الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابٌ فِي وَعِيدِ مَنْ تَهَاوَنَ بِأَمْرِ الصَّلَاةِ أَوْ أَخَّرَهَا عَنْ وَقْتِهَا
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّهَا سَتَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَيُؤَخِّرُونَهَا عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلُّوهَا مَعَهُمْ، فَإِنْ صَلَّوْهَا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَلَهُمْ وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا فَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ، مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ نَكَثَ الْعَهْدَ وَمَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ) ) قُلْتُ لَهُ: مَنْ أَخْبَرَكَ هَٰذَا الْخَبَرَ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يُخْبِرُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عاصم بن عبیداللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو بسا اوقات وقت پر نماز پڑھیں گے اور کبھی کبھار اس کو وقت سے مؤخر کر دیں گے، پس اگر وہ وقت پر نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ پڑھو تو اس کا ثواب تمہارے لیے بھی ہو گا اور ان کے لیے بھی، لیکن اگر وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں اور تم بھی ان کے ساتھ پڑھو، تو تمہیں تو ثواب ملے گا، لیکن اس کا وبال ان پر ہو گا، جوجماعت سے علیحدہ ہو گیا، وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور جس نے معاہدہ توڑ دیا، عہد کو توڑنے والے کی حیثیت سے ہی مرے گا اور قیامت کے روز وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے حق میں کوئی حجت نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث: «بعضه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله۔ أخرجه ابويعلي: 7201، وعبد الرزاق: 3779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15769»
الحكم على الحديث:
بعضه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1082
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْنِدِي ظَهْرِي إِلَى قِبْلَةِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةُ رَهْطٍ، أَرْبَعَةٌ مَوَالِينَا وَثَلَاثَةٌ مِنْ عَرَبِنَا، إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَقَالَ: ( (مَا يُجْلِسُكُمْ هَاهُنَا؟) ) قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَأَرَمَّ قَلِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ( (أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ؟) ) قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ( (فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَحَافَظَ عَلَيْهَا وَلَمْ يُضَيِّعْهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا فَلَهُ عَلَيَّ عَهْدٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُصَلِّهَا لِوَقْتِهَا وَلَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا وَضَيَّعَهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا فَلَا عَهْدَ لَهُ، إِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ وَإِنْ شِئْتُ غَفَرْتُ لَهُ) )
سیدنا کعب بن عجرہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد ِ نبوی میں بیٹھا ہوا تھا، ہم سات افراد اِس مسجد کی قبلہ والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، چار ہمارے غلام تھے اور ہم تین عرب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، یہاں تک ہمارے پاس پہنچے، یہ نمازِ ظہر کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھایا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا ربّ کیا کہتا ہے؟ ہم نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارا ربّ کہتا ہے: جس نے بروقت نماز ادا کی اور اس کی مکمل حفاظت کی اور اس کے حق کو ہلکا سمجھتے ہوئے اس کو ضائع نہیں کیا، پس اس کے لیے مجھ پر عہد ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں گا، اور جس نے نماز کو وقت پر ادا نہ کیا اور اس کی مکمل حفاظت نہ کی اور اس کے حق کو ہلکا سمجھتے ہوئے اس کو ضائع کر دیا، اس کے لیے میرا کوئی عہد نہیں ہے، اگر میں چاہوں تو اس کو عذاب دوں اور چاہوں تو معاف کر دوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1082]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من كعب۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 331، والدارمي: 1226، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 3174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18312»
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1083
عَنْ أَبِي يَسْرٍ الْأَنْصَارِيِّ كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مِنْكُمْ مَنْ يُصَلِّي الصَّلَاةَ كَامِلَةً وَمِنْكُمْ مَنْ يُصَلِّي النِّصْفَ وَالثُّلُثَ وَالرُّبُعَ حَتَّى بَلَغَ الْعُشْرَ) )
صحابیٔ رسول سیدنا ابو یسر کعب بن عمرو انصاری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں کوئی آدمی پوری نماز پڑھتا ہے، کوئی نصف ادا کرتا ہے، کوئی ایک تہائی اور کوئی ایک چوتھائی، …۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دسویں حصے تک پہنچ گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي في الكبري: 613، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 1106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15607»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي في الكبري : 613
حدیث نمبر: 1084
عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلُهُ وَمَالُهُ) )
سیدنا نوفل بن معاویہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی نماز اس سے رہ گئی تو گویا کہ اس کا اہل اور مال اس سے چھین لیے گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 1237، والشافعي: 1/ 53، وابن حبان: 1468، والبيھقي: 1/ 445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24042»
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 1237
حدیث نمبر: 1085
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْآخِرِ مَرَّتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کو اس کے آخری وقت میں دو دفعہ ادا نہیں کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فوت کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1085]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسحاق بن عمر لم يسمع من عائشة، ثم انه مجھول۔ أخرجه الترمذي: 74، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25121»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
10. بَابٌ فِي وَعِيدِ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ عَمْدًا أَوْ سُكْرًا
جان بوجھ کر یا نشے کی وجہ سے نماز کو ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 1086
عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَتْرُكِ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا، فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ) )
سیدہ ام ایمن ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جان بوجھ کر نماز ترک نہ کر، پس بیشک جس نے نماز چھوڑ دی، اس سے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ بری ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، مكحول الشامي لم يسمع من ام ايمن۔ أخرجه البيھقي: 7/ 304، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27364 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27908»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 1087
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا مَرَّةً وَاحِدَةً فَكَأَنَّمَا كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا فَسُلِبَهَا، وَمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ) ) قِيلَ: وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (عُصَارَةُ أَهْلِ جَهَنَّمَ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نشے کی وجہ سے ایک دفعہ نماز چھوڑ دی، پس گویا کہ ساری دنیا اور وما علیہا اس کا تھا اور وہ اس سے چھین لیا گیا، اور جس نے نشے کی وجہ سے چار مرتبہ نماز ترک کر دی، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو طِیْنَۃُ الْخَبَال سے پلائے گا۔ کسی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! طِیْنَۃُ الْخَبَال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنمیوں سے بہنے والا خون اور پیپ۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 4/ 146، والبيھقي: 1/ 389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6659»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 4/ 146
11. بَابُ حُجَّةِ مَنْ كَفَّرَ تَارِكَ الصَّلَاةِ
تارکِ نماز کو کافر قرار دینے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 1088
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ أَوِ الشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلَاةِ) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے اور کفر یا شرک کے درمیان نماز کے چھوڑنے کا فرق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1088]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 82، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15042»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 82
حدیث نمبر: 1089
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ) )
سیدنا بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور ان کے درمیان نماز کاعہد ہے، جس نے اس کو چھوڑ دیا، تو یقینا اس نے کفر کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1079، والترمذي: 2621، والنسائي: 1/ 231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23325»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1079
حدیث نمبر: 1090
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ: ( (مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ وَلَا بَرْهَانٌ وَلَا نَجَاةٌ وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز کا ذکر کیا اور فرمایا: جس نے نماز کی اچھی طرح حفاظت کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے روز نور، دلیل اور نجات ہو گی اور جس نے اس کی پوری طرح حفاظت نہ کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نہ نور ہو گی، نہ دلیل اور نہ نجات اور ایسا آدمی قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الدارمي: 2/ 301، وابن حبان: 1467، والطبراني في الاوسط: 1788، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6576»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الدارمي: 2/ 301