🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ وَأَنَّهَا وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1150
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صَلُّوا الْمَغْرِبَ لِفِطْرِ الصَّائِمِ وَبَادِرُوا طُلُوعَ النُّجُومِ) )
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے دار کی افطاری کے وقت نمازِ مغرب پڑھا کرو اور ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کر لیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1150]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني: 4059، وابن ابي شيبة: 1/ 329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23977»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني: 4059
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1151
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (بَادِرُوا بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ قَبْلَ طُلُوعِ النَّجْمِ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ستارے کے ظہور سے پہلے ہی نمازِ مغرب ادا کر لیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1151]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23918»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23918
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1152
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وَتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ مغرب، دن کی نماز کا وتر ہے، پس رات کی نماز کو بھی وتر بنایا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری حصے میں وتر ایک رکعت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1152]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوْا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وقد رواه عدة موقوفا۔ أخرجه النسائي في الكبري: 1382، وعبد الرزاق: 4675، وابن ابي شيبة: 2/ 282، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5549»
وضاحت: فوائد: … بہرحال یہ تو ثابت ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور اس کے آخر میں ایک کعت وتر ادا کیا جا سکتا ہے۔ وتر اگرچہ رات کے آخری حصہ میں پڑھنا افضل ہے۔ لیکن یہ عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر طلوعِ فجر سے پہلے تک کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے۔ (بخاری: ۹۹۶) (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوْا صَلَاةَ اللَّيْلِ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِهَا وَكَرَاهَةِ تَسْمِيَتِهَا بِالْعِشَاءِ
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1153
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا صَلَّوْا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوعِ النُّجُومِ) )
سیدنا سائب بن یزیدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت ہمیشہ فطرت پر رہے گی، جب تک نمازِ مغرب کو ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کرتی رہے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1153]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه البيھقي: 1/ 448، والطبراني في الكبير: 6671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15808»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه البيھقي: 1/ 448
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1154
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصُّنَابِحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَنْ تَزَالَ أُمَّتِي فِي مُسْكَةٍ مَا لَمْ يَعْمَلُوا بِثَلَاثٍ، مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ بِانْتِظَارِ الْإِظْلَامِ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ، وَمَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْفَجْرَ إِمْحَاقَ النُّجُومِ مُضَاهَاةَ النَّصَارَى، وَمَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا) )
سیدنا ابو عبد الرحمن صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک ہمیشہ خیر پر برقرار رہے گی، جب تک یہ تین کام نہیں کرے گی: یہودیوں کی مشابہت کرتے ہوئے اندھیرے کے انتظار میں مغرب کو لیٹ کرنا، عیسائیوں کی مشابہت کرتے ہوئے ستاروں کے چھپ جانے تک فجر کو مؤخر کرنا اور جنازے کو اس کے اہل کے سپرد کر دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1154]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحارث بن وھب مجھول الحال۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 3263، وعبد الرزاق: 6530، والحاكم: 1/ 370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19277»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1155
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيِّ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، وَيَزَنُ بَطْنٌ مِنْ حِمْيَرَ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِصْرَ غَازِيًا وَكَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَبَسٍ الْجُهَنِيُّ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: فَحَبَسَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ بِالْمَغْرِبِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ) فَلَمَّا صَلَّى قَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ لَهُ: يَا عُقْبَةُ! أَهَٰكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ أَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ) ) قَالَ: فَقَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: شُغِلْتُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: أَمَا وَاللَّهِ! مَا بِي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَٰذَا
مرثد بن عبد اللہ یزنی کہتے ہیں: صحابیِ رسول سیدنا ابو ایوب خالد بن زید انصاری ؓ جہاد کرنے کے لیے مصر تشریف لائے، سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو ہمارا امیر بنایا ہوا تھا، ایک دن سیدنا عقبہؓ نمازِ مغرب سے مصروف ہو گئے اور اس نماز کو لیٹ کر دیا، پس جب انھوں نے نماز پڑھائی تو سیدنا ابو ایوب انصاریؓ ان کی طرف گئے اور ان سے کہا: عقبہ! کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح دیکھا ہے؟ کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ میری امت اس وقت تک خیر یا فطرت پر رہے گی، جب تک نماز مغرب کو ستاروں کے خلط ملط ہونے تک لیٹ نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا؛ جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں مشغول ہو گیا تھا۔ سیدنا ابو ایوبؓ نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، لیکن یہ خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1155]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17462»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 418
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1156
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ (يَعْنِي ابْنَ مُغَفَّلٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ) ) قَالَ: وَتَقُولُ الْأَعْرَابُ: هِيَ الْعِشَاءُ
سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز ایسا نہ ہو کہ کہ بدّو لوگ نمازِ مغرب کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب آ جائیں۔ بدّو اِس نماز کو عشاء کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20827»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 563
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَكَرَاهَةِ السَّمَرِ بَعْدَهَا وَتَسْمِيَتِهَا بِالْعَتَمَةِ
نماز عشا کے وقت اور اس کے بعد گفتگو کرنے اور اس کو عَتَمَۃ کہنے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1157
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي أَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ كَأَعْلَمِ النَّاسِ بِوَقْتِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمِ لِلْعِشَاءِ، كَانَ يُصَلِّيهَا بَعْدَ سُقُوطِ الْقَمَرِ فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ
سیدنا نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ عشا کے وقت کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہینے کے شروع میں تیسری رات کے چاند کے غروب ہونے کے بعد اس نماز کو ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1157]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 419، والنسائي: 1/ 264، والترمذي: 165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18567»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 419
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1158
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) كَانَ يُصَلِّيهَا مِقْدَارَ مَا يَغِيبُ الْقَمَرُ لَيْلَةَ ثَالِثَةٍ أَوْ رَابِعَةٍ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیسری یا چوتھی رات کو چاند کے غروب ہونے کے وقت کے برابر نمازِ عشا ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1158]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18586»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18586
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1159
عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ؟ قَالَ: ( (إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ) )
جہینہ قبیلے کا ایک آدمی کہتا ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ میں عشا کی نماز کب پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات ہر وادی کے پیٹ کو بھر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1159]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد العزيز بن عمرو مجھول۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 331، والطبراني في الاوسط: 3975، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23483»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں