الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَبَيَانِ أَنَّهَا الْوُسْطَى
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1140
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ سَأَلَهُ مَرْوَانُ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَقَالَ: هِيَ الظُّهْرُ
سیدنا زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ مروان نے ان سے صلاۃِ وسطی کے بارے میں سوال کیا اور انھوں نے جواباً کہا: یہ ظہر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1140]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الزبرقان لم يدرك القصة التي رواھا۔ أخرجه ابن ماجه: 795، والطيالسي: 628، وابن ابي شيبة: 2/ 504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22135»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 1141
عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، قَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ إِلَى هَٰذِهِ الْآيَةِ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} فَآذِنِّي، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَى {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} قَالَتْ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
مولائے عائشہ ابو یونس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے مصحف لکھوں اور انھوں نے کہا: جب تو اس آیت {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} پر پہنچے تو مجھے بتلانا، پس جب میں اس آیت تک پہنچا تو ان کو بتلایا اور انھوں نے یہ آیت یوں املا کروائی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیت اسی طرح سنی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1141]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 629، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24448 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24952»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 629
21. بَابٌ فِي وَعِيدِ مَنْ تَرَكَ الْعَصْرَ أَوْ أَخَّرَهَا عَنْ وَقْتِهَا
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 1142
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَرَكَ الْعَصْرَ (وَفِي لَفْظٍ: الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ) مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَكَأَنَّمَا وَتِرَ أَهْلُهُ وَمَالُهُ) ) زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَقَالَ شَيْبَانُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) : يَعْنِي غُلِبَ عَلَى أَهْلِهِ وَمَالِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر عصر کی نماز ترک کر دی، ایک روایت میں ہے: جس سے نمازِ عصر فوت ہو گئی، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، پس گویا کہ اس کااہل اور مال اس سے چھین لیے گئے۔ شیبان کہتے ہیں: یعنی اس کے اہل اور مال پر غلبہ پا لیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1142]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 552، ومسلم: 626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4805»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 552
حدیث نمبر: 1143
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَفُوتَهُ فَقَدْ أُحْبِطَ عَمَلُهُ) )
سیدنا ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر نمازِ عصرچھوڑ دی، یہاں تک کہ وہ اس سے فوت ہو گئی، تو ایسے آدمی کا عمل ضائع کر دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1143]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28040»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1144
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حِينَ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَدَعَا الْجَارِيَةَ بِوَضُوءٍ فَقُلْنَا لَهُ: أَيُّ صَلَاةٍ تُصَلِّي؟ قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: قُلْنَا: إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَتْرُكُ الصَّلَاةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ صَلَّى لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا) )
علاء بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری آدمی، ہم نمازِ ظہر ادا کر کے سیدنا انس بن مالک ؓ کے پاس گئے، انھوں نے ایک لڑکی کو وضو کا پانی لانے کا کہا، ہم نے کہا: تم کون سی نماز پڑھنے لگے ہو؟ انھوں نے کہا: عصر کی، ہم نے کہا: ہم نے تو ظہر کی نمازابھی ابھی پڑھی ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا، تب وہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1144]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 622، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11999 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12022»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 622
حدیث نمبر: 1145
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: قَالَ أَنَسٌ) تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ قَامَ نَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہیِ البتہ اس میں ہے: سیدنا انسؓ نے کہا: یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ الفاظ تین مرتبہ دوہرائے، آدمی بیٹھا رہتا ہے، یہاں تک کہ سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا ہے، تب وہ کھڑے ہو کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1145]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12537»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12537
حدیث نمبر: 1146
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ الْمُنَافِقِ؟ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا نَقَرَاتِ الدِّيكِ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا) )
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں منافق کی نماز سے آگاہ نہ کردوں، وہ عصر کی نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا ہے، تب وہ کھڑا ہو کر مرغے کی طرح ٹھونگیں لگاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کم ہی کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1146]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 4642، وابن حبان: 260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13624»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 4642
22. بَابُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ وَأَنَّهَا وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
حدیث نمبر: 1147
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُنَا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ایک آدمی فارغ ہو کر بنوسلمہ کی طرف آتا، لیکن وہ اس وقت بھی اپنے تیروں کے گرنے کی جگہیں دیکھ لیتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1147]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 328، وأخرجه بنحوه ابوداود: 416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12160»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 328
حدیث نمبر: 1148
عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَرْتَمُونَ يُبْصِرُونَ وَقْعَ سِهَامِهِمْ
اسلم قبیلے کا ایک صحابی بیان کرتا ہے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کرتے، پھر مدینہ سے دور اپنے گھروں کی طرف لوٹتے اور تیر پھینکتے اور اپنے تیروں کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1148]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 1/ 259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23536»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 1/ 259
حدیث نمبر: 1149
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ سَاعَةَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ إِذَا غَابَ حَاجِبُهَا
سیدنا سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے، جب سورج غروب ہو جاتا اور اس کی ٹکیہ کا کنارہ غائب ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1149]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 636، وأخرجه بنحوه البخاري: 561، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16647»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 636