🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي بَوْلِ الْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ
بچے اور بچی کے پیشاب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 452
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ابْنَةُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ عَبَّاسٍ فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَالَتْ، فَاخْتَلَجَتْهَا أُمُّ الْفَضْلِ ثُمَّ لَكَمَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ثُمَّ اخْتَلَجَتْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَعْطُونِي قَدَحًا مِنْ مَاءٍ) ) فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهَا، ثُمَّ قَالَ: ( (اُسْلُكُوا الْمَاءَ فِي سَبِيلِ الْبَوْلِ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا، سیدہ ام حبیبہ بنت عباس رضی اللہ عنہا کو لے کر آئیں اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، پس اس نے پیشاب کر دیا، انہوں نے اس کو کھینچا اور اس کے کندھوں کے درمیان مکا مارا اور پھر اس کو کھینچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانی کا پیالہ دو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کی جگہ پر اس کو بہا دیا اور فرمایا: پیشاب کی جگہ پر پانی بہا دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 452]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو جعفر المدائني و حسين بن عبد الله الھاشمي المدني عليھما كلام۔ أخرجه الطبراني: 25/ 16، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2750»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جب تک بچے اور بچی کی غالب خوراک دودھ ہو، ان کے پیشاب سے پاکی حاصل کرنے کے طریقے مختلف ہوں گے اور وہ اس طرح کہ بچے کے پیشاب پر اس قدر چھینٹے مارے جائیں کہ متاثرہ جگہ ترہو جائے، نچوڑنے کی ضرورت نہیں اور بچی کا پیشاب بڑوں کی طرح دھویا جائے۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اس فرق کے قائل نہیں ہیں، بلکہ وہ بچہ اور بچی دونوں کے پیشاب کو دھونا ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن واضح طور پر فرق کرنے والی احادیث ان کی رائے کو قبول نہیں کرتیں، گزارش یہ ہے کہ کون کون سی چیزیں نجس ہیں، شریعت نے اس چیز کا تعین کیا ہے، اب ان نجاستوں کو زائل کیسے کیا جائے گا، یہ فیصلہ بھی شریعت ہی کرے گی، اگر اس معاملے میں کوئی تخصیص پیدا کر دی جائے تو اس کو ماننا پڑے گا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي بَوْلِ الْإِبِلِ
اونٹ کے پیشاب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 453
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُكْلٍ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ بِذَوْدِ لِقَاحٍ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عکل قبیلے کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ والی اونٹنیوں کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ لوگ ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 453]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12667»
وضاحت: فوائد: … جانوروں کی دو اقسام ہیں: ماکول اللحم (جن کا گوشت کھایا جاتا ہے)، غیر ماکول اللحم (جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا)۔ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب اور پائخانہ پاک ہے‘ امام محمد نے بھی یہی فتوی دیا ہے، ان کے پاک ہونے کے دلائل درج ذیل ہیں: (۱) مذکورہ بالا حدیث، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کا پیشاب پینے کا حکم دیا۔ (۲)سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلُّوْا فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوْا فِیْ اَعْطَانِ الْاِبِلِ۔)) … بکریوں کے باڑوـں میں نماز پڑھ لو اور اونٹوں کے باڑوں میں نہ پڑھو۔
(ترمذی:۳۴۸، ابن ماجہ: ۷۶۸)
سیدنا عبد اللہ بن مغفل ؓ کی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کے باڑے میں نہی کی وجہ یہ بیان کی کہ ان کی طبع میں شیطنت پائی جاتی ہے۔ (ابن ماجہ: ۷۶۹) واضح رہے کہ بکریوں کا باڑہ ان کے پیشاب اور مینگنیوں سے آلودہ ہوگا۔(۳) ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب اور گوبر کو ناپاک قرار دینے پر کوئی واضح روایت دلالت نہیں کرتی۔ (۴) ایک عقلی اور واقعاتی دلیل یہ ہے کہ عصر حاضر میں لوگوں کا عمل حلال جانوروں کے گوبر کے پاک ہونے کی گواہی دیتا ہے‘ کیونکہ گھروں میں گائے اور بھینس کا گوبر جلانے کیلئے بکثرت استعمال ہوتا ہے‘ حتی کہ جس ہاتھ سے گوبر توڑا جاتا ہے اسی ہاتھ سے آٹے کا پیڑا بنا کر روٹی پکائی جاتی ہے‘ کیا گوبر کا یہ استعمال انسان کے پائخانے کے بارے میں ممکن ہے؟امام منذر نے کہا: یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اونٹوں کا یہ پیشاب پینا اِن لوگوں کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ خصوصیت کے لیے دلیل کی ضرورت ہے، (ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب اور گوبر کے پاک ہونے کی) تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اہل علم کے سامنے بازاروں میں بکریوں کے مینگنیاں بکتی رہیں اور اونٹوں کا پیشاب دواؤں میں استعمال ہوتا رہا اور انھوں نے ان امور کو برقرار رکھا۔ (بحوالہ نیل الاوطار: ۱/ ۲۴۷)امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک علاج کیلئے بھی حلال جانوروں کا پیشاب پینا حلال نہیں ہے۔
اَلْمَذِیُّ … مذی کا حکم
مذی: بوسہ یا مداعبت کے باعث بلا ارادہ پیشاب کی نالی سے نکلنے والا پتلا پانی۔
ودی: ایسا سفید اور گدلا پانی جو پیشاب کے بعد اسی نالی سے خارج ہوتا ہے، اس کی کوئی بدبو نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 454
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذِيِّ شِدَّةً، فَكُنْتُ أُكْثِرُ الْاِغْتِسَالَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: ( (إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ) ) فَقُلْتُ: كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي؟ فَقَالَ: ( (يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَمْسَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ) )
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے مذی کی وجہ سے بڑی مشقت ہوتی تھی اور میں اس کی وجہ سے بہت زیادہ غسل کیا کرتا تھا، ایک دن جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے تو اس سے صرف وضو کافی ہو جائے گا۔ میں نے کہا: جو کپڑے کو لگ جائے، اس کا کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بارے میں تجھے یہ عمل کفایت کرے گا کہ تو پانی کا ایک چلو لے اور کپڑے کے جس جس حصے پر مذی کے لگ جانے کا خیال ہو، اس کو کپڑے کے اس حصے پر مار دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 454]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 210، والترمذي: 115، وابن ماجه: 506، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15973 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16069»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 455
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: ( (يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ مذی والا آدمی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے سے شرماتا تھا، اس لیے میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، پس انہوں نے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عضو خاص اور خصیوں کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 455]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه اصحاب السنن، وأخرجه البخاري: 269، ومسلم: 303 بلفظ قريب منه۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1009»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 456
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَوَضَّأَ وَانْضَحْ فَرْجَكَ) )
(دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مار۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 456]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 823»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 457
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (فِيهِ الْوُضُوءُ) )
(تیسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 457]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 856»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 458
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: ( (تَوَضَّأَ وَاغْسِلْهُ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو حکم دیا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وضو کر اور اس (شرمگاہ) کو دھو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 458]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1026»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 459
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (إِذَا حَذَفْتَ فَاغْتَسِلْ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَإِذَا لَمْ تَكُنْ حَاذِفًا فَلَا تَغْتَسِلْ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ مذی والا آدمی تھا، پس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو منی ٹپکائے تو جنابت کی وجہ سے غسل کر اور جب تو منی ٹپکانے والا نہ ہو تو غسل نہ کیا کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 459]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وانظر الحديث المتقدم ترقیم بيت الأفكار الدولية: 847»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 460
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَقَالَ: ( (إِذَا رَأَيْتَ الْمَذِيَّ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ) )
(دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو مذی دیکھے تو وضو کر اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور جب تو پانی کا ٹپکنا یعنی منی کو دیکھے تو غسل کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 460]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1028»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 461
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ فَقَالَ: ( (فِيهِ الْوُضُوءُ وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ) )
(تیسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں تو وضو ہے، البتہ منی میں غسل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 461]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 891»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں