🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَأْخِيرِ الظُّهْرِ وَالْإِيرَادِ بِهَا فِي زَمَنِ الْحَرِّ
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1120
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ) )
سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کیا کرو، پس بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11062 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11078»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 538
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1121
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے بھی اس جیسی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 536، ومسلم: 615، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7130»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 536
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1122
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ مَوْلًى لَهُمْ قَالَ: رَجَعْنَا مِنْ جَنَازَةٍ فَمَرَرْنَا بِزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ فَحَدَّثَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: لِلظُّهْرِ) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَبْرِدْ) ) قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: حَتَّى رَأَيْنَا فِي التُّلُولِ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ: ( (إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ) )
ابو الحسن مہاجرکہتے ہیں: ہم ایک جنازہ سے واپس آتے ہوئے زید بن وہب کے پاس سے گزرے، انھوں نے سیدنا ابو ذرؓ سے بیان کیا، انھوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، مؤذن نے نمازِ ظہر کے لیے اذان دینا چاہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ٹھنڈا کر۔ تین بار فرمایا، یہاں تک کہ ہمیں ٹیلوں کے سائے نظر آنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے، اس لیے جب سخت گرمی پڑنے لگے تو نماز کو ٹھنڈا کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1122]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 539، 629، ومسلم: 616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21772»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 539
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ وَقْتِ الْعَصْرِ وَمَا جَاءَ فِيهَا
عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1123
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَيَرْجِعُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَبِقَدْرِ مَا يَنْحَرُ الرَّجُلُ الْجَزُورَ وَيُبَعِّضُهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ، وَكَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالشَّجَرَةِ رَكْعَتَيْنِ
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھاتے، پھر اتنا وقت ہوتا کہ بنوحارثہ بن حارث کی طرف جانے والا جاتا اور غروب ِ آفتاب سے پہلے لوٹ آتا، یہ اتنا وقت ہوتا کہ آدمی اونٹ کا نحر کرتا اور غروبِ آفتاب سے پہلے اس کا گوشت بنا لیتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد جمعہ پڑھتے تھے اور جب مکہ کی طرف نکلتے تو درخت کے پاس ظہر کی دو رکعت نماز پڑھتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1123]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه بطوله ابو يعلي: 4330، وأخرجه مختصرا البخاري: 904، والترمذي: 503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13417»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه بطوله ابو يعلي: 4330
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1124
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: مَا كَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِصَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمْ لَأَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَخُو بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَأَبِي عِيسَى بْنِ جَبْرٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ دَارُ أَبِي لُبَابَةَ بِقُبَاءَ وَدَارُ أَبِي عِيسَى بْنِ جَبْرٍ فِي بَنِي حَارِثَةَ ثُمَّ إِنْ كَانَ لَيُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّيَا لِتَبْكِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَا
سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہ نسبت نمازِ عصر جلدی پڑھتاہے، انصاریوں کے دو آدمیوں کے گھر مسجد ِ نبوی سے سب سے زیادہ دور تھے، ایک آدمی سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ تھے، اس کا گھر قباء میں تھا اور دوسرا آدمی سیدنا ابو عیسی بن جبر ؓتھا، اس کا گھربنوحارثہ میں تھا، اور یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر پڑھتے تھے، پھر جب یہ اپنے گھروں میں پہنچتے تھے تو انھوں نے ابھی تک یہ نماز نہیں پڑھی ہوتی تھی، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی جلدی کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1124]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 4515، والدارقطني: 1/ 254، والحاكم: 1/ 195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13516»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 4515
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1125
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ فَأَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي وَعَشِيرَتِي فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فَقُومُوا فَصَلُّوا
سیدنا انسؓ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے، جبکہ سورج سفید اور ہالے والا ہوتا تھا، پس میں اپنے اہل اور رشتہ داروں کی طرف لوٹتا، جو کہ مدینہ کے ایک کونے میں تھے، اور جا کر ان سے کہتا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی، تم بھی اٹھو اور نماز پڑھو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1125]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12942»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 253
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1126
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ (وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْضَاءُ حَيَّةٌ) قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْعَوَالِي عَلَى مِيلَيْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ وَثَلَاثَةٍ أَحْسَبُهُ، قَالَ: وَأَرْبَعَةٍ
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عصر ادا کرتے، پھر بستیوں کی طرف جانے والا پہنچ جاتا، لیکن ابھی تک سورج بلند (ایک کے مطابق) سفید اور زندہ ہوتا۔ امام زہری نے کہا: یہ بستیاں، مدینہ منورہ سے دو دو، تین تین اور (خیال ہے کہ راوی نے چار چار کا لفظ بھی بولا) میلوں کے فاصلے پر واقع تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1126]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 551، ومسلم: 621، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12672»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 551
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1127
عَنْ رَافِعٍ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسْمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَكُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ
سیدنا رافع بن خدیجؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر ادا کرتے، پھر اونٹ نحر کیا جاتا، پھر اس کو دس حصوں میں تقسیم کر کے پکایا جاتا اور پھر ہم سورج کے غروب ہونے سے قبل بھونا ہوا گوشت کھا لیتے تھے۔ اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھتے، پھر جب آدمی فارغ ہوتا تو وہ اپنے تیروں کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1127]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2485، ومسلم: 625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17275 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17407»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2485
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1128
عَنْ أَبِي أَرْوَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ثُمَّ آتِي الشَّجَرَةَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ
سیدنا ابو اروی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر پڑھتا اور پھر غروبِ آفتاب سے قبل درخت کے پاس پہنچ جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1128]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي واقد الليثي۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 327، والبزار: 372، والطبراني في الكبير: 22/ 925، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19232»
وضاحت: فوائد: … ہیثمی کی ابو اروٰی سے ہی مروی روایت میں ذوالحلیفہ آنے کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر مطالعہ حدیث میں مذکور درخت ذوالحلیفہ میں تھا۔ (بلوغ الامانی) (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي واقد الليثي۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 327
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1129
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے، جبکہ سورج (کی دھوپ) میرے حجرے میں ہوتی تھی، ابھی تک سایہ اوپر چڑھا نہیں ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1129]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 546، ومسلم: 611، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24596»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 546
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں