🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بابٌ فِي سَمَاحَةِ دِينِنَا الإِسْلامِ وَالاعْتِزَازِ بِهِ وَأَنَّهُ أَحَبُّ الأَدْيَانِ
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 109
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے اس دین کی مدد کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 109]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3062، ومسلم: 111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)8090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8076»
وضاحت: فوائد: … اس کی کئی صورتیں موجود ہے، بعض کا تعلق عہد ِ نبوی سے بھی ہے، فاجر حکمران کا اسلام کے بعض امور کی خدمت کرنا، کسی فاجر آدمی کا مسجد و مدرسہ تعمیر کر دینا، اسی قبیل کی مثالیں ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. فِي تَرْغِيبِ الْمُشْرِكِينَ فِي اعْتِنَاقِ الْإِسْلَامِ وَ تَأْلِيفِ قُلُوبِهِمْ رَحْمَةٌ بِهِمْ
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 110
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِشَيْءٍ يُعْطَاهُ مِنَ الدُّنْيَا فَلَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ وَأَعَزَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دنیوی چیز کے لیے آتا تھا اور وہ اسے دے دی جاتی تھی، لیکن ابھی تک شام نہیں ہوتی تھی کہ دنیا و ما فیہا کی بہ نسبت اسے اسلام سب سے زیادہ محبوب اور پیارا بن چکا ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 110]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابو يعلي: 3750، 3880، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12073»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 111
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا عَلَى الْإِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِشَاءٍ كَثِيرٍ بَيْنَ جَبَلَتَيْنِ مِنْ شَاءِ الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: يَا قَوْمِ! أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً مَا يَخْشَى الْفَاقَةَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر جو چیز بھی مانگ لی جاتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ دے دیتے تھے، ایک دفعہ ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بہت ساری بھیڑ بکریاں دینے کا حکم دیا، یہ زکوٰۃ کی بکریاں تھیں اور دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی ان سے بھر جاتی تھی۔ وہ بندہ اپنی قوم کی طرف لوٹا اور ان سے کہا: اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کثرت سے دیتے ہیں کہ ان کو فاقے کا ڈر بھی نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12051 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12074»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتیاز تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شخصیت پر خرچ کیا اور بڑی مقدار میں خرچ کیا، جبکہ مسجد نبوی اور صفہ سمیت عمارتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ کفر سے اسلام کی طرف مائل ہونے لگے، دورِ حاضر کے مسلمان اس سنت ِ نبوی کو ترک کر چکے ہیں، بالخصوص مساجدو مدارس کے منتظمین اور فنڈز جمع کرنے والی دوسری تنظیمیں، ہر ایک کی فکر یہ ہے کہ اس کے ادارے اور مسجد کی عمارت شاندار ہونی چاہیے، اس قسم کی ٹائلیں لگنی چاہئیں، مرکزی دروازے پر کشش ہونے چاہئیں، علی ہذا القیاس۔ لیکن اس محلے کے غریب اور فقیر لوگوں کی کسی کو معرفت تک نہ ہو گی اور ائمہ و خطباء و مدرسین کی کفالت کے وقت بخل اور شکووں کا بھوت رقص کرنے لگے گا اور صبر و برداشت کی تلقین شروع ہو جائے گی، اگرچہ یہ لوگ اپنے آپ کو خادمینِ اسلام سمجھتے ہیں، لیکن اِن کو خدمت ِ اسلام کا شعور تک نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 112
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: ( (أَسْلِمْ) ) قَالَ: أَجِدُنِي كَارِهًا، قَالَ: ( (أَسْلِمْ وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا) )
سیدنا انس رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: تو مسلمان ہو جا۔ اس نے کہا: میں اپنے آپ کو اسلام کو ناپسند کرنے والا پاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو مسلمان ہو جا، اگرچہ تو اس کو ناپسند کر رہا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 112]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابويعلي: 3765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12084»
وضاحت: فوائد: … اسلام اور اسلامی احکام پر عمل کرتے وقت ذاتی پسند یا ناپسند، ظاہری مفاد یا نقصان اور عزت یا ذلت کو مد نظر نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم سمجھ کر اس پر عمل شروع کر دینا چاہیے۔
اتباعِ سنت اور اسلامی احکام پر عمل کرنے سے دلی کراہت آہستہ آہستہ دور ہو جائے گی اور آدمی شرح صدر کے ساتھ اسلام کا پیرو کار بن جائے گا۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 113
عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ عَلَى أَنَّهُ لَا يُصَلِّي إِلَّا صَلَاتَيْنِ فَقَبِلَ مِنْهُ ذَلِكَ
نصر بن علی رحمہ اللہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس شرط پر مسلمان ہوا کہ وہ صرف دو نمازیں ادا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ شرط قبول کر لی۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23468»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تبلیغ میں حکمت ودانائی، دور رسی،عاقبت اندیشی، مزاج شناسی، لوگوں کا بھلا، یہ تمام صفات بدرجۂ اتم نظر آتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ ایک مشرف باسلام ہونا چاہتا ہے، لیکن پانچ نمازوں کے مسئلے پر اڑ گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دانائی نے یہ فیصلہ کیا کہ فی الحال اس کی ضد کو مان لینا چاہیے، بعد میں جب اسلام کی حقیقت کا ادراک کر لے گا تو تمام ارکانِ اسلام کا قائل ہو جائے گا، اسی قسم کی دو مثالیں اور ان کی وضاحت درج ذیل ہیں: سیّدنا فضالہ لیثی ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ امور کی تعلیم دی، ان میں سے ایک امر یہ بھی تھا: ((حَافِظْ عَلٰی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ۔)) فَقُلْتُ: إِنَّ ھٰذِہِ سَاعَاتٌ لِی فِیْھَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِی بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُہٗ أَجْزَأَعَنِّی، قَالَ: ((حَافِظْ عَلٰی الْعَصْرَیْنِ: صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَصَلَاۃٍ قَبْلَ غُرُوْبِھَا)) … پانچوں نمازوں کی محافظت کیا کر۔ میں نے کہا: ان گھڑیوں میں تو میں مصروف رہتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسا جامع و قسم کا حکم دیں کہ میں اس پر عمل کرتا رہوں اور وہ مجھے کفایت کرتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو نمازوں یعنی طلوع آفتا ب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کی محافظت کرتا رہ۔ (ابوداود: ۴۵۳، صحیحہ: ۱۸۱۳)
کسی آدمی کے دماغ میں یہ نکتہ سرایت نہ کر جائے کہ دو نمازوں پر اکتفا کرنا بھی درست ہے، علمائے حق کے نزدیک اس حدیث کے دو معانی مراد لینا ممکن ہیں: (۱) اس آدمی کو اس کی مصروفیت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی گئی تھی، نہ کہ ترکِ نماز کی اور (۲)وہ کوئی نو مسلم آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ فی الحال اس کو رخصت دی جائے، جب ایمان میں رسوخ پیدا ہو جائے گا تو اس کے لیے پانچ نمازوں کی ادائیگی ممکن ہو جائے گی اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی مبلّغ کسی بے نمازی کو پانچ نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتا ہے، لیکن وہ اس بات پر مصرّ ہے کہ وہ صرف دو تین نمازیں پڑھے گا تو اس حدیث کی روشنی میں اسے کہا جا سکتا ہے کہ چلو تم دو تین ہی پڑھتے رہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
درج ذیل روایت کو دیکھا جائے تو دوسرا معنی راجح اور درست معلوم ہوتا ہے:
ابوزبیر بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر ؓ سے ثقیف قبیلہ کی بیعت کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ اس قبیلے نے (بیعت کرتے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ شرط عائد کی تھی کہ ان پر صدقہ ہو گا نہ جہاد۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَیَتَصَدَّقُوْنَ وَیُجَاہِدُوْنَ اِذَا اَسْلَمُوْا۔)) … عنقریب جب یہ لوگ (پکے) مسلمان ہو جائیں گے تو صدقہ بھی دیں گیااور جہاد بھی کریں گے۔ (مسند احمد: ۳/ ۳۴۱، صحیحہ: ۱۸۸۸)
یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کسی بڑی مصلحت کی خاطر کسی کو عارضی طور پر اسلام کے بعض احکام سے مستثنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثقیف قبیلہ والے لوگوں کی شرطیں تسلیم نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ کفر پر اڑے رہتے، جو کہ بہت بڑی مفسدت تھی، اس مفسدت سے تو وہ ناقص اسلام ہی بہتر ہے، جس میں جہاد اور صدقہ نہ ہوں، جبکہ رخصت دینے والے کو یہ امید بھی ہو کہ عنقریب یہ لوگ تمام اسلامی احکام کو تسلیم کر لیں گے۔ یہی معاملہ اس باب کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں نہ پڑھنے سے بہرحال دو ادا کر لینا بہتر ہے، ان دو کے ذریعے آہستہ آہستہ پانچ کا قائل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ قربان جائیے حکیم و دانا پیغمبر کی حکمت و دانائی پر۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. فِي حُكْمِ مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدِهِ رَجُلٌ مِنَ الْكُفَّارِ
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 114
عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ (وَفِي رِوَايَةٍ: مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ) يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: ( (هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ) )
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اہلِ کتاب یا اہلِ کفر میں سے کوئی آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے بارے میں کیا سنت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 114]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: حسن صحيح (ابوداود: 2918)۔ أخرجه ابوداود: 2918، الترمذي: 2112، وابن ماجه: 2752، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17072»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: دوسرے تمام ورثاء کی عدم موجودگی میں ایسا آدمی وارث بنے گا اور امام ثوری نے کہا: یہ وارث بنے گا اور یہ دوسروں (اجنبی غیر وارث لوگوں) سے زیادہ حقدار ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق)
سعید بن منصور کی روایت میں یَرِثَہٗ وَ یَعْقِلُ عَنْہُ کی زیادتی ہے، لیکن اس کی سند میں احوص بن حکیم راوی ضعیف الحفظ ہے، جس کے متعلق امام البانی نے کہا: فَیُسْتَشْھَدُ بِہٖ (صحیحہ: ۲۳۱۶)
امام مبارکپوری نے کہا: دو احتمال ہیں: (۱)یہ حدیث توارث بالاسلام پر دلالت کرتی ہے، جو کہ منسوخ ہو گیا ہے۔ (۲) اس حدیث کا یہ معنی ہے کہ وہ زندگی میں اس کی مدد کرے اور موت کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کرے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۸۵)
امام خطابی نے کہا: ممکن ہے کہ یہ حدیث میراث سے متعلق ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث کا مدلول عہد و پیمان، ایثار و قربانی اور برّ وصلہ ہو۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۸۵، عون المعبود: ۳/ ۸۷)
لیکن سیدنا تمیم کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق ابتدائے اسلام سے نہیں ہے، اخیر اسلام کے دور سے ہے، کیونکہ سیدنا تمیم ؓ ۹ ؁ھ میں مسلمان ہوئے تھے اور اس حدیث کے بارے میں انھوں نے خود سوال کیا تھا۔ اس لیے یہی مناسب ہے کہ اس سے مراد حقِّ وراثت لیا جائے۔ رہا مسئلہ نصرت و تائید اور نماز جنازہ میں شرکت وغیرہ کا، توان حقوق کی ادائیگی میں سب مسلمان برابر ہیں۔ (واللہ اعلم)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. فِي أَنَّهُ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ
اہل کتاب میں سے ہونے والے مسلمان کے لیے دو اجروں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 115
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَتَحْتَ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ قَوْلًا حَسَنًا جَمِيلًا وَكَانَ فِيمَا قَالَ: ( (مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا وَمَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَهُ أَجْرُهُ وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا) )
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے نیچے کھڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی خوبصورت اور حسین باتیں ارشاد فرمائی تھیں، ایک بات یہ بھی تھی: اہلِ کتاب میں سے جو آدمی مسلمان ہو گا، اس کے دو اجر ہوں گے اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔ اور جو آدمی مشرکوں میں سے مسلمان ہو گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 115]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا السند متابَع۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 7786، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22589»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 116
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَأَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِمَا جَاءَ بِهِ عِيسَى وَمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَهُ أَجْرَانِ) )
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی لونڈی کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے اور اس کی اخلاقی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے اور پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کرے تو اس کو دو اجر ملیں گے، (اسی طرح اس کے لیے دو اجر ہیں) جو غلام اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے آقا کا بھی اور اہلِ کتاب کا وہ آدمی جو پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 116]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 97، 3011، 3446، 5083، ومسلم: 154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19761»
وضاحت: فوائد: … چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والے اہل کتاب یکے بعد دیگر دو نبیوں پر ایمان لاتے ہیں، اس لیے ان کو دو گنا اجر ملتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابٌ فِي كَوْنِ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَكَذَا الْهِجْرَةُ وَ هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ وَ بَيَانُ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 117
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِيَ الْإِسْلَامَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَنِي فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ فَقُلْتُ: لَا أُبَايِعُكَ حَتَّى يُغْفَرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، يَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ) )
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کا خیال ڈال دیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے کے لیے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری طرف پھیلا دیا، لیکن اس وقت میں نے کہا: میں اس وقت تک آپ کی بیعت نہیں کروں گا، جب تک میرے سابقہ گناہ بخش نہ دیے جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرو! کیا تو نہیں جانتا کہ ہجرت پہلے والے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، عمرو! کیا تجھے یہ علم نہیں ہے کہ اسلام بھی پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 117]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17981»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْ لَھُمْ مَا قَدْ سَلَفَ} … آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ باز آ جائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں، سب معاف کر دیئے جائیں گے۔ (سورہ ٔانفال: ۳۸)
معلوم ہوا کہ اسلام اور ہجرت کی وجہ سے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 118
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذَا أَحْسَنْتُ فِي الْإِسْلَامِ أُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: ( (إِذَا أَحْسَنْتَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ تُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلْتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَإِذَا أَسَأْتَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں (اسلام قبول کر کے) اس دین میں نیکیاں کرتا رہوں تو کیا جاہلیت والی میری برائیوں کی وجہ سے میرا مواخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو بظاہر اور بباطن اسلام قبول کرے گا تو جاہلیت میں جو کچھ کیا ہو گا، اس کی بنا پر تیرا مواخذہ نہیں ہو گا، لیکن اگر تو بظاہر اسلام قبول کرے گا، نہ کہ بباطن تو اگلی پچھلی یعنی ہر برائی پر مواخذہ کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 118]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6921، ومسلم: 120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3596»
وضاحت: امام نووی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہا: اس کے بارے میں محققین کی جماعت نے جو بات کہی ہے، وہی صحیح ہے کہ احسان سے مراد بظاہر اور بباطن اسلام قبول کرنا ہے، یعنی جب کوئی حقیقی مسلمان بن جاتا ہے، تو اس کی حالت ِ کفر میں کی ہوئی برائیاں معاف ہو جاتی ہیں۔ قرآن و حدیث اور اجماع امت اسی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں۔ اور وَاِذَا اَسَاْتَ سے مراد یہ ہے کہ دل سے اسلام میں داخل نہ ہوا جائے، یہ دراصل منافق ہوتا ہے، جو اپنے کفر پر برقرار رہنے والا ہوتا ہے، ایسے شخص کی اظہارِ اسلام سے پہلے والی اور بعد والی، دونوں حالتوں کی برائیوں پر اس کا مؤاخذہ ہوتا ہے، کیونکہ در حقیقت اس کے کفرکی حالت ہی جاری رہتی ہے۔ (شرح مسلم للنووی: ۲/ ۱۳۶)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں