الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي سُؤْرِ الْهِرَّةِ
بلی کے جوٹھے کا بیان
حدیث نمبر: 404
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ وُضِعَ لَهُ وَضُوءُهُ، فَوَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ فَأَخَذَ يَتَوَضَّأُ فَقَالُوا: يَا أَبَا قَتَادَةَ! قَدْ وَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ: ( (السِّنَّوْرُ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ وَإِنَّهُ مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ) )
سیدنا عبداللہ بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے لیے وضو کا پانی رکھا گیا، اس میں سے بلی نے پیا، لیکن انہوں نے اس سے وضو کرنا شروع کر دیا، لوگوں نے کہا: ”اے ابو قتادہ! اس سے تو بلی نے پیا ہے،“ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بلی تو گھر والوں میں سے ہے اور یہ تو تم پر چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 404]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: 402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23014»
وضاحت: فوائد: … بلا شک و شبہ بلی حرام جانوروں میں سے ہے، لیکن ان روایات سے پتہ چلا کہ اس کا جوٹھا پاک ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {طَوَّافُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … تم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو۔ (سورۂ نور: ۵۸) خادم اور مالک کو آپس میں ہر وقت ایک دوسرے سے ملنے کی ضرورت پیش آتی ہے، اسی ضرورت ِ عامہ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے غلاموں کو اس آیت میں یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ تین مخصوص اوقات کے علاوہ بغیر اجازت لیے اپنے مالکوں کے پاس آ سکتے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ بلی کا ہے، اس کے مزاج میں اتنی مانوسیت ہے کہ یہ بکثرت گھر کے اندر آتی جاتی رہتی ہے، بلکہ رات کو گھر کے افراد کے پاس بستروں میں گھس آتی ہے اور اس کی یہ عادت بھی ہے کہ جہاں تک اس کا بس چلتا ہے، یہ برتنوں کے اندر گھستی رہتی ہے، پس شریعت نے غلاموں کی طرح اس کے لیے بھی رخصت نکال دی اور اس کے جوٹھے کو پاک قرار دیا اور پھر اس رخصت کے تقاضے کے مطابقت اس جانور کو صفائی پسند بنا دیا، مثلا کوئی چیز کھانے کے بعد منہ کو زمین پر رگڑنا اور اپنی گندگی پر پنجوں کے ذریعے مٹی ڈالنا اس کی فطرت میں شامل ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
13. باب
نجاست کو پاک کرنے کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: Q405]
14. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي تَطْهِيرِ نَجَاسَةِ دَمِ الْحَيْضِ
حیض کے خون کو پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 405
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْمَرْأَةُ يُصِيبُهَا مِنْ دَمِ حَيْضِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِتَحُطِّهِ ثُمَّ لِتَقْرِصْهُ بِمَاءٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ فِيهِ) )
سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! عورت کو حیض کا خون لگ جاتا ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو چاہیے کہ وہ اس کو کھرچے، پھر پانی کے ساتھ ملے اور پھر اس میں نماز پڑھ لے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 405]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 307، ومسلم: 291، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27459»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 406
عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَ: ( (اغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَحُكِّيهِ بِضِلَعٍ) )
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ دھو اور کسی ہڈی کے ساتھ کھرچ ڈال۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 363، والنسائي: 1/ 154، وابن ماجه: 628، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27542»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 407
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتِ النَّبِيَّ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ، قَالَ: ( (فَإِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ صَلِّي فِيهِ) ) قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ لَمْ يَخْرُجْ أَثَرُهُ؟ قَالَ: ( (يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ) )
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8752»
وضاحت: فوائد: … اس امر پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ حیض کا خون پلید ہے، مذکورہ بالا احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ اس خون کی مکمل صفائی ہونی چاہیے۔ اس کا (باقی رہ جانے والا) نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔ اس چیز کو سمجھنے کے لیے ایک مثال دینا ضروری ہے، جن لوگوں کو بغلوں میں بہت زیادہ پسینہ آتا ہے، بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ کپڑے کے اس حصے کا رنگ زرد ہو جاتا ہے اور دھونے کے باوجود نہیں اترتا ہے، جبکہ اس زردی کے باقی رہنے کا یہ معنی نہیں ہوتا ہے کہ ابھی تک پسینہ باقی ہے، دراصل یہ پسینہ کی وجہ سے پڑ جانے والا رنگ ہوتا ہے، یہی معاملہ حیض کے خون اور دوسری اس قسم کی چیزوں کا ہے۔ مقصودِ شریعت یہ ہے کہ حیض کے خون کو صاف کیا جائے اور اگر اس کی وجہ سے کپڑے کی رنگت ہی تبدیل ہو گئی ہے، تو اس کے باقی رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
15. بَابٌ فِي تَطْهِيرِ ذَيْلِ الْمَرْأَةِ إِذَا مَرَّتْ بِنَجَاسَةٍ
نجاست سے گزرنے والی خاتون کے کپڑے کے نچلے حصے کو پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 408
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَتْ: كُنْتُ أَجُرُّ ذَيْلِي (وَفِي رِوَايَةٍ: كُنْتُ امْرَأَةً لِي ذَيْلٌ طَوِيلٌ) وَكُنْتُ آتِي الْمَسْجِدَ فَأَمُرُّ بِالْمَكَانِ الْقَذِرِ وَالْمَكَانِ الطَّيِّبِ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ) )
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد رحمہا اللہ کہتی ہیں: ”میں اپنے کپڑے کو گھسیٹتی تھی،“ ایک روایت میں ہے: ”میں ایسی عورت تھی، جس کا کپڑے کا نچلا حصہ لمبا تھا اور جب میں مسجد کی طرف آتی تھی تو ناپاک اور پاک دونوں جگہوں سے گزر کر آتی تھی،“ پس میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعد والی (پاک) جگہ اس کو پاک کر دے گی۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 408]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 383، وابن ماجه: 531، والترمذي: 143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27021»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 409
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيْسَى عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنًا، فَكَيْفَ نَصْنَعُ إِذَا مُطِرْنَا؟ قَالَ: ( (أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟) ) قَالَتْ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ( (فَهَذِهِ بِهَذِهِ) ) وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: ( (إِنَّ هَذِهِ تَذْهَبُ بِذَلِكَ) )
موسیٰ بن عبداللہ رحمہ اللہ، جو کہ سچائی والا آدمی تھا، بنو عبد اشہل کی ایک صحابیہ خاتون رضی اللہ عنہا سے روایت کرتا ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مسجد کی طرف آنے والا ہمارا راستہ بدبودار ہے، جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے بعد کوئی پاک راستہ نہیں ہے؟“ اس نے کہا: ”جی کیوں نہیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر یہ راستہ اس کے بدلے ہے۔“ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پاک راستہ اس (ناپاک راستے کے اثر) کو ختم کر دے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 409]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 384، وابن ماجه: 533، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27999»
وضاحت: فوائد: … خواتین کے کپڑے کا جو حصہ زمین پر گھسٹ رہا ہوتا ہے، اس کی پاکی کا حکم جوتے والا ہے، جس کی تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے۔ ذہن نشین کر لیں کہ شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ عورتوں کے پاؤں کے نیچے ایک ہاتھ کپڑا لٹکنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
16. بَابٌ فِي تَطْهِيرِ أَسْفَلِ النَّعْلِ تُصِيبُهُ النَّجَاسَةُ
جوتے کے نچلے حصے کو لگ جانے والی نجاست کو پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 410
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ( (لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟) ) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، قَالَ: ( (إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُقَلِّبْ نَعْلَيْهِ فَلْيَنْظُرْ فِيهِمَا، فَإِنْ رَأَى بِهِمَا خَبَثًا فَلْيَمْسَحْهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ لِيُصَلِّ فِيهِمَا) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور (نماز کے اندر) جوتے اتار دیے، پس لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: ”تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار دیے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا، سو ہم نے بھی اتار دیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے میرے پاس آکر مجھے بتلایا کہ ان میرے جوتوں پر نجاست لگی ہوئی ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ لیا کرے، اگر ان میں کوئی نجاست نظر آئے تو اس کو زمین سے صاف کر لے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 650،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11170»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا وَطِیئَ اَحَدُکُمْ بِنَعْلِہِ الْاَذٰی فَاِنَّ التُّرَابَ لَہٗ طَھُوْرٌ)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((اِذَا وَطِیئَ الْاَذٰی بِخُفَّیْہِ فَطَھُوُرُھُمَا التُّرَابُ)) … جب کوئی آدمی اپنے جوتے سے نجاست کو روندے تو مٹی اس کو پاک کرنے والی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: جب اپنے موزوں سے نجاست کو روندے تو مٹی ان کو پاک کرنے والی ہے۔ (ابوداود: ۳۸۵، ۳۸۶، شرح معانی الآثار: ۱/ ۵۱۱، حاکم: ۱/ ۱۶۶، بیہقی: ۲/ ۴۰۶) جوتے یا موزے پر لگی ہوئی نجاست تر ہو یا خشک، دونوں صورتوں میں رگڑنے سے صاف ہو جائے گی، لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ یہ شریعت کی طرف سے ایک رخصت ہے، اگر اس موقع پر جوتوں اور موزوں کو دھونے کا حکم دے دیا جاتا تو اس میں امت کے لیے بڑی مشقت ہوتی۔
صحابہ کرام کی اطاعت ِ رسول کا جذبہ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز میں جوتا اتارا تو انھوں نے بھی اسی وقت اس کو اتارنا مناسب سمجھا۔ سبحان اللہ
صحابہ کرام کی اطاعت ِ رسول کا جذبہ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز میں جوتا اتارا تو انھوں نے بھی اسی وقت اس کو اتارنا مناسب سمجھا۔ سبحان اللہ
الحكم على الحديث: صحیح
17. بَابٌ فِي تَطْهِيرِ الْأَرْضِ مِنْ نَجَاسَةِ الْبَوْلِ
زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 411
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا) ) ، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ، أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ) ) أَوْ ( (سَجْلًا مِنْ مَاءٍ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز ادا کر کے یہ دعا کی: ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تو نے تو وسعت والی چیز کو تنگ کر دیا ہے۔“ پھر جلد ہی اس بدو نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا، پس لوگ اس کی طرف لپکے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: ”صرف اور صرف تم لوگوں کو آسانیاں پیدا کرنے والے بنا کر بھیجا گیا ہے اور تنگیاں پیدا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجا گیا، اس پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 411]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 220، 6010، 6128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7254»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 412
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ( (لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا) ) ثُمَّ وَلَّى حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَّ يَبُولُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (إِنَّمَا بُنِي هَذَا الْبَيْتُ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهُ لَا يُبَالُ فِيهِ) ) ، ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهُ عَلَيْهِ، قَالَ: يَقُولُ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي فَلَمْ يَسُبَّ وَلَمْ يُؤَنِّبْ وَلَمْ يَضْرِبْ
(دوسری سند) ایک بدو مسجد میں داخل ہوا، جبکہ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، اس نے دعا کرتے ہوئے کہا: ”اے اللہ! مجھے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بخش دے اور ہمارے ساتھ کسی اور کو نہ بخش،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: ”تو نے تو وسیع چیز کو تنگ کر دیا ہے۔“ پھر وہ چل پڑا اور جب مسجد کے ایک کونے میں پہنچا تو ٹانگیں کھول کر پیشاب کرنے لگ گیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”صرف اور صرف اس گھر کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز کے لیے بنایا گیا ہے، اس میں پیشاب نہیں کیا جاتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس پر بہا دیا، وہ بدو دین کی سمجھ آنے کے بعد کہتا تھا: ”پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کھڑے ہوئے، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے برا بھلا کہا، نہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کی اور نہ مجھے مارا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10540»
الحكم على الحديث: صحیح