🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ أَحْكَامِ النِّكَاحِ
باب: نکاح کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3516 ترقیم الرسالہ : -- 3571
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، قَالا: نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نَا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ بِابْنَتِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَذِهِ ابْنَتِي أَبَتْ أَنْ تَزَوَّجَ، فَقَالَ: أَطِيعِي أَبَاكِ أَتَدْرِينَ مَا حَقَّ الزَّوْجُ عَلَى الزَّوْجَةِ؟ لَوْ كَانَ بِأَنْفِهِ قُرْحَةٌ تَسِيلُ قَيْحًا وَصَدِيدًا لَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ لا نَكَحْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تُنْكِحُوهُنَّ إِلا بِإِذْنِهِنَّ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: ”میری بیٹی شادی کرنے سے انکار کر رہی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے باپ کا حکم مان لو، کیا تم جانتی ہو؟ شوہر کا بیوی پر حق کیا ہے؟ اگر شوہر کی ناک میں پھوڑا نکل آئے، جس میں سے پیپ اور مواد خارج ہوتا ہو اور عورت زبان کے ذریعے اس کو چاٹ لے، تو بھی وہ شوہر کا حق ادا نہیں کرے گی۔“ تو اس خاتون نے عرض کی: ”اس ذات کی قسم، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں تو شادی نہیں کروں گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان (لڑکیوں) کی شادی ان کی مرضی کے ساتھ کرو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3571]
ترقیم العلمیہ: 3516
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4164، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2783، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5365، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14824، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3571، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17407»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3517 ترقیم الرسالہ : -- 3572
نَا نَا أَبُو طَاهِرٍ الْقَاضِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ ، نَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عِقَابٍ، وَأَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَقَالَ:" امْرَأَةٌ أَنَا وَلِيُّهَا تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِي، فَقَالَ عَلِيُّ عَلَيْهِ السَّلامُ:" تَنْظُرُ فِيمَا صَنَعَتْ إِذَا كَانَتْ تَزَوَّجَتْ كُفُؤًا أَجَزْنَا ذَلِكَ لَهَا، وَإِنْ كَانَتْ تَزَوَّجَتْ مَنْ لَيْسَ لَهَا بِكُفُؤٍ جَعَلْنَا ذَلِكَ إِلَيْكَ" .
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”ایک لڑکی ہے، میں اس کا ولی ہوں، اس نے میری اجازت کے بغیر شادی کر لی ہے۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس لڑکی نے جو حرکت کی ہے، اس کے بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ اگر اس نے کفو میں شادی کی ہے، تو ہم اسے برقرار رکھیں گے، اور اگر اس نے کسی ایسے شخص کے ساتھ شادی کی ہے، جو اس کا کفو نہیں ہے، تو ہم (اسے برقرار رکھنے یا کالعدم کرنے کا اختیار) تمہیں دیں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3572]
ترقیم العلمیہ: 3517
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3572، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3518 ترقیم الرسالہ : -- 3573
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُوهُسْتَانِيُّ نَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ ، أنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَلِلثَّيِّبِ نَصِيبٌ مِنْ أَمْرِهَا مَا لَمْ تَدْعُ إِلَى سَخْطَةٍ، فَإِنْ دَعَتْ إِلَى سَخْطَةٍ، وَكَانَ أَوْلِيَاؤُهَا يَدْعُونَ إِلَى الرِّضَا، رُفِعَ ذَلِكَ إِلَى السُّلْطَانِ" ، قَالَ إِسْحَاقُ: قُلْتُ لِعِيسَى: آخِرُ الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: هَكَذَا الْحَدِيثُ فَلا أَدْرِي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کنواری لڑکی کی شادی اس وقت تک نہ کی جائے، جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے، اور ثیبہ کو اپنی ذات کے بارے میں اختیار ہے، جب تک وہ ناراضگی کی طرف دعوت نہ دے، اگر وہ ناراضگی کی طرف بلاتی ہے اور اس کے سرپرست رضامندی کی طرف بلاتے ہیں، تو یہ مقدمہ حاکم وقت کے سامنے پیش ہو گا۔“ اسحاق کہتے ہیں: میں نے عیسیٰ سے دریافت کیا: روایت کا آخری حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”مجھے نہیں پتہ، ویسے روایت اسی طرح ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3573]
ترقیم العلمیہ: 3518
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5136، 6968، 6970، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1419، 1419، وابن الجارود فى "المنتقى"، 767، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3267، برقم: 3269، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5357، 5358، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2092، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1107، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2232، 2233، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1871، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3573، 3574، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7252»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3519 ترقیم الرسالہ : -- 3574
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْحَنَفِيُّ ، نَا عَبْدَانُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے، جب تک اس کی مرضی نہ معلوم کر لی جائے، اور کنواری کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے، جب تک اس سے اذن نہ لیا جائے، اور اس کا اذن خاموشی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3574]
ترقیم العلمیہ: 3519
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5136، 6968، 6970، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1419، 1419، وابن الجارود فى "المنتقى"، 767، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3267، برقم: 3269، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5357، 5358، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2092، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1107، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2232، 2233، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1871، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3573، 3574، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7252»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3520 ترقیم الرسالہ : -- 3575
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الأَيِّمُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا، وَالْيَتِيمَةُ تَسْتَأْمِرُهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا" ، أَنَّ تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ. وَخَالَفَهُمَا مَعْمَرٌ فِي إِسْنَادِهِ فَأَسْقَطَ مِنْهُ رَجُلا، وَخَالَفَهُمَا أَيْضًا فِي مَتْنِهِ فَأَتَى بِلَفْظٍ آخَرَ وَهِمَ فِيهِ، لأَنَّ كُلِّ مَنْ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، وَكُلِّ مَنْ رَوَاهُ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ خَالَفُوا مَعْمَرًا، وَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى خِلافِهِ دَلِيلٌ عَلَى وَهْمِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) اپنے معاملے کی زیادہ حق دار ہے، اور کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی، اس کا اذن اس کی خاموشی ہے۔“ سعید بن سلمہ نے صالح بن کیسان کے حوالے سے اس کی متابعت کی ہے۔ معمر نے اس کی سند میں ان دونوں سے مختلف بات بیان کی ہے، انہوں نے سند میں سے ایک شخص کا ذکر ساقط کر دیا ہے، اسی طرح معمر نے اس روایت کے متن میں بھی ان دونوں سے مختلف بات نقل کی ہے اور روایت کو دوسرے الفاظ میں نقل کیا ہے، تاہم اس میں انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ ہر وہ راوی، جس نے اسے عبداللہ بن فضل کے حوالے سے نقل کیا ہے، اور ہر وہ راوی، جس نے اسے عبداللہ بن فضل کے ساتھ نافع بن جبیر سے نقل کیا ہے، ان سب نے معمر سے مختلف روایت نقل کی ہے، اور ان سب راویوں کا معمر سے مختلف روایت کرنے پر اتفاق کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ معمر کو اس بارے میں وہم ہوا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3575]
ترقیم العلمیہ: 3520
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3521 ترقیم الرسالہ : -- 3576
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت لی جائے گی، اس کی اجازت خاموشی ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3576]
ترقیم العلمیہ: 3521
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3521/1 ترقیم الرسالہ : -- 3577
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ سَوَاءً.
عبداللہ بن رجاء نے اپنی اسناد کے ذریعے یہی روایت (مذکورہ بالا حدیث) بیان کی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3577]
ترقیم العلمیہ: 3521/1
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3522 ترقیم الرسالہ : -- 3578
نَا الْمَحَامِلِيُّ وَالنَّيْسَابُورِيُّ قَالا: نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْذَنُ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی کو ثیبہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے، اور کنواری سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3578]
ترقیم العلمیہ: 3522
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3523 ترقیم الرسالہ : -- 3579
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَصَمْتُهَا رِضَاهَا" ، كَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ صَالِحٍ وَالَّذِي قَبْلَهُ أَصَحُّ فِي الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ، لأَنَّ صَالِحًا لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْهُ، اتَّفَقَ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَسَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ صَالِحٍ، سَمِعْتُ النَّيْسَابُورِيَّ، يَقُولُ: الَّذِي عِنْدِي أَنَّ مَعْمَرًا أَخْطَأَ فِيهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی کو ثیبہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہوتا، اور کنواری سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی خاموشی اس کی رضا ہو گی۔“ معمر نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے، اس سے پہلے جو روایت گزر چکی ہے، وہ سند اور متن کے اعتبار سے زیادہ درست ہے، کیونکہ صالح نامی راوی نے اسے نافع بن جبیر سے نہیں سنا ہے، انہوں نے اسے عبداللہ بن فضل سے سنا ہے، اس بارے میں صالح سے نقل کرنے میں ابن اسحاق اور سعید بن سلمہ متفق ہیں۔ میں نے شیخ ابوبکر نیشاپوری کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے نزدیک اس بارے میں معمر نے غلطی کی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3579]
ترقیم العلمیہ: 3523
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3524 ترقیم الرسالہ : -- 3580
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّيْدَلانِيُّ بِوَاسِطَ مِنْ أَصْلِهِ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، وَصُمُوتُهَا رِضَاهَا" ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَالِكٍ نَحْوَ هَذَا اللَّفْظِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی، اور اس کی خاموشی اس کی رضامندی شمار ہو گی۔“ ابوداؤد طیالسی نے اپنی سند کے ساتھ اسے اسی طرح نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3580]
ترقیم العلمیہ: 3524
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3580، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں