سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب في الأقضية والأحكام
(عدالتی) فیصلوں اور احکام وغیرہ کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4387 ترقیم الرسالہ : -- 4467
وَبِهِ وَبِهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتُلِيَ بِالْقَضَاءِ بَيْنَ النَّاسِ فَلا يَرْفَعَنَّ صَوْتَهُ عَلَى أَحَدِ الْخَصْمَيْنِ مَا لا يَرْفَعُ عَلَى الآخَرِ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے، وہ مقدمے کے دونوں فریقوں میں سے کسی کے سامنے بھی اپنی آواز بلند نہ کرے، جب تک وہ دوسرے فریق کے سامنے بھی آواز بلند نہیں کرتا (یعنی دونوں کے ساتھ برابری کا برتاؤ کرے)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4467]
ترقیم العلمیہ: 4387
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20520، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4466، 4467، 4468»
«قال ابن حجر: في إسناده عباد بن كثير وهو ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 354)»
«قال ابن حجر: في إسناده عباد بن كثير وهو ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 354)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4388 ترقیم الرسالہ : -- 4468
وَبِإِسْنَادِهِ وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتُلِيَ بِالْقَضَاءِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، فَلا يَقْضِيَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کو مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے، وہ غصے کے عالم میں دو فریقوں کے درمیان فیصلہ نہ دے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4468]
ترقیم العلمیہ: 4388
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20520، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4466، 4467، 4468»
«قال ابن حجر: في إسناده عباد بن كثير وهو ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 354)»
«قال ابن حجر: في إسناده عباد بن كثير وهو ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 354)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4389 ترقیم الرسالہ : -- 4469
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنِ ابْنِ جَوْشَنٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ،" أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ وَهُوَ قَاضِي بِسِجِسْتَانَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لا يَقْضِيَنَّ الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ، وَلا يَقْضِيَنَّ فِي أَمْرٍ قَضَائَيْنِ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے سجستان میں موجود اپنے بیٹے کو، جو قاضی تھا، اسے خط میں یہ لکھا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’کوئی بھی قاضی دو آدمیوں کے درمیان غصے کے عالم میں فیصلہ نہ کرے اور کسی ایک معاملے میں دو فیصلے نہ دے۔‘“ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4469]
ترقیم العلمیہ: 4389
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 7158، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1717،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5063، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3589، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1334، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2316، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4469، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20706،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 810، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 731، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 23424، 23426»
«قال ابن الملقن: هذا الحديث صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 570)»
«قال ابن الملقن: هذا الحديث صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 570)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 4390 ترقیم الرسالہ : -- 4470
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ثَابِتٍ الْبَزَّازُ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ عَاصِمٍ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَقْضِي الْقَاضِي إِلا وَهُوَ شَبْعَانُ رَيَّانُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فیصلہ کرنے والا شخص اس وقت فیصلہ دے جب وہ سیر ہو اور کھا پی چکا ہو (یعنی بے چینی اور بے قراری یا ذہنی انتشار کے عالم میں فیصلہ نہ دے)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4470]
ترقیم العلمیہ: 4390
تخریج الحدیث: «ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20341، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4470، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2178، وأخرجه الطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 4603»
«قال ابن حجر: وفيه القاسم العمري وهو متهم بالوضع، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 347)»
«قال ابن حجر: وفيه القاسم العمري وهو متهم بالوضع، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 347)»
الحكم على الحديث: ضعيف
2. كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
باب: حضرت عمر (رض) کا حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے نام مکتوب
ترقیم العلمیہ : 4391 ترقیم الرسالہ : -- 4471
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ النُّعْمَانِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ" أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ، فَافْهَمْ إِذَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ بِحُجَّةٍ، وَأَنْفِذِ الْحَقَّ إِذَا وَضَحَ، فَإِنَّهُ لا يَنْفَعُ تَكَلُّمٌ بِحَقٍّ لا نَفَاذَ لَهُ، وَآسِ بَيْنَ النَّاسِ فِي وَجْهِكَ، وَمَجْلِسِكَ، وَعَدْلِكَ، حَتَّى لا يَيْأَسَ الضَّعِيفُ مِنْ عَدْلِكَ، وَلا يَطْمَعُ الشَّرِيفُ فِي حَيْفِكَ، الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلالا، لا يَمْنَعْكُ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالأَمْسِ رَاجَعْتَ فِيهِ نَفْسَكَ وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ وَمُرَاجَعَةَ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ، الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا يَخْتَلِجُ فِي صَدْرِكَ مِمَّا لَمْ يَبْلُغْكَ فِي الْكِتَابِ أَوِ السُّنَّةِ، اعْرِفِ الأَمْثَالَ وَالأَشْبَاهَ، ثُمَّ قِسِ الأُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ فَاعْمَدْ إِلَى أَحَبِّهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأَشْبَهِهَا بِالْحَقِّ فِيمَا تَرَى، وَاجْعَلْ لِمَنِ ادَّعَى بَيِّنَةً أَمَدًا يَنْتَهِي إِلَيْهِ، فَإِنْ أَحْضَرَ بَيِّنَةً أَخَذَ بِحَقِّهِ وَإِلا وَجَّهْتَ الْقَضَاءَ عَلَيْهِ فَإِنَّ ذَلِكَ أَجْلَى لِلْعَمَى وَأَبْلَغُ فِي الْعُذْرِ، الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلا مَجْلُودٌ فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبٌ فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظِنِّينٌ فِي وَلاءٍ، أَوْ قَرَابَةٍ، إِنَّ اللَّهَ تَوَلَّى مِنْكُمُ السَّرَائِرَ وَدَرَأَ عَنْكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، وَإِيَّاكَ وَالْقَلَقَ، وَالضَّجَرَ، وَالتَّأَذِّيَ بِالنَّاسِ، وَالتَّنَكُّرَ لِلْخُصُومِ فِي مَوَاطِنَ الْحَقِّ الَّتِي يُوجِبُ اللَّهُ بِهَا الأَجْرَ وَيُحْسِنُ بِهَا الذُّخْرَ، فَإِنَّهُ مَنْ يُصْلِحُ نِيَّتَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ وَلَوْ عَلَى نَفْسِهِ يَكْفِهِ اللَّهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنْ تَزَيَّنَ لِلنَّاسِ بِمَا يَعْلَمُ اللَّهُ ذَلِكَ يَشِنْهُ اللَّهُ، فَمَا ظَنُّكَ بِثَوَابِ غَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي عَاجِلِ رِزْقِهِ وَخَزَائِنِ رَحْمَتِهِ، وَالسَّلامُ عَلَيْكَ" .
ابوالملیح ہذلی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں یہ تحریر تھا: (امابعد!) قضا ایک ایسا فریضہ ہے جو انتہائی ضروری ہے اور ایک ایسا طریقہ ہے جسے برقرار رہنا چاہیے۔ تو جب تمہارے سامنے ثبوت آ جائے، حق واضح ہو جائے تو تم اسے نافذ کر دو اور ایسے حق کے بارے میں کلام کرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا جسے نافذ نہ کیا جا سکے۔ تم لوگوں کے ساتھ برابری کی سطح پر بیٹھو، انہیں برابر سمجھو یہاں تک کہ کوئی کمزور شخص تمہاری امید و انصاف سے ناامید نہ ہو اور کوئی صاحب حیثیت شخص تم سے کسی زیادتی کی امید نہ رکھے۔ ثبوت پیش کرنا اس شخص پر لازم ہو گا جو دعویٰ کرتا ہے اور قسم اٹھانا اس پر لازم ہو گا جو اس کا انکار کرتا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان صلح کروا دینا جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حرام چیز کو حلال کر دے اور حلال چیز کو حرام قرار دے۔ اگلے دن فیصلہ کرتے ہوئے یہ چیز تمہارے لیے رکاوٹ نہ بنے کہ تم نے اس کے بارے میں دوبارہ غور و فکر کیا اور تمہیں اس مسئلے کا کوئی نیا حل سمجھ میں آ گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نے حق کی طرف رجوع کرنا ہے، حق قدیم ہوتا ہے اور حق کی طرف واپس چلے جانا، باطل کو مسلسل کرتے رہنے سے زیادہ بہتر ہے۔ سمجھ سے کام لینا، ہر اس چیز کے بارے میں جس کے بارے میں تمہارے ذہن میں کھٹکا ہو، اور اس بارے میں تم تک کتاب یا سنت کا کوئی حکم نہ پہنچ چکا ہو، تو ایسی صورت میں اس کی مانند دوسری صورتوں کو سامنے رکھنا اور احکام کو قیاس کرنا اور اس کو ترجیح دینا، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ محسوس ہو اور حق سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو، تمہاری رائے کے مطابق۔ جس شخص نے دعویٰ کیا ہو، اگر وہ ثبوت پیش کرنے کے لیے مہلت مانگے تو اسے ثبوت پیش کرنے کے لیے مہلت دو اور اگر ثبوت پیش ہو جائے تو اس کے حق کے مطابق فیصلہ دو، اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس شخص کے خلاف فیصلہ دے دو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صورت حال نابینا شخص کے لیے بھی واضح ہو گئی ہے اور عذر کے حوالے سے زیادہ بلیغ ہے۔ ہر مسلمان عادل ہے، وہ ایک دوسرے سے متعلق ہیں، البتہ جس شخص کو حد کی سزا کے طور پر کوڑے لگائے گئے ہوں یا جس شخص کے بارے میں تجربہ یہ ہو کہ وہ جھوٹی گواہی دیتا ہے، یا جس کے بارے میں یہ گمان ہو کہ وہ ولی ہونے کی وجہ سے یا رشتہ داری کی وجہ سے (جھوٹی گواہی دے رہا ہے) تو اس کا خیال رکھنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باطن کی چیزوں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے لیکن ثبوت کی بنیاد پر تم پر سزا کو تم سے دور کیا جائے گا۔ اور ہاں لوگوں کو پریشان کرنے اور انہیں ستانے سے گریز کرنا اور ایسی جگہ کے بارے میں حق کے حوالے سے مخاصمت سے گریز کرنا، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اجر کو واجب کر دے گا، یہ چیز تمہارے لیے ذخیرہ آخرت بن جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان معاملے میں جس شخص کی نیت ٹھیک ہو گی، اگرچہ وہ چیز انسان کے اپنے خلاف کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس شخص کو لوگوں کے حوالے سے ضرر پہنچنے سے محفوظ رکھے گا اور جو لوگوں کے بارے میں آراستہ ہو گا، لیکن اللہ تعالیٰ کا اس کے بارے میں علم مختلف ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر دے گا۔ تو تم نے اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی دوسرے سے اجر کیوں حاصل کرنا ہے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فوری رزق بھی عطا فرماتا ہے اور اپنی رحمت کے خزانے بھی عطا فرماتا ہے اور تم پر سلام ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4471]
ترقیم العلمیہ: 4391
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20888، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4471»
«قال الزیلعي: وعبد الله بن أبي حميد ضعيف، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 81)»
«قال الزیلعي: وعبد الله بن أبي حميد ضعيف، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 81)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4392 ترقیم الرسالہ : -- 4472
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، نَا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، وَأَخْرَجَ الْكِتَابَ، فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ ، ثُمَّ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ" مِنْ هَاهُنَا إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ، فَافْهَمْ إِذَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ فَإِنَّهُ لا يَنْفَعُ تَكَلُّمٌ بِحَقٍّ لا نَفَاذَ لَهُ، آسِ بَيْنَ النَّاسِ فِي مَجْلِسِكَ، وَوَجْهِكَ وَعَدْلِكَ، حَتَّى لا يَطْمَعَ شَرِيفٌ فِي حَيْفِكَ، وَلا يَخَافَ ضَعِيفٌ جَوْرَكَ، الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلالا، لا يَمْنَعْكَ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالأَمْسِ رَاجَعْتَ فِيهِ نَفْسَكَ وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ، وَإِنَّ الْحَقَّ لا يُبْطِلُهُ شَيْءٌ وَمُرَاجَعَةَ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ، الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا يَخْتَلِجُ عِنْدَ ذَلِكَ فَاعْمَدْ إِلَى أَحَبِّهَا إِلَى اللَّهِ وَأَشْبَهِهَا بِالْحَقِّ فِيمَا تَرَى وَاجْعَلْ لِلْمُدَّعِي أَمَدًا يَنْتَهِي إِلَيْهِ فَإِنْ أَحْضَرَ بَيِّنَةً وَإِلا وَجَّهْتَ عَلَيْهِ الْقَضَاءَ، فَإِنَّ ذَلِكَ أَجْلَى لِلْعَمَى، وَأَبْلَغُ فِي الْعُذْرِ، الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَيْنَهُمْ بَعْضُهُمْ، عَلَى بَعْضٍ، إِلا مَجْلُودًا فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبًا فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظَنِينًا فِي وَلاءٍ، أَوْ قَرَابَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ تَوَلَّى مِنْكُمُ السَّرَائِرَ وَدَرَأَ عَنْكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، ثُمَّ إِيَّاكَ وَالضَّجَرَ، وَالْقَلَقَ، وَالتَّأَذِّيَ بِالنَّاسِ، وَالتَّنَكُّرَ لِلْخُصُومِ فِي مَوَاطِنَ الْحَقِّ الَّتِي يُوجِبُ اللَّهُ بِهَا الأَجْرَ وَيُحْسِنُ بِهَا الذِّكْرَ، فَإِنَّهُ مَنْ يُخْلِصُ نِيَّتَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ، يَكْفِهِ اللَّهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنْ تَزَيَّنَ لِلنَّاسِ بِمَا يَعْلَمُ اللَّهُ ذَلِكَ شَانَهُ اللَّهُ" .
سعید بن ابوبردہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط نکالا اور بولے: یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط ہے، پھر سفیان نامی راوی نے اس خط کو میرے سامنے پڑھا جس میں یہ تحریر تھا: (امابعد!) قضا ایک ایسا فرض ہے جو ضروری ہے اور ایک ایسا طریقہ ہے، جسے برقرار رہنا چاہیے۔ تم یہ بات سمجھ لو کہ جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ آئے، تو اسے حق کے بارے میں کلام کرنا فائدہ نہیں دیتا، جس حق کا نفاذ نہ ہو سکے۔ تم لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے ان کی طرف رخ کرتے ہوئے ان سے انصاف کے ساتھ کام لیتے ہوئے اس چیز کا خیال رکھو کہ کوئی صاحب حیثیت شخص تم سے کسی زیادتی کی امید نہ رکھے اور کسی کمزور شخص کو تم سے کسی ظلم کا اندیشہ نہ ہو۔ جو شخص دعویٰ کرتا ہے اس پر ثبوت پیش کرنا لازم ہے اور جو شخص انکار کر دیتا ہے وہ قسم اٹھائے گا۔ مسلمانوں کے درمیان صلح کروا دینا جائز ہے، ماسوائے ایسی صلح کے جو کسی حرام چیز کو حلال قرار دے یا جو کسی حلال چیز کو حرام قرار دے۔ گزشتہ دن تم نے جو فیصلہ کیا تھا وہ فیصلہ تمہیں روکے نہیں، جبکہ تم نے اس کے بارے میں غور و فکر کیا ہو، پھر تمہاری درست چیز کی طرف رہنمائی کر دی گئی ہو، وہ تمہیں اس بات سے نہ روکے کہ تم حق کی طرف رجوع کر لو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حق قدیم ہے اور حق کو کوئی بھی چیز باطل نہیں کر سکتی اور حق کی طرف لوٹ جانا، اس سے زیادہ بہتر ہے کہ انسان باطل پر گامزن رہے۔ جو معاملہ تمہارے ذہن میں کھٹک پیدا کرے، اس کو سمجھنے کی کوشش کرنا، اس چیز کے حوالے سے جو قرآن اور سنت کے حوالے سے تم تک نہیں پہنچی ہے، اس صورت میں تم اس جیسی دوسری مشابہہ اور ہم مثل صورت کا اندازہ لگانا پھر معاملات کو قیاس کرنا اور اس میں سے جو صورت حال اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو اور حق کے زیادہ قریب ہو، اس کا ارادہ کر لینا جو تمہاری سمجھ میں آئے۔ تم دعویٰ کرنے والے شخص کو مہلت دینا کہ اس دوران وہ اپنا ثبوت پیش کر دے، اگر کر دیا، تو ٹھیک ہے، ورنہ اس کے خلاف فیصلہ کر دینا کیونکہ اب یہ صورت حال نابینا شخص کے لیے بھی روزن ہو جائے گی اور عذر کے حوالے سے زیادہ بلیغ ہو گی۔ سب مسلمان عادل ہیں، ایک دوسرے سے متعلق ہیں البتہ جس شخص کو حد کی سزا کے طور پر کوڑے لگائے گئے ہوں یا جس شخص کے بارے میں تجربہ یہ ہو کہ وہ جھوٹی گواہی دیتا ہے، تو اس کا خیال رکھنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باطن کی چیزوں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے، لیکن ثبوت کی بنیاد پر تم سے سزا کو دور کیا جائے گا اور ہاں لوگوں کو پریشان کرنے، ان کو ستانے سے گریز کرنا اور ایسی جگہ سے حق کے بارے میں مخالفت سے گریز کرنا، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اجر کو واجب کر دے گا، یہ چیز تمہارے لیے ذخیرہ آخرت بن جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان جس کی نیت ٹھیک ہو گی اگرچہ وہ چیز اس کے اپنے خلاف کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس پر لوگوں کے حوالے سے ضرر پہنچانے سے محفوظ رکھے گا اور جو لوگوں کے بارے میں آراستہ ہو گا لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کا علم مختلف ہو گا، اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر دے گا۔ تو تم نے اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی دوسرے سے اجر کیوں حاصل کرنا ہے جس شخص کی اللہ تعالیٰ کے معاملے میں نیت ٹھیک ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر معاملے میں محفوظ کر لیتا ہے، اور جو شخص لوگوں کے بارے میں اچھا بنتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسا نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کرتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4472]
ترقیم العلمیہ: 4392
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11472، 20342، 20406، 20431، 20523، 20638، 20788، 21267، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4472»
ترقیم العلمیہ : 4393 ترقیم الرسالہ : -- 4473
حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُنَيْنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى . ح وثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حَفْصٍ الْخَثَمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، نَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سَيَأْتِيكُمْ عَنِّي أَحَادِيثُ مُخْتَلِفَةٌ، فَمَا جَاءَكُمْ مُوَافِقًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَهُوَ مِنِّي، وَمَا جَاءَكُمْ مُخَالِفًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي" ، صَالِحُ بْنُ مُوسَى، ضَعِيفٌ، لا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم پر ایسی روایات آئیں گی جو ایک دوسرے سے مختلف ہوں گی تو جس شخص کے پاس کوئی ایسی روایات آئیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ موافقت رکھتی ہوں تو وہ میری طرف سے ہوں گی، جس کے پاس ایسی چیز آئے جو میری سنت کی مخالف ہو، تو وہ میری طرف سے نہیں ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4473]
ترقیم العلمیہ: 4393
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4473، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الدارقطني: صالح بن موسى ضعيف، لا يحتج بحديثه»
«قال الدارقطني: صالح بن موسى ضعيف، لا يحتج بحديثه»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4394 ترقیم الرسالہ : -- 4474
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنِّي بِحَدِيثٍ تَعْرِفُونَهُ وَلا تُنْكِرُونَهُ فَصَدِّقُوا بِهِ، وَمَا تُنْكِرُونَهُ فَكَذِّبُوا بِهِ" ،.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر تمہیں میرے حوالے سے کوئی حدیث سنائی جائے جو تمہاری سمجھ میں آ جائے، اور تم اس کا انکار نہ کر سکو تو تم اس کی تصدیق کر دو، اور جس چیز کا تم انکار کر رہے ہو، جو تمہاری سمجھ میں نہ آئے اور تمہیں لگے کہ یہ میرا فرمان نہیں ہو گا (تو تم اس کا انکار کر دو)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4474]
ترقیم العلمیہ: 4394
تخریج الحدیث: «منكر، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4474، 4475، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 9444، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 6068»
«قال الذھبي: منكر جدا، لسان الميزان: (2 / 199)»
«قال الذھبي: منكر جدا، لسان الميزان: (2 / 199)»
الحكم على الحديث: منكر
ترقیم العلمیہ : 4395 ترقیم الرسالہ : -- 4475
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، وَزَادَ فَإِنِّي أَقُولُ مَا يُعْرَفُ وَلا يُنْكَرُ، وَلا أَقُولُ مَا يُنْكَرُ وَلا يُعْرَفُ".
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”اس کی وجہ یہ ہے کہ میں وہی بات کہوں گا جو معروف ہو گی اور جو منکر نہیں ہو گی۔ میں وہ بات نہیں کہوں گا جو منکر ہو گی اور معروف نہیں ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4475]
ترقیم العلمیہ: 4395
تخریج الحدیث: «منكر، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4474، 4475، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 9444، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 6068»
«قال الذھبي: منكر جدا، لسان الميزان: (2 / 199)»
«قال الذھبي: منكر جدا، لسان الميزان: (2 / 199)»
الحكم على الحديث: منكر
ترقیم العلمیہ : 4396 ترقیم الرسالہ : -- 4476
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ، نَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا تَكُونُ بَعْدِي رُوَاةٌ يَرْوُونَ عَنِّي الْحَدِيثَ، فَاعْرِضُوا حَدِيثَهُمْ عَلَى الْقُرْآنِ، فَمَا وَافَقَ الْقُرْآنَ فَخُذُوا بِهِ، وَمَا لَمْ يُوَافِقِ الْقُرْآنَ فَلا تَأْخُذُوا بِهِ" ، هَذَا وَهْمٌ وَالصَّوَابُ عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، مُرْسَلا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو میرے حوالے سے روایات نقل کریں گے تو تم ان روایات کو قرآن پر پیش کرنا اور جو قرآن کے مطابق ہوں گی، ان کو حاصل کر لینا اور جو قرآن کے موافق نہیں ہوں گی ان کو حاصل نہ کرنا۔“ (امام دارقطنی کہتے ہیں:) روایت وہم ہے، صحیح یہ ہے کہ عاصم کے حوالے سے، امام زید کے حوالے سے، امام زین العابدین رحمہ اللہ کے حوالے سے ”مرسل“ روایت کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4476]
ترقیم العلمیہ: 4396
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4476، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الدارقطني: هذا وهم والصواب عن عاصم عن زيد بن علي بن الحسين مرسلا عن النبي صلى الله عليه وسلم، سنن الدارقطني: (5 / 372) برقم: (4476)»
«قال الدارقطني: هذا وهم والصواب عن عاصم عن زيد بن علي بن الحسين مرسلا عن النبي صلى الله عليه وسلم، سنن الدارقطني: (5 / 372) برقم: (4476)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف