الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ اسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهَا إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ
نمازِ عشاء کو ایک تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1170
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، قَالَ: فَجَاءَ فَصَلَّى بِنَا ثُمَّ قَالَ: ( (خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسُقْمُ السَّقِيمِ وَحَاجَةُ ذِي الْحَاجَةِ لَأَخَّرْتُ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ) )
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک رات کو نمازِ عشا کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ تقریباً نصف رات گزر گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی اور فرمایا: اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، پس بیشک (دوسری مسجدوں کے) لوگ یہ نماز ادا کر کے سو چکے ہیں اور تم لوگ جب سے اس نماز کا انتظار کر رہے تھے، اس وقت سے نماز میں ہی تھے اور اگر کمزور کی کمزوری، بیمار کی بیماری اور محتاج کی حاجت نہ ہوتی تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1170]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 422، والنسائي: 1/ 268، وابن ماجه: 693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11028»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 422
حدیث نمبر: 1171
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا رَوْحٌ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ تِسْعَ لَيَالٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثَمَانِي لَيَالٍ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ أَنَّكَ عَجَّلْتَ لَكَانَ أَمْثَلَ لِقِيَامِنَا مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ أَبِي: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: سَبْعَ لَيَالٍ وَقَالَ عَفَّانُ: تِسْعَ لَيَالٍ
سیدنا ابو بکرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آٹھ یا نو راتوں تک نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرتے رہے، ایک دن سیدنا ابو بکر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں یہ نماز جلدی پڑھا دیا کریں تو یہ عمل رات کے قیام کے لیے بہتر ہو گا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعد یہ نماز جلدی پڑھا دیا کرتے تھے۔ عبد الصمد نے سات اور عفان نے نو راتوں کا ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1171]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه الطيالسي: 875، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20757»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه الطيالسي: 875
حدیث نمبر: 1172
عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ الشَّكُونِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: رَقَبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَاحْتَبَسَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَنْ يَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ: قَدْ صَلَّى وَلَنْ يَخْرُجَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ظَنَنَّا أَنَّكَ لَنْ تَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ: قَدْ صَلَّى وَلَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اعْتِمُوا بِهَٰذِهِ الصَّلَاةِ فَقَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ يُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ) )
عاصم بن حمید شکونی، جو کہ سیدنا معاذ بن جبل ؓ کے ساتھیوں میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: ایک دن نمازِ عشاء کے لیے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکے رہے، یہاں تک کہ ہم یہ خیال کرنے لگے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے کوئی کہتا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز پڑھ لی ہے اور اب ہر گز نہیں نکلیں گے۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو یہ خیال کرنے لگے تھے کہ اب آپ ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے بعض افراد یہ کہنے لگے کہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف نہیں لائیں گے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نماز کو تاخیر سے ادا کیا کرو، پس بیشک اس کے ذریعے تم کو تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1172]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 421، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22416»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 421
حدیث نمبر: 1173
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ إِمَامًا أَوْ خِلْوَةً؟ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: الصَّلَاةَ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ، فَقَالَ: ( (لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَٰكَذَا) )
ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطا سے کہا: تم کو وہ کون سا وقت پسند ہے کہ جس میں میں نمازِ عشاء باجماعت یا منفرد ادا کروں؟ انھوں نے کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک رات رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشاء کی ادائیگی میں تاخیر کی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے اور پھر بیدار ہوئے، پس سیدنا عمر ؓکھڑے ہوئے اور کہا: (اے اللہ کے رسول!) نماز، پس اللہ کے نبی نکلے، گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر کی ایک جانب ہاتھ رکھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو ان کو حکم دیتا کہ وہ یہ نماز اس وقت میں نماز پڑھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1173]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 571، ومسلم: 642، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3466»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 571
حدیث نمبر: 1174
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ فَقَالَ: ( (لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَٰذِهِ السَّاعَةَ) )
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور کہا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اِس وقت میں ادا کیا کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1174]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1926»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1926
حدیث نمبر: 1175
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يُصَلِّي هَٰذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ) ) وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَلِّي يَوْمَئِذٍ غَيْرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نمازِ عشاء میں تاخیر کر دی، یہاں تک کہ سیدنا عمر ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آواز دی: عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: تمہارے علاوہ اہل زمین میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اِس نماز کو اِس وقت میں ادا کر رہا ہو۔ اس وقت نماز پڑھنے والے صرف مدینہ کے لوگ تھے، ایک روایت میں ہے: یہ بات اسلام کے پھیلنے سے پہلے کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1175]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 569، 682، 864، ومسلم: 638، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24560»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 569
حدیث نمبر: 1176
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيجٍ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أُمِّ كَلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ (وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: رَقَدَ) ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ: ( (إِنَّهُ لَوَقْتُهَا، لَوْ لَمْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي) ) وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: ( (أَنْ أَشُقَّ) )
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشا کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ رات کا عام حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، نماز پڑھائی اور فرمایا: یہی اس نماز کا وقت ہوتا، اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1176]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 638، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25687»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 638
26. بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَمَا جَاءَ فِي التَّغْلِيسِ بِهَا وَالْإِسْفَارِ
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1177
عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَيْسَ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ فِي الْأُفُقِ وَلَكِنَّهُ الْمُعْتَرِضُ الْأَحْمَرُ) )
سیّدنا طلقؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجرِ (صادق) وہ نہیں ہے، جس میں روشنی افق میں بلند ہوتی ہے، بلکہ وہ ہے، جس میں سرخ روشنی چوڑائی میں (افق پر) پھیلتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1177]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 2348، والترمذي: 705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16400»
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 2348
حدیث نمبر: 1178
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نِسَاءً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ وَمَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ
سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ مؤمن خواتین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ فجر ادا کرتی تھیں، جبکہ وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتی تھیں اور کوئی آدمی اندھیرے کی وجہ سے ان کو پہچان نہ سکتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1178]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 372، 578، ومسلم: 645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24597»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 372
حدیث نمبر: 1179
عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي جَنَازَةٍ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَأَسْكَتَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! لِمَ أَسْكَتَّهُ؟ قَالَ: إِنَّهُ يَتَأَذَّى بِهِ الْمَيِّتُ حَتَّى يُدْخَلَ قَبْرَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أُصَلِّي مَعَكَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَلْتَفِتُ فَلَا أَرَى وَجْهَ جَلِيسِي، ثُمَّ أَحْيَانًا تُسْفِرُ؟ قَالَ: كَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصَلِّيَهَا كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيَهَا
ابو ربیع کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے، جب انھوں نے ایک آدمی کے چیخنے کی آواز سنی تو انھوں نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس کو خاموش کروا دیا، میں نے کہا: اے عبدالرحمن! آپ نے اس کو کیوں خاموش کرا دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اس طرح رونے سے میت کو قبر میں داخل ہونے تک تکلیف ہوتی ہے، پھر میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ نمازِ فجر پڑھتا ہوں اور جب میں اس نماز سے فارغ ہوتا ہوں اور (اندھیرے کی وجہ سے) اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا، لیکن کبھی ایسے ہوتا ہے کہ تم روشنی کر دیتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ اِ س نماز کو اسی طرح پڑھوں، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1179]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابوشعبة الطحان متروك، وابو الربيع مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6195»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف