الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابٌ فِي تَطْهِيرِ الْأَرْضِ مِنْ نَجَاسَةِ الْبَوْلِ
زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 413
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ ذَنُوبًا أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدو آیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی کا ایک ڈول اس پر بہا دو۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 413]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 221، ومسلم: 284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12106»
وضاحت: فوائد: … روایات کے سیاق و سباق سے پتہ چل رہا ہے کہ اس بدّو کو اسلام کے احکام کا علم نہیں تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مسجد کے آداب کی تعلیم دی۔ زمین کو پاک کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک طریقہ حدیث نمبر (۴۰۱) میں گزر چکا ہے اور اس باب کی احادیث کے مطابق دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زمین پر پڑے ہوئے پیشاب پر پانی ڈال دیا جائے، اس طرح کرنے سے نجاست کے بعض اجزاء زمین میں جذب ہو جائیں گے اور بعض پانی کے ساتھ زمین پر بکھر کر زائل ہو جائیں گے اور زمین پاک ہو جائے گی، وہ زمین سخت ہو یا نرم۔ جن روایات میں زمین کو کھودنے کا ذکر ہے، وہ ضعیف ہیں۔ ان احادیث میں تبلیغ و اصلاح کرنے والے لوگوں کو جس حکمت، دانائی اور حسن اخلاق کی تعلیم دی جا رہی ہے، مجموعی لحاظ سے امت ِ مسلمہ ان سے بری طرح غافل ہے، ہم اس طرح کی حرکت دیکھ کر سب سے پہلے اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے جھاگ بہانا شروع کر دیتے ہیں۔ والدین، اساتذہ، بڑے بھائیوں، آجروں اور دوسرے نگران اور کفیل لوگوں نے اصلاح کا یہ واحد طریقہ ایجاد کیا ہوا ہے کہ ماتحت افراد کا جرم دیکھ کر بولنا شروع کر دیا جائے، توہین آمیز کلمات کہے جائیں، ہو سکے تو پٹائی بھی کی جائے اور مجرم کی عزت اور شخصیت کو خاک میں ملا دیا جائے۔ یاد رکھ لیں کہ اس طریقے سے نگران کا غصہ تو دور ہو سکتا ہے، اصلاح نہیں ہو سکتی۔ شریعت نے غصے ہونے اور مارنے کی بھی اجازت دی ہے، لیکن وہ طریقہ اپنانے کے لیے حکیم اور دانا ہونا ضروری ہے۔ غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کی موجودگی میں مسجد نبوی میں پیشاب کر دینا کوئی معمولی جرم ہے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو ڈانٹنا گوارا نہیں کیا، بلکہ دوسرے صحابہ کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ مسجد کو پاک کرنے کا اہتمام کریں اور خود اس کو اچھے انداز میں سمجھانا شروع کر دیا۔ ہمارے ہاں تو جو بچہ مسجد میں شور کرے یا اس کا پیشاب نکل جائے تو اس بچے کو اور اس کے والدین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا لیا جاتاہے اور اگر والد موجود ہو تو وہ وہیں اپنے بچے کو زد و کوب کرنا شروع کر دیتاہے، جو آدمی موبائل بند نہ کر سکے اور دورانِ نماز اس کی گھنٹی بج جائے تو سلام کے فوراً بعد مستقل نمازی مسجد کو سر پر اٹھا لیتے ہیں، ان بیچاروں کو اتنی سمجھ نہیں ہوتی کہ ان کے بولنے سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ یقین مانیں کہ مبلغ اور مُصلِح افراد کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حکمت سے جو سبق حاصل کرنا چاہیے، اس کو قلم بند نہیں جا سکتا ہے، یہ ایک سوچ اور فکر ہے، جو ضمیروں میں پیوست ہو جانی چاہیے جو ہر بدی کا مقابلہ کرتے وقت زندہ ہو جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
18. بَابٌ تَطْهِيرُ إِهَابِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ
مردار کے چمڑے کو رنگ کر پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 414
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّا نَغْزُو فَنُؤْتَى بِالْإِهَابِ وَالْأَسْقِيَةِ، قَالَ: مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ) )
عبدالرحمن بن وہلہ رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”بیشک جب ہم جہاد کرتے ہیں تو ہمارے پاس چمڑے اور مشکیزے لائے جاتے ہیں،“ انہوں نے آگے سے کہا: ”مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں تجھ سے کیا کہوں، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو چمڑا بھی رنگا جائے، پس تحقیق وہ پاک ہو جاتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 414]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2435»
وضاحت: فوائد: … رنگنے سے پہلے چمڑے کو اِھَاب اور رنگنے کے بعد شَنّ اور قِرْبَۃ کہتے ہیں۔
امام ابو داؤد نے نضر بن شمیل کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے لیکن اہل لغت کے ہاں یہ معروف نہیں۔ بلکہ ان کے ہاں معروف یہ ہے کہ شن بوسیدہ مشک کو اور قربہ عام مشک کو کہتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
امام ابو داؤد نے نضر بن شمیل کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے لیکن اہل لغت کے ہاں یہ معروف نہیں۔ بلکہ ان کے ہاں معروف یہ ہے کہ شن بوسیدہ مشک کو اور قربہ عام مشک کو کہتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 415
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُنْتَفَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردار جانوروں کے چمڑوں سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا، بشرطیکہ اس کو رنگ دیا جائے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 415]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4124، والنسائي: 7/176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24951»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 416
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ فَقَالَ: ( (دِبَاغُهَا طَهُورُهَا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مردار کے چمڑوں کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا رنگنا ان کو پاک کرنا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 416]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25729»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 417
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: مَاتَتْ شَاةٌ لَنَا فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا فَمَا زَلْنَا نَنْبِذُ فِيهِ حَتَّى صَارَ شَنًّا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زوجہ رسول سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہماری ایک بکری مر گئی تھی، پس ہم نے اس کے چمڑے کو رنگ لیا اور اس میں نبیذ بناتے رہے، یہاں تک کہ وہ بوسیدہ ہو گیا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 417]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27963»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 418
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِبَيْتٍ بِفِنَائِهِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَاسْتَسْقَى فَقِيلَ إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ: ( (زَكَاةُ الْأَدِيمِ دِبَاغُهُ) ) وَفِي لَفْظٍ: ( (دِبَاغُهَا طَهُورُهَا أَوْ زَكَاتُهَا) )
سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر کے پاس سے گزرے، اس گھر کے صحن میں لٹکا ہوا ایک مشکیزہ تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا، لیکن کہا گیا کہ یہ تو مردار کا چمڑا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چمڑے کو پاک کرنا اس کو رنگنا ہے۔“ ایک روایت میں ہے: ”اس کو رنگنا اس کو پاک کرنا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 418]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حال جون بن قتادة، ولم يوثقه غير ابن حبان۔ أخرجه ابوداود: 4125، النسائي: 7/173، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16003»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 419
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَأَتَيْتُ خِبَاءً فَإِذَا فِيهِ امْرَأَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ مَاءً يَتَوَضَّأُ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ مَاءٍ؟ قَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللَّهِ! مَا تُظِلُّ السَّمَاءُ وَلَا تُقِلُّ الْأَرْضُ رُوحًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رُوحِهِ وَلَا أَعَزَّ، وَلَكِنَّ هَذِهِ الْقِرْبَةَ مَسْكُ مَيْتَةٍ وَلَا أُحِبُّ أَنْ أُنَجِّسَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ( (ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَإِنْ كَانَتْ دَبَغَتْهَا فَهِيَ طَهُورُهَا) ) قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ: أَيْ وَاللَّهِ! لَقَدْ دَبَغْتُهَا، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ مِنْهَا وَعَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ وَعَلَيْهِ خُفَّانٍ وَخِمَارٌ، قَالَ: فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، قَالَ: مِنْ ضِيقِ كُمِّهَا، قَالَ: فَتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى الْخِمَارِ وَالْخُفَّيْنِ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پانی کے ساتھ طلب کیا، پس میں ایک خیمہ میں گیا، اس میں ایک بدو خاتون تھی، میں نے اس سے کہا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ وضو کرنے کے لیے پانی چاہ رہے ہیں، تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ اس نے کہا: ”میرے ماں باپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، پس اللہ کی قسم! نہ آسمان نے ایسی روح پر سایہ کیا اور نہ زمین نے ایسی روح کو اٹھایا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کی بہ نسبت مجھے محبوب اور معزز ہو، لیکن بات یہ ہے کہ یہ مشکیزہ تو مردار کے چمڑے کا ہے اور میں یہ پسند نہیں کروں گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے ذریعے ناپاک کر دوں،“ پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا اور یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی طرف واپس جاؤ، اگر اس نے اس کو رنگا تھا تو یہی اس کو پاک کرنا ہے۔“ پس میں اس کی طرف لوٹا اور اس کو یہ فرمان بتایا، اس نے کہا: ”جی اللہ کی قسم! میں نے اس کو رنگا تھا،“ پس میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شامی جبہ زین تن کیا ہوا تھا اور دو موزے بھی پہنے ہوئے اور پگڑی بھی باندھی ہوئی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آستینیں تنگ ہونے کی وجہ سے جبہ کے نیچے سے ہاتھ نکال لیے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 419]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، معان بن رفاعة لين الحديث، كثير الارسال، وعلي بن يزيد الالھاني ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 859، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18412»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 420
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ قَالَ: ( (إِنَّ دِبَاغَهَا قَدْ أَذْهَبَ نَجَسَهَا أَوْ رِجْسَهَا أَوْ خَبَثَهَا) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کے چمڑے کے بارے میں فرمایا: ”بیشک اس کا رنگنا اس کی نجاست کو ختم کر دیتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 420]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن خزيمة: 114، والحاكم: 1/ 161، والبيھقي: 1/ 17، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2878»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 421
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ دَاجِنَةً لِمَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَاتَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا، أَلَا دَبَغْتُمُوهُ فَإِنَّهُ زَكَاتُهُ) )
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی پالتو بکری مر گئی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا، تم نے اس کو رنگ کیوں نہیں لیا، پس یہی اس کو پاک کرنا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 421]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2003 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2003»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 422
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيْتَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا) ) قَالَ سُفْيَانُ: هَذِهِ الْكَلِمَةُ لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا مِنَ الزُّهْرِيِّ ( (حَرُمَ أَكْلُهَا) ) قَالَ أَبِي: قَالَ سُفْيَانُ مَرَّتَيْنِ عَنْ مَيْمُونَةَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زوجہ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کی لونڈی کی مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف اس کا کھانا حرام ہے۔“ امام سفیان رحمہ اللہ نے کہا: میں نے ”صرف اس کا کھانا حرام ہے۔“ کے الفاظ صرف امام زہری رحمہ اللہ سے سنے ہیں۔ میرے باپ (امام احمد رحمہ اللہ) نے کہا: سفیان نے دو مرتبہ میمونہ کے واسطہ سے حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 422]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث الآتي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3016»
الحكم على الحديث: صحیح