🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابٌ فِي تَطْهِيرِ آنِيَةِ الْكُفَّارِ وَجَوَازِ اسْتِعْمَالِهَا بَعْدَ غَسْلِهَا
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 433
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ أَهْلِ كِتَابٍ وَإِنَّهُمْ يَأْكُلُونَ لَحْمَ خِنْزِيرٍ وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِآنِيَتِهِمْ وَقُدُورِهِمْ؟ قَالَ: ( (إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا وَاطْبَخُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا) )
(دوسری سند) سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارا علاقہ، اہل کتاب کا علاقہ ہے اور وہ خنزیر کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور شراب بھی پیتے ہیں، اب میں ان کے برتنوں اور ہنڈیاں کے ساتھ کیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم کو اور برتن نہ ملیں تو ان کو دھو کر ان میں پکا لیا کرو اور ان میں پی لیا کرو۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 433]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17889»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17889
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 434
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ فَنَقْتَسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے اور مشرکوں سے حاصل شدہ غنیمتوں میں مشکیزے اور برتن بھی ہمیں مل جاتے تھے لیکن ہم ان کو تقسیم کر لیتے تھے، جبکہ وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 434]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14555»
وضاحت: فوائد: … وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کافروں کے ذبح کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا تھا۔لیکن مالِ غنیمت یا اس قسم کے دیگر مالوں کے بارے میں ہماری شریعت کا قانون یہ ہے کہ جب تک چیز کے حرام ہونے کی واضح دلیل نہیں ہو گی، اس وقت تک اس کو پاک اور جائز ہی سمجھا جائے گا، مشکیزوں کے بارے میں یہ احتمالات اور امکانات موجود ہیں کہ انھوں نے ان کو رنگا ہو یا اہل کتاب کے علاقوں سے منگوایا ہو یا وہ جانور اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا ہو۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 473
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 435
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَجَابَهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور بو بدلی ہوئی چربی والے سالن کی دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قبول کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 435]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13233»
وضاحت: فوائد: … ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہودی کی دعوت قبول کر رہے ہیں اور دوسری طرف فرما رہے ہیں کہ اگر صحابہ کو کوئی اور برتن نہ ملیں تو یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے برتنوں کو دھو کر استعمال کریں۔ جمع تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جب غیر مسلم اپنے برتنوں میں ایسی چیز پکاتے ہوں، جو مسلمانوں پر حرام ہے، تو مجبوری کے وقت ان کے برتن دھو کر استعمال کیے جائیں اور اگر یہ لوگ ایسی چیزیں استعمال کرتے ہوں جو مسلمانوں کے لیے حلال ہوں یا مسلمانوں کو ایسی چیزوں کی دعوت دیں تو ان کے برتن بھی پاک ہوں گے اور کھانا بھی جائز ہو گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابٌ فِي تَطْهِيرِ مَا يُؤْكَلُ إِذَا وَقَعَتْ فِيهِ نَجَاسَةٌ
کھائی جانے والی ان چیزوں کو پاک کرنے کا بیان، جن میں نجاست گر جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَقَالَ: ( (إِنْ كَانَ جَامِدًا فَخُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ثُمَّ كُلُوا مَا بَقِيَ وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَأْكُلُوهُ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہے کے بارے میں سوال کیا گیا، جو گھی میں گر کر مر جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر گھی جامد ہو تو اس چوہے کو اور اس کے ارد گرد والے گھی کو نکال دو اور اگر وہ مائع ہو تو اس کو کھانے کے لیے استعمال نہ کرو۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 436]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10360»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ أَطْعَمُهُ؟ قَالَ: لَا، زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، كُنَّا نَضَعُ السَّمْنَ فِي الْجِرَارِ، فَقَالَ: ( (إِذَا مَاتَتِ الْفَأْرَةُ فِيهِ فَلَا تَطْعَمُوهُ) )
ابو زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ جس کھانے یا پینے میں چوہا گر جاتا ہے کیا میں اس کو کھا سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: ”جی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے،“ ہم لوگ گھڑوں میں گھی رکھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ایسے برتن میں چوہا مر جائے تو اس کو نہ کھایا کرو۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 437]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14739»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 438
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: جَامِدٍ) فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَأَلْقُوهُ وَكُلُوهُ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زوجہ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک چوہیا جمے ہوئے گھی میں گر کر مر گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو اور اس کے ارد گرد والے گھی کو نکال کر پھینک دو اور باقی کو کھا لو۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 235، 236، 5540، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26847 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27384»
وضاحت: فوائد: … ایسا چوہا نجس ہے، اس لیے اگر وہ کسی جامد چیز میں گرتا ہے تو صرف متاثرہ حصے کو ضائع کیا جائے گا اور اگر وہ چیز مائع ہے تو وہ ساری کی ساری پلید ہو جائے گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 235
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب
پیشاب، مذی اور منی وغیرہ کے حکم کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: Q439]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي بَوْلِ الْآدَمِيِّ
بندے کے پیشاب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ ذَنُوبًا أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدو آیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 221، ومسلم: 284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12106»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 221
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَنَا مِسْعَرٌ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ: الْبَوْلُ عِنْدَنَا بِمَنْزِلَةِ الدَّمِ مَالَمْ يَكُنْ قَدْرَ الدِّرْهَمِ فَلَا بَأْسَ بِهِ
حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمارے نزدیک پیشاب جب تک درہم کی مقدار کے برابر نہیں ہو گا، اس وقت تک وہ خون کے قائم مقام ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 440]
تخریج الحدیث: «اثر صحيح الاسناد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19713»
وضاحت: فوائد: … امام ابو حنیفہ کا بھی یہی مسلک ہے، لیکن یہ رائے مرجوح ہے، کیونکہ شریعت نے نجاست سے مطلق طور پر بچنے کا حکم دیا ہے۔
ایک درہم والی روایت اور اس کی حقیقت: سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((تُعَادُ الصَّلَاۃُ مِنْ قَدَرِ الدِّرْھَمِ مِنَ الدَّمِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِذَا کَانَ فِیْ الثَّوْبِ قَدَرُ الدِّرْھَمِ مِنَ الدَّمِ غُسِلَ الثَّوْبُ وَاُعِیْدَتِ الصَّلَاۃُ)) … خون کی ایک درہم کی مقدار کی وجہ سے نماز لوٹائی جائے گی۔ ایک روایت میں ہے: جب کپڑے کو لگا ہوا خون ایک درہم کے بقدر ہو جائے گا تو کپڑے کو دھوکر نماز لوٹائی جائے گی۔ (سنن دارقطنی)
امام بخاری نے کہا: یہ حدیث باطل ہے، امام ابن حبان نے کہا: یہ حدیث بلا شک وشبہ من گھڑے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات بیان نہیں کی، اہل کوفہ نے اس کو گھڑ لیا۔ اس کی سند کا راوی روح بن غطیف، ثقات سے موضوع روایات بیان کرتا تھا۔ (ملاحظہ ہو: نصب الرایۃ: ۱/ ۲۱۲)

الحكم على الحديث:
اثر صحيح الاسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبر کا عذاب زیادہ تر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 441]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 348، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9021»
وضاحت: فوائد: … انسان کا پیشاب بالاتفاق ناپاک ہے، ایک درہم سے کم مقدار نجاست کی گنجائش پیدا کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے، بچے اور بچی کے پیشاب کا حکم اور اس کو پاک کرنے کا طریقہ اگلے باب میں آ رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 348
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں