الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ حُجَّةِ مَنْ لَمْ يُكَفِّرْ تَارِكَ الصَّلَاةِ وَرَجَا لَهُ مَا يُرْجَى لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
حدیث نمبر: 1091
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيِّ: لَا أَقُولُ حَدَّثَنِي فُلَانٌ وَلَا فُلَانٌ: ( (خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ فَمَنْ لَقِيَهُ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا لَقِيَهُ وَلَهُ عِنْدَهُ عَهْدٌ يُدْخِلُهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَهُ وَقَدِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ لَقِيَهُ وَلَا عَهْدَ لَهُ، إِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ وَإِنْ شِئْتُ غَفَرْتُ لَهُ) )
سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے منہ مبارک سے میرے منہ کی طرف ارشاد فرمایا، میں یہ نہیں کہتا کہ فلاں فلاں نے مجھے بیان کیا ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنے بندوں پر فرض کیاہے، جو بندہ اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملا کہ اس نے نمازوں میں سے کسی چیز کو ضائع نہیں کیا، تو وہ اس کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کے ہاں معاہدہ ہو گا، اس کے ذریعے وہ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس نے اِن نمازوں کے حق کو ہلکا سمجھ کر ان میں کوئی کمی کر رکھی ہو گی، تو وہ اُس کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہو گا، اگر اللہ نے چاہا تو اس کو عذاب دے گا اور چاہا تو بخش دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1091]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1420، والنسائي: 1/ 230، وابن ماجه: 1401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23132»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1420
13. بَابٌ مَا جَاءَ فِي الْأَحْوَالِ الَّتِي عُرِضَتْ لِلصَّلَاةِ
ان حالات کا بیان جو نماز کو پیش آئے
حدیث نمبر: 1092
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، فَأَمَّا أَحْوَالُ الصَّلَاةِ فَإِنَّ النَّبِيَّ قَدِيمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُصَلِّي سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عَلَيْهِ {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا، فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} قَالَ: فَوَجَّهَهُ اللَّهُ إِلَى مَكَّةَ، قَالَ: فَهَٰذَا حَوْلٌ، (قَالَ) وَكَانُوا يَجْتَمِعُونَ لِلصَّلَاةِ وَيُؤْذِنُ بِهَا بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى نَقَسَوْا أَوْ كَادُوا يَنْقَسُونَ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ وَلَوْ قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَكُنْ نَائِمًا لَصَدَقْتُ، إِنِّي بَيْنَمَا أَنَا بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ رَأَيْتُ شَخْصًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَثْنَى، حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْأَذَانِ ثُمَّ أَمْهَلَ سَاعَةً، قَالَ: ثُمَّ قَالَ مِثْلَ الَّذِي قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ يَزِيدُ فِي ذَلِكَ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (عَلِّمْهَا بِلَالًا فَلْيُؤْذِّنْ بِهَا) ) فَكَانَ بِلَالٌ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِهَا، قَالَ: وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ قَدْ طَافَ بِي مِثْلُ الَّذِي أَطَافَ بِهِ غَيْرَ أَنَّهُ سَبَقَنِي، فَهَٰذَانِ حَوْلَانِ، (قَالَ) وَكَانُوا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ وَقَدْ سَبَقَهُمْ بِبَعْضِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ يُشِيرُ إِلَى الرَّجُلِ إِذَا جَاءَ كَمْ صَلَّى؟ فَيَقُولُ وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ فَيُصَلِّيهَا ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي صَلَاتِهِمْ، قَالَ: فَجَاءَ مُعَاذٌ فَقَالَ: لَا أَجِدُهُ عَلَى حَالٍ أَ بَدًا إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَضَيْتُ مَا سَبَقَنِي، قَالَ: فَجَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِهَا، قَالَ: فَثَبَتَ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَامَ فَقَضَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّهُ قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ فَهَٰكَذَا فَاصْنَعُوا) ) فَهَٰذِهِ ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ، وَأَمَّا أَحْوَالُ الصِّيَامِ (فَذَكَرَ الْحَدِيثَ)
سیدنا معاذ بن جبلؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز کو تین مراحل سے گزارا گیا اور روزوں کی فرضیت بھی تین مراحل میں ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے، جس سے آپ خوش ہو جائیں گے، آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ کر دیا، یہ ایک مرحلہ تھا، (دوسرے مرحلے کی تفصیل یہ ہے کہ) لوگ نماز کے لیے خود جمع ہوجاتے تھے اور وہ ایک دوسرے کو اِس کا بتلا دیتے تھے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ ناقوس بجانے لگ جائیں، عبد اللہ بن زید ؓنامی ایک انصاری آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، جیسا کہ سونے والا آدمی دیکھتا ہے، اور اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں سویا ہوا نہیں تھا، تو پھر بھی میں سچا ہوں گا، بس یوں سمجھیں کہ میں سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں تھا کہ میں نے ایک آدمی دیکھا، اس پر دو سبز کپڑے تھے، پس وہ قبلہ رخ ہوا اور کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دو دفعہ، یہاں تک کہ وہ اذان سے فارغ ہوا اور تھوڑی دیر ٹھہر کر پھر اسی طرح کے کلمات دوہرائے، البتہ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ کا اضافہ کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بلال کو یہ کلمات سکھا دو، وہ ان کے ذریعے اذان دے۔ پس سیدنا بلال ؓوہ شخصیت ہیں، جنھوں نے سب سے پہلے اذان دی، ان کی اذان سن کر سیدنا عمر بن خطاب ؓتشریف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! (اذان سکھانے والے) اسی قسم کے ایک فرد نے میرا چکر بھی لگایا ہے، جیسا کہ اس انصاری کا چکر لگایا ہے، بس فرق یہ ہے کہ اس نے مجھ سے پہلے آپ کو اطلاع دے دی ہے، یہ دو تبدیلیاں ہوں گئیں۔ (تیسری تبدیلی اس طرح ہوئی کہ) جب لوگ نماز پڑھنے کے لیے آتے تھے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے پہلے بعض رکعتیں پڑھا چکے ہوتے تھے تو وہ دوسرے آدمی کی طرف اشارہ کرتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنی رکعتیں پڑھ چکے، جب وہ جواب دیتا کہ ایک دو رکعتیں پڑھی جا چکی ہیں تو لیٹ آنے والا آدمی پہلے ان دو رکعتوں کو پورا کرتا اور پھر لوگوں کے ساتھ جماعت میں مل جاتا۔ ایک دن سیدنا معاذ ؓآئے اور کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس حالت پر پاؤں گا، اسی کو اختیار کر لوں گا، پھر جتنی رکعتیں مجھ سے پہلے پڑھی جا چکی ہوں گی، ان کو میں بعد میں پورا کر لوں گا۔ پس جب وہ آئے تو نبیِ کریم واقعی کچھ رکعتیں پڑھا چکے تھے، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی مل گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نماز پوری کی تو سیدنا معاذ ؓکھڑے ہو کر فوت ہو جانے والی رکعتوں کی قضائی دینے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو دیکھ کر فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ معاذ نے تمہارے لیے ایک طریقہ ایجاد کیا ہے، پس اسی طرح کیا کرو۔ یہ کل تین مراحل ہو گئے۔ رہی تفصیل روزوں کے مراحل کی … …۔ (اس کی تفصیل کتاب الصیام کے شروع میں آئے گی۔)
شک شان یہ ہے کہ معاذ نے تمہارے لیے ایک طریقہ ایجاد کیا ہے، پس اسی طرح کیا کرو۔ یہ کل تین مراحل ہو گئے۔ رہی تفصیل روزوں کے مراحل کی … …۔ (اس کی تفصیل کتاب الصیام کے شروع میں آئے گی۔) [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1092]
شک شان یہ ہے کہ معاذ نے تمہارے لیے ایک طریقہ ایجاد کیا ہے، پس اسی طرح کیا کرو۔ یہ کل تین مراحل ہو گئے۔ رہی تفصیل روزوں کے مراحل کی … …۔ (اس کی تفصیل کتاب الصیام کے شروع میں آئے گی۔) [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1092]
تخریج الحدیث: «علامه الباني رحمته الله عليه نے اسے أخرجه ابوداود: 506، 507، والترمذي: 591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22475»
الحكم على الحديث:
علامه الباني رحمته الله عليه نے اسے أخرجه ابوداود: 506
14. بَابُ أَمْرِ الصِّبْيَانِ بِالصَّلَاةِ وَمَا جَاءَ فِيمَنْ رُفِعَ عَنْهُمُ الْقَلَمُ
بچوں کو نماز کا حکم دینے کا بیان اور ان لوگوں کی تفصیل کہ جن سے قلم اٹھا لیا گیا ہے
حدیث نمبر: 1093
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مُرُوا صِبْيَانَكُمْ بِالصَّلَاةِ إِذَا بَلَغُوا سَبْعًا وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا إِذَا بَلَغُوا عَشْرًا وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کو نماز کا حکم دینا شروع کر دو، جب ان کی عمر سات سال ہو جائے اور جب ان کی عمر دس سال ہو جائے تو (نماز میں سستی کی صورت میں) اُن کو سزا بھی دو اور بستروں میں اُن کو علیحدہ علیحدہ کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1093]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 496، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6689»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 496
حدیث نمبر: 1094
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا بَلَغَ الْغُلَامُ سَبْعَ سِنِينَ أُمِرَ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا بَلَغَ عَشْرًا ضُرِبَ عَلَيْهَا) )
سیدنا سبرہ جہنیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بچے کی عمر سات سال ہو جائے تو اس کو نماز کا حکم دیا جائے اور جب دس سال ہو جائے تو (نماز چھوڑنے پر) اس کی پٹائی بھی کی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1094]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 494، والترمذي: 407، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15414»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 494
حدیث نمبر: 1095
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ، عَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَبْلُغَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الْمُصَابِ حَتَّى يُكْشَفَ عَنْهُ) )
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے سے حتیٰ کہ وہ بالغ ہو جائے، سونے والے سے حتیٰ کہ وہ بیدار ہو جائے اور مجنون سے حتیٰ کہ اس کی وہ کیفیت زائل ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1095]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4403، وابن ماجه: 2042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 940»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4403
حدیث نمبر: 1096
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ، عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنِ الْمَجْنُونِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَعَنِ الْمُعْتَوهِ) حَتَّى يَعْقِلَ) )
سیدہ عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے اور مجنون سے یہاں تک کہ وہ عقل کرنے لگے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1096]
تخریج الحدیث: «اسناده جيد۔ أخرجه النسائي: 6/ 156، وابن ماجه: 2041، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25201»
الحكم على الحديث:
اسناده جيد۔ أخرجه النسائي: 6/ 156
حدیث نمبر: 1097
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ، عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ) )
دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سونے والے سے حتی کہ وہ بیدار ہو جائے، پاگل سے حتی کہ وہ اس کیفیت سے بری ہو جائے اور بچے سے حتی کہ وہ عقل کرنے لگے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1097]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25627»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25627
15. باب
نمازوں کے اوقات کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: Q1098]
16. بَابُ جَامِعِ الْأَوْقَاتِ
جامع اوقات کا بیان
حدیث نمبر: 1098
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمَنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ (وَفِي رِوَايَةٍ: مَرَّتَيْنِ عِنْدَ الْبَيْتِ) فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ (وَفِي رِوَايَةٍ: حِينَ كَانَ الْفَيْءُ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ) ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! هَٰذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ (وَفِي رِوَايَةٍ: هَٰذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ النَّبِيِّينَ قَبْلَكَ) الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَٰذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت جبریل ؑنے بیت اللہ کے پاس دو دفعہ میری امامت کروائی، پس مجھے نمازِ ظہر اس وقت پڑھائی کہ سورج ڈھل چکا تھا اور سایہ ایک تسمے کے برابر تھا، نمازِ عصر اس وقت پڑھائی، جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو گیا، نمازِ مغرب اس وقت پڑھائی، جب روزے دار افطاری کرتا ہے،نمازِ عشاء اس وقت پڑھائی جب شَفَق غائب ہو گئی، نمازِ فجر اس وقت پڑھائی جب روزے دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے، پھر اگلے دن نمازِ ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، نمازِ عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا، نمازِ مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار افطار کرتا ہے، نمازِ عشاء رات کے پہلے ایک تہائی حصے کے وقت میں پڑھائی اور نمازِ فجر اس وقت پڑھائی جب روشنی ہو چکی تھی اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد! یہ آپ سے پہلے والے انبیاء کا وقت ہے، ایک روایت میں ہے: یہ آپ کا اور آپ سے پہلے والے انبیاء کا وقت ہے، ان ہر دو وقتوں کے درمیان متعلقہ نماز کا وقت ہے [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1098]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 393، والترمذي: 149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3081»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 393
حدیث نمبر: 1099
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَفِيهِ: ( (وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ كَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةُ فِيمَا بَيْنَ هَٰذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ) )
سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: اور (دوسرے دن) نمازِ فجر اس وقت پڑھائی کہ قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جائے اور پھر کہا: اِن دو وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1099]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 147، والطبراني في الكبير: 5443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11249 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11269»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 147