الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابٌ تَطْهِيرُ إِهَابِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ
مردار کے چمڑے کو رنگ کر پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 423
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ فَقَالَ: ( (هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا) ) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: ( (إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! بیشک یہ تو مردار ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف اس کا کھانا حرام ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 423]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2221، 5531، ومسلم: 363، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2369»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 424
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا) ) قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ) )
زوجہ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کے چند مردوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، وہ ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کاش تم اس کا چمڑا اتار لیتے۔“ انہوں نے کہا: ”یہ تو مردار ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی اور قرظ اس کو پاک کر دیں گے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 424]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد ولجھالة عبد الله بن مالك وجھالة امه۔ أخرجه ابوداود: 4126، والنسائي: 7/ 174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27370»
وضاحت: فوائد: … قرظ: یہ کیکر کے مشابہ ایک درخت ہوتا ہے، جس کے پتوں سے چمڑے کی دباغت کی جاتی ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مردار کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے، لیکن وہ اس عمل سے حلال نہیں ہوتا، حرام ہی رہتا ہے، اس طرح ایسے چمڑے کا کوئی جزو کھانا جائز نہیں ہو گا، ہم بلی کے جوٹھے کا حکم بیان کرتے وقت یہ و ضاحت کر آئے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز حرام ہو، لیکن پاک ہو، جیسے بلی ہے، کسی چیز کے حرام ہونے سے اس کا نجس ہونا لازم نہیں آتا، وہ اس وقت نجس ہو گی، جب شریعت اس کی وضاحت کرے گی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
19. فَصْلٌ فِي تَحْرِيمِ أَكْلِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ وَإِنْ طَهُرَتْ بِالدِّبَاغِ
اس چیز کا بیان کہ مردار کے چمڑوں کو کھانا حرام ہے، اگرچہ ان کو رنگ کر پاک کر لیا جائے
حدیث نمبر: 425
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَاتَتْ فُلَانَةٌ تَعْنِي شَاةً، فَقَالَ: ( (فَلَوْ لَا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا) ) فَقَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مِيتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ} فَإِنَّكُمْ لَا تَطْعَمُونَهُ، إِنْ تَدْبُغُوهُ فَتَنْتَفِعُوا بِهِ) ) ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا فَدَبَغَتْهُ فَأَخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ عِنْدَهَا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی بکری مر گئی، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فلاں بکری مر گئی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہیں اتار لیا۔“ انہوں نے کہا: ”ہم مر جانے والی بکری کا چمڑا کیسے اتار لیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قُلْ لَآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ» (آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے اس میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لیے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو۔) (الانعام: 145) پس بیشک تم نے اس کے چمڑے کو کھانا تو نہیں ہے، اگر تم اس کو رنگ لو تو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔“ پس انہوں نے کسی بندے کو بھیج کر (اس بکری کو منگوا لیا) اور اس کی کھال اتار لی اور اس کو رنگ کر اس کا مشکیزہ بنا لیا، (پھر وہ اس کو استعمال کرتی رہیں) یہاں تک کہ وہ ان کے پاس ہی پھٹ گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 425]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 2334، وابن حبان: 1281، والبيھقي: 1/ 18، أخرجه البخاري: 6686 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3027»
وضاحت: فوائد: … پچھلے باب کے فوائد میں اس مسئلہ کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
20. فَصْلٌ فِي حُجَّةِ مَنْ قَالَ بِطَهَارَةِ شَعْرِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَ الْجِلْدُ
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو چمڑے کو رنگنے کے بعد مردار کے بالوں کی طہارت کے قائل ہیں
حدیث نمبر: 426
عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَى رَجُلٌ ضَخْمٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عِيسَى! قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ فِي الْفِرَاءِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ؟ قَالَ: فَأَيْنَ الدِّبَاغُ؟ فَلَمَّا وَلَّى قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ
ثابت بن اسلم بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عبدالرحمن بن ابو لیلی رحمہ اللہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، پس ایک موٹا سا آدمی آیا اور اس نے کہا: ”اے ابو عیسی (عبدالرحمن)!“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں،“ اس نے کہا: ”تم نے فراء کے بارے جو کچھ سنا ہے، وہ بیان کرو،“ پس انہوں نے کہا: ”میں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں فراء میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر رنگنے کا کیا فائدہ ہوا؟“ جب وہ چلا گیا تو میں (ثابت) نے کہا: ”یہ آدمی کون تھا؟“ عبدالرحمن نے کہا: ”یہ سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ تھے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 426]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن ابي ليلي ضعيف۔ أخرجه البيھقي: 1/24، وابن ابي شيبة: 8/ 377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:19060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19270»
وضاحت: فوائد: … فِرَاء: یہ فَرْوٌ یا فَرْوَۃٌ کی جمع ہے یہ اس چمڑے کو کہتے ہیں، جس پر بال موجود ہوں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
21. بَابٌ فِي عَدْمِ جَوَازِ الْانْتِفَاعِ مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ وَالْجَمْعِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحَادِيثِ الْجَوَازِ
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
حدیث نمبر: 427
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ ( (أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ) )
سیدنا عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، (اس خط میں لکھا ہوا تھا:) ”تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 427]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه علتان: الانقطاع، عبداللّٰه بن عكيم ادرك زمان رسول اللّٰه صلي الله عليه وآله وسلم ولا يعرف له سماع صحيح، والاضطراب، فقد اختلف فيه الوانا۔ أخرجه ابوداود: 4127، والنسائي: 7/ 175، وابن ماجه: 3613، والترمذي: 1729، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18987»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 428
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرٍ ( (أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ) )
(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ہماری طرف یہ حکم لکھا کہ ”تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 428]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18989»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 429
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ قَالَ: وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ ( (أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ) )
(تیسری سند) سیدنا عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک یا دو ماہ پہلے کی بات تھی، اس میں لکھا تھا: ”تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ حاصل نہ کرو۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 429]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18990»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 430
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ: جَاءَنَا، أَوْ قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ) )
سیدنا عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف یہ خط لکھا کہ ”تم مردار کے چمڑے سے استفادہ نہ کرو اور نہ اس کے پٹھے سے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 430]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18991»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 431
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) أَنَّهُ قَالَ: قُرِيءَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ) )
سیدنا عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خط پڑھا گیا کہ ”تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 431]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18992»
وضاحت: فوائد: … اِھَاب اس چمڑے کو کہتے ہیں، جو رنگا نہ گیا ہو، مردار کے اس طرح کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، لیکن جب اس کو رنگ دیا جاتا ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے اور اس وقت اس کو اِھَاب نہیں کہتے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
22. بَابٌ فِي تَطْهِيرِ آنِيَةِ الْكُفَّارِ وَجَوَازِ اسْتِعْمَالِهَا بَعْدَ غَسْلِهَا
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 432
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا أَهْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ وَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ، قَالَ: ( (فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا) )
سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں اور یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے پاس سے ہمارا گزر ہوتا رہتا ہے اور ہمیں صرف ان کے ہی برتن مل سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس اگر تمہیں دوسرے برتن نہ مل سکیں تو ان کو پانی کے ساتھ دھو کر ان میں کھا پی لیا کرو۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 432]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3839، وابن ماجه: 2831، الترمذي: 1464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17885»
الحكم على الحديث: صحیح