🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابٌ فِي أَنْ غَسْلَ الرَّجُلِ مَعَ زَوْجَتِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ لَا يُسَبِّبُ طَهُورِيَّةَ الْمَاءِ
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 374
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ كَانُوا يَتَوَضَّؤُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ جَمِيعًا
(دوسری سند) بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خواتین و حضرات ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 374]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5799»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 375
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: كَانَ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ يَتَوَضَّؤُنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَيَشْرَعُونَ فِيهِ جَمِيعًا
(تیسری سند) عہد نبوی میں عورتیں اور مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے اور اکٹھے شروع ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4481»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خواتین و حضرات یا صرف خواتین یا صرف مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کر سکتے ہیں۔ لیکن اِن سے بے پردگی کا ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ ممکن ہے کہ وضو کایہ واقعہ پردہ کے احکام کے نزول سے پہلے کا ہو، یا محرم رشتہ دار اس طرح وضو کرتے ہوں، یا غیر محرم اپنی نظروں کی حفاظت کے ساتھ اکٹھے وضو کر لیتے ہوں۔ اس باب میں ان احادیث سے استدلال کیا جا رہا ہے کہ وضو یا غسل سے بچا ہوا پانی طاہر اور مطہِّر ہے، کیونکہ جب ایک آدمی ایک برتن سے وضو یا غسل شروع کرتا ہے تو وہ پانی دوسرے آدمی کیلئے تو اس کی طہارت سے بچا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود دوسرا آدمی اسی پانی سے وضو اور غسل کر رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مائے مستعمل خود بھی پاک ہے اور پاک کرنے والا بھی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابٌ فِي طَهَارَةِ الْمَاءِ الْمُتَوَضَّأِ بِهِ
جس پانی سے وضو کیا جائے، اس کی طہارت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 376
عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَتَوَضَّأَ فَصَبَّهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِيَ أَخَوَاتٌ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ {إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ}
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میرے پاس آئے، جبکہ میں بے ہوش تھا، اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وہ پانی مجھ پر ڈالا، پس مجھے افاقہ ہو گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا کیا کروں، جبکہ میری بہنیں بھی ہیں؟ پس میراث والی یہ آیت نازل ہوئی: «یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ» سیدنا جابر کی اولاد نہیں تھی، بہنیں تھیں، «اِنِ امْرُئٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ اُخْتٌ» [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 376]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5651، 6723، ومسلم: 1616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14349»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 377
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فِي حَدِيثِ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةَ أَنَّ رَسُولَ قُرَيْشٍ قَامَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَأَى مَا يَصْنَعُ بِهِ أَصْحَابُهُ، لَا يَتَوَضَّأُ وُضُوءً إِلَّا ابْتَدَرُوهُ وَلَا يَبْسُقُ بُسَاقًا إِلَّا ابْتَدَرُوهُ وَلَا يَسْقُطُ مِنْ شَعَرِهِ شَيْءٌ إِلَّا أَخَذُوهُ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریشیوں کا قاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا، جبکہ وہ دیکھ چکا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی وضو کرتے ہیں تو وہ (اعضائے شریفہ سے گرنے والے پانی) کی طرف لپکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی تھوکتے ہیں تو وہ اس کو لینے کے لیے بھی بڑھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو بال گرتا ہے، وہ اس کو پکڑ لیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث طويل وأخرجه البخاري مختصرا: 1811، 2711، 2712، 2731، 2732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19117»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 378
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَاجِرَةِ فَتَوَضَّأَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَمَسَّحُونَ بِفَضْلِ وَضُوئِهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت نکلے اور وضو کیا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو چھونا شروع کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (بطور سترہ) برچھی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 378]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 187، 501، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18964»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ الطَّهَارَةِ بِفَضْلِ الطَّهُورِ
ایک طہارت سے بچے ہوئے پانی سے مزید طہارت کرنے کی نہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 379
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ أَنْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ وَأَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ وَأَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ وَلْيَغْتَرِفُوا جَمِيعًا
حمید بن عبدالرحمن حمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایسے صحابی کو ملا، جن کو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار برسوں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف ملا تھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم ہر روز کنگھی کریں یا غسل خانے میں پیشاب کریں یا بیوی، خاوند کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا خاوند، بیوی کے بچے ہوئے پانی سے نہائے، ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھے نہا لیں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 379]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 81، والنسائي: 1/ 130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17137»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 380
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍ (الْغِفَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ سُؤرِ الْمَرْأَةِ (مسند أحمد: 18018)
سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد کو اس سے منع کیا کہ وہ عورت کے جوٹھے پانی سے وضو کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 380]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابي حاجب، وھو ثقة، وقد اعل بالوقف۔أخرجه ابوداود: 82، وابن ماجه: 373، والترمذي: 64، والنسائي: 1/ 179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18018»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 381
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِهَا، لَا يَدْرِي بِفَضْلِ وَضُوئِهَا أَوْ فَضْلِ سُوءِهَا
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا، اب وہ یہ نہیں جانتے کہ عورت کے وضو سے بچا ہوا پانی مراد تھا، یا اس کا جوٹھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 381]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18020»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 382
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ فَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ
(تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد کو اس سے منع فرمایا کہ وہ عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 382]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20933»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 383
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنْ أَبِي حَاجِبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي غِفَّارٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ
بنو غفار کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد کو عورت کی طہارت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 383]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18020»
وضاحت: فوائد: … لیکن ان احادیث سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ وہ پانی نجس ہو جاتا ہے یا مطہِّر نہیں رہتا، کیونکہ اگلے باب کی احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ام المؤمنین کے جنابت والے غسل سے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کیا ہے، اگر محض غسل کرنے سے پانی کی طہوریت میں فرق آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو غسل یا وضو نہ کرتے۔ دراصل ان احادیث ِ مبارکہ میں انسان کی طبع کا لحاظ رکھتے ہوئے ایسے پانی سے تنزیہی طور پر منع کیا گیا ہے، وگرنہ اگر کوئی استعمال کرنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا، جیسا کہ ان تین چار ابواب میں مذکورہ کئی احادیث سے یہ مسئلہ ثابت ہو رہا ہے۔ اگر اس نہی کی بنیاد ی وجہ پانی کے استعمال شدہ ہونے کو قرار دیا جائے تو پہلی حدیث کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تو نہ فرماتے کہ ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلّو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھا نہا لیں)۔ کیونکہ ایک برتن میں ایک وقت میں وضو اور غسل کرنے والے ایک دوسرے کا بچا ہوا پانی استعمال کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں