سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
10. بَابُ الْمَرْأَةِ تُظَاهِرُ
باب: ظہار کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3800 ترقیم الرسالہ : -- 3860
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، قَالَ: كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ" .
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ ظہار کرنے والے شخص کے بارے میں جو کفارہ ادا کرنے سے پہلے (عورت کے ساتھ) صحبت کر لیتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس کا کفارہ ایک ہی ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3860]
ترقیم العلمیہ: 3800
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 804، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2378، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2831، 2832، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2213، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1198، 1200، 3299،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2062، 2064، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3854، 3856، 3859، 3860، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16681»
«قال البخاري: أعله بالانقطاع وأن سليمان لم يدرك سلمة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 444)»
«قال البخاري: أعله بالانقطاع وأن سليمان لم يدرك سلمة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 444)»
الحكم على الحديث:
منقطع
ترقیم العلمیہ : 3801 ترقیم الرسالہ : -- 3861
نَا نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، حَدَّثَنِي جَدِّي، حَدَّثَنِي أَبِي، نَا أَبُو جُرَيٍّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " مَنْ شَاءَ بَاهَلْتُهُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلأَمَةِ ظِهَارٌ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جو شخص چاہے، میں اس کے ساتھ اس مسئلہ پر مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں کہ کنیز کے ساتھ ظہار نہیں ہوتا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3861]
ترقیم العلمیہ: 3801
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15348، 15349، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3861، 3863»
ترقیم العلمیہ : 3802 ترقیم الرسالہ : -- 3862
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" لا ظِهَارَ مِنَ الأَمَةِ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”کنیز کے ساتھ ظہار نہیں ہوتا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3862]
ترقیم العلمیہ: 3802
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15347، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3862»
ترقیم العلمیہ : 3802/1 ترقیم الرسالہ : -- 3863
وَنا وَنا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَيْسَ فِي الأَمَةِ ظِهَارٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”کنیز کے ساتھ ظہار نہیں ہوتا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3863]
ترقیم العلمیہ: 3802/1
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15348، 15349، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3861، 3863»
ترقیم العلمیہ : 3803 ترقیم الرسالہ : -- 3864
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سُئِلَ" عَنْ رَجُلٍ ظَاهَرَ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ، قَالَ: كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی چار بیویوں کے ساتھ ظہار کر لیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”اس کا کفارہ ایک ہی ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3864]
ترقیم العلمیہ: 3803
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1831، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15352، 15353، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3864، 3865، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11566، 11567»
ترقیم العلمیہ : 3804 ترقیم الرسالہ : -- 3865
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ:" إِذَا كَانَ تَحْتَ الرَّجُلِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَظَاهَرَ مِنْهُنَّ، تُجْزِيهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کی چار بیویاں ہوں اور وہ ان سب کے ساتھ ظہار کرے، تو اسے ایک ہی کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3865]
ترقیم العلمیہ: 3804
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1831، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15352، 15353، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3864، 3865، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11566، 11567»
ترقیم العلمیہ : 3805 ترقیم الرسالہ : -- 3866
نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ، وَالْمُغِيرَةِ، وَحُصَيْنٌ، قَالُوا: سَمِعْنَا الشَّعْبِيَّ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ: إِنْ تَزَوَّجْتُ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَهُوَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أَبِي، فَسَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ، فَأُمِرَتْ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً وَتَتَزَوَّجَهُ" .
عائشہ بنت طلحہ بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: ”اگر میں مصعب بن زبیر کے ساتھ شادی کر لوں، وہ میرے لیے میرے والد کی پشت (کی طرح قابل احترام) ہوں۔“ پھر انہوں نے اس کا حکم دریافت کیا، تو انہیں ایک غلام آزاد کرنے کی ہدایت کی گئی، پھر انہوں نے مصعب بن زبیر کے ساتھ شادی کر لی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3866]
ترقیم العلمیہ: 3805
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1848، 1851، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3866»
11. بَابُ
باب
ترقیم العلمیہ : 3806 ترقیم الرسالہ : -- 3867
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، نَا مُعَلَّى، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، نَا مُغِيرَةُ، حَدَّثَنِي قُثَمُ مَوْلَى عَبَّاسٍ، قَالَ:" تَزَوَّجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ابْنَةَ عَلِيٍّ، وَامْرَأَةَ عَلِيٍّ النَّهْشَلِيَّةَ" .
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایک صاحبزادی کے ساتھ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایک اہلیہ، جو نہشل قبیلہ سے تعلق رکھتی تھیں، کے ساتھ شادی کر لی تھی (یعنی انہوں نے ایک لڑکی اور اس کی سوتیلی ماں کے ساتھ شادی کی تھی)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3867]
ترقیم العلمیہ: 3806
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1010، 1011، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14063، 14064، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3867، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13965، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16671»
ترقیم العلمیہ : 3807 ترقیم الرسالہ : -- 3868
نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدٌ، نَا مُعَلَّى، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ،" أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، يُقَالُ لَهُ: جَبَلَةُ جَمَعَ بَيْنَ امْرَأَةِ رَجُلٍ، وَابْنَةٍ مِنْ غَيْرِهَا" ، قَالَ أَيُّوبُ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَكْرَهُهُ.
محمد نامی راوی بیان کرتے ہیں: مصر سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی، جن کا نام حبلہ تھا، انہوں نے ایک شخص کی بیوی اور اس شخص کی دوسری بیوی سے بیٹی کے ساتھ شادی کر لی تھی۔ ایوب نامی راوی بیان کرتے ہیں: حسن بصری نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3868]
ترقیم العلمیہ: 3807
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم:3868، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 3808 ترقیم الرسالہ : -- 3869
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، نَا أَبُو حُذَيْفَةَ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" الْخُلْعُ فُرْقَةٌ، وَلَيْسَ بِطَلاقٍ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”خلع علیحدگی ہوتا ہے، یہ طلاق نہیں ہوتا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3869]
ترقیم العلمیہ: 3808
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3869، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18766، 19566»
«قال ابن حجر: إسناده صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 415)»
«قال ابن حجر: إسناده صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 415)»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح