🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي بَوْلِ الْإِبِلِ
اونٹ کے پیشاب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 462
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَذِيُّ مِنْ غَيْرِ مَاءِ الْحَيَاةِ، فَلَوْ لَا أَنَّ ابْنَتَهُ تَحْتِي لَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرَّجُلُ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَذِيُّ مِنْ غَيْرِ مَاءِ الْحَيَاةِ، قَالَ: ( (يَغْسِلُ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ) )
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کرو جو اپنی بیوی کے ساتھ کھیلتا ہے اور اس وجہ سے اس سے ماء الحیاة تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میری بیوی نہ ہوتی تو میں نے خود سوال کر لینا تھا۔“ پس میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ایک آدمی اپنی بیوی سے کھیلتا ہے اور اس سے زندگی والا پانی تو خارج نہیں ہوتا، البتہ مذی نکل آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا آدمی اپنی شرمگاہ دھو کر نماز والا وضو کر لیا کرے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 462]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 207، وابن ماجه: 505، والنسائي: 1/ 97، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24309»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 207
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 463
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ فَقَالَ (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) : ( (إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ) )
(دوسری سند) سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی اس چیز کو پا لے تو وہ اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے یعنی اس کو دھو لے اور نماز والا وضو کر لے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 463]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24330»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24330
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 464
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: ( (فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ) ) يَعْنِي يَغْسِلْهُ
(تیسری سند) سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی اس چیز کو پائے تو اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے اور نماز والا وضو کرے۔“ اس جگہ چھینٹے مارنے سے مراد دھونا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 464]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24320»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24320
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 465
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ الْبَكْرِيِّ قَالَ: تَذَاكَرَ عَلِيٌّ وَعَمَّارٌ وَالْمِقْدَادُ الْمَذِيَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنِّي رَجُلٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ تَحْتِي، فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا، لِعَمَّارٍ أَوِ الْمِقْدَادِ: قَالَ عَطَاءٌ: سَمَّاهُ لِي عَائِشٌ فَنَسِيتُهُ، سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: ( (ذَاكَ الْمَذِيُّ، لِيَغْسِلْ ذَاكَ مِنْهُ) ) ، قُلْتُ: مَا ذَاكَ مِنْهُ؟ قَالَ: ذَكَرَهُ، وَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ أَوْ يَتَوَضَّأُ مِثْلَ وُضُوءِهِ وَيَنْضَحُ فِي فَرْجِهِ أَوْ فَرْجَهُ
عائش بن انس بکری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے مذی کے بارے میں بات چیت کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے بہت زیادہ مذی آتی ہے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وجہ سے شرم محسوس کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے عقد میں ہے،“ پس انہوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ یا سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ میں سے ایک کو کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کرے۔ عطا رحمہ اللہ کہتے ہیں: عائش نے تو کسی ایک کا نام لیا تھا، لیکن میں بھول گیا، بہرحال انہوں نے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو مذی ہے، اس کو چاہیے کہ اس کو دھو لیا کرے۔“ میں نے کہا: ”کسی چیز کو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ کو، اور اچھی طرح وضو کر لیا کرے اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے یعنی دھویا جائے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 465]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه عبد الرزاق: 597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24326»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے مذی سے متعلقہ تین مسائل ثابت ہوتے ہیں: (۱) نیت کے ساتھ عضو ِ خاص اور خصتین کو دھویا جائے گا۔(۲) مذی ناقض وضو ہے۔ (۳) غسل کے وجوب کا مذی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ (۴) اگر مذی کپڑے پر لگ جائے تو چھوٹے بچے کی پیشاب کی طرح اس پر چھینٹے مار دیئے جائیں گے، اس طرح سے وہ کپڑا پاک ہو جائے گا۔ امام شوکانی نے کہا: ((واتفق العلماء علی ان المذی نجس ولم یخالف فی ذالک الا بعض الامامیہ …)) علماء کا اس حقیقت پر اتفاق ہے کہ مذی نجس ہے، البتہ بعض امامیہ نے اختلاف کیا ہے۔ (نیل الاوطار: ۱/ ۶۳)

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه عبد الرزاق: 597
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي الْمَنِيِّ
منی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 466
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرُكُ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَحُطُّ) الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَذْهَبُ فَيُصَلِّي فِيهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جاتے اور اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 466]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 372، وأخرجه مسلم: 288 نحوه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25449»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 372
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 467
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْلُطُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِهِ بِعِرْقِ الْإِذْخِرِ ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ وَيَحُطُّهُ مِنْ ثَوْبِهِ يَابِسًا ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے سے تر منی کو اذخر گھاس کے تنکے سے صاف کر کے اس میں نماز پڑھ لیتے تھے اور خشک منی کو کھرچ کر اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 467]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: بعرق الاذخر وھذا اسناد منقطع، عبد الله بن عبيد لم يسمع من عائشة ؓ۔ أخرجه ابن خزيمة: 294، والبيھقي: 2/ 418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26587»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: بعرق الاذخر وھذا اسناد منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 468
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا مَهْدِيُّ قَالَ: ثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخْعِيِّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: رَأَيْتُنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَغْسِلُ أَثَرَ جَنَابَةٍ أَصَابَتْ ثَوْبِي فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ قُلْتُ: جَنَابَةٌ أَصَابَتْ ثَوْبِي، فَقَالَتْ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّهُ يُصِيبُ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِهِ هَكَذَا، وَوَصَفَهُ مَهْدِيٌّ حَكَّ يَدَهُ عَلَى الْأُخْرَى
اسود بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے کپڑے سے جنابت کے اثر کو دھو رہا تھا، انہوں نے کہا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”جنابت ہے، جو میرے کپڑے کو لگ گئی تھی،“ انہوں نے کہا: ”میں بھی اپنے آپ کو دیکھ رہی ہوں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو جنابت لگ جاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرنے سے زیادہ تو کچھ نہیں کرتے تھے۔“ مہدی رحمہ اللہ نے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر کھرچ کر کیفیت کو بیان کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 468]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوعوانة: 1/ 204، وابن خزيمة: 288،وابن حبان: 2332، و أخرجه مسلم: 288 ولم يسق ھذا اللفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25209»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابوعوانة: 1/ 204
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 469
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنِ الْأَسْوَدِ (أَيْضًا) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَأَيْتَهُ فَاغْسِلْهُ فَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكَ فَارْشُشْهُ
(دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچتی تھی، پس تو جب اس کو دیکھ لے تو اس کو دھو ڈال اور اگر پتہ نہ چلے تو چھینٹے مار دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 469]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25166»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 288
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 470
عَنْ هَمَّامٍ قَالَ: نَزَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ضَيْفٌ فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ، فَنَامَ فِيهَا فَاحْتَلَمَ فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الْإِحْتِلَامِ، قَالَ: فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا؟ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِأَصَابِعِهِ، لَرُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِي
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مہمان ٹھہرا، انہوں نے اس کے لیے زرد رنگ کی ایک چادر کا حکم دیا، وہ اس میں سویا اور اس کو اس میں احتلام ہو گیا، اب وہ اس طرح کپڑے کو بھیجنے سے شرماتا تھا کہ اس میں احتلام کا اثر ہو، اس لیے اس نے اس چادر کو پانی میں ڈبویا اور پھر بھیج دیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا ہے؟ اس کے لیے صرف کافی تھا کہ اس کو اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا،“ میں بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اپنی انگلیوں سے کھرچ ڈالتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 116، وابن ماجه: 537،وأخرجه مسلم: 290، و آخر روايته بلفظ: واني لاحكه من ثوب رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يابسا بظفري۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24659»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الترمذي: 116
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 471
عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاعَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ مِنَ الْمَاءِ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى الْمَاءِ۔
بنو سواء کے ایک آدمی نے کہا کہ میاں بیوی (کے جماع) کے دوران جو منی کا پانی بہہ جاتا ہے، اس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی کے پانی پر پانی بہا دیتے تھے۔ (مسند احمد: 25716) [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 471]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل من بني سواء ة ولضعف شريك بن عبد الله النخعي۔ أخرجه ابوداود: 257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25201 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الرجل من بني سواء ة ولضعف شريك بن عبد الله النخعي۔ أخرجه ابوداود: 257
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں