🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ
باب
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3790 ترقیم الرسالہ : -- 3850
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالُوا: نَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: اخْتَصَمَ سَعْدٌ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ، فَقَالَ: إِذَا دَخَلْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَخِي، ابْنُ أَمَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ" ، تَابَعَهُ مَالِكٌ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، وَابْنُ إِسْحَاقَ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَعَقِيلٌ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَيُونُسُ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ وَغَيْرُهُمْ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ، وَمَعْمَرٍ، وَاللَّيْثِ، وَصَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، وَابْنِ إِسْحَاقَ، وَغَيْرِهِمْ: فَمَا رَأَى سَوْدَةَ قَطُّ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے زمعہ کی کنیز کے بیٹے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے بھائی عتبہ نے مجھے (اس بچے کو اپنی سرپرستی میں) لینے کی ہدایت کی تھی، اس نے کہا تھا: جب تم مکہ میں داخل ہو جاؤ، تو زمعہ کی کنیز کے بیٹے کو حاصل کر لینا، کیونکہ وہ میری (ناجائز) اولاد ہے۔“ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! (وہ لڑکا) میرا بھائی ہے، جو میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس بچے) کو عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت ملاحظہ کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد زمعہ! یہ تمہیں ملے گا، کیونکہ اولاد صاحب فراش کی شمار ہوتی ہے۔“ اور ”اے سودہ بنت زمعہ! تم اس سے پردہ کرو۔“ امام مالک، صالح بن کیسان، ابن اسحاق، شعیب بن ابوحمزہ، ابن جریج، عقیل، زہری کا بھتیجا، معمر بن راشد، یونس، لیث بن سعد، سفیان بن حسین اور دیگر راویوں نے اس کی متابعت کی ہے۔ مالک، معمر، لیث، صالح بن کیسان، ابن اسحاق اور دیگر راویوں کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اس کے بعد اس بچے نے زندگی بھر کبھی بھی سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3850]
ترقیم العلمیہ: 3790
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2053، 2218، 2421، 2533، 2745، 4303، 6749، 6765، 6817، 7182، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1457، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1349، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4105، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3486، 3487، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5648، 5651، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2273، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2004، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3850، 4590، 4591، 4592، 4593، 4594، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24720، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 240، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17980»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3791 ترقیم الرسالہ : -- 3851
نَا نَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، نَا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الصَّدَفِيُّ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:" ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا سورة النساء آية 3، قَالَ: ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ لا يُكْثِرَ مَنْ تَعُولُونَهُ" .
زید بن اسلم رحمہ اللہ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، ”ذلك أدنى ألا تعولوا“ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگ زیادہ نہ ہوں جو تمہارے زیر کفالت ہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3851]
ترقیم العلمیہ: 3791
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15790، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3851»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3792 ترقیم الرسالہ : -- 3852
نَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَخْرَمِيُّ ، نَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِنْ شَاءَتْ" ، لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ أَبِي مَالِكٍ النَّخَعِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَمَحْبُوبٌ هَذَا ضَعِيفٌ أَيْضًا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیوہ کو یہ ہدایت کی تھی: ”اگر وہ چاہے، تو اپنی عدت اپنے گھر کے علاوہ (کسی دوسری جگہ) بسر کر سکتی ہے۔“ اس روایت کو صرف ابومالک نخعی نے سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور یہ راوی ضعیف ہے، محبوب نامی راوی بھی ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3852]
ترقیم العلمیہ: 3792
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، و أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم:3852، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«»
«قال الدارقطني: لم يسنده غير أبي مالك النخعي وهو ضعيف ومحبوب هذا أيضا ضعيف، سنن الدارقطني: (4 / 488) برقم: (3852)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3793 ترقیم الرسالہ : -- 3853
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الأَشْعَثِ ، بِدِمَشْقَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ قَتَادَةَ عَنِ الظِّهَارِ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنَّ أَوْسَ بْنَ الصَّامِتِ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ خُوَيْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: ظَاهَرَنِي حِينَ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الظِّهَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لأَوْسٍ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً، قَالَ: مَالِي بِذَلِكَ يَدَانِ، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: أَمَّا إِنِّي إِذَا أَخْطَأَنِي أَنْ آكُلَ فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ يَكِلُّ بَصَرِي، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قَالَ: لا أَجِدُ إِلا أَنْ تُعِينَنِي مِنْكَ بِعَوْنٍ وَصِلَةٍ، قَالَ: فَأَعَانَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ لَهُ، وَاللَّهُ رَحِيمٌ، قَالَ: وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ مِثْلَهَا، وَذَلِكَ لِسِتِّينَ مِسْكِينًا" .
سعید بن بشیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے قتادہ سے ظہار کے بارے میں دریافت کیا، تو قتادہ نے بتایا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے: سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ظہار کر لیا، اس خاتون نے اس بات کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی اور بولی: ”انہوں نے اس وقت میرے ساتھ ظہار کر لیا ہے، جب میری عمر زیادہ ہو گئی، ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے ظہار کے متعلق آیت نازل کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اوس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: ”تم ایک غلام آزاد کرو۔“ انہوں نے عرض کی: ”میرے پاس اس کی گنجائش نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو۔“ انہوں نے عرض کی: ”میری یہ حالت ہے کہ اگر میں ایک دن (کسی وقت) کھانا نہ کھا سکوں، تو میری نظر متاثر ہوتی ہے (یعنی کمزور بڑھ جاتی ہے)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ انہوں نے عرض کی: ”میری یہ حیثیت بھی نہیں ہے، البتہ اگر آپ میری مدد کریں اور صلہ رحمی سے کام لیں (تو میں ایسا کر سکتا ہوں)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ صاع مدد کے طور پر انہیں دیے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جمع کر دیا، اور اللہ نہایت رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں: لوگ یہ سمجھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ مقدار ہے، کیونکہ یہ اناج ساٹھ مسکینوں کے لیے تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3853]
ترقیم العلمیہ: 3793
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم:3853، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3794 ترقیم الرسالہ : -- 3854
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَعْطَاهُ مِكْتَلا فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، فَقَالَ: أَطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا، وَذَلِكَ لِكُلِّ مِسْكِينًا مُدٌّ" .
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک برتن دیا، جس میں پندرہ صاع (اناج) تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) اس طرح ہر مسکین کو ایک مد ملا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3854]
ترقیم العلمیہ: 3794
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 804، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2378، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2831، 2832، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2213، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1198، 1200، 3299،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2062، 2064، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3854، 3856، 3859، 3860، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16681»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ الْمَرْأَةِ تُظَاهِرُ
 باب: ظہار کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3795 ترقیم الرسالہ : -- 3855
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ ، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَجُلا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، فَرَأَى بَيَاضَ الْخَلْخَالِ فِي السَّاقِ فِي الْقَمَرِ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ يَقُولُ: مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا سورة المجادلة آية 3، أَمْسِكْ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ حَتَّى تُكَفِّرَ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ظہار کیا۔ پھر انہوں نے چاندنی رات میں اس عورت کی پنڈلی کی چمک دیکھی، تو (خود پر قابونہ پا سکے) اور اس کے ساتھ صحبت کر لی۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا: ان دونوں کے ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے (کفارہ ادا کرنا ہو گا)؟“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اب جب تک تم کفارہ ادا نہیں کرتے، اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہ کرنا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3855]
ترقیم العلمیہ: 3795
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 807، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 321، 322، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2833، 2834، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2219، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3459، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5622، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1199، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2065، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3855»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 445)»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3796 ترقیم الرسالہ : -- 3856
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ، أَنْ يَأْتِيَ بَنِي فُلانٍ فَيَأْخُذَ مِنْهُمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ، فَيُعْطِيَهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا" .
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ بنو فلان کے پاس جا کر ان سے ایک وسق کھجوریں وصول کر لیں اور وہ (ایک وسق) ساٹھ مسکینوں کو دے دیں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3856]
ترقیم العلمیہ: 3796
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 804، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2378، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2831، 2832، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2213، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1198، 1200، 3299،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2062، 2064، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3854، 3856، 3859، 3860، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16681»
«‏‏‏‏قال البخاري: أعله بالانقطاع وأن سليمان لم يدرك سلمة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 444)»

الحكم على الحديث:
منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3797 ترقیم الرسالہ : -- 3857
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَالْمَيْمُونِيُّ، قَالا: نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، نَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمَطَرٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ " فِي الْمُظَاهِرِ إِذَا وَطِئَ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ عَلَيْهِ كَفَّارَتَانِ" ،.
ظہار کرنے والے شخص کے بارے میں سیدنا عمر بن العاص رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں: ”اگر وہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے صحبت کر لیتا ہے، تو اس پر دو کفاروں کی ادائیگی لازم ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3857]
ترقیم العلمیہ: 3797
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم:3857، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3798 ترقیم الرسالہ : -- 3858
نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ:" عَلَيْهِ كَفَّارَتَانِ".
قبیصہ بن ذویب فرماتے ہیں: ”ایسے شخص پر دو کفاروں کی ادائیگی لازم ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3858]
ترقیم العلمیہ: 3798
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم:3858، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3799 ترقیم الرسالہ : -- 3859
نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ ،" أَنَّهُ ظَاهَرَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ، قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ تَكْفِيرًا وَاحِدًا" .
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے انہوں نے اس خاتون کے ساتھ صحبت بھی کر لی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ ایک ہی کفارہ ادا کریں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3859]
ترقیم العلمیہ: 3799
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 804، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2378، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2831، 2832، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2213، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1198، 1200، 3299،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2062، 2064، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3854، 3856، 3859، 3860، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16681»
«‏‏‏‏قال البخاري: أعله بالانقطاع وأن سليمان لم يدرك سلمة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 444)»

الحكم على الحديث:
منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں