُ إِلا أَنَّا أَنْبِيَاءُ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ هَذِهِ الْمَرْأَةُ إِنْ كَانَ فِي بَطْنِهَا رِيحٌ فَأَخْرِجْهُ عَنْهَا السَّاعَةَ، وَإِنْ كَانَ فِي بَطْنِهَا جَارِيَةٌ فَأَبْدِلْهَا بِهَا غُلامًا، فَإِنَّكَ تَمْحُو مَا تَشَاءُ وَتُثْبِتُ، وَعِنْدَكَ أُمُّ الْكِتَابِ، ثُمَّ رَفَعَ مَالِكٌ يَدَهُ وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ، وَجَاءَ الرَّسُولُ إِلَى الرَّجُلِ، فَقَالَ: أَدْرِكِ امْرَأَتَكَ فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَمَا حَطَّ مَالِكٌ يَدَهُ، حَتَّى طَلَعَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عَلَى رَقَبَتِهِ غُلامٌ جَعْدٌ قَطَطٌ، ابْنُ أَرْبَعِ سِنِينَ، قَدِ اسْتَوَتْ أَسْنَانُهُ مَا قُطِعَتْ سُرَارُهُ" .
ہاشم بن یحییٰ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ مالک بن دینار بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: ”اے ابویحییٰ! اس عورت کے لیے دعا کیجیے، جو چار سال سے حاملہ ہے اور شدید تکلیف میں ہے۔“ تو مالک بن دینار غصہ میں آ گئے، انہوں نے مصحف بند کیا اور بولے: ”یہ لوگ سمجھتے ہیں ہم انبیاء ہیں۔“ پھر انہوں نے کچھ تلاوت کی، پھر دعا کی اور بولے: ”اے اللہ! اگر عورت کے پیٹ میں ہوا ہے، تو اسے ابھی نکال دے اور اگر اس کے پیٹ میں لڑکی ہے، تو اسے لڑکے میں تبدیل کر دے، کیونکہ تو جسے چاہتا ہے مٹا سکتا ہے اور جسے چاہے برقرار رکھ سکتا ہے، ام الکتاب تیرے پاس ہے۔“ پھر مالک بن دینار نے ہاتھ اٹھائے، لوگوں نے بھی ہاتھ اٹھائے، اسی دوران ایک پیغام رساں اس شخص کے پاس آیا اور بولا: ”تم اپنی بیوی کے پاس پہنچو۔“ وہ شخص چلا گیا، ابھی مالک بن دینار نے ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ وہ شخص مسجد کے دروازے سے اندر آیا اور اس نے ایک بچے کو گود میں اٹھا رکھا تھا، جو گھنگریالے بالوں کا مالک تھا، وہ تقریباً چار سال کا تھا، اس کے دانت پورے تھے، لیکن اس کی نال نہیں کاٹی گئی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3879]
ترقیم العلمیہ: 3818
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15656، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3879»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں