الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابٌ فِي كَوْنِ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَكَذَا الْهِجْرَةُ وَ هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ وَ بَيَانُ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 119
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَخِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمَّنَا مُلَيْكَةَ كَانَتْ تَصِلُ الرَّحِمَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ هَلَكَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ: ( (لَا) ) قَالَ: قُلْنَا: فَإِنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ أُخْتًا لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ: ( (الْوَائِدَةُ وَالْمَوْؤُودَةُ فِي النَّارِ إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْوَائِدَةُ الْإِسْلَامَ فَيَعْفُوَ اللَّهُ عَنْهَا) )
سیدنا سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی، ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہماری اماں جان ملیکہ صلہ رحمی کرتی تھی، مہمانوں کی میزبانی کرتی تھی اور اس قسم کی کئی نیکیاں کرتی تھی، لیکن دورِ جاہلیت میں ہی فوت ہو گئی ہے، تو کیا یہ اعمال اسے فائدہ دیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ ہم نے کہا: ”اس نے دورِ جاہلیت میں ہی ہماری ایک بہن کو زندہ درگور کر دیا تھا، تو یہ چیز اس کو نفع دے گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور ہونے والی، دونوں جہنمی ہیں، الا یہ کہ درگور کرنے والی اسلام کو پا لے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 119]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير داود بن ابي هند فمن رجال مسلم، وصحابيه روي له النسائي، وفي متنه نكارة۔ أخرجه النسائي في الكبري: 11649، والطبراني في الكبير: 6319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16019»
وضاحت: فوائد: … کفر کی حالت پر مرنے والے کی تمام نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 120
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ، فَهَلْ لَهُ فِي ذَلِكَ يَعْنِي مِنْ أَجْرِهِ؟ قَالَ: ( (إِنَّ أَبَاكَ طَلَبَ أَمْرًا فَأَصَابَهُ) )
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا اور اس کے علاوہ بھی کئی نیک کام کرتا تھا، تو اس کو ان کا اجر ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تیرا باپ (شہرت اور تعریف کی صورت میں) جس چیز کا طلبگار تھا، وہ اس کو مل گئی تھی۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 120]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 4361، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19386 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19605»
وضاحت: فوائد: … حاتم طائی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات نہیں تھا، بلکہ وہ تو شہرت اور تعریف کا طلبگار تھا اور یہ چیز اس کو زندگی میں بھی مل گئی تھی اور موت کے بعد بھی، دین اسلام کی قبولیت کے بعد اپنے افعال و اقوال میں اخلاص پیدا کرنا نہایت ضروری ہے، وگرنہ نہ صرف نیک عمل ضائع ہوتا ہے، بلکہ وبال جان بھی بنتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 121
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ عَتَاقَةٍ وَصِلَةِ رَحِمٍ هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ) )
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! غلاموں کی آزادی اور صلہ رحمی جیسے ان امور کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو میں دورِ جاہلیت میں عبادت کے طور پر کرتا تھا، کیا مجھے ان کا اجر ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جو امورِ خیر سرانجام دے چکا ہے، اس سمیت مسلمان ہوا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 121]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2220، 5992، ومسلم: 123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15392»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی دینِ حق کو اختیار کرتا ہے اور پھر اس کو اسی دین پر موت آتی ہے تو اس کی دورِ جاہلیت کی نیکیاں بھی قبول کر لی جاتی ہیں، یہ ایک اختلافی موضوع ہے، اس لیے ہم اس پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں:
محقق علمائے اسلام کے مسلک کے مطابق درست بات یہ ہے کہ جو کافر حالت ِ کفر میں صدقہ و خیرات اور صلہ رحمی جیسی نیکیاں سر انجام دینے کے بعد مسلمان ہوتا ہے تو اس کی سابقہ نیکیوں کا ثواب بھی محفوظ رکھا جاتا ہے۔ بعض نے تو اس رائے پر مسلمانوں کے اجماع و اتفاق کا دعوی کیا ہے۔
جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مسلک شرعی قواعد کے مخالف ہے۔ لیکن یہ مسلک غیر مسلم ہے، کیونکہ دنیا میں کافر کے بعض افعال کا اعتبار کیا جاتا ہے، جیسے اگر کوئی کافر حالت ِ کفر میںظہار کا کفارہ ادا کرتا ہے تو قبولیت ِ اسلام کے بعد دوبارہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث میں ثواب کے لکھے جانے کا ذکر ہے، نہ کہ ان کے قبول ہونے کا۔ ممکن ہے کہ قبولیت کو اسلام کے ساتھ معلق کر دیا گیا ہو، یعنی اگر وہ کافر مسلمان ہو گیا تو اس کی نیکیاں قبول بھی کی جائیں اور اس کو ثواب بھی دیا جائے گا، وگرنہ نہیں۔ یہی مذہب قوی ہے۔ قدماء میں سے امام نووی، ابراہیم حربی ا ور ابن بطال وغیرہ نے اور متاخرین میں سے امام قرطبی اور ابن منیر وغیرہ نے اسی مسلک کی تائید کی۔
ابن منیر نے کہا: کوئی مانع نہیں کہ کافر کفر کی حالت میں خیر و بھلائی کے جو کام خیر و بھلائی کی نیت سے کرتا ہے، قبولیت ِ اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو سابقہ نیک امور پر ثواب عطا فرما دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ عاجز مسلمان (مریض یا مسافر وغیرہ) کو ان اعمال کا ثواب عطا کرتا رہتا ہے، جو وہ طاقت و قدرت کے زمانے میں سرانجام دیتا تھا اور عاجزی کے دوران نہیں کر سکتا۔ اگر کسی عمل کو ادا کیے بغیر اس کا ثواب مل سکتا ہے، تواس عمل کا ثواب بھی دیا جا سکتا ہے، جس میں مکمل شرطیں نہ پائی جاتی ہوں۔
بعض علمائے اسلام نے اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ جب اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی اسلام قبول کرتے ہیں تو ان کو دو گنا اجر دیا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے، لیکن اگر وہ یہودیت اور عیسائیت پر ہی مر جائیں تو ان کو ان کے نیک اعمال کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ کافر کے نیک اعمال لکھے جاتے ہیں، لیکن اس کے لیے حصول ثواب کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ اسلام قبول کرے۔ غور فرمائیں کہ جب سیدہ عائشہ ؓ نے ابن جدعان کے اعمالِ صالحہ کے بارے میں سوال کیا کہ آیا ان سے اس کو فائدہ ہو گا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ابن جدعان نے تو ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے میرے ربّ! قیامت کے روز میری خطائیں بخش دینا۔ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیتا تو حالت ِ کفر میں سر انجام دیئے گئے اعمالِ خیر اس کے لیے مفید ثابت ہوتے۔
یہی مسلک مختلف احادیث کی روشنی میں برحق ہے، کسی کو اس کی مخالفت زیب نہیں دیتی۔ علامہ سندھی نے سنن نسائی پر اپنے حاشیے میں کہا:یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافر کی نیکیاں موقوف ہوتی ہیں، اگر وہ مشرف باسلام ہو جائے تو وہ مقبول ہو جاتی ہیں، وگرنہ مردود۔ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کو ان کافروں پر محمول کیا جائے گا، جو کفر کی حالت میں مر جائیں گے: {وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ } (سورۂ نور: ۳۹) … کافر لوگوں کے اعمال تو سراب کی طرح (بے حقیقت) ہیں۔
ظاہر بات تو یہی ہے کہ درج بالا مسلک کی مخالفت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔
علامہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ نے جو آیت ذکر کی ہے، اس قسم کی تمام آیات کا یہی مفہوم ہے، جن میں شرک کی وجہ سے عمل ضائع ہونے کی وعیدیں بیان کی گئی ہیں، مثلا ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَقَدْ اُوحِیَ اِِلَیْکَ وَاِِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ} (سورۂ زمر: ۶۵) … (اے محمد!) آپ کی طرف اور آپ سے پہلے والے (انبیا و رسل) کی طرف یہ وحی کی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو ضرور ضرورر تیرے عمل ضائع ہو جائیں گے اور تو ضرور ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔
ان اور اس موضوع سے متعلقہ تمام آیات کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا، جو شرک کی حالت میںمرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور یہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اس بحث پر ایک اور فقہی مسئلہ مرتّب ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ایک مسلمان حج ادا کرنے کے بعد مرتد ہو جاتا ہے، پھر ارتداد کے بعد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو اس کاسابقہ حج ضائع نہیں ہو گا اور دوبارہ حج کرنا اس پر فرض نہیں ہو گا۔ امام شافعی کا یہی مسلک ہے، لیث بن سعد کا ایک قول بھی اسی کے حق میں ہے۔ امام ابن حزم نے اسی مسلک کو ترجیح دی اور اس کے حق میں بہت عمدہ اور مضبوط کلام کیا ہے۔ میں اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں:جو مسلمان حج و عمرہ کی ادائیگی کے بعد مرتد ہو جائے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے کر جہنم سے بچالے اور وہ مسلمان ہو جائے تو دوبارہ حج اور عمرہ کی ادائیگی اس پر عائد نہیں ہو گی، امام شافعی کا یہی مسلک ہے اور لیث بن سعد کا بھی ایک قول یہی ہے۔
جبکہ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور ابوسلیمان کا خیال ہے کہ اس کا سابقہ حج یا عمرہ ضائع ہو جائے گا اور اسے یہ فریضہ دوبارہ ادا کرنا پڑے گا، انھوں نے اپنی رائے کے حق میں یہ آیت پیش کی: {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ }(سورۂ زمر: ۶۵) … اگر تونے شرک کیا تو تیرے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ اس مسلک کے قائلین نے صرف یہ دلیل پیش کی ہے، لیکن در حقیقت یہ دلیل ان کے لیے حجت نہیں ہے، کیونکہ اس آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اگر مشرک شرک کی حالت میں مر جاتا ہے تو اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے، لیکن اگر وہ مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کے سابقہ اعمال صالحہ محفوظ کر لیے جائیں گے۔ یہی حق ہے، اس میں کوئی شائبہ نہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے اگر مشرک حالت ِ شرک میں حج، عمرے، نماز، روزے اور زکوۃ جیسے اعمال کرتا ہے تو یہ واجبات اس سے کفایت نہیں کریں گے، (کیونکہ ان اعمال کا شرعی احکام کے مطابق شروط و قیود کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے)۔ اس آیت کے آخری جملے {وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْن} (اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔) پر غور کریں۔ اس جملے سے بھی یہ استدلال کرنا درست ہے کہ اگر مرتد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو قبولیت ِ اسلام سے پہلے والے سر انجام دیئے گے اعمالِ صالحہ ضائع نہیں ہوں گے، بلکہ ان کو لکھ لیا جائے گا اور ان کا ثواب دیا جائے گا، کیونکہ امت ِ مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ اگر مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو یقینا فلاح پانے والوں اور کامیاب و کامران ہونے والوں میں سے ہو جائے گا اور خسارہ اٹھانے والوں میں سے نہیں رہے گا۔ پس معلوم ہوا جس مشرک کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں وہ وہ ہوتا ہے جو کفر و شرک اور ارتداد کی حالت میں مر جاتا ہے۔
غور فرمائیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے او ریہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس آیت ِ کریمہ میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ مرتد کے اعمال اس وقت ضائع ہو جائیں گے، جب وہ کفر کی حالت میں مر جائے گا۔ نیز اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمودات نیک اعمال کے باقی رہنے کے بارے میں عام ہیں: {اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی } (سورۂ آل عمران: ۱۹۵) … میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، وہ مرد ہو یا عورت۔ {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہ} (سورۂ زلزلہ: ۷) … جو ذرہ برابر نیک عمل کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا۔ نیک اعمال کی حفاظت اور ضائع نہ ہو جانے کے بارے میں یہ عام آیات ہیں، کسی قرینہ کے بغیر ان کی تخصیص نہیں کی جا سکتی، سو معلوم ہو ا کہ جب مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو اس کا سابقہ حج و عمرہ محفوظ ہو جاتے ہیں۔
محقق علمائے اسلام کے مسلک کے مطابق درست بات یہ ہے کہ جو کافر حالت ِ کفر میں صدقہ و خیرات اور صلہ رحمی جیسی نیکیاں سر انجام دینے کے بعد مسلمان ہوتا ہے تو اس کی سابقہ نیکیوں کا ثواب بھی محفوظ رکھا جاتا ہے۔ بعض نے تو اس رائے پر مسلمانوں کے اجماع و اتفاق کا دعوی کیا ہے۔
جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مسلک شرعی قواعد کے مخالف ہے۔ لیکن یہ مسلک غیر مسلم ہے، کیونکہ دنیا میں کافر کے بعض افعال کا اعتبار کیا جاتا ہے، جیسے اگر کوئی کافر حالت ِ کفر میںظہار کا کفارہ ادا کرتا ہے تو قبولیت ِ اسلام کے بعد دوبارہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث میں ثواب کے لکھے جانے کا ذکر ہے، نہ کہ ان کے قبول ہونے کا۔ ممکن ہے کہ قبولیت کو اسلام کے ساتھ معلق کر دیا گیا ہو، یعنی اگر وہ کافر مسلمان ہو گیا تو اس کی نیکیاں قبول بھی کی جائیں اور اس کو ثواب بھی دیا جائے گا، وگرنہ نہیں۔ یہی مذہب قوی ہے۔ قدماء میں سے امام نووی، ابراہیم حربی ا ور ابن بطال وغیرہ نے اور متاخرین میں سے امام قرطبی اور ابن منیر وغیرہ نے اسی مسلک کی تائید کی۔
ابن منیر نے کہا: کوئی مانع نہیں کہ کافر کفر کی حالت میں خیر و بھلائی کے جو کام خیر و بھلائی کی نیت سے کرتا ہے، قبولیت ِ اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو سابقہ نیک امور پر ثواب عطا فرما دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ عاجز مسلمان (مریض یا مسافر وغیرہ) کو ان اعمال کا ثواب عطا کرتا رہتا ہے، جو وہ طاقت و قدرت کے زمانے میں سرانجام دیتا تھا اور عاجزی کے دوران نہیں کر سکتا۔ اگر کسی عمل کو ادا کیے بغیر اس کا ثواب مل سکتا ہے، تواس عمل کا ثواب بھی دیا جا سکتا ہے، جس میں مکمل شرطیں نہ پائی جاتی ہوں۔
بعض علمائے اسلام نے اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ جب اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی اسلام قبول کرتے ہیں تو ان کو دو گنا اجر دیا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے، لیکن اگر وہ یہودیت اور عیسائیت پر ہی مر جائیں تو ان کو ان کے نیک اعمال کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ کافر کے نیک اعمال لکھے جاتے ہیں، لیکن اس کے لیے حصول ثواب کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ اسلام قبول کرے۔ غور فرمائیں کہ جب سیدہ عائشہ ؓ نے ابن جدعان کے اعمالِ صالحہ کے بارے میں سوال کیا کہ آیا ان سے اس کو فائدہ ہو گا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ابن جدعان نے تو ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے میرے ربّ! قیامت کے روز میری خطائیں بخش دینا۔ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیتا تو حالت ِ کفر میں سر انجام دیئے گئے اعمالِ خیر اس کے لیے مفید ثابت ہوتے۔
یہی مسلک مختلف احادیث کی روشنی میں برحق ہے، کسی کو اس کی مخالفت زیب نہیں دیتی۔ علامہ سندھی نے سنن نسائی پر اپنے حاشیے میں کہا:یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافر کی نیکیاں موقوف ہوتی ہیں، اگر وہ مشرف باسلام ہو جائے تو وہ مقبول ہو جاتی ہیں، وگرنہ مردود۔ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کو ان کافروں پر محمول کیا جائے گا، جو کفر کی حالت میں مر جائیں گے: {وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ } (سورۂ نور: ۳۹) … کافر لوگوں کے اعمال تو سراب کی طرح (بے حقیقت) ہیں۔
ظاہر بات تو یہی ہے کہ درج بالا مسلک کی مخالفت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔
علامہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ نے جو آیت ذکر کی ہے، اس قسم کی تمام آیات کا یہی مفہوم ہے، جن میں شرک کی وجہ سے عمل ضائع ہونے کی وعیدیں بیان کی گئی ہیں، مثلا ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَقَدْ اُوحِیَ اِِلَیْکَ وَاِِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ} (سورۂ زمر: ۶۵) … (اے محمد!) آپ کی طرف اور آپ سے پہلے والے (انبیا و رسل) کی طرف یہ وحی کی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو ضرور ضرورر تیرے عمل ضائع ہو جائیں گے اور تو ضرور ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔
ان اور اس موضوع سے متعلقہ تمام آیات کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا، جو شرک کی حالت میںمرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور یہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اس بحث پر ایک اور فقہی مسئلہ مرتّب ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ایک مسلمان حج ادا کرنے کے بعد مرتد ہو جاتا ہے، پھر ارتداد کے بعد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو اس کاسابقہ حج ضائع نہیں ہو گا اور دوبارہ حج کرنا اس پر فرض نہیں ہو گا۔ امام شافعی کا یہی مسلک ہے، لیث بن سعد کا ایک قول بھی اسی کے حق میں ہے۔ امام ابن حزم نے اسی مسلک کو ترجیح دی اور اس کے حق میں بہت عمدہ اور مضبوط کلام کیا ہے۔ میں اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں:جو مسلمان حج و عمرہ کی ادائیگی کے بعد مرتد ہو جائے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے کر جہنم سے بچالے اور وہ مسلمان ہو جائے تو دوبارہ حج اور عمرہ کی ادائیگی اس پر عائد نہیں ہو گی، امام شافعی کا یہی مسلک ہے اور لیث بن سعد کا بھی ایک قول یہی ہے۔
جبکہ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور ابوسلیمان کا خیال ہے کہ اس کا سابقہ حج یا عمرہ ضائع ہو جائے گا اور اسے یہ فریضہ دوبارہ ادا کرنا پڑے گا، انھوں نے اپنی رائے کے حق میں یہ آیت پیش کی: {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ }(سورۂ زمر: ۶۵) … اگر تونے شرک کیا تو تیرے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ اس مسلک کے قائلین نے صرف یہ دلیل پیش کی ہے، لیکن در حقیقت یہ دلیل ان کے لیے حجت نہیں ہے، کیونکہ اس آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اگر مشرک شرک کی حالت میں مر جاتا ہے تو اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے، لیکن اگر وہ مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کے سابقہ اعمال صالحہ محفوظ کر لیے جائیں گے۔ یہی حق ہے، اس میں کوئی شائبہ نہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے اگر مشرک حالت ِ شرک میں حج، عمرے، نماز، روزے اور زکوۃ جیسے اعمال کرتا ہے تو یہ واجبات اس سے کفایت نہیں کریں گے، (کیونکہ ان اعمال کا شرعی احکام کے مطابق شروط و قیود کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے)۔ اس آیت کے آخری جملے {وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْن} (اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔) پر غور کریں۔ اس جملے سے بھی یہ استدلال کرنا درست ہے کہ اگر مرتد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو قبولیت ِ اسلام سے پہلے والے سر انجام دیئے گے اعمالِ صالحہ ضائع نہیں ہوں گے، بلکہ ان کو لکھ لیا جائے گا اور ان کا ثواب دیا جائے گا، کیونکہ امت ِ مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ اگر مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو یقینا فلاح پانے والوں اور کامیاب و کامران ہونے والوں میں سے ہو جائے گا اور خسارہ اٹھانے والوں میں سے نہیں رہے گا۔ پس معلوم ہوا جس مشرک کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں وہ وہ ہوتا ہے جو کفر و شرک اور ارتداد کی حالت میں مر جاتا ہے۔
غور فرمائیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے او ریہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس آیت ِ کریمہ میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ مرتد کے اعمال اس وقت ضائع ہو جائیں گے، جب وہ کفر کی حالت میں مر جائے گا۔ نیز اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمودات نیک اعمال کے باقی رہنے کے بارے میں عام ہیں: {اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی } (سورۂ آل عمران: ۱۹۵) … میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، وہ مرد ہو یا عورت۔ {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہ} (سورۂ زلزلہ: ۷) … جو ذرہ برابر نیک عمل کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا۔ نیک اعمال کی حفاظت اور ضائع نہ ہو جانے کے بارے میں یہ عام آیات ہیں، کسی قرینہ کے بغیر ان کی تخصیص نہیں کی جا سکتی، سو معلوم ہو ا کہ جب مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو اس کا سابقہ حج و عمرہ محفوظ ہو جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 122
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْخٌ كَبِيرٌ يَدَّعِمُ عَلَى عَصًا لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي غَدَرَاتٍ وَفَجَرَاتٍ فَهَلْ يُغْفَرُ لِي؟ قَالَ: ( (أَلَسْتَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟) ) قَالَ: بَلَى! وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: ( (قَدْ غُفِرَ لَكَ غَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ) )
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بوڑھا آدمی لاٹھی کے سہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! بیشک میں نے دھوکے، خیانتیں اور برائیاں کی تھیں، کیا پھر بھی مجھے بخش دیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو یہ شہادت نہیں دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، بلکہ میں تو یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دھوکوں، خیانتوں اور برائیوں کو بخش دیا گیا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشواهده۔ أخرجه الطبراني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19652»
الحكم على الحديث: صحیح
19. بَابٌ فِي حُكْمِ الْإِقْرَارِ بِالشَّهَادَتَيْنِ وَ أَنَّهُمَا تَعْصِمَانِ قَائِلَهُمَا مِنَ الْقَتْلِ وَ بِهِمَا يَكُونُ مُسْلِمًا وَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
حدیث نمبر: 123
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى) ) قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّدَّةُ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: تُقَاتِلُهُمْ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نُقَاتِلُهُمْ وَاللَّهِ، لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رَشَدًا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تک لوگ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کا اقرار نہیں کریں، میں ان سے لڑتا رہوں، جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں گے تو اپنے خون اور مال بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں زکوٰۃ کے انکار کا سلسلہ شروع ہوا اور (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں سے لڑنا چاہا تو) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کریں گے، جب کہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا (کہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کے بعد مال اور خون محفوظ ہو جاتے ہیں)،“ لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم ایسے لوگوں سے لڑیں گے، میں نماز اور زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں کرتا اور میں اس سے لڑوں گا جو ان کے درمیان فرق کرے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر ہم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر ایسے لوگوں سے قتال کیا اور ہمیں یہ سمجھ آ گئی تھی کہ یہی معاملہ ہدایت والا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 123]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6924، 6925، 7285، ومسلم: 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 67 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 67»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت میں دو قسم کے مرتدین پیدا ہو گئے تھے، ایک وہ جو اسلام سے مرتد ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا ہی انکار کر دیا، جیسے مسیلمہ اور اسود عنسی اور ان کے پیروکار، خلیفۂ اول نے ان سے جہاد کیا، یہ دونوں قتل ہو گئے اور ان کا شیرازہ بکھر گیا، دوسرے وہ جنھوں نے نماز اور زکاۃ میں فرق کیا اور زکاۃ کی فرضیت کا انکار کر دیا، سیدنا ابو بکر ؓنے ان سے بھی قتال کیا، شروع میں سیدنا عمر ؓنے اس پر موافقت نہیں کی تھی، لیکن بعد میں وہ قائل ہو گئے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 124
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ قَدْ حَرُمَ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کرتا رہوں، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» کہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اس طرح سے ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو جائیں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 124]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 21، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10834»
وضاحت: فوائد: … کسی کے مسلمان ہونے کی ظاہری تین نشانیاں ہیں:
(۱)اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی شہادت دینا (۲)نمازقائم کرنا اور (۳) زکوۃ اد اکرنا
اگر نماز اور زکوۃ کی ادائیگی کا وقت نہ ہو تو کسی کے مسلمان ہونے کے لیے شہادتین کا اظہار کافی ہو گا، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۲۶) سے ثابت ہو رہا ہے۔ جو آدمی، مسلمانوں کے حکمران سے اپنی جان اور مال کو محفوظ کرنا چاہے گا، اس کے لیے ضروری ہو گا کہ ان تین ارکان کو اپنا لے، پھر اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے گا اور ہمیں یہ تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی کہ آیا یہ واقعی باطن سے مسلمان ہو چکا ہے یا اس کا معاملہ صرف بظاہر ہے۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ حکمرانوں سمیت مسلمانوں کی کثیر تعداد نماز اور زکوۃ جیسے فریضوں سے غافل ہے اور اکثر کی توحید کا معاملہ بھی مشتبہ ہے۔ العیاذ باللّٰہ۔
ہم یہاں یہ فقہی بحث نہیں کر رہے کہ یہ تین ارکان کون کون سے امور کو مستلزم ہیں اور مزید وہ کون کون سے اسلام کے اجزاء اور شقیں ہیں، جن کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔
(۱)اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی شہادت دینا (۲)نمازقائم کرنا اور (۳) زکوۃ اد اکرنا
اگر نماز اور زکوۃ کی ادائیگی کا وقت نہ ہو تو کسی کے مسلمان ہونے کے لیے شہادتین کا اظہار کافی ہو گا، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۲۶) سے ثابت ہو رہا ہے۔ جو آدمی، مسلمانوں کے حکمران سے اپنی جان اور مال کو محفوظ کرنا چاہے گا، اس کے لیے ضروری ہو گا کہ ان تین ارکان کو اپنا لے، پھر اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے گا اور ہمیں یہ تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی کہ آیا یہ واقعی باطن سے مسلمان ہو چکا ہے یا اس کا معاملہ صرف بظاہر ہے۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ حکمرانوں سمیت مسلمانوں کی کثیر تعداد نماز اور زکوۃ جیسے فریضوں سے غافل ہے اور اکثر کی توحید کا معاملہ بھی مشتبہ ہے۔ العیاذ باللّٰہ۔
ہم یہاں یہ فقہی بحث نہیں کر رہے کہ یہ تین ارکان کون کون سے امور کو مستلزم ہیں اور مزید وہ کون کون سے اسلام کے اجزاء اور شقیں ہیں، جن کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 125
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا شَهِدُوا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ یہ اقرار نہ کر لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، جب وہ یہ گواہی دیں گے اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں گے اور ہمارا ذبیحہ کھائیں گے اور ہماری والی نماز پڑھیں گے تو ان کے خون اور مال ہم پر حرام ہو جائیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کو وہی حقوق ہوں گے، جو دوسرے مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی، جو دوسرے مسلمانوں پر ہیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 125]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13381»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں مزید دو علامتوں کا ذکر ہے، جو سابقہ تین نشانیوں کا ہی لازمی نتیجہ ہیں، یہ کوئی نئی چیزیں نہیں ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أُوَيْسًا (يَعْنِي بْنَ أَبِي أُوَيْسٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ فَكُنَّا فِي قُبَّةٍ فَقَامَ مَنْ كَانَ فِيهَا غَيْرِي وَغَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَقَالَ: اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ، (وَفِي رِوَايَةٍ: فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) ثُمَّ قَالَ: ( (أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) ) قَالَ: بَلَى! وَلَكِنَّهُ يَقُولُهَا تَعَوُّذًا، فَقَالَ: ( (رُدُّوهُ) ) (وَفِي رِوَايَةٍ: اذْهَبُوا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ) ثُمَّ قَالَ: ( (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا حَرُمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا) ) فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ: أَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ شُعْبَةُ: أَظُنُّهَا مَعَهَا وَلَا أَدْرِي
سیدنا اویس بن ابو اویس ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ثقیف کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم ایک قبہ میں تھے، ہوا یوں کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ سارے لوگ چلے گئے، اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سرگوشی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر جا اور اس کو قتل کر دے۔“ ایک روایت میں ہے: جب وہ بندہ جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا: ”کیا وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی گواہی دیتا ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، لیکن وہ یہ کلمہ تو محض بچنے کے لیے کہتا ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو۔“ ایک روایت میں ہے: ”جا اور اس کو جانے دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» نہ کہہ دیں، جب وہ یہ کلمہ کہہ دیں گے تو ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو جاتے ہیں، مگر ان کے حق کے ساتھ۔“ میں (محمد بن جعفر) نے امام شعبہ سے کہا: کیا حدیث کے الفاظ اس طرح نہیں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» کی گواہی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ الفاظ بھی تھے، لیکن اب مجھے یاد نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 80، وابن ماجه: 3929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16260»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 127
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ (طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لِقَوْمٍ: ( (مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِهِ حَرَّمَ اللَّهُ مَالَهُ وَدَمَهُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) )
سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے بارے میں فرمایا: ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کو یکتا و یگانہ قرار دے گا اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے، ان سب کا انکار کر دے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے مال اور خون کو حرام قرار دے گا اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 23، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:27213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27755»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کی توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ معبودانِ باطلہ سے اعراض کر کے شرک کے تمام تقاضوں کو چھوڑ دیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 128
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَعَثَ نَبِيَّهُ لِإِدْخَالِ رَجُلٍ إِلَى الْجَنَّةِ فَدَخَلَ الْكَنِيسَةَ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودَ وَإِذَا يَهُودِيٌّ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ التَّوْرَاةَ، فَلَمَّا أَتَوْا عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْسَكُوا، وَفِي نَاحِيَتِهَا رَجُلٌ مَرِيضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا لَكُمْ أَمْسَكْتُمْ؟) ) قَالَ الْمَرِيضُ: إِنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى صِفَةِ نَبِيٍّ فَأَمْسَكُوا، ثُمَّ جَاءَ الْمَرِيضُ يَحْبُو حَتَّى أَخَذَ التَّوْرَاةَ فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتِهِ فَقَالَ: هَذِهِ صِفَتُكَ وَصِفَةُ أُمَّتِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: ( (لُوا أَخَاكُمْ) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایک بندے کو جنت میں داخل کرنے کے لیے بھی بھیجا ہے، بات یہ ہے کہ وہ (نبی) گرجا گھر میں داخل ہوا، وہاں یہودی لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک یہودی ان پر تورات پڑھ رہا تھا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات تک پہنچے تو رک گئے، کونے میں ایک بیمار آدمی بیٹھا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”تم کیوں رک گئے ہو؟“ اس مریض آدمی نے کہا: ”آگے ایک نبی کا ذکر ہے، اس لیے یہ رک گئے ہیں،“ پھر وہ مریض گھسٹتا ہوا آگے کو بڑھا، یہاں تک کہ تورات پکڑ لی اور اس کو پڑھنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی صفات بھی پڑھ دیں اور پھر اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ آپ کی اور آپ کی امت کی صفات ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور آپ اس کے رسول ہیں،“ پھر وہ آدمی فوت ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اپنے بھائی کو سنبھالو (اور اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرو)۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة بن عبد الله بن مسعود لم يسمع من ا بيه۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 10295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3951»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اگر کسی غیر مسلم کا اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا، بلکہ یہ حسن ظن بھی رکھا جائے گا کہ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کیے جا چکے ہیں، کیونکہ قبولیت ِ اسلام سے پہلے والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف