🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ وَقْتِ الْعَصْرِ وَمَا جَاءَ فِيهَا
عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1130
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا وَكَانَ الْجِدَارُ بَسْطَةً وَأَشَارَ عَامِرٌ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) بِيَدِهِ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عصر ادا کرتے، جبکہ سورج ان کے حجرے میں ہوتا تھا اور دیوار کھلی سی (زیادہ بلند نہیں) ہوتی تھی۔ (عامر (راوی) نے ایسے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر کے وضاحت کی)۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1130]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26910»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26910
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1131
عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ نَافِعِ الْكِلَابِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ: مَرَرْتُ بِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَإِذَا شَيْخٌ فَلَامَ الْمُؤَذِّنَ وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ أَبِي أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِتَأْخِيرِ هَٰذِهِ الصَّلَاةِ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَٰذَا الشَّيْخُ؟ قَالُوا: هَٰذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
اہل بصرہ کا ایک آدمی عبد الواحد بن نافع کلابی کہتا ہے: میں شہر کی مسجد سے گزرا، پس نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، لیکن ایک بزرگ نے مؤذن کو ملامت کی اور کہا: کیا تجھے علم نہیں ہے کہ میرے باپ نے مجھے بتلایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز کو مؤخر کرنے کا حکم دیتے تھے۔ میں نے کہا: یہ بزرگ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ عبد اللہ بن رافع بن خدیج ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1131]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف ومتنه منكر، عبد الواحد بن نافع كلَّموا عليه۔ أخرجه الدارقطني: 1/ 251، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17414»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف ومتنه منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1132
عَنْ أَبِي مَلِيحٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ (يَعْنِي الْأَسْلَمِيَّ) فِي غَزَاةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ فَقَالَ: بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُهُ) )
ابو ملیح کہتے ہیں: ہم سیدنا بریدہ اسلمی ؓ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، انھوں نے بادل والے دن کہا: اس نماز کو جلدی ادا کر لو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ عصر ترک کر دی، اس کا عمل ضائع ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1132]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 553، 594، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23345»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 553
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَبَيَانِ أَنَّهَا الْوُسْطَى
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1133
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ فَجَلَسَ يُمْلِي خَيْرًا حَتَّى يُمْسِيَ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِتْقِ ثَمَانِيَةٍ مِنْ وَلْدِ إِسْمَاعِيلَ) )
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ عصر ادا کی اور اس کے بعد شام تک خیر والی باتیں کرتا رہا، اس کا یہ عمل اسماعیلؑ کی اولاد سے آٹھ غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ فضیلت والا ہوگا برابر ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1133]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، المعلي بن زياد لم يَلْقَ انس بن مالك، وبينھما في ھذا الحديث يزيد الرقاشي، وھو ضعيف۔ أخرجه ابويعلي: 4087، والطيالسي: 2104، والبيھقي في الشعب: 563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13796»
وضاحت: فوائد: … ابوداود (۳۶۶۷) کی سند حسن ہے، اس سے زیر مطالعہ حدیث کا مفہوم ثابت ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1134
عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغَفَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ( (إِنَّ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَوَانَوْا فِيهَا وَتَرَكُوهَا، فَمَنْ صَلَّاهَا مِنْكُمْ ضُعِّفَ لَهُ أَجْرُهَا ضِعْفَيْنِ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يُرَى الشَّاهِدُ، وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ) )
سیدنا ابوبصرہ غفاریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک یہ نماز تم سے پہلے والے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اس معاملے میں سستی برتی اور اس کو ترک کر دیا، پس تم میں سے جو شخص اس کو ادا کرے گا، اس کو دو گنا اجر عطا کیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، جہاں تک شاہد طلوع ہو جائے اور شاہد سے مراد ستارہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1134]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27767»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 830
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1135
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، قَالَ: فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، قَالَ: وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَيَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ، كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ) قَالَ سُلَيْمَانُ (يَعْنِي الْأَعْمَشَ أَحَدُ الرُّوَاةِ) : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ قَالَ فِيهِ: فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ نمازِ فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، اسی طرح جب وہ نمازِ عصر میں جمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پس ان کا ربّ ان سے پوچھتا ہے: تم میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اب جب ہم ان کو چھوڑ کر آئے ہیں تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ سلیمان اعمش کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ راوی نے (فرشتوں کی دعا کے) یہ کلمات بھی کہے تھے: پس تو ان لوگوں کو قیامت کے دن بخش دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1135]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن خزيمة: 322، وابن حبان: 2061، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9140»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن خزيمة: 322
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1136
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: ( (شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةَ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا) ) قَالَ: ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَائَيْنِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) مَرَّةً: يَعْنِي بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب والے دن فرمایا تھا: ان مشرکوں نے ہمیں صلاۃِ وُسْطٰی یعنی نماز ِ عصر سے مشغول کر دیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز کو مغرب اور عشا کے درمیان پڑھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1136]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 911»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 627
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1137
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُنَّا نَرَاهَا الْفَجْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (هِيَ صَلَاةُ الْعَصْر) ) يَعْنِي صَلَاةَ الْوُسْطَى
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارا خیال تھا کہ صلاۃِ وُسْطٰی سے مراد نمازِ فجر ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو نمازِ عصر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد صلاۃِ وُسْطٰی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1137]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 390، وعبد الرزاق: 2192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 990»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 390
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1138
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَاتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَدُوًّا فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِهَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَامْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا) ) أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم نے دشمن سے قتال کیا اور اس سے فارغ نہ ہوئے، یہاں تک کہ عصر کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیا اور جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: اے اللہ! جنھوں نے ہم کو صلاۃِ وُسْطٰی سے روکے رکھا، تو ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ یا اسی قسم کی بات ارشاد فرمائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1138]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير: 11905، وفي الاوسط: 2016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2745»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير : 11905
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1139
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ) )
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلاۃِ وُسْطٰی، نمازِ عصر ہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1139]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 182، 2983، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20417»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 182
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں